طالبان، کرنل امام اور قندھار پر قبضہ: افغانستان میں یرغمال بننے والی پی ٹی وی ٹیم اور ملا عمر کی تصویر کھینچنے کا تنازع

کرنل امام

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

،تصویر کا کیپشنسلیم جاوید، عارف ملک پی ٹی وی ٹیم کے ساتھ۔ تصویر میں کرنل امام بائیں سے چوتھے نمبر پر موجود ہیں
    • مصنف, زبیر اعظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

رات کے تقریبا ڈیڑھ دو بجے کا وقت تھا جب کوئٹہ میں دیال باغ کے قریب مدثر کے گھر کے باہر پی ٹی وی کی گاڑی ان کے والد عارف ملک کو لینے پہنچی تھی۔

دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز سے مدثر کی آنکھ کھل گئی۔ ’میں چودہ پندرہ سال کا تھا، اتنی رات کو عام طور پر کوئی نہیں آتا تھا۔‘

انھوں نے دیکھا کہ ان کے والد اپنا بیگ پیک کر رہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں عارف ملک گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔

اس کے بعد خدائیداد روڈ سے سلیم جاوید بھی تقریبا ڈھائی بجے اسی گاڑی میں عارف ملک کے ساتھ سوار ہوئے۔ محمد سلیم جاوید اس وقت پی ٹی وی کوئٹہ میں بطور نیوز پروڈیوسر تعینات تھے۔

یہ دونوں چند اور ساتھیوں کو لیے تھوڑی دیر میں کوئٹہ میں واقع پی ٹی وی کے دفتر پہنچ چکے تھے۔ انھیں ایک غیرمعمولی کام سونپا گیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سلیم جاوید نے بتایا کہ ’ہمیں یہ اسائنمنٹ ملی تھی کہ ہم نے ایک کانوائے کے ساتھ افغانستان کے راستے ترکمانستان جانا ہے۔‘

لیکن سلیم جاوید اور ان کے ساتھ جانے والی پی ٹی وی کی ٹیم کو ان حالات کا اندازہ نہیں تھا جن کا انھیں سامنا ہونے والا تھا۔ وہ اس بات سے بھی ناواقف تھے کہ وہ انجانے میں ایک ایسے تاریخی واقعے کا مشاہدہ کرنے والے ہیں اور ایک ایسی شخصیت سے ملاقات کرنے والے ہیں جنھوں نے خطے کو بدل کر رکھ دیا۔

یہ سال تھا 1994 کا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب افغانستان شدید خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا۔ اگرچہ سوویت یونین کی افواج کے انخلا اور نجیب حکومت کے خاتمے کے بعد ایک حکومت تشکیل پا چکی تھی تاہم اس کا ملک پر کنٹرول نہ ہونے کے برابر تھا جہاں مختلف مسلح گروہ سرگرم تھے۔

سلیم جاوید اور ان کے ساتھی ایک ایسے کانوائے کے ساتھ ترکمانستان جا رہے تھے جس کا تصور اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کا تھا لیکن اسی دورے کے دوران انھوں نے افغانستان میں طالبان کا ظہور اور قندھار میں ان کا ابتدائی قبضہ دیکھا۔

اس دوران یہ لوگ افغانستان میں ایک گروہ کے یرغمالی بھی بنے، جن سے طالبان نے ان کو چھڑوایا، اور پھر ان کی ملاقات ملا عمر سے بھی ہوئی جو اس وقت ایک انجان شخصیت تھے۔ ملا عمر 23 پریل 2013 کو وفات پا گئے تھے تاہم ان کی موت کو دو سال تک خفیہ رکھا گیا۔

ملا عمر

،تصویر کا ذریعہGetty Image

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لیکن یہ سب کیسے ہوا؟ افغان مجاہدین نے انھیں کیوں یرغمال بنا کر رکھا؟ طالبان نے انھیں کیسے رہا کروایا اور ملا عمر سے ملاقات کے دوران کیا ہوا تھا؟ اس کہانی کا آغاز کوئٹہ میں پی ٹی وی کے دفتر سے ہوا جہاں سلیم جاوید اور عارف ملک سے آئی ایس آئی کے مقامی افسران نے رابطہ کیا۔

