کوہ پیمائی کا سیزن سر پر مگر ایک گلیشیئر ایورسٹ تک رسائی کی راہ میں حائل

    • مصنف, اشوک داہل، سائمن فریزر
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

نیپال میں موسمِ بہار کو کوہ پیمائی کے عروج کا موسم کہا جاتا ہے مگر دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے خواہشمند افراد کو اس مرتبہ ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔

ایورسٹ کے بیس کیمپ کے قریب ایک گلیشیئر کا ایک بڑا اور غیر مستحکم حصہ پہاڑ کی جانب جانے والے راستے کو مسدود کیے ہوئے ہے۔

’آئس فال ڈاکٹرز‘، جو دنیا کی بلند ترین چوٹی تک جانے والے راستے کے نچلے حصے میں رسّیاں اور سیڑھیاں نصب کرتے ہیں، کیمپ ون سے ذرا نیچے تقریباً 100 فٹ بلند برف کے اس حصے کے گرد کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ واحد حل یہ ہے کہ برف کے اس ٹکڑے، جسے سیراک کہا جاتا ہے، کے پگھلنے کا انتظار کیا جائے۔

اس تاخیر کے باعث موسمِ بہار کے اُس دور کے لیے تیاریاں شیڈول سے کئی ہفتے پیچھے چلی گئی ہیں، جب ایورسٹ پر چڑھائی کے لیے موسم عموماً بہترین ہوتا ہے اور ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ اس سال پھر سے کوہ پیماؤں کو چوٹی تک پہنچنے کے لیے قطاروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نیپال کی ممتاز کوہ پیما اور فوٹوگرافر پورنیما شریستا، جو چھٹی بار ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کے لیے تیاری کر رہی ہیں، نے بیس کیمپ سے بی بی سی کو بتایا ’ہم عام طور پر موسم اور ماحول سے ہم آہنگی کے عمل کے دوران کیمپ ون، کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان بار بار سفر کرتے ہیں۔ راستہ کھلنے میں تاخیر نے اس سال چوٹی پر ممکنہ ٹریفک جام کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔‘

آئس فال ڈاکٹرز ساگرماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی (ایس پی سی سی) کے لیے کام کرتے ہیں، جو ایورسٹ پر کیمپ ٹو تک رسّیوں کو محفوظ بنانے کی ذمہ دار ہے۔ ایورسٹ کی بلندی 8,848.86 میٹر (29,031 فٹ) ہے۔ یہ ٹیم تین ہفتے قبل بیس کیمپ پہنچی تھی۔

اپریل میں عموماً اس وقت تک کیمپ تھری تک راستہ تیار کر دیا جاتا ہے، لیکن اب بھی کیمپ ون سے تقریباً 600 میٹر نیچے گلیشیئر کے اس حصے کی وجہ سے پیش رفت رکی ہوئی ہے۔

ایس پی سی سی کے بیس کیمپ کوآرڈینیٹر تشیرنگ تینزنگ شرپا نے بی بی سی کو بتایا ’ہم ابھی تک اسے مصنوعی طریقوں سے پگھلانے کا کوئی حل نہیں ڈھونڈ سکے، اس لیے ہمارے پاس اس کے خود پگھلنے اور بکھرنے کا انتظار کرنے کے سوا کوئی حل نہیں۔‘

انگ سارکی شرپا، جو برسوں سے آئس فال ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ سیراک پگھل جائے گا کیونکہ اس کا نچلا حصہ کمزور ہے۔

انھوں نے بتایا: ’ہم 10 اپریل کو وہاں پہنچے تھے اور نیچے موجود دراڑ پگھل رہی ہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے بعد آنے والے شرپاؤں نے بتایا کہ یہ مزید پگھل چکا ہے اور گرنے کے قریب ہے۔

وہ اور دیگر کوہ پیما سیراک کے گرد محفوظ طریقے سے متبادل راستہ نہیں تلاش کر پا رہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سال کیمپ ون تک کسی ممکنہ متبادل راستے کوبنانا مشکل ہو گا اور برف کے اس بڑے ٹکڑے پر چڑھنا انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

