’نظرانداز‘ کیا گیا بیٹا اور جانشینی کا جھگڑا: سام سنگ کی اربوں کی سلطنت کا اگلا وارث کون؟

Lee Jae-yong, chairman of Samsung Electronics Co., arrives at the Seoul Central District Court in Seoul, South Korea, on Monday, 5 Feb., 2024.

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسام سنگ کے چیئرمین لی جے یونگ
    • مصنف, سارہ گرین
    • مصنف, سائمن ٹولیٹ
    • عہدہ, ورلڈ سروس پوسٹ کاڈ
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

جب دنیا کی کچھ سب سے بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ ترین عہدوں پر طاقت کی منتقلی ہوتی ہے تو عموماً زیادہ تر لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔

اگر مصنوعات اچھی کارکردگی دکھا رہی ہوں، سروسز ٹھیک ہوں اور دکانوں کی شیلفیں بھری ہوں، تو بورڈ روم میں کون بیٹھتا ہے، عموماً یہ معاملہ خبروں کی زینت نہیں بنتا لیکن سام سنگ کی بات کی جائے تو، اس کے پیچھے موجود خاندانی سلطنت اتنی پیچیدہ ہے اور یہ کمپنی جنوبی کوریا کی معیشت کے لیے اتنی اہم ہے کہ یہ معاملہ فرنٹ پیج پر ہیڈ لائنز میں جگہ بنانے لگا۔

اور یہ سنہ 2017 میں ہوا، جب سام سنگ کے متوقع وارث لی جے یونگ، جنھیں جے وائی لی بھی کہا جاتا ہے، کو ایک بدعنوانی سکینڈل کے باعث جیل بھیج دیا گیا، اس سکینڈل نے ملک کے صدر کو بھی اقتدار سے ہٹا دیا۔

57 سالہ لی، سام سنگ کے بانی کے پوتے ہیں۔ ’سام سنگ رائزنگ‘ نامی کتاب کے مصنف جیفری کین نے انھیں ’ٹیکنالوجی کی تاریخ کے طاقتور ترین افراد میں سے ایک‘ قرار دیا۔

لیکن 2015 میں جب ان کے والد یعنی سام سنگ کے چیئرمین لی کن ہی دل کے دورے کے بعد ہسپتال میں تھے، لی کی جانشینی محفوظ نہیں تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے چوئی سون سل کی زیرِ انتظام فاؤنڈیشنز کو رقم دی، جو جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گُن ہائے کی قریبی دوست اور رازدار تھیں اور اس کے بدلے میں انھوں نے ایک ایسے انضمام کے لیے سیاسی حمایت حاصل کی جو کمپنی پر ان کی گرفت مضبوط کرتا۔

سام سنگ جنوبی کوریا کا خاندانی ملکیت میں چلنے والا سب سے بڑا کاروبار ہے

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسام سنگ جنوبی کوریا کا خاندانی ملکیت میں چلنے والا سب سے بڑا کاروبار ہے

ان پر اس انضمام میں حصص اور اکاؤنٹنگ فراڈ کے استعمال کا بھی الزام لگایا گیا، یہ انضمام سام سنگ کی ایک ذیلی کمپنی سام سنگ سی اینڈ ٹی اور کاروباری سلطنت کے ایک اور حصے چیئل انڈسٹریز کے درمیان ہوا تھا۔

استغاثہ کے مطابق اس نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ نئی ضم شدہ کمپنی میں سب سے زیادہ حصہ اپنے قبضے میں لے سکے، اور یوں بالآخر سام سنگ الیکٹرانکس پر کنٹرول حاصل کر سکیں، جو اس کاروباری سلطنت کا سب سے قیمتی حصہ اور طاقت کا بڑا ذریعہ ہے۔

