ٹرمپ کے لیے نوبیل انعام اور شہباز شریف کو کریڈٹ دینے کا مشورہ: معاہدے کے اعلان کے بعد امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کے تذکرے

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہSuzanne Plunkett - Pool / Getty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

14 اور 15 جون کی شب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی گئی۔

اس پوسٹ کے لگ بھگ دو گھنٹوں بعد ایک ایسی پیش رفت سامنے آنے والی تھی، جس کا عالمی سفارتی منظر نامے پر شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا اور اس کے بعد دنیا پاکستان کا ذکر کرنے والی تھی۔

رات 12 بج کر 25 منٹ پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایکس اکاؤنٹ سے کی گئی پوسٹ انگریزی کے صرف چار الفاظ پر مشتمل تھی: ’گاڈ از دی گریٹسٹ۔‘ یعنی ’خدا سب سے عظیم ہے۔‘

محسن نقوی ان اہم شخصیات میں شامل رہے ہیں جنھوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں ایران کے کئی دورے کیے۔

اسی وجہ سے ان کی پوسٹ کے بعد چہ مگوئیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ لوگ تبصروں میں اندازے لگانے لگے کہ اس کا تعلق امریکہ اور ایران میں ہونے والے معاہدے سے ہے۔

اور پھر اس کے ایک گھنٹہ اور 50 منٹ بعد، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے پوسٹ کی جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ایکس پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ تفصیلی مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا۔ فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔‘

شہباز شریف نے مزید لکھا کہ امن معاہدے پر دستخط کرنے کی سرکاری تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایکس پوسٹ میں وزیر اعظم پاکستان نے سفارتی طریقے سے تنازع حل کرنے پر امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا اور لکھا ’ہم اپنے برادران، ریاستِ قطر کی عظیم قیادت، کے لیے بھی نہایت خلوص سے قدر دانی کا اظہار کرتے ہیں جنھوں نے ثالثی کی کوشش میں کردار ادا کیا اور ان کی حمایت سے یہ معاہدہ ممکن ہوا۔‘

شہباز شریف نے سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ’اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا۔‘

واضح رہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ اپریل کو ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملے روکنے کا اعلان کیا تھا تو اس اعلان میں بھی انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کیا تھا۔

آٹھ اپریل کی اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کی جانب بھیجی جانے والی تباہ کن طاقت کو روک دوں۔‘

اس سے پہلے امریکی صدر ایران پر تباہ کن حملے کی دھمکی دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ہی اعلان کر چکے تھے کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔‘

ایک بورڈ جس پر اسلام آباد مذاکرات لکھا ہے

،تصویر کا ذریعہFarooq NAEEM / AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشندو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکہ اور ایران کے نمائندوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کیے جو بے نتیجہ رہے

آٹھ اپریل کو ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکہ اور ایران کے نمائندوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کیے جو بے نتیجہ رہے، تاہم دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی جنگ بندی کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہی۔ اس دوران مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں اور تنازع کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں۔

پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک نے ثالثی کا کردار ادا کیا، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطحی رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ایران کے دورے کیے تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور کشیدگی میں مزید کمی لائی جا سکے۔

اور اب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے امن معاہدہ طے پانے کا باضابطہ اعلان کیا۔ ان کی ایکس پوسٹ کے 14 منٹ بعد ٹرمپ نے بھی ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا۔ سب کو مبارک ہو!‘

معاہدے کی مختصر تفصیل بتاتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا کہ آبنائے ہرمز استعمال کرنے کے لیے کوئی فیس نہیں لی جائے گی اور ایران کی بحری ناکہ بندی بھی فوری ختم کر دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا ’دنیا بھر کے جہاز اپنے انجن سٹارٹ کر دیں۔ لیٹ دی آئل فلو (تیل کی فراہمی جاری رہنے دیں)۔‘

امریکی صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ

،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump

دنیا بھر میں جہاں اس معاہدے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے، وہیں اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا جا رہا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا ’اس کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ممکن ہوا۔‘

برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر کی طرف سے جاری بیان میں امریکہ، ایران معاہدے کا خیر مقدم کیا گیا اور دونوں ممالک میں ثالثی کرانے پر پاکستان اور قطر کو مبارک باد دی گئی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کو سراہا کہ انھوں نے ’مذاکرات میں تعمیری کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں امن معاہدے تک پہنچنا ممکن ہوا۔‘

ایرانی صدر رجب طیب ارگان نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’میں ثالثی کی غیر معمولی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

معاہدے سے متعلق ایک مشترکہ بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماوں نے کہا: ’ہم امریکہ، ایرانی حکومت اور ان تمام افراد کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جنھوں نے اس سفارتی پیش رفت میں کردار ادا کیا۔ اس میں پاکستان، قطر اور دیگر تمام ثالث شامل ہیں۔‘

وزیر داخلہ محسن نقوی نے امن معاہدے کے اعلان والی شہباز شریف کو پوسٹ کو تو ری پوسٹ کیا، لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصویر الگ سے پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’انھوں نے کر دکھایا، ایک بار پھر۔ اس مرتبہ صرف اپنے ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے۔‘

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شمع جونیجو نے لکھا کہ ’نقوی صاحب، کچھ کریڈٹ وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی دے دیں پلیز!‘

وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایکس پوسٹ

،تصویر کا ذریعہx.com/MohsinnaqviC42

دیگر سوشل میڈیا صارفین بھی امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ کرانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔

جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر مائیکل کوگلمین نے کہا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا پہلا اعلان پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے سامنے آیا۔ یہ اسلام آباد کی کئی ہفتوں پر محیط ثالثی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس میں مصر، ترکی، سعودی عرب، چین اور قطر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔‘

امریکہ کی ری پبلکن جماعت سے وابستہ اوہائیو کے سینیٹر برنی مورینو نے بھی وزیر اعظم پاکستان کی پوسٹ کو ری پوسٹ کیا اور کہا کہ ’دنیا کے لیے ایک تاریخی دن۔ چلیں، نوبیل امن انعام تیار رکھیں!‘

امریکی تھنک ٹینک کوئنسی انسٹیٹیوٹ میں مڈل ایسٹ پروگرام کے ڈپٹی ڈائیریکٹر ایڈم این وائن سٹین نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’عالمی سفارتی منظر نامے میں پاکستان کے لیے ایک حقیقی سنگِ میل۔‘

سویڈن کی اپسالا یونیوسرٹی میں پروفیسر اشوک سوین نے لکھ کہ ’امریکہ، ایران امن معاہدے کا اعلان پاکستان نے کیا۔ دنیا پاکستان کی بہت زیادہ ممنون ہے۔‘

امریکی صحافی اور اینکر کیون کورک نے شہباز شریف کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’امن کی طرف پہلا قدم۔‘

کچھ صارفین اپنے تبصروں میں ان خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر بمباری کر کے اس معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔

جبکہ صحافی حامد میر نے خواہش کا اظہار کیا کہ اس ’عظیم ڈیل‘ کے بعد پاکستانی عوام پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کے حقدار ہیں، ’کم از کم 200 روپے فی لیٹر۔‘