سلیم جاوید نے یہ داستان اسلام آباد میں اپنے گھر میں بیٹھے سنائی جو اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن یہ واقعات آج بھی انھیں ایسے یاد ہیں جیسے کل ہی کی بات ہو۔ ان میں سے چند واقعات کو عارف ملک نے اپنے کیمرے کی مدد سے محفوظ بھی کر لیا اور ان کی کھینچی ہوئی تصاویر ہمیں کسی حد تک اس وقت کے افغانستان کی حالات کی جھلکیاں دکھاتی ہیں۔

سلیم جاوید کو یاد ہے کہ ’پی ٹی وی کے دفتر پہنچنے کے بعد ایک کال آئی۔ انھوں آئی ایس آئی افسران نے ہم سے کہا کہ آپ کوئٹہ سے نکلیں اور عالمو چوک پر ہمارا انتظار کریں۔‘

سلیم جاوید کے مطابق این ایل سی، یعنی نیشنل لاجسٹک سیل، کا ایک کانوائے تھا جس میں متعدد ٹرکوں میں ایکس رے مشینوں سمیت طبی سامان لے جایا جا رہا تھا۔ یہ ایک تجرباتی قافلہ تھا جس کا مقصد پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیانی زمینی تجارتی راستے کو کھول کر، بینظیر بھٹو کے خیال میں، نئی نئی آزاد ریاستوں تک برآمدات کو بڑھانا تھا۔

میجر (ریٹائرڈ) آغا ہمایوں امین کی کتاب ’پاکستان آرمی تھرو دا آئیز آف پاکستانی جنرلز‘ میں نصیر اللہ خان بابر کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ نصیر اللہ بابر نے انھیں بتایا کہ ’حکومت پاکستان کی یہ سوچ تھی کہ ایک ایسا تجارتی راستہ بنایا جائے جس پر ٹرک یا ٹرین کے ذریعے سامان بھیجا یا لایا جا سکے۔‘ اس پورے معاملے میں ایک اور اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ وسطی ایشیا کے پاس توانائی کے ذخائر بھی تھے۔

این ایل سی ٹرک

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

یوں ایک چھوٹا سا قافلہ ایک بڑے ارادے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے پاکستان سے نکل پڑا۔ سلیم جاوید کو یاد ہے کہ ’ہم کوئٹہ سے براستہ چمن روانہ ہوئے جہاں ایک رات رکنے کے بعد راہداری پر ہم اگلی صبح ہم قندھار کے لیے نکلے۔‘

اس زمانے میں قندھار سمیت دیگر علاقوں میں مختلف افغان دھڑوں سے تعلق رکھنے والے سابق مجاہدین کمانڈرز نے سڑکوں پر چین لگا رکھی تھیں جہاں وہ گاڑیوں کو روکتے تھے۔

سلیم جاوید بتاتے ہیں کہ ’قندھار سے پہلے ایک علاقہ آتا ہے، جس کا نام ہے تختہ پل، جہاں پر ہمیں کچھ کمانڈرز نے روکا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو آگے نہیں جانے دیں گے اور کچھ تحقیقات کریں گے۔‘

’اس قافلے کے ساتھ آئی ایس آئی کے افسران بھی تھے۔ انھوں نے ان افغان کمانڈرز کو سمجھایا کہ ہم آپ کی حکومت کی اجازت سے اس کانوائے کو لے کر جا رہے ہیں لیکن وہ نہیں مانے۔‘

سلیم جاوید کے مطابق ’اس وقت طالبان کا کوئی وجود نہیں تھا۔‘ لیکن اسی قافلے میں موجود ایک شخص وہ حقیقت جانتا تھا جس سے سلیم جاوید بے خبر تھے۔

یہ شخصیت کرنل امام نامی پاکستانی فوجی افسر تھے جنھیں اس قافلے کو بحفاظت افغانستان سے سفر کروانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ بطور پاکستانی فوجی افسر وہ اس خفیہ کارروائی کا حصہ تھے جس کے تحت سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں مقامی جنگجوؤں کو بڑے پیمانے پر عسکری تربیت فراہم کی گئی اور اسی وجہ سے کرنل امام افغانستان میں مسلح دھڑوں سے واقفیت بھی رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ طالبان نامی ایک مسلح گروہ جنوبی افغانستان میں میوند کے مقام سے کارروائیوں کا آغاز کر چکا ہے۔

