’پوری ٹیم تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی‘: ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ میں انڈیا سے شکست جسے پاکستان کے لیے ایک اور ’تکلیف دہ‘ دن قرار دیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’یہ تو اب ہر ورلڈ کپ کی پرانی کہانی ہے، انڈیا نے پاکستان کو آرام سے شکست دے دی، دیپتی شرما کی قیادت میں ویمن ان بلیو کا میدان میں سپر شو۔‘
یہ کہنا ہے انڈین صحافی راجدیپ سردیسائی کا جو ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ میں انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست پر طنز کر رہے تھے۔
اتوار کو برمنگھم میں کھیلے جانے والے ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچ میں انڈیا کے ہاتھوں شکست کو پاکستان کرکٹ کے لیے ایک اور ’تکلیف دہ‘ دن قرار دیا جا رہا ہے۔ انڈین ٹیم نے یہ میچ 64 رنز کے بڑے مارجن سے جیتا۔
انڈین ٹیم کی کپتان دیپتی شرما نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور مقررہ 20 اوورز میں انڈین ٹیم نے 170 رنز بنائے تھے۔ انڈیا کی جانب سے سمرتی مندانا نے جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے دو چھکوں اور نو چوکوں کی مدد سے 44 گیندوں پر 68 رنز بنائے۔
پاوور پلے میں 18 رنز پر انڈیا کی دو وکٹیں گر گئی تھیں تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص فیلڈنگ اور ڈراپ کیچز کی وجہ سے انڈین ٹیم 170 رنز تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔
جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم 17 اوورز میں 106 رنز پر ڈھیر ہو گئی، صرف اوپنر منیبہ علی نے ہی کچھ مزاحمت دکھائی، جنھوں نے 35 گیندوں پر 41 رنز بنائے۔
برمنگھم کا میدان پاکستانی اور انڈین شائقین سے بھرا ہوا تھا تاہم ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ ٹیم انڈیا کے خلاف اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈراپ کیچز، ناقص فیلڈنگ
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹنگ اور فیلڈنگ نے بہت مایوس کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کا کہنا تھا کہ ’انڈین اننگز کے آخری کچھ اوورز میں ہم نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی، مجھ سمیت سینیئر کھلاڑیوں نے کیچز چھوڑے جبکہ دائرے کے باہر ایک فیلڈر نہ ہونے کی وجہ سے بھی ہمیں نقصان ہوا۔‘
واضح رہے کہ سلو اوور ریٹ کی وجہ سے پاکستان ٹیم کو آخری اوور میں ایک فیلڈر دائرے کے اندر بلانا پڑا تھا۔
فاطمہ ثنا کا کہنا تھا کہ یہ ایک نوجوان ٹیم ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھے گی۔ ’کیچز چھوٹنے سے بھی ٹیم کو نقصان ہوا۔ ہم نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں پاور پلے اچھے کھیلے لیکن جہاں ہمیں اننگز کو آگے بڑھانا تھا، وہاں ہم ناکام رہے۔‘
عالیہ ریاض نے مندانا کے دو کیچ چھوڑے۔ ایک موقع پر وہ 27 جبکہ دوسرے پر وہ 55 رنز پر بیٹنگ کر رہی تھیں جبکہ کپتان فاطمہ ثنا نے بھی کیچ ڈراپ کیا۔
پاکستان ویمنز ٹیم کے کوچ وہاب ریاض نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاور پلے میں اچھے آغاز کے باوجود پانچ وکٹیں جلدی گرنے سے ہم نے مومینٹم کھو دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ٹیم میں کچھ مثبت چیزیں بھی سامنے آئی ہیں لیکن مجموعی طور پر کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست پر سوشل میڈیا پر بھی ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور شائقین کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کے ساتھ ساتھ ٹیم مینجمنٹ پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔
سپورٹس جرنلسٹ فیضان لکھانی نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان ویمنز کو پورے 20 اوورز میں بیٹنگ کرنے اور بورڈ پر کچھ رنز لگانے کا ہدف رکھنا چاہیے تاکہ ان کے نیٹ رن ریٹ پر کوئی بڑا فرق نہ پڑے۔
انڈین فاسٹ بولر عرفان پٹھان نے ایکس پر انڈین ٹیم کی کامیابی پر اُنھیں مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ’آج بہترین سنڈے ہے۔‘
نبراز نامی صارف نے لکھا کہ پاوور پلے کے بعد پاکستان کا سکور 52 رنز تھا اور اس کی صرف ایک وکٹ گری تھی، 90 گیندوں پر صرف 119 رنز درکار تھے لیکن پھر پانی کا وقفہ آیا اور پوری ٹیم تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔
اُسامہ ظفر نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان اور انڈیا کی ویمنز ٹیموں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہت فرق ہے اور یہ فرق پھر میدان میں بھی نظر آتا ہے۔ اگر پاکستان ٹیم کو انڈین ٹیم کو ملنے والی سہولیات کا 50 فیصد بھی دے دیا جائے تو ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔
شیری نامی صارف نے ایکس پر پاکستان ٹیم کی شکست پر لکھا کہ ’یہ پاکستان ٹیم کے لیے ایک اور تکلیف دہ دن ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نو ہینڈ شیک
انڈین ٹیم نے ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کے حوالے سے نو ہینڈ شیک پالیسی برقرار رکھتے ہوئے پاکستانی ویمن ٹیم سے ہاتھ نہیں ملایا۔
ٹاس کے موقع پھی انڈین کپتان پہلے بلے بازی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا سے ہاتھ ملائے بغیر چلی گئیں جبکہ میچ کے اختتام پر بھی دونوں ٹیموں کے درمیان کوئی مصافحہ نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ انڈین مینز ٹیم نے گذشتہ برس ایشیا کپ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم سے ہاتھ نہ ملا کر اس عمل کا آغاز کیا تھا، جو بعدازاں ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی برقرار رکھا گیا تھا۔
ایشیا کپ کے میچز کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسے ’سپرٹ آف دی کرکٹ‘ کے خلاف قرار دیتے ہوئے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایسا نہ کرنے پر ایشیا کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی تھی۔


























