کھربوں ڈالر کے اثاثے ہونے کے باوجود متحدہ عرب امارات امریکہ کے ساتھ ’کرنسی سواپ‘ کیوں چاہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہX/@MohamedBinZayed
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ’کرنسی سواپ‘ کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی مدد کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
منگل کو سی این بی سی کو دیے انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا متحدہ عرب امارات کے ساتھ کرنسی ایکسچینچ لائن سے متعلق کوئی تجویز زیرِِ غور ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں ان کی مدد کر سکا تو ضرور کروں گا۔ وہ ایک اچھا ملک اور ہمارا اتحادی رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو بڑی شدت سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’مجھے حیرت ہے کیونکہ وہ واقعی بہت امیر ہیں۔۔۔ ایک سال قبل میں وہاں گیا تھا اور میں نے انھیں امریکہ میں دس کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری پر آمادہ کیا تھا۔‘
اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دو دن قبل اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ جنگ کے باعث ممکنہ مالی بحران کی صورت میں مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات نے امریکہ کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے۔
اخبار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ، محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام اور امریکی مرکزی بینک کے حکام سے ملاقات کی اور کرنسی ایکسچینج لائن کے قیام پر تبادلہ خیال کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر امریکہ میں اماراتی سفیر يوسف العتیبہ نے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو بیرونی مالی مدد کی ضرورت ہونے کا کوئی بھی تاثر ’حقائق کی غلط تشریح ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات دنیا بھر کی مالی طور پر سب سے مضبوط معیشتوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں ملک کے 20 کھرب ڈالر مالیت کے خودمختار سرمایہ کاری اثاثوں، اماراتی مرکزی بینک کے پاس 300 ارب ڈالر مالیت کا غیر ملکی زرمبادلہ اور بینکوں میں 15 کھرب ڈالر کے ڈپازٹس کا حوالہ دیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات امریکی معیشت میں 10 کھرب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستان نے ’معمول کے لین دین کے تحت‘ متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر ڈپازٹس واپس کیے تھے جس سے اسلام آباد کے ذخائر پڑا تھا۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر متحدہ عرب امارات کو امریکہ کے ساتھ کرنسی سواپ کی ضرورت کیوں ہے؟
کرنسی ایکسچینج لائن کیا ہے اور متحدہ عرب امارات کو اس کی ضرورت کیوں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کرنسی ایکچسینچ لائن یا کرنسی سواپ لائن سے مراد دو ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان اپنی اپنی کرنسیوں کے عارضی تبادلے کا ایک باضابطہ معاہدہ ہے۔
یہ طریقہ کار مالی ضمانت یا لیکویڈیٹی کے بیک اپ کے طور پر کام کرتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر جنگ جیسے حالات کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے بینک کھلے بازار سے آسانی سے امریکی ڈالر حاصل نہ کر سکیں تو متحدہ عرب امارات کا مرکزی بینک اس لائن کو استعمال کرتے ہوئے براہ راست امریکی مرکزی بینک سے ڈالر حاصل کر سکتا ہے۔
اس عمل کے پہلے مرحلے میں امریکی مرکزی بینک متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کو ڈالر کی ایک مخصوص مقدار فراہم کرتا ہے۔ اس کے بدلے میں متحدہ عرب امارات امریکی مرکزی بینک کو موجودہ شرح پر اس کے مساوی درہم بطور ضمانت دیتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں دونوں فریق مستقبل کی ایک مقررہ تاریخ پر دوبارہ اسی مقدار کا تبادلہ کرنے پر متفق ہوتے ہیں جو عموماً سات سے 84 دن کے درمیان ہوتی ہے۔
چونکہ دونوں مراحل میں ایک مقررہ شرح استعمال کی جاتی ہے اس لیے شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ دونوں فریقوں کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا مرکزی بینک یہ ڈالر ملکی بینکوں کو قرض دے سکتا ہے تاکہ وہ انھیں لین دین اور ادائیگیوں کے لیے استعمال کر سکیں۔
’ڈالر سے زیادہ سٹیٹس کی اہمیت ہے‘
اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق متحدہ عرب امارات کو یہ خدشہ ہے کہ جنگ اس کی معیشت اور عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اس کے مقام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آ سکتی ہے اور ایسے سرمایہ کار ہچکچاہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں جو امارات کو سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ مقام سمجھتے تھے۔
کرنسی ایکسچینج لائن سے متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کو کم لاگت پر ڈالر تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، درہم کو سہارا دیا جا سکتا ہے یا لیکویڈیٹی بحران کی صورت میں زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل نے مزید لکھا ہے کہ اماراتی حکام نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو بتایا ہے کہ اگر ان کے ڈالر ختم ہو گئے تو انھیں تیل کی فروخت اور دیگر لین دین کے لیے چینی یوان یا دیگر کرنسیوں کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے جو امریکی ڈالر کے لیے ایک خطرہ ہو گا، کیونکہ ڈالر نے تیل کے لین دین میں تقریباً مکمل اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔
اماراتی حکام نے تاحال ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے سرکاری اخبار دی نیشنل کے مطابق امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ممکنہ تبادلے کی صورت میں غالب امکان یہ ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کو ڈالر قرض دے گا اور اس کے بدلے درہم اپنے پاس رکھے گا، جبکہ یہ لین دین مستقبل میں واپس پلٹ دیا جائے گا۔
اس نوعیت کے اقدامات ماضی میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی زیرِ غور آ چکے ہیں۔ اس سے قبل امریکہ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ارجنٹینا کی کرنسی پیسو کو سہارا دینے کی کوشش کے تحت ایک معاشی استحکام کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی کے لیے اہم تھا جو ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی ہیں۔
بلومبرگ اکنامکس کے چیف ایمرجنگ مارکیٹس ماہرِ معاشیات زیاد داؤد کا کہنا ہے کہ ’یہ اعتماد کی اپیل ہے، مدد کی درخواست نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات مرکزی بینکوں کے اُس کلب میں شامل ہونا چاہتا ہے، جیسے برطانیہ، جاپان اور یورپ، جن کے پاس فیڈ کے ساتھ مستقل سواپ لائنز موجود ہیں۔ یہاں ڈالر سے زیادہ سٹیٹس کی اہمیت ہے۔‘


























