آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایپ پر ’شکار‘ اور ڈیٹ پر لوٹ مار: باؤنسرز اور مینیجرز کی ملی بھگت سے چلنے والے ’کیفے گینگ‘ کی کہانی
- مصنف, الپیش کرکرے
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے میری ایک لڑکی سے جان پہچان ہوئی۔ ملنے کے لیے انھوں نے مجھے ایک کیفے میں بلایا۔ ہم بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اور اس دوران مشروبات اور کھانے کے آرڈر مسلسل آتے رہے۔ کچھ ہی دیر بعد، اچانک وہ ٹوائلٹ جانے کے لیے اُٹھیں اور پھر واپس ہی نہیں آئیں۔
’اور پھر مجھے بل تھمایا گیا، 18 ہزار روپے کا۔ کیفے کے باؤنسرز نے دباؤ ڈال کر مجھ سے بل ادا کروایا۔‘
یہ تجربہ ممبئی کے ایک نوجوان نے پولیس کو اپنی شکایت درج کرواتے ہوئے بیان کیا۔
یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں ہے۔ ممبئی پولیس نے ایک ’ڈیٹنگ سکیم (دھوکے)‘ کا پردہ چاک کیا ہے جس میں ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے لوگوں کو جال میں پھنسا کر بلوں کی مد میں ہزاروں روپے نکلوائے جاتے تھے۔
پولیس تحقیقات کے مطابق یہ محض دو افراد کے درمیان ڈیٹ کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم گروہ ہے۔
ایسی کارروائیاں کرنے والے 13 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے سات گرفتار بھی کر لیے گئے ہیں۔
ملزم اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں اور ممبئی پولیس اس بات کی مزید تفتیش کر رہی ہے کہ یہ جرائم پیشہ گروہ کتنا بڑا ہے اور اس میں مزید کون کون سے لوگ شامل ہیں۔
ملزموں کا مؤقف جاننے کے لیے ان سے اور ان کے وکلا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیٹنگ ایپ سے شروع ہونے والا دھوکہ
دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے ایک نوجوان کے مطابق، ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے اس کی جان پہچان ایک خاتون سے ہوئی۔ چند دنوں تک وہ دونوں چیٹنگ (پیغامات کا تبادلہ) میں عام بات چیت کرتے رہے۔ بتدریج گفتگو دوستانہ ہوتی چلی گئی اور ایک ہفتے کے اندر ہی ملاقات کی تجویز کر دی گئی۔
خاتون نے ممبئی کے علاقے ساکی ناکا میں واقع ایک کلب کیفے میں ملنے کو کہا۔ طے شدہ دن نوجوان ان سے ملنے پہنچے۔ کیفے کے آس پاس دونوں کی ملاقات ہوئی، لڑکی نے کہا کہ یہاں کھانا اچھا ملتا ہے، اور انھیں ایک کلب کیفے میں لے گئیں۔
وہاں پہنچنے کے بعد دونوں نے بات کی کہ کیا کھایا پیا جائے۔ کچھ ہی دیر بعد ویٹر نے لڑکی کو مینو کارڈ تھما دیا۔ لڑکی نے کئی ڈرنکس اور مہنگے کھانے آرڈر کیے۔ تمام آرڈر آنے تک دونوں کے درمیان گفتگو جاری رہی۔
اس کے بعد ڈرنکس پینے اور کھانا کھانے کا سلسلہ شروع ہوا، مسلسل نئی ڈرنکس کے آرڈر دیے جاتے رہے۔
کچھ دیر بعد لڑکی نے کہا کہ وہ ٹوائلٹ جا رہی ہیں۔ اسی دوران میز پر 18 ہزار روپے کا بل رکھ دیا گیا۔
نوجوان کا کہنا ہے کہ ’اتنا بڑا بل دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔ یہ جاننے کے لیے کہ لڑکی اب تک واپس کیوں نہیں آئیں، میں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔‘
نوجوان کے مطابق: ’جب میں نے ان ڈرنکس کو سونگھا جو وہ پی رہی تھی تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ الکحل نہیں بلکہ عام سافٹ ڈرنک ہیں۔ اس کے بعد میں نے کاؤنٹر پر موجود مینیجر کو یہ بات بتائی، لیکن انھوں نے بات نہیں سنی بل ادا کرنے کے لیے باؤنسرز اور ویٹرز کے ذریعے مجھ پر دباؤ ڈالا۔‘
اس وقت نوجوان کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو چکا ہے۔
پولیس اور نوجوانوں کی مدد سے دھوکے کا پردہ فاش
