’قالیباف، عراقچی! میرے رہبر کے خون کا کیا ہوا؟‘ امریکہ سے معاہدے کے مخالفین کا تہران اور مشہد میں احتجاج

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے دوران اسرائیل نے لبنان پر مزید حملے کیے ہیں، ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ایران میں معاہدے کے مخالفین نے باقر قالیباف کے ساتھ ساتھ ملک کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خلاف بھی نعرے لگائے ہیں۔
اسرائیل نے لبنان کے دار الحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے آج کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے جو جنگ بندی معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا: ’ضاحیہ میں صہیونی حکومت کی دراندازی اور حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا یا پھر اس کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی نہ خواہش رکھتے ہیں اور نہ ہی صلاحیت، تو پھر مذاکرات یا کسی بھی عمل کو آگے بڑھانے کی بات کرنا ممکن نہیں رہے گا۔‘
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ’نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
تروتھ سوشل پر انھوں نے مزید لکھا کہ ’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم جس حملے کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی وہ ’بے معنی اور غیر اہم‘ نوعیت کا تھا‘
’اسرائیل یا کسی بھی دوسرے فریق کی جانب سے مزید حملے نہیں ہونے چاہییں، کیونکہ موجودہ صورتحال ایک ’طویل اور خوبصورت امن‘ کے آغاز کا موقع ثابت ہو سکتی ہے۔‘
دوسری جانب ایران امریکہ ممکنہ معاہدے کے خلاف تہران میں مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق ایران میں ایک قدامت پسند اور سخت گیر دھڑے جبھہ پایداری سے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تہران کے ابنِ سینا چوک میں کیے گئے مظاہرے میں ’عراقچی، شرم کرو، ملک چھوڑ دو‘ اور ’قالیباف، عراقچی! میرے رہبر کے خون کا کیا ہوا؟‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلان کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے بعد فوری طور پر آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
اس سے پہلے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’امریکہ کے ساتھ کوئی بھی ممکنہ مفاہمت صرف آئندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک ہو گی، نہ کہ دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدہ۔‘
ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک اور بیان میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ متوقع مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط نہیں کیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے یہ بات بھی زور دے کر کہی تھی کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور ایران کو کوئی رقم ادا نہیں کی جائے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن محمود نبویان دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے معاہدے کا حتمی متن دیکھا ہے۔ ٹرمپ کے تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’اس معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہم باضابطہ طور پر امریکہ کی کالونی بن جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز فوری طور پر بغیر کسی پابندی اور فیس کے کھول دی جائے گی، تاہم ’پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں جاری کرنے کا معاملہ غیر واضح ہے۔‘
نبویان نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ بھی کہا کہ اس معاہدے کے مطابق افزودہ یورینیم کا درجہ کم کیا جائے گا ’کیا یہ متن قومی مفادات کو پورا کرتا ہے؟‘
اسی دوران گذشتہ شام درجنوں افراد نے مشہد میں وزارتِ خارجہ کی عمارت کے سامنے عباس عراقچی کے امریکہ سے ممکنہ معاہدے کے بارے میں بیانات کے خلاف احتجاج کیا۔
خبر رساں ادارے فارس کی جانب سے جاری ویڈیو کے مطابق مشہد میں مظاہرین نے عراقچی کے خلاف نعرے لگائے۔ معاہدے کے مخالفین کا ماننا ہے کہ ایسا معاہدہ ایران کے مفاد میں نہیں اور آبنائے ہرمز میں تہران کی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرے گا۔
عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ زیرِ بحث معاہدے میں امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہو گا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مظاہرین محمد باقر قالیباف کے خلاف بھی نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

،تصویر کا ذریعہsobhe-no
ایران، امریکہ ممکنہ معاہدے کے مخالفین نے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی بھی حمایت کی ہے۔
ایران کے وزیر ثقافت عباس صالحی نے ایکس پر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری پیغام کا حوالہ دیا، جس میں ایرانی پارلیمان سے کہا گیا تھا کہ ’بلا جواز اور حتیٰ کہ جائز اختلافات کو بھی تنازع اور تفرقے میں تبدیل نہ کریں اور اتحاد اور یکجہتی کی علامت بنیں۔‘
صالحی نے مزید لکھا: ’کیا ان دنوں نظر آنے والے بعض مؤقف اور اقدامات اس ہدایت کے مطابق ہیں؟ قوم کے اتحاد کو مت توڑیں۔‘
روزنامہ صبح نو، جو محمد باقر قالیباف کے قریب سمجھا جاتا ہے، نے اپنے آج کے شمارے میں لکھا: ’وحدت توڑنے والے سرگرم ہیں۔‘
عباس عراقچی نے بھی اپنے ٹیلیگرام چینل پر حکومت کے حامیوں کے اجتماع کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’سڑک سے سفارت کاری کی حمایت میں آواز آ رہی ہے۔ یہ سب ایران، سفارت کاری اور عوام کے لیے متحد ہیں اور قربانی دینے کو تیار ہیں۔‘


























