عام آدمی پارٹی کے سات اراکینِ پارلیمان کی بی جے پی میں شمولیت: کیا اروند کیجروال کی جماعت ’طاقت اور سرمائے‘ کا مقابلہ کر پائے گی؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا میں ’عام آدمی پارٹی‘ کو گذشتہ ہفتے اُس وقت ایک بڑا سیاسی دھچکا لگا جب پارٹی کے 10 میں سے سات اراکینِ پارلیمان نے اس جماعت سے اچانک علیحدگی اختیار کرتے ہوئے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔

اس سات رُکنی گروپ کی قیادت ہائی پروفائل رکنِ پارلیمان راگھو چڈھا کر رہے ہیں جبکہ اس گروپ کے دیگر ارکان میں سندیپ پاٹھک، اشوک متل، سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ، سواتی مالیوال، راجندر گپتا اور وکرم ساہنی شامل ہیں۔

چونکہ علیحدگی اختیار کرنے والے اِن ارکان کی تعداد پارٹی کے کل اراکین پارلیمان کی دوتہائی ہے، اس لیے ان پر وفاداری تبدیل کرنے (اینٹی ڈیفیکشن) کے قانون کا اطلاق نہیں ہو گا۔

ان تمام ارکان نے اجتماعی طور پر حکمراں جماعت بی جے پی میں ضم ہونے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی میں شمولیت کے بعد انھوں نے عام آدمی پارٹی کے کنوینئر اروند کیجریوال پر ’آمرانہ طرزِ قیادت‘ اور ’ایمانداری کے اصولوں سے انحراف‘ کے الزامات عائد کیے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دس میں سات اراکین پارلیمان کا عام آدمی پارٹی چھوڑ کر حریف سیاسی جماعت میں شامل ہو جانا ایک غیر معمولی اور بڑا سیاسی نقصان تصور کیا جا رہا ہے۔

عام آدمی پارٹی کا قیام سنہ 2012 میں بدعنوانی کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک سے عمل میں آیا تھا۔ اروند کیجریوال کی قیادت میں اس جماعت نے نہایت کم عرصے میں دارالحکومت دہلی میں ایک طاقتور سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کر لی۔ پارٹی نے دہلی میں مسلسل تین مرتبہ شاندار انتخابی کامیابیاں حاصل کیں۔

سنہ 2015 میں، جب وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت اپنے عروج پر تھی، عام آدمی پارٹی نے دہلی اسمبلی کی 70 میں سے 67 نشستیں جیت کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی، جبکہ ان انتخابات میں بی جے پی محض تین نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔

اسی طرح سنہ 2020 کے انتخابات میں بھی، بی جے پی کی بھرپور مہم اور وسائل کے بے دریغ استعمال کے باوجود، عام آدمی پارٹی نے دہلی اسمبلی کی 70 میں سے 62 نشستیں حاصل کیں۔

بعدازاں پارٹی کا سیاسی اثر دہلی سے نکل کر پنجاب تک پھیل گیا، جہاں اس وقت عام آدمی پارٹی کی حکومت قائم ہے۔

سینیئر تجزیہ کار آشوتوش، جو کئی برس تک عام آدمی پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور بعد میں قیادت سے اختلافات کے نتیجے میں الگ ہو گئے، حالیہ پیش رفت کو پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں ارکانِ پارلیمان کا ایک ساتھ پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔

ان کے مطابق عام آدمی پارٹی کے بارے میں یہ تاثر قائم ہو چکا تھا کہ اسے سیاسی طور پر توڑا نہیں جا سکتا، لیکن بظاہر اب یہ تصور غلط ثابت ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اب تک عام آدمی پارٹی سے یا تو انفرادی طور پر لوگ الگ ہوئے یا نکالے گئے، مگر یہ پہلا موقع ہے کہ ارکانِ پارلیمان کی اتنی بڑی تعداد نے بیک وقت دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے۔‘

انتخابی سیاست کے آغاز سے ہی عام آدمی پارٹی نے ’ایمانداری‘ کو اپنے سیاسی منشور کا بنیادی اصول قرار دیا۔ اس کی سیاست کا محور غریب آبادی اور متوسط طبقہ رہا ہے۔ پارٹی کے ابتدائی برسوں میں سماجی کارکنوں، رضاکاروں، پیشہ ور نوجوانوں، پہلی بار سیاست میں قدم رکھنے والوں اور بعض نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ قیادت کے طرزِ عمل اور سیاسی سمت پر مبینہ اختلافات کے باعث کئی لوگ پارٹی سے الگ ہو گئے۔

اگرچہ عام آدمی پارٹی نے اپنے لیے کوئی واضح اور باقاعدہ سیاسی نظریہ اختیار نہیں کیا، تاہم اس کا جھکاؤ ایک غیر مذہبی قومی سیاست کی جانب رہا، جو بی جے پی کی ہندو قوم پرستانہ سیاست سے مختلف ہے۔ اسی وجہ سے نظریاتی سطح پر بھی یہ جماعت بی جے پی کے لیے ایک چیلنج بن کر اُبھری۔

بی جے پی، عام آدمی پارٹی کی سخت مخالف سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی شروع ہی سے اروند کیجریوال کی قیادت میں اُبھرتی ہوئی اس جماعت کو اپنے لیے ایک ممکنہ خطرہ تصور کرتی رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار آشوتوش کے مطابق، عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال وزیر اعظم نریندر مودی پر جس نوعیت کی ذاتی تنقید کرتے ہیں اور اپنے بیانات میں جو لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں، وہ بی جے پی کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، کیونکہ وہ ایسی سیاست کی نہ تو عادی ہے اور نہ ہی اسے قبول کرتی ہے۔