لی جے یونگ ہمیشہ فراڈ کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں مگر 2017 میں انھیں رشوت دینے کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔ جب 2016 میں یہ بڑا بدعنوانی سکینڈل سامنے آیا تو اس نے سیول کی سڑکوں پر لاکھوں افراد کی کئی ہفتوں پر محیط احتجاجی تحریک کو جنم دیا اور بالآخر یہ معاملہ ملک کے صدر کی مواخذہ کارروائی تک جا پہنچا۔

یہ معاہدہ اتنا اہم کیوں تھا؟

سام سنگ کی بنیاد 1930 کی دہائی کے آخر میں ایک کریانے کی دکان کے طور پر رکھی گئی تھی، تب سے یہ کمپنی لی خاندان کے کنٹرول میں ہے۔ جیوفرے کین کے مطابق، جنوبی کوریا میں اس خاندان کی حیثیت ’شاہی خاندان کے مترادف‘ ہے۔ انھوں نے اس کاروبار کو ایک حقیقی عالمی طاقت میں تبدیل کیا، جس میں صارفین کی معروف ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انشورنس، میموری چِپس اور تعمیرات جیسے شعبے بھی شامل ہیں۔

لیکن اس کاروبار کو خاندانی کنٹرول میں رکھنے کے لیے، اس کو پیچیدہ انضمامات، خریداریوں اور طاقت کی منتقلی کے سلسلوں سے گزرنا پڑا اور یہ ہی وہ وجوہات تھیں، جنھوں نے لی جے یونگ کو جیل تک پہنچایا۔

وہ 2014 سے اس کمپنی کے قائم مقام سربراہ تھے، جب ان کے والد، جو اس وقت سام سنگ کے چیئرمین تھے، کو دل کا دورہ پڑا۔

ان کے والد نے کمپنی کو ایک کامیاب ملکی کاروبار سے ایک عالمی کاروبار میں تبدیل کیا تھا۔ اقتدار سنبھالنے کی تیاری میں، لی جے یونگ اعلیٰ عہدوں کے ایک سلسلے سے گزر چکے تھے۔

لی جے یونگ کے والد لی کن ہی ماضی میں سام سنگ کی قیادت کر چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلی جے یونگ کے والد لی کن ہی ماضی میں سام سنگ کی قیادت کر چکے ہیں

لیکن جب وہ قائم مقام چیئرمین بنے تو انھیں ایک مشکل صورت حال کا سامنا تھا: سام سنگ پر مکمل خاندانی کنٹرول یقینی بنانے کے پیچیدہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت تک کاروباری سلطنت غیر معمولی حد تک پیچیدہ ہو چکی تھی: اس میں درجنوں کمپنیاں شامل تھیں، سام سنگ الیکٹرانکس سے لے کر ریٹیل، تعمیرات سے لے کر کیمیکلز تک۔ یہ سب کچھ ایک پیچیدہ جال میں شیئر ہولڈنگز کے ذریعے جڑا ہوا تھا۔

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ خاندان کو 10 ارب ڈالر (7.4 ارب پاؤنڈ) سے زائد کے انتہائی بڑے وراثتی ٹیکس بل کا سامنا تھا لیکن اگر اس کی ادائیگی کے لیے وہ کمپنیوں میں اپنے حصص فروخت کرنا شروع کر دیتے تو لی خاندان کے کنٹرول کھونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا۔

جانشینی کا خطرہ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اکلوتے بیٹے ہونے کے ناطے، لی جے یونگ کو اپنے والد کی وفات کے بعد سام سنگ کی قیادت کے لیے منتخب کیا گیا مگر تین دہائیوں تک اقتدار سنبھالنے کی تربیت پانے کے باوجود، بعض لوگوں کے نزدیک وہ جنوبی کوریا کی سب سے بڑی کمپنی اور ایک قوم کی معاشی امیدوں کی نگرانی کے لیے مناسب انتخاب نہیں تھے۔