طالبان

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

،تصویر کا کیپشنقندھار پر طالبان کے قبضے کے بعد کی تصویر

سلیم جاوید کو یاد ہے کہ انھوں نے تختہ پل کے مقام پر کرنل امام کو دیکھا۔ سلیم کے مطابق ’کرنل امام نے تختہ پل پر ان کمانڈروں سے بات چیت کی جنھوں نے ٹرکوں کو روکا تھا۔ اس کے باوجود کانوائے کو آگے نہیں جانے دیا گیا اور انھیں قندھار لے جایا گیا۔‘

فرزانہ چوہدری کی کتاب ’آہن پوش‘، جس میں کرنل امام کا انٹرویو موجود ہے، کے مطابق کرنل امام نے ان سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں ’جنرل نصیر اللہ بابر نے اس کانوائے کا انچارج بنایا تھا‘ اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ’قندھار کے بیچ میں سے اسے گزاریں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ یہ راستہ کھلا ہوا ہے۔‘

جس مقام پر سلیم جاوید کے مطابق قافلے کو مسلح افراد نے روکا، کرنل امام کے مطابق ان کے کمانڈر امیر لالئی پوپلزئی تھے جن سے ان کی شناسائی تھی۔ تاہم یہ شناسائی اس وقت کام نہیں آئی کیوں کہ امیر لالئی نے، کرنل امام کے مطابق، حکومت پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے کا الزام لگایا اور قافلے کو یرغمال بنا لیا۔

خود کرنل امام کو قندھار جانے کی اجازت دے دی گئی لیکن سلیم جاوید، پی ٹی وی کی باقی ٹیم ٹرکوں کے ساتھ ایک پرانی ٹیکسٹائل مل پہنچا دیے گئے۔

پی ٹی وی ٹیم

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

،تصویر کا کیپشنسلیم جاوید اور پی ٹی وی کیمرہ مین اختر جدون

سلیم جاوید نے بتایا کہ ’ہمیں مل کے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرا دیا گیا۔ ہمیں کہا گیا کہ کوئی آدمی باہر نہیں نکلے گا۔ دس سے بارہ دن تک ہم ان کی قید میں رہے۔‘

یہاں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ اس سوال پر سلیم جاوید نے جواب دیا کہ ’انھوں نے ہمارے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ انھیں اور باقی افراد کو یہ پریشانی لاحق ہو چکی تھی کہ اب کیا ہو گا۔‘

سلیم جاوید کہتے ہیں کہ ’پریشانی کے دنوں میں بھی کرنل امام چند افغان کمانڈرز کے ساتھ اکثر رات کے وقت پھل لے کر ہمارے پاس آ جاتے تھے اور ہمت بندھاتے تھے کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘

کوئٹہ میں عارف ملک کے بیٹے مدثر ملک کو، جو اس وقت 14-15 برس کے تھے، یاد ہے کہ جب ان کے گھر اس واقعے کی اطلاع پہنچی تو کیسے پریشانی پھیل گئی۔

کرنل امام نے پاکستانی یرغمالیوں کی ان کے اہلخانہ سے بات بھی کروائی۔ مدثر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد عارف ملک کا فون آیا جس میں ’انھوں نے تسلی دی کہ وہ خیریت سے ہیں۔‘

سلیم جاوید کے مطابق کرنل امام کہتے تھے کہ ’بات چیت چل رہی ہے اور جلد ہی آپ چلے جاؤ گے۔‘ لیکن اگلی صبح لڑائی شروع ہو گئی۔

طالبان

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

،تصویر کا کیپشنپاکستانی قافلے کے سفر کی دوران کھینچی گئی تصویر

یہ لڑائی ملا عمر کی قیادت میں طالبان اور پاکستانی قافلے کو یرغمال بنانے والے سابق افغان مجاہدین کے بیچ قندھار پر قبضے کے لیے ہو رہی تھی۔

’آہن پوش‘ کتاب کے مطابق کرنل امام نے دعویٰ کیا کہ اس لڑائی سے پہلے طالبان سے ان کی ملاقات ہوئی جس میں ان سے کہا گیا کہ ’اگر تمھارا کارواں نہ ہوتا تو ہم قندھار ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیتے۔ میں نے کہا، جاؤ، قبضہ کرو، میرے کارواں کی فکر نہ کرو۔‘

اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل جاوید اشرف قاضی تھے جنھوں نے ریٹائرمنٹ کے بہت بعد ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جب پاکستانی قافلے کو یرغمال بنایا گیا تو ’نصیر اللہ خان بابر نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ طالبان اس جگہ سے نزدیک ہیں، ان سے کہا جائے کہ ایکشن کریں اور ان کو چھڑوائیں۔ تو تب ہم نے ان سے رابطہ کیا اور نصیر اللہ بابر نے بھی اپنے ذرائع سے ان سے رابطہ کیا۔‘

جاوید اشرف قاضی کے مطابق ’انھوں (طالبان) نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم دیکھتے ہیں۔ پھر انھوں نے کارروائی کی، اس کمانڈر کے لوگ بھاگ گئے اور طالبان نے کپاس بھی چھڑوا لی اور بندے بھی چھڑوا لیے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کے قافلے میں شامل افراد کی مجموعی تعداد 65 تھی جن میں میجر رینک کے ایک افسر بھی شامل تھے۔

یہ لڑائی کب شروع ہوئی، کہاں سے چلی اور کہاں ختم ہوئی، اس کے بیچ میں سلیم جاوید کو یہ یاد ہے کہ وہ اور ان کے باقی ساتھی سہمے ہوئے راکٹ لانچر چلنے کی آوازیں سن رہے تھے۔ ’ہم راکٹ لانچرز کے چلنے کی آوازیں بھی سنتے رہے۔ بمباری ہو رہی تھی۔‘

طالبان

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

،تصویر کا کیپشنیہ وہ مقام ہے جہاں پاکستانی قافلے کو روکا گیا

اور پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔ سلیم جاوید کہتے ہیں کہ ’تھوڑی دیر بعد جب کسی قسم کی آواز نہ آئی تو ہم باہر نکلے۔ وہ کیمپ بلکل خالی ہو چکا تھا۔‘

کرنل امام کے مطابق ’جن مجاہدین نے ہمارے لوگوں کو پکڑا تھا، وہ بھاگ چکے تھے۔‘

سلیم جاوید نے بتایا کہ ’ہماری ایک گاڑی تھی، ڈبل ڈور، وہ بھی لے گئے کیوں کہ ان کی اپنی گاڑی اس حملے میں تباہ ہو چکی تھی۔‘

سلیم سمیت باقی پاکستانیوں کو اس وقت تک یہ علم نہیں تھا کہ ان کو مغوی رکھنے والوں کے خلاف لڑنے والا گروہ کون تھا۔

تھوڑی دیر میں پاکستانی سفارت خانے کے لوگ اور کرنل امام وہاں پہنچ گئے۔ ’انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے بڑی ہمت کی، ہمیں ڈر تھا کہ یہ لوگ آپ کو مار دیں گے۔ وہ لوگ ہمیں قندھار میں پاکستانی قونصلیٹ لے گئے۔‘

کرنل امام کے مطابق پاکستانی مغویوں کے بوٹ اتروا کر ایک گھر میں چھپا دیے گئے تھے تاکہ انھیں فرار ہونے سے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق ’یہ بوٹ اور جوتے ملے تو وہ ٹرکوں اور پی ٹی وی ٹیم کو اپنے ساتھ قندھار پہنچ گئے۔‘

این ایل سی

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

،تصویر کا کیپشنپاکستانی قافلے میں شامل اہلکار اور این ایل سی کے ٹرک

سلیم جاوید کو یاد ہے کہ وہ قندھار میں واقع پاکستانی قونصلیٹ کی عمارت میں پہنچے۔ اور یہی انھوں نے ملا عمر کو بھی دیکھا۔

’قونصلیٹ میں پاکستانی سفیر کے ساتھ ایک افغان کمانڈر بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ کمانڈر ملا عمر تھے۔‘

لیکن اس وقت سلیم جاوید کو نہ تو ان کا نام معلوم تھا اور نہ ہی وہ یہ جانتے تھے کہ یہ طالبان کے سپریم کمانڈر ہیں۔ انھیں بعد میں قونصل خانے کے عملے نے بتایا کہ ’یہ شخص ملا عمر ہیں، طالبان کے سپریم لیڈر۔‘

سلیم بتاتے ہیں کہ ان کی کچھ دیر کے لیے ملا عمر سے ملاقات بھی ہوئی۔ ’میں نے ان کو قریب سے دیکھا، لمبا قد تھا، ایک آنکھ ان کی کچھ خراب تھی، اور پاؤں سے بھی وہ کچھ صحیح طریقے سے چل نہیں رہے تھے۔‘

