ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جانب سے ’بادل چوری‘ کے جھوٹے دعوؤں کو کیسے ہوا دی

    • مصنف, مارکو سلوا اور لمیس الطلیبی
    • عہدہ, بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی نیوز عربی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

سوشل میڈیا پر ایسے بے بنیاد دعوے وسیع پیمانے پر شیئر کیے جا رہے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں ’بادل چوری‘ کرنے کی کارروائیاں میں رکاوٹ آئی ہے۔

لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ’الرشید ٹی وی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عراقی رکنِ پارلیمان عبداللہ الکھیکانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمسایہ ممالک ترکی اور ایران نے اُن امریکی کوششوں کے خلاف ’شکایات درج‘ کرائی ہیں جن میں طیاروں کے ذریعے بادلوں کو ’توڑا‘ اور ’چُرایا‘ جا رہا ہے۔

اپنے دعوے سے متعلق کوئی ثبوت پیش کیے بغیر انھوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ عرصے میں عراق میں دوبارہ بارشوں کی واپسی ہوئی ہے (یعنی بارشیں ہو رہی ہیں) کیونکہ امریکہ ایران کے خلاف ’جنگ کے باعث مصروف‘ ہو گیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جس کی مدد سے انسان بادلوں کو ’چُرا‘ سکیں۔

دوسری جانب عراق کے موسمیاتی ادارے کے ترجمان عامر الجابری کا بھی کہنا ہے کہ یہ دعویٰ ’نہ تو سائنسی ہے اور نہ ہی منطقی۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گذشتہ سال ستمبر میں، یعنی 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے، یہ پیش گوئی کر دی گئی تھی کہ سنہ 2026 میں عراق میں بارشیں زیادہ ہوں گی۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر عبداللہ الکھیکانی نے اپنا یہ دعویٰ دہرایا کہ عراق میں ’جان بوجھ کر خشک سالی پیدا کرنے‘ کے لیے ’موسم میں ترمیم کرنے والا ہتھیار‘ استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم ایک مرتبہ پھر انھوں نے اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

عبداللہ کے حالیہ بیانات دراصل اُن دعوؤں کی بازگشت ہیں جو حالیہ ہفتوں میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ ترکی میں بعض صارفین ایران کی جنگ اور ملک میں ہونے والی شدید بارشوں کے درمیان تعلق جوڑ رہے ہیں۔

ترکی کی وزارت ماحولیات، شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس فروری میں ہونے والی بارشوں نے گذشتہ 66 برسوں کا ریکارڈ توڑا ہے۔

ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ترکی میں ’مسلسل‘ بارش اس لیے ہو رہی ہے کہ جنگ کے باعث اس کی فضائی حدود بند ہیں، اور فضائی حدود بند ہونے کے باعث امریکہ ترکی کے بادل ’چرا‘ نہیں پا رہا۔ یہ پوسٹ 10 لاکھ سے زیادہ بار دیکھی گئی۔

دیگر صارفین نے یہ غلط دعویٰ بھی کیا کہ ایران میں جاری خشک سالی، جو کئی دہائیوں کی بدترین خشک سالی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثاثوں پر ایرانی حملوں کے بعد ’پانچ دن میں ختم ہو گئی۔‘

اقوامِ متحدہ کے ادارۂ آبیات، ماحولیات اور صحت کے ڈائریکٹر کاوہ مدانی کہتے ہیں: ’اس غلط فہمی کی بڑی وجہ موسمیاتی نظام کی سمجھ کا فقدان ہے۔‘

ان بے بنیاد دعوؤں کو شیئر کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کہتے ہیں کہ مسئلے کی جڑ وہ عمل ہے جسے ’کلاؤڈ سیڈنگ‘ کہا جاتا ہے۔ اُن کے بقول کلاؤڈ سیڈنگ کو سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

کلاؤڈ سیڈنگ موسم میں مصنوعی بارش کروانے کی ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے فضا میں موجود بادلوں سے کیمیائی عمل کے ذریعے زیادہ بارش حاصل کی جا سکتی ہے۔