جنوبی کوریا کے اخبار ہانگیریے کی رپورٹر جے یون لی کے مطابق ’وہ واقعی مختلف تھے، جہاں ان کے والد کو بہت جارحانہ اور اپنے مقاصد کو ترجیح دینے والے کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لی کو زیادہ شرمیلا، خاموش اور محتاط سمجھا جاتا تھا۔‘

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کی بہن زیادہ صلاحیتوں کی حامل تھیں، اور ان پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ وہ مطلوبہ حد تک سخت گیر نہیں تھے۔ اس کی صلاحیتوں پر اس وقت بھی سوال اٹھے جب اس کا پسندیدہ منصوبہ ای‑سام سنگ ڈاٹ کام بحران کے دوران ناکام ہو گیا۔

یہ خاندان ایک نسل پہلے بھی ایک ایسی جانشینی کی جنگ سے متاثر ہو چکا تھا، جب لی جے یونگ کے والد، جو اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، کو اپنے دو بڑے بھائیوں پر ترجیح دے کر کمپنی کی قیادت سونپی گئی۔

اس بات پر تنازع موجود ہے کہ سب سے بڑے بیٹے، لی جے یونگ کے چچا لی مینگ ہی کے ساتھ کیا ہوا، جنھیں روایتاً وراثت ملنی چاہیے تھی۔

بڑے بیٹے، یعنی لی جے یونگ کے چچا لی مینگ ہی، کے ساتھ کیا ہوا اس پر اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ روایت کے مطابق وراثت انھیں ملنی چاہیے تھی۔ ایک مؤقف کے مطابق جب انھیں کمپنی چلانے کا موقع دیا گیا تو وہ اس ذمہ داری پر پورا نہیں اتر سکے۔

لی مینگ ہی کا کہنا ہے کہ انھوں نے سات سال تک کمپنی چلائی۔ تاہم، حقیقت کچھ بھی ہو، 1976 میں سب سے چھوٹے بیٹے لی کن ہی کو وارث نامزد کیا گیا۔ یہ ایسا فیصلہ تھا جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔

خالی کرسی

غیر یقینی آغاز کے بعد لی کن ہی نے 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں سام سنگ گروپ کے لیے کامیابی کے دور کی نگرانی کی لیکن مزید چیلنجز آنے والے تھے۔

2008 میں، لی جے یونگ اور ان کے والد دونوں نے استعفیٰ دے دیا، جب سام سنگ کے ایک سابق وکیل، جو بعد میں مخبر بنے، نے ایک خفیہ فنڈ کے بارے میں علم ہونے کا دعویٰ کیا جو رشوت اور سیاسی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

ہانگیریے کی رپورٹر جے یون لی کے مطابق ’وکیل نے کہا کہ وہ مزید بدعنوانی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے مطابق، سام سنگ اتنا زیادہ تباہ ہو چکا تھا کہ اس نے ان کی نوکری ناقابلِ برداشت بنا دی تھی۔‘

سام سنگ الیکٹرانکس سمارٹ فون بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسام سنگ الیکٹرانکس سمارٹ فون بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے

اس صورتحال نے کمپنی اور جنوبی کوریا کی معیشت کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے۔ خاص طور پر اس لیے کہ لی جے یونگ کو اگلا چیئرمین بننے کا واضح امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ اچانک کمپنی قیادت سے محروم نظر آنے لگی۔

بعد میں ان کے والد کو رشوت کے الزامات سے بری کر دیا گیا لیکن انھیں ٹیکس چوری کا مجرم قرار دیا گیا اور سز ا اور جرمانہ کیا گیا۔

وہ تکنیکی طور پر آزاد آدمی تھے لیکن سام سنگ کے ایک اعلیٰ عہدے پر اب بھی خلا موجود تھا۔