’یہ نہایت ہی مختصر سے ملاقات تھی لیکن مجھے وہ ایک اچھی شخصیت کے مالک لگے۔‘

یہی وہ موقع تھا جب سلیم جاوید کے ساتھ موجود پی ٹی وی کے کیمرہ پرسن محمد عارف نے اپنے کمیرے سے ملا عمر کی تصویر کھینچی۔ یہ ایک تاریخی تصویر تھی۔ لیکن محمد عارف کے ساتھ اگلے لمحے میں جوا ہوا وہ سلیم کو اب بھی یاد ہے۔

’اچانک ہی گاڑیوں میں بیٹھے چند مسلح افراد اترے اور تیزی سے کیمرہ پرسن کی جانب دوڑے اور ان سے کیمرہ چھین لیا۔‘

’انھوں نے کہا کہ آپ نے کیوں تصویر کھینچی ہے؟‘ سلیم جاوید بتاتے ہیں کہ ان لوگوں نے کیمرے سے تصویر ضائع کر دی۔

یہ وہ وقت تھا جب ابھی باقی دنیا میں افغان طالبان اور ملا عمر، یہ دونوں ہی نام غیرمعروف تھے۔ سلیم جاوید کے مطابق ’یہ ایک یادگار تصویر ہوتی کیوں کہ اس وقت کوئی بھی ملا عمر کو نہیں جانتا تھا۔‘

کرنل امام

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

،تصویر کا کیپشنقندھار میں پاکستانی قونصلیٹ میں بازیابی کے بعد کھینچی گئی تصویر

قندھار میں سلیم جاوید اور باقی لوگوں نے خانہ جنگی کے مناظر دیکھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’سڑکوں پر لاشیں پڑی ہوئی تھیں، عمارتیں تباہ حال تھیں جو طالبان اور دیگر گروہوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران بمباری سے متاثر ہوئیں۔‘

اس واقعے کے بعد سلیم جاوید اور ان کے ساتھیوں نے واپس کوئٹہ جانے کا ارادہ کیا اگرچہ باقی قافلے کو ترکمانستان روانہ ہونا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کرنل امام نے بہت کہا کہ اب کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لیکن ہم نے بہتر سمجھا کہ ہم پاکستان واپس جائیں۔‘

سلیم جاوید اور عارف ملک کوئٹہ میں اپنے گھر واپس پہنچ گئے لیکن سرحد کی دوسری جانب طالبان ایک ایسے مسلح گروہ میں تبدیل ہو چکے تھے جس نے افغانستان کے مستقبل کو بدل کر رکھ دیا۔

اس دوران افغان طالبان کا آئی ایس آئی سے بھی باقاعدہ رابطہ قائم ہوا اور ایک وفد کی اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جاوید اشرف قاضی سے ملاقات بھی ہوئی۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہARIF MALIK/MALIK MUDASIR

،تصویر کا کیپشنقندھار میں پاکستانی قونصلیٹ

جاوید اشرف قاضی نے 20 اکتوبر 2025 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے لیے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس ملاقات کی تصدیق کی تھی اور کہا کہ ’طالبان نے بنیادی طور پر پاکستان سے افغانستان کے تنازع میں غیر جانبدار رہنے سمیت یہ درخواست کی تھی کہ اپنے راشن اور ایندھن کے لیے انھیں پاکستان حکومت کی مدد کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ دونوں پاکستان کے راستے ان تک پہنچتی ہیں اس لیے ان پر پابندی نہ عائد کی جائے۔‘

وقت نے گزشتہ تین دہائیوں میں افغانستان میں امریکی قبضے کے بعد امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی واپسی کے مناظر بھی دکھائے۔

کابل میں افغان طالبان کی واپسی ہوئی تو مدثر ملک اب خود ایک کیمرہ پرسن بن چکے تھے جنھوں نے یہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مدثر نے بتایا کہ ان کی ایک بار امیر لالئی سے بھی ملاقات ہوئی۔

یہ وہی افغان کمانڈر تھے جنھوں نے پاکستانی کانوائے کو روکا تھا۔ مدثر نے بتایا کہ جب انھوں نے امیر لالئی سے اس واقعے کا تذکرہ کیا جس میں ان کے والد سمیت پاکستانی افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم اس بات پر شرمندہ ہیں اور معافی چاہتے ہیں۔‘