او، اے لیول امتحانات: طلبا کے خدشات اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا موقف، ’میرے اپنے نواسے نواسیاں اے لیول کا امتحان دے رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہ@DCSouthKarachi
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے ہی پاکستانی طلبہ اور وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کے رشتے میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے۔ ایک موقع تو ایسا بھی آیا جب پاکستانی طلبہ انھیں ملک کے وزیِر اعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے لیکن اب یہ تعلق کچھ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
ملک میں جہاں ایک طرف کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران نئے مریضوں اور اموات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے وہیں دوسری جانب اے لیولز کے امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق آج (پیر) سے شروع ہوئے ہیں۔
ان امتحانات کو ملتوی کروانے کے لیے حالیہ کچھ مہینوں کے دوران طلبہ کی جانب سے احتجاج، عدالتوں میں درخواستوں سے لے کر سوشل میڈیا پر آئے دن بحث چلتی آئی ہے تاہم وزیرِ تعلیم شفقت محمود مصر رہے کہ یہ امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے اور آج ایسا ہی ہو رہا ہے۔
تاہم طلبا کو خدشہ ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران بنائے گئے امتحانات کے ان ہالز میں ایس او پیز پر عمل درآمد صرف دکھاوے کی حد تک ہے اور ہزاروں طلبا کو ایک ساتھ امتحان دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو ان کے لیے صحت کے خطرات کے ساتھ ساتھ ذہنی اذیت کا باعث بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس حوالے سے سماجی کارکنان اور صحافیوں کے علاوہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ@Shafqat_Mahmood
مسئلہ ہے کیا ؟
رواں برس اپریل کے آغاز میں حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ میٹرک اور ایف اے ایف ایس سی سے لے کر کیمبرج تک، کسی بھی طالبِ علم کو امتحانات دیے بغیر اگلی جماعت میں پروموٹ نہیں کیا جائِے گا۔
اُس وقت وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا تھا کہ امتحانات سے متعلق فیصلے حتمی ہیں اور اس فیصلے کو تبدیل نہیں کیا جائے گا لہٰذا کسی کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن اس کے بعد پاکستان میں وبا کی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور حالیہ ہفتوں میں کورونا وائرس سے ریکارڈ متاثرین اور اموات ہوئیں۔
صورتحال اتنی بگڑ گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے فوج بلانے سے لے کر مکمل لاک ڈاؤن لگانے کا عندیہ بھی دیا گیا۔
یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اسی دوران خطے کے دیگر ممالک میں، جن میں انڈیا کے علاوہ نیپال اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں، کورونا کی صورتحال کے مدِنظر امتحانات کو منسوخ یا ملتوی کرنے اور طلبا کو اساتذہ کی جانب سے گریڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
توقع کی جا رہی تھی کہ کورونا وائرس کی موجود صورتحال میں دیگر ممالک کی طرح پاکستانی طلبا کے امتحانات بھی مؤخر یا ملتوی کیے جائیں گے تاہم ایسا نہیں ہوا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس دوران طلبہ کی جانب سے احتجاج، عدالتوں میں درخواستوں سے لے کر سوشل میڈیا پر آئے دن بحث چلتی رہی اور شوبز سے لے کر سماجی کارکنان اور صحافیوں کے علاوہ کئی حکومتی وزرا و وزیرِ اعلیٰ نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تاہم حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور آج اے لیول امتحانات مقررہ شیڈول پر ہو رہے ہیں۔
یاد رہے اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے بھی او اور اے لیول کے امتحانات ملتوی کرانے سے متعلق دائر درخواستیں مسترد کردیں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہ@laibaaakhan
’ایسا نہیں ہے کہ ہمیں امتحانات کا کوئی ڈر ہے‘
عرشیہ حسین اے لیول کی طالبہ ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آدھے طلبا کورنا وائرس اور یومیہ اموات کے ڈر سے امتحان میں نہیں بیٹھنا چاہتے اور باقیوں کا کہنا ہے کہ یہ سال پڑھائی کے حساب سے ہمارے لیے اچھا نہیں رہا۔
’کورونا وائرس اور دیگر وجوہات کے باعث کبھی کلاسیں آن لائن ہوئی تو کبھی سکول میں۔۔۔ ہم سلیبس تک مکمل نہیں کر پائے اور مکمل دلجوئی سے تعلیم پر توجہ مرکوز نہیں کر سکے۔۔ لیکن میرا خیال کے میری طرح میرے باقی ساتھی بھی دراصل کورونا سے ڈرے ہوئے ہیں اور اپنی صحت کو لے کر پریشان ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں کہ ہمیں امتحان دینے سے ڈر لگتا ہے، بچپن سے آج تک ہر سال امتحان ہی دیتے آئے ہیں نا۔۔ لیکن میں کورونا وائرس سے ڈرتی ہوں۔‘
عرشیہ نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ برس اکتوبر کے امتحانات بھی دیے تھے اور انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ اس کمرہ امتحان میں کتنے طلبا ایک ساتھ تھے اور ایس او پیز پر کتنا عمل درآمد ہو رہا تھا اور اب تو صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے اور پاکستان میں بھی انڈیا کی طرح ہسپتال میں بستروں کی کمی سے لے کر آکسیجن سپلائی کے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@Bulandjawaid_
ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ کیمبرج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایس او پیز کا خیال رکھا جائے گا لیکن 400-500 طلبا والے میرج ہالز میں وہ کس حد تک ایس او پیز پر عمل درآمد کروا سکتے ہیں جن میں آخری کونے تک طلبا بھرے ہوئے ہیں؟ کسی نہ کسی صورت تو رابطہ ہو گا نا؟‘
عرشیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان حالات میں امتحان دینا بہت خطرناک ہے اور خاص کر اس صورت میں جب آپ کے گھر میں بڑی عمر کے افراد موجود ہوں جنھیں کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہے۔
انھیں یہ بھی خدشہ ہے کہ جس وقت ساری دنیا کے طلبا کو ان کے اساتذہ کی جانب سے گریڈنگ دی جائے گی، جس کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ اس میں نرمی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے لیکن پاکستانی طلبا کو امتحانات میں بٹھایا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کالجوں میں اپلائی کرنے کے وقت پاکستانی طلبا، بنگلہ دیش اور انڈیا کے طلبا سے پیچھے رہ جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہARIF ALI
شفقت محمود کا مؤقف: ’میرے اپنے نواسے نواسیاں اے لیول کا امتحان دے رہے ہیں‘
موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ان امتحانات کو ملتوی یا کینسل کیوں نہیں کیا جا سکا، اس بارے میں وفاقی وزیِر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک کا تعلق تعلیم سے ہے اور دوسری کا صحت سے۔
تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’سارے پاکستان کے وزرائے تعلیم نے محسوس کیا کہ گذشتہ برس جب ہم نے اساتذہ کی جانب سے دے جانے والا گریڈنگ کا نظام اپنایا تھا تو اس میں بہت سی شکایات ملیں اور ایسی گریڈنگ کی گئی کہ کچھ جگہ سب کو بہت اعلیٰ گریڈ دیے گئے جبکہ کچھ جگہ نارمل گریڈنگ کی گئی جس کے بعد کیمرج نے انھیں اور کم کر دیا جس کے بعد ایک نیا تماشہ کھڑا ہو گیا۔۔۔ لہٰذا سارے وزرائے تعلیم کا خیال تھا کہ ایک ساتھ دو برس تک یہ گریڈنگ کا یہ نظام نہیں اپنانا چاہیے۔‘
صحت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صحت کے ماہرین نہیں ہیں، ہمیں جب محکمہ صحت سے سکول بند کرنے کا کہا جاتا ہے تو ہمارا دل چاہے نہ چاہے ہم بند کر دیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’ہمیں محکمہ صحت کی جانب سے ایڈوائز دی گئی تھی کہ کیمرج کا امتحان لو والیوم (کم طلبا والا) ہے اس لیے یہ امتحان منعقد ہو سکتا ہے۔ اور ہمیں برٹش کونسل نے بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ ایس اور پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اسی لیے ہم نے اجازت دی ہے اور ہم اس کی مانیٹرنگ بھی کریں گے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر امتحانات کے مراکز کے جو تصاویر (جن میں ایس و پیز پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا) شئیر کی جا رہی ہیں وہ سب فیک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@Nazish_Brohi
انھوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث ان کی والدہ وفات پا گئیں تھیں، اور ان کا پورا خاندان کورونا کا شکار ہوا۔۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ مجھے فکر نہیں ہے۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ’میرا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے، میرے اپنے نواسے نواسیاں اے لیول کا امتحان دے رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف میرا فیصلہ نہیں پاکستان کے تمام وزارئے تعلیم کا متفقہ فیصلہ ہے۔۔ میں نے ہمیشہ سارے فیصلے بچوں کے مستقبل کو مدِنظر رکھ کر کیے ہیں۔ کبھی ان فیصلوں کی وجہ سے میں مقبول ہو جاتا ہوں اور کبھی طلبا ناراض ہو جاتے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں اے اور لیول کے طبا کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان پر سخت افسوس ہوا ہے۔‘
ان کا یہ کہنا تھا جو بچے صحت کے حوالے سے زیادہ پریشان ہیں وہ اگلے سائیکل یعنی اکتوبر، نومبر میں امتحان دے سکتے ہیں اور ان سے کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔
تو کیا اس پالیسی کا اطلاق کیمبرج کے بقیہ امتحانات پر بھی ہو گا؟ اس کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار محمکہ صحت پر ہے۔ ’اگرکسی بھی مرحلے پر ہمیں محکمہ صحت کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ ان امتحانات کی وجہ سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے اور خطرے کے باعث امتحانات روکنے کا کہنا جاتا ہے تو ہم امتحانات کے مراکز بند کر دیں گے۔‘
وزیر تعلیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے کیمبرج سے اس غیر معمولی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے، اے لیول کے باقی امتحانات کے لیے 13 مہینے کی شرط پر نظرثانی کرنے کا کہنا ہے اور انھیں امید ہے اس بارے میں جلد ہی بہتر فیصلہ کیا جائے گا۔






