آشوتوش کا کہنا ہے کہ ’بی جے پی جانتی ہے کہ عام آدمی پارٹی مکمل طور پر غیر روایتی طرز کی سیاست کرتی ہے۔ یہ جماعت کسی بھی وقت کوئی بھی غیر متوقع قدم اٹھا سکتی ہے۔ بی جے پی اس حقیقت سے بھی واقف ہے کہ جو جماعت محض ڈیڑھ برس میں دہلی میں حکومت بنا سکتی ہے اور دس برس کے اندر پنجاب میں اقتدار حاصل کر سکتی ہے، وہ اتنے ہی کم عرصے میں ایک قومی سطح کی جماعت بننے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔‘

ان کے مطابق آج اس کے اثرات ’گوا‘ اور گجرات تک دیکھے جا سکتے ہیں۔

’ایسی جماعت نہ صرف بی جے پی بلکہ ہر اس سیاسی جماعت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے جو مستقبل کی سیاست میں اپنی جگہ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اسی لیے بی جے پی کا خیال ہے کہ عام آدمی پارٹی کو جتنا محدود رکھا جائے، اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔‘

پنجاب شمالی انڈیا کی وہ ریاست ہے جہاں بی جے پی اب تک خود کو ایک کامیاب سیاسی قوت کے طور پر منوانے میں ناکام رہی ہے۔ وہاں وہ بنیادی طور پر اپنے اتحادی، شرومنی اکالی دل، کے ذریعے سیاست کرتی رہی ہے۔

اس پس منظر میں عام آدمی پارٹی کے سات ارکانِ پارلیمان، جن میں سے چھ کا تعلق پنجاب سے ہے، کا بی جے پی میں شامل ہونا حکمراں جماعت کے لیے ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم یہ پیش رفت اس بات پر بھی منحصر ہو گی کہ آیا بی جے پی آنے والے دنوں میں پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش کرتی ہے یا نہیں۔

سیاسی تجزیہ کار آرتی جیرتھ کے مطابق، جن پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمان نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے، ان میں سے کئی نہایت تجربہ کار اور مؤثر سیاسی حکمتِ عملی ساز ہیں۔

آرتی کا کہنا ہے کہ ’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی اب پنجاب میں بڑے سیاسی اہداف کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اس بار وہ ریاست میں اکیلے انتخابات لڑنا اور وہاں اپنی مضبوط جڑیں قائم کرنا چاہتی ہے۔ ایسے میں اروند کیجریوال کے سامنے دو بڑے چیلنج ہیں: ایک، دہلی میں اپنی جماعت کو متحد اور مضبوط رکھنا، اور دوسرا، پنجاب میں پارٹی کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’البتہ یہ بات بھی اہم ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود بی جے پی اب تک پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے ارکانِ اسمبلی کو اپنی طرف راغب نہیں کر سکی۔‘

سیاسی تجزیہ کار آشوتوش کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی کا عروج اقتدار میں آنے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

اُن کے مطابق ’اگر آئندہ برس ہونے والے پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو شکست ہوئی تو اس کے دوبارہ سیاسی طور پر اُبھرنے کے امکانات بہت محدود ہو جائیں گے۔ تاہم یہ ایک غیر معمولی نوعیت کی جماعت ہے، جو دوسرے سیاسی دھڑوں سے مختلف ہے۔ اس کا غیر روایتی طرزِ سیاست اسے کسی بھی وقت غیر متوقع فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، اسی لیے اس کے مکمل زوال کی پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔‘

آشوتوش کے مطابق، اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود عوام آج بھی عام آدمی پارٹی کو روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں قدرے بہتر متبادل سمجھتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’عام آدمی پارٹی ہمیشہ دونوں بڑی قومی جماعتوں، بی جے پی اور کانگریس، کے لیے ایک ممکنہ چیلنج بنی رہے گی۔

البتہ اس وقت چونکہ بی جے پی اپنے سیاسی عروج پر ہے، اس لیے عام آدمی پارٹی اس کے لیے اتنا بڑا خطرہ نہیں جتنی کانگریس کے لیے ہے۔ لیکن بی جے پی ایک دور اندیش جماعت ہے، اس لیے وہ مستقبل میں کسی نئے چیلنج کو پنپنے کی اجازت نہیں دینا چاہے گی۔‘

دوسری جانب آرتی جیرتھ کا ماننا ہے کہ عام آدمی پارٹی ابھی قومی سطح پر اتنی بڑی جماعت نہیں بن سکی کہ وہ بی جے پی جیسی طاقتور پارٹی کے لیے سنجیدہ خطرہ بن سکے۔

اُن کے مطابق ’انڈیا میں اس وقت چھوٹی جماعتوں کے لیے اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔ ملک میں اب طاقت اور سرمائے کی سیاست غالب آ چکی ہے، اور حکمراں جماعت اپنے تمام وسائل اور ریاستی ادارے چھوٹی جماعتوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں چھوٹی جماعتوں کے لیے اس طاقت اور سرمائے کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔‘

آرتی کے مطابق، عام آدمی پارٹی کو اس وقت سب سے پہلے پنجاب میں اپنی حکومت بچانے کی فکر لاحق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر دہلی میں پارٹی ٹوٹنے سے بچ بھی جاتی ہے تو عین ممکن ہے کہ اس کے چند نمایاں رہنما بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لیں۔

’یہ اروند کیجریوال اور ان کی جماعت کے لیے ایک نہایت مشکل اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔‘