لائیو, امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے
  • قطر اور برطانوی وزرائے اعظم سمیت سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کا امن معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف
  • امن معاہدے کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

لائیو کوریج

  1. عالمی تیل کے ذخائر فوری طور پر بحال نہیں ہوں گے, ڈیوڈ واڈل، بی بی سی

    تیل ٹینکر

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    عالمی تیل کے ذخائر کو بحال ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔

    اگرچہ کچھ آئل ٹینکرز پہلے ہی خلیج کی جانب روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن کئی شپنگ کمپنیاں ممکنہ طور پر معاہدے پر عملی طور پر عملدرآمد اور کشیدگی میں کمی کے واضح آثار کا انتظار کریں گی۔

    متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی ایڈنوک کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مربوط امن معاہدہ ہو جائے تب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مکمل ترسیل آئندہ برس کی پہلی یا دوسری سہ ماہی تک بحال نہیں ہو سکے گی۔

    مارچ میں انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ اس کے رکن ممالک اپنے سٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کریں گے۔ اس میں سے ایک تہائی سے زیادہ استعمال کیا جا چکا ہے۔

    اگرچہ تیل پیدا کرنے والے ممالک سب سے پہلے عالمی طلب (تقریباً 104 ملین بیرل یومیہ) کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں کئی ماہ لگیں گے۔

  2. تجزیہ: یہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟, ٹام بیٹ مین، نامہ نگار برائے امریکی محکمہ خارجہ

    یہ معاہدہ ہونا تو طے تھا۔

    پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث امریکہ میں مہنگائی تین برس کی بلند ترین شرح تک پہنچ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

    دوسری جانب طویل المدتی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ایرانی معیشت امریکہ کی جانب سے اس کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث مزید مشکلات کا شکار تھی۔

    دونوں فریقوں کو ایک وقفے کی ضرورت تھی۔

    اس معاہدے کی ترجیح آٹھ اپریل کو ہونے جنگ بندی کی مدت اور دائرہ کار دونوں کو بڑھانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جب تک دونوں فریق مذاکرات جاری رکھتے ہیں اس دوران مزید 60 دن تک جنگ بندی، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلا رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

    ہمیں ابھی اس معاہدے کا مکمل متن موصول نہیں ہوا، مگر گذشتہ ہفتے کے اواخر میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کی بنیاد پر یہ معاہدہ ان مسائل کو حتمی طور پر حل نہیں کرتا جو بظاہر ٹرمپ کے ابتدائی حملے کا سبب بنے تھے، اور نہ ہی ان عوامل کو جو ایران کے سخت ردعمل کی وجہ بنے۔

    ایسے معاہدہ تک پہنچنے کے لیے جسے ہر فریق اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکے، ٹرمپ کو تہران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی پر طویل مدتی (کم از کم 20 سال) کی قابلِ تصدیق پابندی درکار ہے۔

    دوسری جانب ایران کو خوب پر عائد پابندیوں میں نرمی اور اپنے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی چاہیے۔ تاہم یہ امور ہمیشہ سے بنیادی اختلاف کا باعث رہے ہیں۔

    اگرچہ اس معاہدے میں ان معاملات پر مزید بات چیت کے وعدے شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق ان پر بامعنی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔

    اور اس کے علاوہ اسرائیل اور واشنگٹن میں سخت مؤقف رکھنے والے ریپبلکنز کے ان مطالبات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے جو چاہتے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کے روایتی ہتھیاروں کے پروگرام اور خطے میں اس کے مسلح اتحادیوں کی مالی معاونت کو بھی محدود کیا جائے۔

  3. تقریباً 15 گھنٹوں کی مسلسل بات چیت کے بعد معاہدہ طے پایا: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    کاظم غریب آبادی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ قطر کے ثالثوں نے تہران میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے مسودے پر اتفاق رائے کے لیے ’تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات‘ کیے۔

    کاظم غریب آبادی نے پیر کے روز ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس مذاکراتی عمل میں بہت وقت لگا۔‘

    ’قطری وفد گذشتہ روز تہران میں موجود تھا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن پر بات چیت کو حتمی شکل دی جا سکے۔‘

    ’تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، جس کے دوران ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے متن میں حتمی ترامیم پیش کیں۔ بالآخر ان ترامیم کو قبول کر لیا گیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دے دی گئی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حتمی معاہدے پر 60 روز کے اندر مذاکرات ہوں گے، جس کے دوران ایران کو ’کئی امور پر بات کرنی ہے‘ اور اس کی اولین ترجیح اس پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

  4. تجزیہ: ’امن معاہدے‘ کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے کیا حاصل کیا جا سکا اور کیا نہیں, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    امریکی بحریہ

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    آبناۓ ہرمز کو کھولنے کے لیے ہونے والی کوئی بھی پیش رفت نہ صرف عالمی بحری صنعت اور وسیع تر عالمی معیشت بلکہ خود ایران کے لیے بھی خوش آئند ہو گی۔

    ایران بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ نہ معلوم ہونے دے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی سے اسے کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران کی معیشت کو اس سے بھاری نقصان ہوا ہے۔

    تاہم کسی بھی ’امن معاہدے‘ کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے ذریعے کیا حاصل کیا جا سکا اور کیا نہیں۔

    کیونکہ جنگ سے قبل تک خلیجی تیل، گیس، کھاد، ہیلیم اور دیگر اشیا بغیر کسی روک ٹوک کے آبنائے ہرمز سے گزر رہی تھیں۔ اگر اس معاہدے کے نتیجے میں یہ ترسیل بحال ہو گئی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس معاہدے سے صرف جنگ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا گیا ہے۔

    اصل طویل مدتی امتحان یہ ہو گا کہ آیا جیسا کہ امریکی صدر دعویٰ کرتے ہیں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرے میں واقعی کمی ہوئی ہے یا نہیں۔

    یا پھر، جیسا کہ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے، پاسدارانِ انقلاب کے اندر تقویت پانے والے سخت گیر عناصر خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کی کوششیں تیز کر دیں گے جو ان کے مطابق ایران کے لیے بہترین دفاعی حکمت عملی ہو گی تاکہ دوبارہ اس طرز کے کسی بھی حملے سے بچا جا سکے۔

  5. امریکہ 30 روز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا: ایرانی میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدے میں شامل نکات میں سے ایک امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو 30 دن کے اندر ختم کرنا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے بعد امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردی تھی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے 13 اپریل سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کے بعد سے نو جہازوں کو ناکارہ بنایا ہے جبکہ 135 کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

  6. امن معاہدے کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    تیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور اب یہ 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا۔

    پاکستان کے مطابق اس امن معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی سوشل میڈیا پر اس معاہدے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہے گی۔

    واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

  7. ایرانی سرکاری میڈیا امریکہ کے ساتھ معاہدہ مفاہمت کے کون سے نکات رپورٹ کر رہا ہے؟

    ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ ایسی خبریں نشر کر رہے ہیں جنھیں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کے مسودے کی تفصیلات قرار دے رہے ہیں۔

    تاہم ان نکات کی تاحال باضابطہ طور پر کسی بھی ملک کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ ایجنسی کے مطابق مجوزہ نکات کچھ یوں ہیں:

    • لبنان سمیت تمام محاذوں پر مستقل جنگ بندی
    • امریکہ کی جانب سے ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد
    • امریکہ کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
    • 30 دن کے اندر ’ایرانی انتظام‘ کے تحت آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولا جانا
    • امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے فراہم کرنا
    • ایرانی تیل اور توانائی کی مصنوعات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ
    • ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے عزم کی توثیق
    • امریکہ کا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہ کرنے اور ایران پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا وعدہ

    مہر نیوز ایجنسی نے مزید رپورٹ کیا کہ ’حتمی مذاکرات اُس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک ایران کے منجمد فنڈز کا کم از کم نصف حصہ جاری نہیں کر دیا جاتا، ایران پر عائد تیل کی پابندیاں معطل نہیں کی جاتیں، اور بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی۔‘

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے دی جائے گی۔

  8. ’آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کتنی تیزی سے ہوگی، اس کا اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں‘, جوناتھن جوزف، بی بی سی بزنس رپورٹر

    ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

    یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے، تنازع سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔

    تاہم توقع ہے کہ اس راستے سے ہونے والی تجارت کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں کچھ وقت درکار ہوگا، کیونکہ شپنگ کمپنیاں پہلے اس بات کا یقین کرنا چاہیں گی کہ معاہدہ مؤثر اور پائیدار ہے۔

    دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اُن کے عملے اور جہازوں کی سلامتی اُن کی اولین ترجیح ہے۔

    ابتدائی طور پر جہازوں کی نقل و حرکت آبنائے ہرمز کی مشرقی سمت میں ہونے کا امکان ہو گا کیونکہ تقریباً 2,000 بحری جہاز، جن پر قریباً 20,000 ملاح سوار ہیں، فروری کے آواخر سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

    اس ضمن میں سب سے موزوں مثال 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد بحیرہ احمر کے راستے کی بندش ہے، جس کے بعد بڑی شپنگ کمپنیوں کو اپنی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے میں تقریباً دو سال کا وقت لگا تھا۔

    تاہم امکان ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اس سے کہیں زیادہ تیز ہوگی، کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے زیادہ اہم ہے اور اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔

    اس کے باوجود یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ عمل کتنی جلدی مکمل ہوگا۔

  9. امریکہ، اسرائیل کے پاس شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا: خاتم الانبیا فورس, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کی اعلیٰ عسکری کمان، خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز، نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی عوام نے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر اور خطے میں تہران کے حامی گروہوں اور اتحادیوں کے تعاون سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ان کے پاس ’شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔‘

    خاتم الانبیا فورس کی جانب سے جاری ہونے والا یہ بیان اس بیانیے کے عین مطابق ہے، جو ایران کا سرکاری ٹیلی ویژن اس معاہدے کو ایران کی فتح کے طور پر پیش کرنے کے لیے اختیار کیے ہوئے ہے۔

    اس دوران ایران کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے معاہدے کے خلاف تنقید میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

    معاہدے پر تنقید کرنے والوں میں سے بعض نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے سپیکر قالیباف، جو مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے، پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مؤقف سے ’غداری‘ کی ہے۔

    اپنی وفات سے چند ہفتے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا ’دانشمندانہ‘ فیصلہ نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے ایران سے مسائل ’حل‘ ہو پائیں گے۔

  10. جمعہ کو معاہدے پر دستخط کے بعد تیل کی آزادانہ نقل و حمل شروع ہو جائے گی: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہZuffa LLC

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے حوالے سے ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے وہ کامیابی حاصل کی ہے جس میں دیگر رہنما ناکام رہے ہیں۔

    انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لے کر آئے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’بہت سے (امریکی) صدور نے ایران کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کی، مگر مجھ سے پہلے والے تمام (صدرو) ناکام رہے۔ خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار ایک ایسا صدر (یعنی ٹرمپ) ملا ہے جو انھیں حقیقی امن حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جمعہ کو معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا تاکہ بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل شروع کیا جا سکے، اور اس کے نتیجے میں خطے اور دنیا کے لیے تیل کی ترسیل دوبارہ بحال ہو جائے گی۔‘

  11. برطانوی وزیرِ اعظم نے امن معاہدے کو ’نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے

    سٹارمر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کے قیام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ، پاکستان اور قطر سمیت دیگر ممالک کے ثالثوں کو اس اہم پیش رفت میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی کے خواہاں تھے اور یہ وہ پیش رفت ہے جس کی ہمیں امید تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم واضح کرتے ہیں کہ اب آبنائے ہرمز میں بلامعاوضہ اور آزادانہ جہاز رانی کی بحالی ناگزیر ہے، تاکہ گذشتہ کئی ماہ سے برطانیہ اور دنیا بھر پر پڑنے والے شدید معاشی اثرات میں کمی آ سکے۔‘

    سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس عمل کی حمایت جاری رکھیں گے، جس میں ضرورت پڑنے پر دفاعی اور خودمختار کثیرالجہتی مشن کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے، جس کی منصوبہ بندی میں برطانیہ اور فرانس اب تک قائدانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں، خصوصاً بارودی سرنگوں کی صفائی کے حوالے سے متفقہ تعاون فراہم کرنے کے لیے۔‘

    انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’پائیدار امن کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ کیے گئے وعدے، بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق، مضبوط، قابلِ تصدیق اور مکمل طور پر نافذ العمل ہوں۔ برطانیہ کا مؤقف مستقل اور واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔‘

  12. قطری وزیر اعظم کا پاکستان کا شکریہ: ’تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں‘

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کے وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں، تاکہ اس پیش رفت کو مستحکم کیا جا سکے اور اسے آگے بڑھایا جا سکے۔‘

  13. جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کے لیے سوئٹزر لینڈ جا سکتے ہیں: اے ایف پی

    وینس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 19 جون کو جنیوا میں امن معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود ہو سکتے ہیں۔

    گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ معاہدے پر بالمشافہ دستخط کے لیے جے ڈی وینس سوئٹزر لینڈ جا سکتے ہیں۔

  14. تجزیہ: معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    ایران کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک غیر متوقع مگر خوش آئند سالگرہ کا تحفہ ثابت ہوا ہے، تاہم اس کے ساتھ غیر یقینی صورتحال بھی موجود ہے۔

    یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یوم پیدائش 14 جون ہے۔

    اس معاہدے کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا اور امریکہ بھی اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔

    صدر ٹرمپ نے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’لِیٹ دی آئل فلو‘ یعنی تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہنے دو!

    تاہم اس کے علاوہ اس معاہدے کی دیگر تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

    بظاہر ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، جو کہ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کی بنیادی وجہ تھا، اب بھی مزید مذاکرات کا متقاضی ہے۔

    گذشتہ کئی دہائیوں سے ایران کو اس کے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ حتیٰ کہ اگر کسی مفاہمتی یادداشت کے تحت سفارتی مذاکرات کا فریم ورک طے بھی پا جائے، تو پیش رفت کی کوئی یقینی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

    تاہم کم از کم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ امن معاہدہ جاری تنازع کے باعث عالمی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں کر پائے گا تاہم کسی حد تک اسے کم کرنے میں ضرور مدد دے گا۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت صدر ٹرمپ پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ میں بھی کچھ کمی لا سکتی ہے۔

    یہ معاہدہ حالات کو کسی حد تک جنگ سے قبل کی حالت کی طرف واپس لے جانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ کے بڑے اہداف فی الحال حاصل ہوتے نظر نہیں آتے۔

  15. صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امن معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اِس کی تصدیق کر دی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر اُن کا کہنا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں آبنائے ہرمز کی بغیر کسی فیس (کی ادائیگی) کے فوری طور پر کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں، اور اِسی کے ساتھ امریکہ کی جانب سے (ایران کی) بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی بھی منظوری دیتا ہوں۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر کے جہاز، اپنے انجن سٹارٹ کر دیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’لِیٹ دی آئل فلو۔‘ (یعنی تیل کی فراہمی جاری رہنے دو)

  16. ایران کی جانب سے بھی امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق: ’ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی آج رات ختم کر دی جائے گی، کاظم غریب آبادی

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ملک کے سرکاری ٹی وی پر ایک ٹیلیفونک گفتگو میں اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج رات مختلف محاذوں پر، جن میں لبنان بھی شامل ہے، جنگ اور فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی بھی آج رات ختم کر دی جائے گی۔

  17. امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی: پاکستان

    شہباز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔

    اب سے کچھ دیر قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کیا ہے۔

    اپنی پوسٹ میں اُن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’اس موقع پر ہم امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم کا مظاہرہ کیا۔ ہم اس ثالثی عمل میں اپنے برادر ملک قطر کی قیادت کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جن کی معاونت اس معاہدے تک پہنچنے میں نہایت اہم رہی۔‘

    ’ہم بالخصوص مملکتِ سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کے بھی شکر گزار ہیں جنھوں نے اس حوالے سے غیر معمولی کردار ادا کیا۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’اب معاہدہ طے پانے کے بعد ثالثی ٹیمیں آئندہ ہفتے کے دوران متعدد اجلاسوں کا انعقاد کریں گی۔ یہ مشاورتی عمل ٹیکنیکل مذاکرات اور پھر باضابطہ دستخط کی تقریب کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔‘

  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