انگ سارکی شرپا نے بیس کیمپ سے فون پر بتایا کہ ’ہم نے چار دن علاقے کا جائزہ لیا، پہاڑ کے دائیں اور بائیں ہر جگہ کو دیکھا لیکن کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

نیپال کے محکمۂ سیاحت کے مطابق مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں ٹیموں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کیمپ ٹو تک پہنچانا بھی شامل ہے۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل رام کرشن لامیچھانے کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ رسّیاں لگانے والی ٹیم اور اس کا سامان ہیلی کاپٹر کے ذریعے کیمپ ٹو تک پہنچا دیا جائے، تاکہ وہ فی الحال اس کے اوپر راستہ کھول سکیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’جہاں رکاوٹ ہے وہاں ہم برف کے پگھلنے کا انتظار کریں گے اور جب سب کچھ محفوظ ہو گا تو وہاں کام کریں گے۔‘

ایورسٹ پر چڑھنے کے لیے موافق موسم مئی کے اختتام تک ہی متوقع ہے اور فی الحال راستہ روکنے والی برف کے پگھلنے کے ساتھ شرپاؤں کو امید ہے کہ کیمپ ٹو تک رسّیاں لگانے کا کام چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا اور اس کے ایک ہفتے کے اندر چوٹی تک راستہ بھی کھل جائے گا۔

تاہم پورنیما شریستا نے کہا کہ اگر راستہ جلد کھل بھی جاتا ہے تو اس سیزن میں کوہ پیمائی کے لیے دستیاب وقت کم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے 2024 میں ایک ہی موسم کے دوران تین بار ایورسٹ کی چوٹی سر کی تھی، اور اُس سال انھوں نے 11 مئی کو پہلی کوشش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے فکر نہیں کہ راستہ نہیں کھلے گا، کیونکہ اس کے لیے ابھی بھی وقت ہے لیکن وقت محدود ہو سکتا ہے اور بہت سے کوہ پیما مختصر مدت میں کوشش کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘

ایران اورامریکہ کی جنگ اور اس کے ایندھن کی قیمتوں اور سفر پر اثرات کے باوجود، اس سال بڑی تعداد میں کوہ پیماؤں کے ایورسٹ سر کرنے کی توقع ہے۔

ایکسپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن کے صدر دمبر پراجولی کہتے ہیں ’پروازوں پر اثرات کے باعث معمولی کمی آئی ہے، لیکن کوہ پیمائی ٹریکنگ کے مقابلے میں اتنی متاثر نہیں ہوئی۔‘

محکمۂ سیاحت کے مطابق اب تک 367 افراد نے ایورسٹ پر چڑھائی کے اجازت نامے حاصل کیے ہیں، جن میں سے زیادہ تر چینی شہری ہیں۔ کوہ پیمائی کے منتظمین کے مطابق چین نے اس سال اپنی سرزمین سے غیرملکی شہریوں کے لیے اجازت نامے جاری نہیں کیے۔

خیال رہے کہ تبت کے نسبتاً آسان راستے کے برعکس ایورسٹ کو سر کرنے کی زیادہ تر کوششیں نیپال کے راستے سے ہوتی ہیں۔

گذشتہ سال، گائیڈز سمیت 700 سے زائد افراد نے نیپالی جانب سے یہ چوٹی سر کی، جبکہ چین کی جانب سے صرف تقریباً 100 افراد نے کوہ پیمائی کی۔

2019 میں ماؤنٹ ایورسٹ پر قطاروں میں کھڑے کوہ پیماؤں کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد، نیپال نے اپنے پرمٹ نظام کو سخت اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

اس سال موسمِ بہار میں ایورسٹ پر چڑھنے کی فیس غیرملکیوں کے لیے 11 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 15 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے جبکہ نیپالی شہریوں کے لیے یہ فیس دگنی ہو کر ایک ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