کلاؤڈ سیڈنگ کے عمل میں طیاروں کے ذریعے سلور آئیوڈائیڈ جیسے باریک ذرات بادلوں پر چھڑکے جاتے ہیں تاکہ پانی کے قطرے بنیں اور برس پڑیں۔

گذشتہ سال، جب ایران کو بارش کی ریکارڈ کم مقدار اور تقریباً خالی آبی ذخائر کا سامنا تھا، تو حکام نے جھیل ارمیہ کے اوپر بادلوں کی سیڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

اگرچہ یہ تکنیک امریکہ، چین، متحدہ عرب امارات سمیت درجنوں ممالک میں استعمال کی جا چکی ہے، تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات انتہائی محدود ہیں اور موجود بادلوں سے 15 فیصد سے زیادہ بارش نہیں برسائی جا سکتی۔

ابوظبی میں خلیفہ یونیورسٹی کی ماحولیاتی اور جیو فزیکل سائنسز لیب کی سربراہ پروفیسر ڈیانا فرانسس کہتی ہیں: ’اسے یوں سمجھیں کہ یہ پہلے سے موجود بادل کو معمولی سا دھکا دینا ہے، موسم کو کنٹرول کرنا نہیں۔‘

’بادل چوری‘ کے نظریے کے بعض حامی یہ الزام لگاتے ہیں کہ جب ایک علاقے میں بادلوں میں سیڈنگ کی جاتی ہے تو پڑوسی علاقوں کو بارش سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ سائنسی تحقیق اس مفروضے کی تائید نہیں کرتی۔

وائیومنگ یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے پروفیسرِ ڈاکٹر جیف فرنچ کہتے ہیں کہ ’اس حوالے سے محدود شواہد یہ بتاتے ہیں کہ یہ اثر انتہائی معمولی ہے اور بس بارش میں معمول کے اتار چڑھاؤ سے زیادہ قابلِ توجہ نہیں ہو گا۔‘

درحقیقت سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمی نظاموں کی سمت یا شدت کو براہ راست قابو کرنے والی کوئی ٹیکنالوجی موجود ہی نہیں۔ اس کے بجائے وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے موسم میں بڑھتی شدت کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔

انسانی سرگرمیاں، بالخصوص کوئلہ، گیس اور تیل جیسے فوسل فیولز کا جلانا، عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ دہائیوں کے دوران درجۂ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کے مطابق انسانوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی طویل اور زیادہ شدید ہیٹ ویوز کا باعث بن رہی ہے، جس سے خطے میں پہلے ہی محدود پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اسی دوران بارش زیادہ غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ اکثر کم ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھار مختصر مدت میں اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ سیلابی صورتحال بن جاتی ہے۔

اُردن کی متاہ یونیورسٹی میں پانی اور ماحولیاتی انجینیئرنگ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسراء طرونہ کہتی ہیں: ’یہ حالات پانی کے تحفظ کے بارے میں عوامی بے چینی میں اضافہ کرتے ہیں۔‘

بڑھتے دباؤ کے اس پس منظر میں ماہرین کہتے ہیں کہ موسم یا آبی وسائل کو قابو کرنے کی مبینہ کوششوں سے متعلق جھوٹے دعوے لازماً پھلیں پھولیں گے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں موسمیاتی طبیعیات کی پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کار ڈاکٹر سارہ سمتھ کہتی ہیں کہ ’پیچیدگی اور غیر یقینی اکثر سازشی سوچ کے لیے کشش رکھتی ہے۔ لوگ پیدا ہونے والا خلا کو کسی سادہ اور تسکین بخش بات سے پُر کر دیتے ہیں، لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ اصل کہانی سے دور ہو جاتے ہیں۔‘

اضافی رپورٹنگ: بی بی سی مانیٹرنگ کی نیہان کالے۔