کئی نوجوانوں کے ایسے تجربات سامنے آنے کے بعد، ان کے دوستوں کے تعاون سے یہ معاملہ پولیس کے علم میں لایا گیا۔ اس کے بعد کچھ نوجوانوں اور پولیس نے مل کر اس دھوکے کا پردہ فاش کرنے کی کوشش کی۔
کچھ نوجوانوں نے ڈیٹنگ ایپ پر جعلی لاگ اِن آئی ڈیز بنائیں اور چند لڑکیوں سے گفتگو شروع کی۔ انھی میں سے ایک نوجوان ایک لڑکی سے متعارف ہوا۔ چند دن کی گفتگو کے بعد لڑکی نے ساکی ناکا علاقے میں ملاقات کی تجویز دی۔
نوجوان نے باندرہ علاقے میں ملنے کا مشورہ دیا، تاہم لڑکی نے کہا کہ وہاں کھانا اچھا ملتا ہے اور نوجوان کو وہیں بلایا۔
نوجوان نے پولیس سے رابطہ کر کے انھیں تمام معلومات فراہم کیں، جس کے بعد پولیس نے ایک ٹیم تعینات کی، جال بچھایا اور مشتبہ افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا شروع کی۔
لڑکی نوجوان کو ایک ہوٹل میں واقع کلب کیفے لے گئیں۔ گفتگو کے دوران ہی ویٹر نے لڑکی کے ہاتھ میں مینو کارڈ دے دیا اور انھوں نے ڈرنکس اور مہنگے کھانے آرڈر کر دیے۔
حسب معمول کچھ دیر بعد لڑکی ٹوائلٹ چلی گئیں اور واپس نہ آئیں۔ بل آنے کے بعد نوجوان نے مینیجر سے کچھ سوالات کیے، تاہم دباؤ ڈال کر ان سے بل ادا کروا دیا دیا۔
اس کے بعد پولیس نے کیفے پر چھاپہ مارا اور متعلقہ افراد کو حراست میں لے لیا۔
اس معاملے میں تین خواتین سمیت 13 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزموں میں ریسٹورنٹ مینیجر، آپریٹر اور باؤنسر شامل ہیں۔
پولیس نے ملزموں کے خلاف بھتہ خوری اور دھوکہ دہی سمیت دیگر مقدمات درج کیے ہیں۔
کیفے میں کیا کچھ سامنے آیا؟
چھاپے کے دوران پولیس نے دیکھا کہ کیفے کے مختلف کیبنز میں متعدد مرد اور خواتین جوڑوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے۔
تفتیش کے دوران بعض خواتین کے موبائل فونز سے ڈیٹنگ ایپس پر ہونے والی گفتگو کے شواہد بھی ملے۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ خواتین ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے گاہکوں سے رابطہ کر کے انھیں اسی کیفے میں بلاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق اس گروہ میں خواتین، کیفے کا عملہ، مینیجر اور باؤنسر شامل ہو سکتے ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ گاہکوں سے وصول کی جانے والی رقم ان سب کے درمیان تقسیم کی جاتی تھی۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ خواتین نے مختلف ناموں سے پروفائلز بنائے ہوئے تھے۔ پولیس نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ اس دھوکے کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
کچھ معاملات میں ’شکار‘ سے 15 ہزار سے 40 ہزار روپے تک کے بل وصول کیے جانے کے الزامات بھی لگے ہیں۔ تفتیش کے دوران بل کی مشینیں اور متعدد بل بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ یہ گروہ کیسے کام کرتا ہے
ممبئی پولیس کے مطابق اس کے پیچھے ایک نہایت منظم اور کئی سطحوں پر مشتمل گروہ سرگرم تھا، مرکزی منصوبہ ساز کا پتہ چلا لیا گیا ہے۔ گاہکوں کو اپنے جال میں پھانسنے سے لے کر کیفے میں ہونے والے تمام لین دین تک کی پوری حکمت عملی یہی منصوبہ ساز طے کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق اس گروہ کے لیے چند خواتین کو دیگر علاقوں، خصوصاً دہلی سے ممبئی لایا جاتا تھا۔ ڈیٹنگ ایپ پر ابتدائی رابطے کے بعد گفتگو فوراً واٹس ایپ پر منتقل کر دی جاتی تھی تاکہ آگے کے رابطے پر زیادہ کنٹرول رکھا جا سکے۔
