آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شور کے زمانے میں درد بھری آواز حاوی کون ہیں؟
- مصنف, عمیر علوی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
روشنیوں سے بھرے سٹیج پر جب وہ مائیک تھامتے ہیں تو سامعین کے لیے وہ ’حاوی‘ ہوتے ہیں۔۔۔ ایک ایسی آواز جو درد، محبت اور خاموش جذبات کو دھن میں ڈھال دیتی ہے مگر سٹیج سے باہر وہ شخص عبدالرحمان ساجد ایک عام نوجوان ہیں، جو اپنی شناخت، اپنے فن اور اپنے راستے کی تلاش میں ہیں۔
پاکستان میں موسیقی کی دنیا میں حاوی ان فنکاروں میں شامل ہیں جو نہ صرف اپنی آواز بلکہ اپنے احساسات کے ذریعے بھی پہچانے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کرئیر کا آغاز ’اوج بینڈ‘ کے ساتھ کیا تھا، جس نے سنہ 2019 میں ’پیپسی بیٹل آف دی بینڈز‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
اوج کے ساتھ چند کامیاب سال گزارنے کے بعد عبدالرحمان نے سولو کرئیر کی جانب قدم اٹھایا اور اس وقت ان کا شمار پاکستان کے نامور ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے، جو نوجوان نسل کی نہ صرف نمائندگی کرتے ہیں بلکہ انھیں اردو زبان سے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے عبدالرحمان سے حاوی تک کے سفر پر تو بات کی ہی، ساتھ ہی ساتھ اپنے پہلے سولو البم کی تیاری کے بارے میں بھی بتایا، جو ان کے مطابق اس سال ریلیز ہو جائے گا۔
’حاوی‘ کون ہیں؟
عبدالرحمان نے جب اپنے سولو کرئیر کی طرف قدم رکھا تو ایک فنی نام بھی اپنایا، جو آج ان کی پہچان بن چکا ہے، بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سٹیج پر نظر آنے والا ’حاوی‘ دراصل ایک کردار ہے، ایک ایسی شناخت جو انھوں نے خود تخلیق کی۔
’حاوی ایک کہانی کا مرکزی کردار ہے، جسے میں سٹیج پر پیش کرتا ہوں۔ سٹیج پر میں حاوی ہوں جبکہ عبدالرحمان میری ذاتی زندگی کی نمائندگی کرتا ہے، اس طرح میں نے اپنی ذاتی اور فنی زندگی میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔‘
ان کے مطابق یہ دو الگ دنیا ہیں مگر دونوں ایک ہی شخص کے اندر بستی ہیں۔
’موسیقی صرف پیشہ نہیں بلکہ خود کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے‘
حاوی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے موسیقی صرف پیشہ نہیں بلکہ خود کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے، ان کا موسیقی سے تعلق کسی ایک لمحے میں نہیں جڑا بلکہ یہ آہستہ آہستہ ان کی زندگی کا حصہ بنتا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’کم عمری میں ہی میرا رجحان موسیقی کی طرف ہو گیا تھا اور آہستہ آہستہ یہی میری شناخت بنتی گئی۔‘
سکول کے دنوں میں موسیقی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے لے کر ایک بینڈ کا حصہ بننے تک، یہ سفر بظاہر عام لگ سکتا ہے مگر حاوی کے لیے یہ مسلسل تلاش کا عمل تھا، جس کے ذریعے وہ اپنی آواز کو پہچاننے کی کوشش کررہے تھے۔
موسیقی کو بطور کرئیر اپنانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ہر فنکار کی زندگی میں ایسا لمحہ آتا ہے جب شوق اور پیشے کے درمیان حد مٹنے لگتی ہے، ان کے لیے بھی یہ لمحہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے موسیقی کو بطور کرئیر اپنانے کا فیصلہ کیا، تو چیزیں بدلنا شروع ہو گئیں مگر یہ تبدیلی صرف باہر نہیں بلکہ اندر بھی تھی۔
اوج بینڈ سے راہیں جدا کیوں ہوئیں؟
حاوی نے نہ صرف پیپسی بیٹل آف دی بینڈز کا ٹائٹل اپنے بینڈ اوج کے ساتھ جیتا بلکہ ان کے کرئیر کو اس مقام تک پہنچانے میں بھی ان کے ساتھیوں کا ہاتھ ہے۔
ان کے بقول بینڈ کا حصہ ہونا ایک مشترکہ خواب کی طرح ہوتا ہے، جہاں ذمہ داریاں بھی بانٹی جاتی ہیں اور کامیابیاں بھی مگر کبھی کبھار یہی اشتراک اختلافات کو بھی جنم دیتا ہے۔
انھیں یہ انتہائی قدم کیوں اٹھانا پڑا، اس پر بات کرتے ہوئے حاوی نے بتایا کہ ان کے اور بینڈ کے ممبران کے درمیان یہ طے نہیں ہو پا رہا تھا کہ بینڈ کی نمائندگی کس طرح ہونی چاہیے۔
اور یہی اختلاف آخرکار انھیں ایک نئے راستے پر لے آیا، جہاں انھیں آزادی بھی حاصل ہے اور وہ اپنی مرضی سے میوزک بنا رہے ہیں۔
وہ مانتے ہیں کہ سولو کیریئر میں سب سے بڑی طاقت تخلیقی آزادی ہے مگر اس کے ساتھ ہر فیصلے کی ذمہ داری بھی خود اٹھانا پڑتی ہے۔
