’ایک سال کی محنت اور فیس ضائع‘: اے لیول کا ریاضی کا پرچہ ’لیک‘، امتحانی نظام کی شفافیت پر سوال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’امتحان کی تیاری کے انگنت گھنٹے اور پورے سال کے دوران ٹیوشن فیس پر خرچ لاکھوں روپے ضائع ہو گئے۔‘
اے لیول کے ریاضی کے امتحان سے کچھ گھنٹے قبل پرچہ مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے جانے کے معاملے نے پاکستان میں کئی طلبہ، اساتذہ اور والدین کو پریشان کیا ہے جو کچھ ایسے تبصرے کر رہے ہیں۔
کیمبرج پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ ایڈوانس سبسیڈیری میتھمیٹکس کا امتحانی پرچہ ’ہمارے قواعد کے خلاف وقت سے پہلے شیئر کیا گیا۔‘
پاکستان کے انٹر بورڈ آف کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ کیمبرج سے رپورٹ طلب کرے گا کیونکہ پرچے کے لیک ہونے کی اطلاعات کے بعد والدین اور طلبہ نے امتحانی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اگرچہ اس معاملے پر ادارے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReddit
معاملہ آخر ہے کیا؟
اے لیول امتحانات کے پارٹ ون میں اے ایس ریاضی کا پرچہ لیک ہونے کی اطلاعات سب سے پہلے سوشل میڈیا پر سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پرچے کی حل شدہ اور غیر حل شدہ نقلیں آن لائن موجود ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ یہ امتحان شروع ہونے سے صرف چند گھنٹے پہلے ہوا ہے۔
پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق یہ پرچہ منگل کی رات گئے منظرِ عام پر آیا جبکہ دیگر کے مطابق امتحان سے کم از کم چھ گھنٹے پہلے ہی یہ گردش میں تھا۔
صارفین نے نشاندہی کی ہے کہ پرچہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ریڈ اِٹ اور واٹس ایپ کے ذریعے مزید پھیلا۔ سب سے پہلے پرچہ کہاں لیک ہوا، بی بی سی اس کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض طلبہ نے یہ دعویٰ کیا کہ اسے آن لائن تقسیم کیے جانے سے پہلے انٹرنیٹ پر ہی فروخت کیا جا رہا تھا۔
صارفین کی طرف سے اظہار برہمی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سوشل میڈیا پر نہ صرف متاثرہ طلبہ اور اساتذہ بلکہ والدین بھی اس معاملے پر اپنی تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔
ابراہیم جعفری نامی صارف نے کہا کہ ’اندازے کے مطابق پاکستان کے تقریباً 25 ہزار طلبہ نے اے لیولز میتھمیٹکس کے امتحان میں شرکت کے لیے برٹش کونسل کو لگ بھگ 50 ہزار روپے فی امیدوار ادا کیے۔۔۔ تیاری میں صرف کیے گئے لاتعداد گھنٹے اور ایک سال کے دوران ٹیوشن فیس کی مد میں ادا کی گئی لاکھوں روپے کی رقم سب ضائع ہو گئی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔
فیضان نے کہا کہ کئی والدین اور طلبہ کو اس بارے میں اس وقت علم ہوا جب وہ ’اپنے امتحانی مراکز پہنچے۔ اس کے نتیجے میں امتحان کے روز والدین اور طلبہ دونوں کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ایک والد نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’میرے بیٹے کو اس صورتحال نے خاصا پریشان کر دیا ہے۔ یہ معاملہ تین برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ آج اساتذہ نے طلبہ سے کہا کہ وہ کیمبرج میں شکایت درج کرائیں اور اپنے والدین سے بھی ایسا کرنے کو کہیں۔‘
’یہ طلبہ کی اکثریت کے ساتھ نہایت ناانصافی ہے۔ اب یہ سن کر کہ امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے، تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔‘
امبر نے تبصرہ کیا کہ اس سے ’ایک بچے کی ایک سال کی پوری محنت ضائع ہوئی ہے‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میتھمیٹکس کے کسی دوسرے ویرینٹ کی بنیاد پر گریڈ دینا یا امتحان دوبارہ ایک مزید مشکل پرچے کے ساتھ منعقد کرنا اُن طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے جنھوں نے بہتر نمبرز حاصل کرنے کے لیے محنت کی تھی۔‘
کئی صارفین نے کیمبرج کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جیسے ندیم تنولی نے لکھا کہ ’فیسیں تو برطانوی معیار کی لی جاتی ہیں لیکن سروس ڈیلیوری کسی تیسرے درجے کے ادارے سے بھی بدتر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہx
کیمبرج پاکستان نے کیا کہا؟
کیمبرج پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول میتھمیٹکس کا امتحان 12 (9709) جو افریقہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے علاقوں میں لیا گیا، ہمارے ضوابط کے خلاف مقررہ وقت سے پہلے شیئر کیا گیا۔'
اس کا کہنا ہے کہ ’ہم اس نوعیت کے واقعات کی فوری اور مکمل تحقیقات کرتے ہیں اور اب ہم اس بات کو سمجھنے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ یہ لیک کس حد تک پھیلی اور اس حوالے آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔‘
’ہماری ترجیح یہ ہے کہ طلبہ اس واقعے کے باعث کسی نقصان کا شکار نہ ہوں اور ہم اپنے امتحانات کی ساکھ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ امیدوار ’آئندہ امتحانات دینے کے لیے تیاری جاری رکھیں۔‘
کیمبرج پاکستان کے مطابق اگلے اقدامات سے متعلق ہمارے فیصلے سینیئر اور تجربہ کار پیشہ ور افراد کرتے ہیں جن کے پاس تمام حقائق موجود ہوتے ہیں اور ہمارے اصول یہ ہیں: ان گریڈز کے اعتبار کو یقینی بنانا، جو ہم دیتے ہیں تاکہ جامعات اور گریڈز استعمال کرنے والے دیگر ادارے ان پر اعتماد برقرار رکھ سکیں۔ پرچہ چوری ہونے کے باعث طلبہ کو ہونے والی ذہنی کوفت اور خلل کو کم سے کم کرنا۔‘
اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہم اس طرح کے واقعات کے طلبہ پر اثرات کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ہمیں اس اعتماد کی قدر ہے جو ہم پر 160 ممالک میں ہر سال 20 لاکھ سے زائد امتحانات منصفانہ نتائج کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘
’امتحان کی ساکھ متاثر ہونا ایک نایاب امر ہے اور جہاں ہمیں بدعنوانی کے شواہد ملتے ہیں وہاں ہم امتحانی مراکز اور طلبہ کے خلاف مناسب کارروائی کرتے ہیں۔‘
کیمبرج پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید پیشرفت 7 مئی کو بتائی جائے گی۔


