ممبئی پولیس کی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیفے میں بل بڑھانے کے لیے ایک الگ طریقہ اپنایا جاتا تھا۔ آرڈرز میں ایسے کھانے یا مشروبات شامل کیے جاتے تھے جو انتہائی مہنگے ہوتے تھے، جیسے ٹکیلا شاٹس، سگریٹس یا پریمیم ڈرنکس، جب کے در حقیقت وہ کھانے پیش ہی نہیں کیے گئے ہوتے تھے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ بعض معاملات میں مشروبات میں الکحل نہ ہونے کے باوجود اس کی قیمت وصول کی جا رہی تھی۔
اس کے علاوہ، کارڈ مشین کے ذریعے موقع پر ہی فوری طور پر رقم وصول کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ممبئی پولیس کی تحقیقات کے مطابق، گاہکوں سے پیسے وصول کرنے کے لیے باؤنسرز اور عملہ مل کر ان پر دباؤ ڈالتے تھے۔
ممبئی پولیس کے مطابق، اس گروہ میں خواتین کے ساتھ ساتھ کیفے انتظامیہ، ویٹرز، آپریٹرز اور باؤنسرز بھی ملے ہوئے تھے۔ دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی رقم کو طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جاتا تھا، جبکہ بعض معاملات میں ہر ڈیٹ کے عوض ایک مقررہ رقم بھی دی جاتی تھی۔
اب تک ممبئی پولیس کے پاس 15 افراد نے شکایت درج کروائی ہے، تاہم ان میں سے صرف چند نے ہی باضابطہ بیان ریکارڈ کرائے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے متاثرہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جو سامنے آنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل پیغامات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر ملزموں کی شناخت کی گئی ہے۔ ممبئی پولیس نے بتایا ہے کہ اس گروہ کے پورے نیٹ ورک اور اس کے مرکزی منصوبہ ساز تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران ممبئی میں کئی واقعات
گذشتہ چند ماہ کے دوران ممبئی میں ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے دھوکہ دہی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ جولائی میں بوریولی کے علاقے میں بھی ایسا ہی ایک معاملہ بے نقاب ہوا تھا، جس میں 22 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
مختلف ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے اس نوعیت کی وارداتیں سامنے آنے کے بعد پولیس نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر آف پولیس دتا نلوادے نے کہا کہ 'ہمیں اس معاملے میں شکایت موصول ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے جال بچھایا اور کارروائی کی۔ اس بات کی تفتیش جاری ہے کہ یہ گروہ کتنا بڑا ہے۔'
گرفتار کیے گئے ملزموں اور ان کے وکلا سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ رابطہ ہو گیا تو اس خبر کو اپ ڈیٹ کر دیا جائے گا۔
ڈیٹنگ ایپ استعمال کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جائے؟
سائبر کرائم کے ماہر پرشانت مالی کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیٹنگ ایپس استعمال کرتے وقت مزید احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ سامنے والا پروفائل جعلی ہو اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا ہو۔ اس لیے اجنبی افراد کے ساتھ ذاتی معلومات، تصاویر، ویڈیوز یا مالی تفصیلات ہرگز شیئر نہ کریں۔
اگر کوئی اچانک پیسے یا کسی چیز کا تصدیقی کوڈ مانگے یا پھر سرمایہ کاری کی پیشکش کرے تو فوراً ہوشیار ہو جائیں، اور ممکن ہو تو ویڈیو کال کے ذریعے اس شخص کی تصدیق کریں۔
اسی طرح، اگر ڈیٹنگ ایپ پر واقفیت کے فوراً بعد ملاقات پر زور دیا جائے یا کسی مخصوص کیفے یا بار ہی میں ملنے پر اصرار کیا جائے تو اسے مشکوک سمجھنا چاہیے۔ آرڈر اور بل اچھی طرح جانچے بغیر ادائیگی نہ کریں۔ اگر صورتحال مشتبہ محسوس ہو تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے۔