صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے جہاز پر سوار پاکستانی عملہ: ’ہر مغوی پر ایک مسلح شخص تعینات ہے، جہاز پر کھانے کی شدید قلت ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
صوبہ سندھ کے گورنر نہال ہاشمی نے صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے اغوا کیے گئے آئل ٹینکر پر سوار عملے کے 10 پاکستانی اراکین کے اہلِخانہ سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وفاقی حکومت کسی بھی صورت میں اِن خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز پر سوار مغویوں سے رابطہ بدستور برقرار ہے اور اُن کی محفوظ بازیابی کے لیے ہر سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ 21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 کا تعلق پاکستان سے ہے۔
اغوا کیے گئے پاکستانیوں کے اہلخانہ نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ابتدا میں جہاز پر خوراک کا کوئی مسئلہ نہیں تھا تاہم اب وقت کے ساتھ ساتھ خوراک کی قلت ہو رہی ہے جبکہ جہاز پر موجود 50 کے قریب قزاقوں کی جانب سے عملے کے اراکین پر ناصرف تشدد کیا گیا ہے بلکہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
’ایم ٹی آنر 25‘ کی آپریٹنگ کمپنی ’وارف چارٹرنگ‘ انڈونیشیا میں رجسٹرڈ ہے۔ جہاز کا کپتان کا تعلق انڈونیشیا سے ہے جبکہ عملے میں بھی چار انڈونیشی شہری شامل ہیں۔
پاکستانیوں کے علاوہ سری لنکا، میانمار اور انڈیا سے تعلق رکھنے والا ایک، ایک شہری بھی عملے میں شامل ہے۔
بی بی سی نے اس معاملے پر تازہ ترین معلومات کے حصول کے لیے پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے بھی رابطہ کیا، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
البتہ وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے اس واقعے کی جامع رپورٹ طلب کرنے کے بعد پاکستانی عملے کی بحفاظت بازیابی یقینی بنانے کے ضمن میں کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایات کی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پریس ریلیز کے مطابق وزارتِ بحری امور متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہے جبکہ وزارتِ خارجہ سے بھی صومالیہ کی حکومت سے سفارتی رابطوں کے ذریعے پاکستانی عملے کی رہائی کی کوششوں کی درخواست کی گئی ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مغویوں کے اہلخانہ کے مطابق یہ آئل ٹینکر عمان سے صومالیہ کے لیے روانہ ہوا تھا جب 21 اپریل کو قزاقوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔
اہلخانہ کے مطابق ابتدائی طور پر قزاقوں نے تمام عملے سے موبائل فونز لے لیے تھے، تاہم بعد ازاں مختصر وقت کے لیے اپنے اپنے اہلخانہ کو اطلاع دینے کی اجازت دی گئی۔
پاکستانی مغویوں میں احمد علی (سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام تبدیل کیا گیا ہے) بھی شامل ہیں۔ احمد علی کے کزن نے بتایا کہ 21 اپریل کو ایک نامعلوم نمبر سے اہلخانہ کو کال موصول ہوئی اور دوسری جانب احمد بات کر رہے تھے۔
ان کے مطابق ’احمد نے بتایا کہ جہاز اغوا ہو چکا ہے اور اب ان کی زندگیاں اس بات پر منحصر ہیں کہ اہلخانہ، حکومت اور متعلقہ کمپنی قزاقوں سے کس طرح معاملات طے کرتی ہے۔‘
ایک اور مغوی راشد (سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام تبدیل کیا گیا ہے) کے اہلخانہ کے مطابق انھیں راشد کے اغوا کی اطلاع 23 اپریل کو دی گئی۔ اہلخانہ کے مطابق قزاق ’مغویوں کے سر پر کھڑے ہو کر مختصر کال کرواتے ہیں۔‘
ایک اور مغوی کے بیٹے کے مطابق، انھیں بھی اپنے والد کے اغوا کی اطلاع 23 اپریل کو ہی ملی جس میں بتایا گیا کہ قزاقوں کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔
بیٹے کے مطابق 23 اپریل کے بعد سے اُن کے والد کا نمبر بند ہے۔
اس جہاز پر سوار دس پاکستانی سیلرز کو کراچی کی ہیلمزمین میننگ سروسز کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔ کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ اُن کا کردار صرف عملے کی بھرتی تک محدود تھا، جبکہ جہاز کے آپریشنل معاملات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی ذمہ داری مکمل طور پر جہاز کے مالکان اور منیجرز پر عائد ہوتی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جہاز کے مالکان کا تعلق صومالیہ سے ہے، اور جہاز پر موجود سامان بھی صومالیہ کی بندرگاہ کے لیے روانہ کیا جا رہا تھا۔
کمپنی کے مطابق واقعے کے بعد سے وہ متاثرہ عملے کے اہلِخانہ سے مسلسل رابطے میں ہے اور دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق متعلقہ شپنگ دفاتر سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
’یہ ہمیں مارنے کے لیے لے کر جا رہے ہیں‘
ایک مغوی پاکستانی ملاح (جن کا نام بوجوہ سکیورٹی ظاہر نہیں کیا جا رہا) نے حال ہی میں اپنے والد کو ایک آڈیو پیغام بھیجا جس میں انھوں نے بتایا کہ قزاق انھیں قتل کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں۔
والد کی جانب سے شیئر کیے گئے وائس نوٹ میں مغوی پاکستانی شہری اپنے والد سے کہتے ہیں کہ ’مجھ سے جو بھی غلطی ہوئی مجھے معاف کر دیں اور میرے لیے دعا کریں۔ اہلیہ اور بچوں کا خیال رکھیں اور بچوں کو پڑھانا ہے۔ دل کو مضبوط کرلینا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ خدا حافظ۔‘
والد کا کہنا ہے کہ وائس نوٹ موصول ہونے کے بعد سے اُن کا خاندان شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔
مغوی پاکستانی کی اہلیہ کے مطابق اُن کی اپنے شوہر سے صرف ایک دفعہ بات ہوئی ہے۔ اہلیہ کے مطابق اُن کے شوہر نے بتایا کہ قزاقوں نے خود انھیں موبائیل فون فراہم کیے اور حکم دیا کہ اپنے اپنے گھروں میں اطلاع دے دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی کال میں اُن کے شوہر زیادہ خوفزدہ نہیں تھے مگر گذشتہ دنوں ملنے والے وائس نوٹ میں اُن کی آواز میں خود ہے۔
’ہر مغوی پر ایک مسلح قزاق تعینات ہے‘
ایک اور مغوی (جن کا نام مخفی رکھا گیا ہے) کے بیٹے نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی اپنے والد سے 24 اپریل کو بات ہوئی تھی جس میں انھوں نے جہاز پر خوراک کی شدید قلت اور مسلسل مسلح نگرانی کی اطلاع دی تھی۔
ان کے مطابق ’وہ کافی پریشان تھے اور مجھے کہہ رہے تھے کہ میں حکومت کے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ قائم کروں اور اس حوالے سے کوششیں کروں۔‘
انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کے مطابق وہ بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب تک قزاقوں کے واضح مطالبات سامنے نہیں آئے ہیں، تاہم عملے پر تشدد اور خوراک کی کمی کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔



