’یہ ایسا سفر ہے جہاں آپ اکیلے ہوتے ہیں مگر مکمل طور پر خود ہوتے ہیں۔‘
شور کی دنیا میں ایک درد بھری آواز
آج کی موسیقی میں جہاں تیز دھنیں اور شور نمایاں ہیں، وہیں حاوی اپنے گانوں میں ٹھہراؤ، درد اور شاعری کو جگہ دیتے ہیں۔
ان کے لیے موسیقی صرف سننے کی چیز نہیں بلکہ محسوس کرنے کا عمل ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے گانوں میں غزل، قوالی اور کلاسیکی موسیقی کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔
’ہر فنکار کی اپنی زبان ہوتی ہے، میرے لیے شاعری اور بول ہمیشہ اولین رہے ہیں، میں مختلف اصناف کو ایکسپلور کرنا چاہتا ہوں مگر غزل، قوالی اور کلاسیکی روایت سے مجھے خاص لگاؤ ہے، یہی میری ترجیح اور شناخت کا حصہ ہیں۔‘
آج کل کی جنریشن میں ہارٹ بریک گانے مقبول کیوں ہو رہے ہیں، اس پر حاوی کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، انسان ہمیشہ سے جذبات اور دکھ سے جڑا رہا۔
’ہر نسل کا اظہار مختلف ہوتا ہے مگر جذبات وہی رہتے ہیں، آج کی نسل شاید زیادہ خود دار ہے مگر درد اور محبت کے موضوعات ہمیشہ سے مقبول رہے ہیں۔‘
فنکاروں کے لکس کا ان کی کامیابی پر کتنا اثر ہوتا ہے، اس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں پریزنٹیشن اہم ہو گئی ہے، مگر آخرکار اصل چیز فن ہی ہوتی ہے، اگر موسیقی میں جان ہو تو وہ اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔
استاد نصرت فتح علی خان کا اثر
حاوی کے لیے موسیقی کا سفر کچھ ناموں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور ان میں ایک نام استاد نصرت فتح علی خان کا ہے۔
وہ اکثر اپنے کانسرٹس میں ان کا کلام ’وہ بھی اپنے نہ ہوئے‘ پیش کرتے ہیں، ایک ایسا کلام جو ان کے مطابق ذاتی احساسات سے جڑا ہوا ہے۔
’میں کبھی استاد نصرت فتح علی خان سے نہیں ملا لیکن مجھے لگتا ہے کہ میرا ان سے ایک تعلق ہے، ان کے گائے میرے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، اسی لیے میں انہیں گاتا ہوں۔‘
اپنے کانسرٹس میں حاوی نصرت فتح علی خان کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی مشہور سنگرز کے گانوں کو پیش کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا کہ اس سال کے اختتام تک ان کے اوریجنل گانے ان کور سانگز سے تعداد میں زیادہ ہو جائیں گے۔
وہ چاہتے ہیں کہ ان کا پہلا سولو البم ایک کہانی کی طرح سامنے آئے، مرحلہ وار، آہستہ آہستہ، تاکہ سننے والے اس سفر کا حصہ بن سکیں۔
سورج مکھی کے پھول بانٹنے کی کہانی
حاوی کے کانسرٹس میں سورج مکھی کے پھول عوام میں بانٹنا ایک روایت بن چکا ہے اور ان کے بقول یہ صرف علامتی عمل نہیں بلکہ پیغام ہے۔
’بس مجھے لگتا ہے کہ لوگوں میں خوشیاں بانٹنی چاہئیں، سورج مکھی مجھے امید اور خوشی کی علامت لگتا ہے، اس لیے میں اسے سامعین کے ساتھ بانٹتا ہوں۔‘
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے موسیقی کو بدل دیا اور حاوی اس تبدیلی کو ایک موقعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اب ایک فنکار کو اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے کسی بڑے پلیٹ فارم کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔‘
خود پیپسی بیٹل آف دی بینڈز سے آگے آنے والے حاوی کے خیال میں پاکستان آئیڈل سمیت میوزک مقابلوں کا مقبول ہونا اچھا امر ہے۔
’یہ پلیٹ فارمز نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں مدد دیتے ہیں مگر اصل سفر اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔‘
انھوں نے میوزک کو بطور کرئیر اپنانے والوں کو ایک سادہ سا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفر مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔
’صبر کریں، محنت کریں اور اپنے فن کے ساتھ مخلص رہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ماضی کے خود کو کیا کہیں گے، تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’صبر رکھو، آخرکار سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔‘
شاید یہی جملہ ان کی موسیقی کا خلاصہ بھی ہے، ایک ایسا سفر جہاں درد ہے، تلاش ہے، مگر آخر میں کہیں نہ کہیں امید بھی ہے۔