لی خاندان کیسے دوبارہ کنٹرول حاصل کرے گا؟

چالیس سالہ دشمنی

بالآخر لی کن ہی کو صدارتی معافی دی گئی اور وہ دوبارہ سام سنگ کے چیئرمین بن گئے لیکن ان کے مسائل ختم نہیں ہوئے تھے۔ 2012 میں ان کے بھائی، لی جے یونگ کے چچا نے اس وراثت کو واپس لینے کی کوشش شروع کی جسے وہ اپنا جائز حق سمجھتے تھے۔

یہ ایک ایسا قدم تھا جو اگلی نسل کے منصوبے کو سبوتاژ کر سکتا تھا۔

سام سنگ کے بانی کے بڑے بیٹے کا ہمیشہ یہ خیال تھا کہ ایک دن وہ کاروبار کی قیادت کریں گے لیکن پہلی جانشینی میں انھیں نظر انداز کر کے سب سے چھوٹے بھائی کو ترجیح دی گئی۔ 1976 میں جب لی جے یونگ کے والد چیئرمین بنے تو یہ دشمنی مزید بڑھ گئی: ان کے چچا کے خاندان کو کاروبار کا وہ حصہ دیا گیا جسے نسبتاً کم طاقتور سمجھا جا سکتا تھا۔

یوں، چالیس سال بعد، لی جے یونگ اور ان کے والد کو ایک قانونی دعوے کا سامنا تھا جو انھیں اپنے چچا کو سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کے حصص واپس کرنے پر مجبور کر سکتا تھا اور لی جے یونگ کی جانشینی کے منصوبے کو خطرے میں ڈال دیتا۔

جانشینی کی واضح لکیر

بالآخر، بہن بھائیوں کے درمیان تنازع اور اس کے بعد ہونے والے مقدمے نے شاید جانشینی کی واضح لکیر کے فوائد کو نمایاں کر دیا۔

عدالتوں نے قرار دیا کہ اگرچہ چچا کے کچھ دعووں میں وزن تھا، لیکن قانونی کارروائی کے لیے مقررہ مدت ختم ہو چکی تھی۔

رپورٹر جے یون لی کے الفاظ میں ’بہن بھائی ایک دوسرے سے سخت ناراض تھے اور میرے خیال میں اسی وجہ سے (لی کن ہی) نے اپنے بچوں کے لیے جانشینی کا سلسلہ بالکل واضح کر دیا۔‘

چنانچہ جب لی جے یونگ کے والد دل کے دورے کے بعد زیر علاج آئے تو یہ بالکل واضح تھا کہ کنٹرول کون سنبھالے گا۔ ان کا بیٹا: وہ شخص جو بعد میں ایک دہائی تک جاری رہنے والے ایک بڑے بدعنوانی اور رشوت سکینڈل میں الجھ گیا۔

بریت

جولائی 2025 میں لی جے یونگ بالآخر اس وقت بری ہوئے جب سیول ہائی کورٹ نے ان الزامات کے حوالے سے ان کی بریت کو برقرار رکھا جو اس انضمامی معاہدے سے متعلق تھے جسے وسیع پیمانے پر ان کی جانشینی کو یقینی بنانے والا سمجھا جاتا تھا۔

اس فیصلے نے سام سنگ کے چیئرمین کے خلاف ایک دہائی پر محیط فوجداری الزامات، عدالتی سماعتوں اور جیل کے ادوار کا خاتمہ کر دیا۔

اس نے جنوبی کوریا کے خاندانی کاروباروں کی روایات سے بھی ایک انحراف کی نشاندہی کی۔ عدالتی کارروائی کے دوران، لی جے یونگ نے سام سنگ خاندان کے لیے سمت میں تبدیلی کا عندیہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ابھی ایک وعدہ کرنا چاہتا ہوں کہ جانشینی سے متعلق مزید کوئی تنازع نہیں ہو گا۔ میں انتظامی حقوق اپنے بچوں کو منتقل نہیں کروں گا۔‘

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سب سے بڑے بیٹے کو خود بخود اس سلطنت کی باگ ڈور نہیں ملتی، تو پھر یہ اختیار کس کے ہاتھ میں جائے گا؟