ممتا بینرجی: مغربی بنگال میں خاتون رہنما کا اقتدار 15 سال بعد شکست کے دہانے پر کیسے پہنچا؟

مطالعے کا وقت: 9 منٹ

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کئی برسوں تک وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سیاسی پیش قدمی سے دور رہی ہے۔

ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے انڈیا کے ہندی بولنے والے وسطی علاقوں میں زبردست کامیابیاں حاصل کیں، مغربی اور شمال مشرقی حصوں تک اپنا دائرہ وسیع کیا اور کبھی مضبوط سمجھی جانے والی علاقائی جماعتوں کو پسپا کر دیا۔

لیکن بنگال اپنی بحث و مباحثے کی روایت اور ثقافتی انفرادیت کے تصور سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہاں بی جے پی کے خلاف مزاحمت جاری رہی تھی۔

اسی وجہ سے یہ ریاستی انتخابات غیر معمولی طور پر فیصلہ کن سمجھے جا رہے تھے۔ دس کروڑ سے زائد ووٹروں کے ساتھ مغربی بنگال کا ووٹر بیس جرمنی کے ووٹروں سے بھی بڑا ہے جس کے باعث یہاں کے انتخابات ایک عام ریاستی پولنگ کے بجائے کسی ملک میں حکومت کے انتخاب سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔

پیر کے روز مغربی بنگال میں بی جے پی کی فتح نریندر مودی کے 12 سالہ اقتدار کے دوران سب سے اہم کامیابیوں میں شمار کی جائے گی۔ یہ صرف تین مدتوں سے برسراقتدار جماعت کی شکست نہیں بلکہ مشرقی انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے طویل سیاسی مارچ کی تکمیل کی علامت بھی ہے۔

انڈیا کی چار ریاستوں مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو اور کیرالہ کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

بی جے پی کو ترنمول کانگریس پر برتری حاصل

اِس وقت نظریں مغربی بنگال سے آنے والے نتائج پر جمی ہیں جہاں ابتدائی رجحانات کے مطابق بی جے پی نے ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر نمایاں برتری حاصل کی ہے۔

’ڈیٹانیٹ‘ کے مطابق مغربی بنگال میں گذشتہ کئی عرصے سے برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس 91 نشستوں پر جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 196 نشستوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔

294 رکنی مغربی بنگال کی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 148 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور موجودہ رجحانات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی سبقت والی نشستوں کی تعداد سادہ اکثریت کے ہندسے سے تجاوز کر چکی ہے۔

اگرچہ یہ اعداد و شمار ابتدائی رجحانات پر مبنی ہیں تاہم اگر ترنمول کانگریس اِن انتخابات میں ناکام رہتی ہے تو یہ کئی حوالوں سے ایک تاریخی موقع ہو گا۔

ترنمول کانگریس سنہ 2011 سے مسلسل مغربی بنگال میں اقتدار میں ہے جبکہ اس کی سربراہ ممتا بینر جی گذشتہ 15 برس سے اس ریاست میں وزیرِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔

اگر بی جے پی اس ریاست سے کامیابی حاصل کرتی ہے تو یہ انڈیا کی اِس ریاست میں اس جماعت کی پہلی حکومت ہو گی۔

ریاست میں ہونے والے گذشتہ انتخابات میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے 215 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 77 نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔

ممتا بینرجی کے لیے آگے کیا؟ سوتک بسواس کا تجزیہ

71 برس کی عمر میں بنگال کی سب سے مضبوط اور بااثر سیاستدان ممتا بینرجی کو اپنی سیاسی زندگی کی شاید سب سے کڑی آزمائش کا سامنا ہے، یعنی ایک ایسی جماعت کو یکجا رکھنا جسے کئی تجزیہ کار ایک نظریاتی تحریک کے بجائے اقتدار تک رسائی کے دھاگے سے بندھا ہوا ایک وسیع سیاسی کلب قرار دیتے ہیں۔

ترنمول کانگریس کی بنیاد ممتا بینرجی کی کرشماتی قیادت، فلاحی سیاست اور سڑکوں پر جارحانہ سیاسی جدوجہد کے جذبے پر رکھی گئی تھی۔

تاہم مغربی بنگال کی سیاست میں شکست خوردہ حکمران جماعتوں کے لیے ہمیشہ سخت حالات رہے ہیں، جہاں رہنما اور مقامی طاقتور شخصیات عموماً تیزی سے اقتدار کے نئے مرکز کی جانب رُخ کر لیتی ہیں۔

فی الوقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا ممتا بنرجی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب اُن کی جماعت میں ممکنہ انحراف کے عمل کو روک پائیں گی اور ترنمول کانگریس کو ایک منظم اور متحد سیاسی قوت کے طور پر برقرار رکھ سکیں گی یا نہیں۔

گذشتہ نصف صدی کے دوران بنگال پر عملاً صرف دو بڑی جماعتوں نے حکمرانی کی ہے۔

اب یہ بات کہ آیا ممتا بنرجی ایک بار پھر خود کو ازسرِ نو منظم کر پائیں گی یا رفتہ رفتہ ریاستی سیاست کے مرکز سے باہر ہو جائیں گی، آئندہ دور میں بنگال کی سیاسی تاریخ کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔

انتخابات سے محض چند ہفتے قبل ممتا بینرجی نے ایک انتخابی جلسے میں اعلان کیا تھا کہ وہ بنگال میں ایک اور فتح کے بعد ’دہلی پر قبضہ کریں گی‘، اپوزیشن جماعتوں کو متحد کریں گی اور مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست سے دوچار کر دیں گی۔

مگر اب یہ عزائم بکھرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

بنگال میں ممکنہ شکست صرف ریاست میں ممتا بینرجی کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کا سبب نہیں بنے گی بلکہ انڈیا کی پہلے ہی کمزور اپوزیشن اتحاد کے اندر اُن کی حیثیت کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی۔

راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو قومی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں ممتا بینرجی خود کو انتظامی تجربے، جارحانہ سیاست اور عوامی مقبولیت کے ساتھ شاید بی جے پی مخالف سب سے معتبر رہنما کے طور پر پیش کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔

لیکن انڈیا کی اپوزیشن سیاست ان رہنماؤں کے لیے بے رحم ثابت ہوتی ہے جو اپنے آبائی حلقوں میں ہار جاتے ہیں۔

قومی سطح پر بی جے پی مخالف اتحاد کے مرکز کے طور پر اُبھرنے کے بجائے، شاید ممتا بینرجی اب خود کو محض اپنی جماعت کی سیاسی اہمیت اور اس کی وحدت کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف پاتی دکھائی دے سکتی ہیں۔

ممتا بینرجی کی ممکنہ شکست کی کیا وجوہات کی ہو سکتی ہیں؟

اگرچہ ووٹنگ کے رجحانات کی درست صورتِحال اب بھی پوری طرح واضح نہیں ہے تاہم یہ انتخاب ایک بار پھر اس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ بنگال کی سیاست میں مسلمان ووٹرز کا کردار کس قدر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

مسلمان ریاست کی آبادی کا تقریباً 27 فیصد حصہ ہیں اور ریاستی اسمبلی کی قریب ایک تہائی نشستوں پر مسلمانوں کی نمایاں تعداد موجود ہے۔ 2021 میں ترنمول کانگریس نے مسلم اکثریتی 88 میں سے 84 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جو ممتا بینرجی کے حق میں بھرپور اتحاد کا عکاس تھا۔

مگر ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ اس بار بھی جماعت کو مسلمانوں کی خاصی حمایت حاصل رہی تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس برتری کا توڑ وسیع تر ہندو اتحاد اور مسابقتی فلاحی وعدوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کی ہے۔

کولکتہ کے سینٹر فار سٹڈیز ان سوشل سائنسز سے منسلک میدل اسلام کہتے ہیں کہ بی جے پی نے ’جارحانہ فلاحی بیانیے‘ کو توڑنے کے لیے نقد امداد دگنی کرنے کا وعدہ کیا جبکہ مودی کی جماعت کے بیانیے نے ’بنگالی ہندو ووٹوں کے ایک حصے کو جماعت کے پیچھے متحد کر دیا۔‘

بی جے پی رہنماؤں نے اس نتیجے کو نظریاتی یکجہتی کی بجائے ترنمول کانگریس کی مجموعی ناکامی کے طور پر پیش کیا ہے۔

بی جے پی کے رہنما دھرمیندر پردھان نے ایک نیوز نیٹ ورک کو بتایا کہ ٹی ایم سی نے خود ہی اپنے لیے ’قیادت کا بحران‘ پیدا کر لیا تھا۔ انھوں نے جماعت پر ’غرور‘ کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ ’ووٹروں، بالخصوص ان خواتین نے جو مظالم اور قانون نافذ کرنے میں ناکامیوں سے ناراض تھیں، ترنمول کانگریس کو فیصلہ کن طور پر مسترد کر دیا۔‘

انتخابات میں ایک اور اہم اور متنازع عنصر بنگال کی ووٹر فہرستوں کی سخت مقابلے کے ماحول میں کی گئی نظرِ ثانی تھی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ عمل، جسے خصوصی جامع نظرِ ثانی کہا جاتا ہے، ووٹر فہرستوں سے دوہرے یا نااہل ناموں کو نکالنے کے لیے کیا گیا تھا۔

تاہم پولنگ سے قبل لگ بھگ 30 لاکھ ووٹرز کے کیسز اب بھی ٹریبونلز میں زیرِ التوا تھے۔ ممتا بینرجی کے ساتھ ساتھ کارکنوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ بنگال عملاً 'اجتماعی حقِ رائے دہی سے محرومی' کے بعد انتخابات میں داخل ہوا۔ ان کے مطابق اس عمل نے غریب اور اقلیتی ووٹروں، خاص طور پر مسلمانوں اور سرحدی اضلاع میں مقیم مہاجر برادریوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں مقابلہ انتہائی قریب رہا ہے اور جیت کا فرق حذف شدہ ووٹروں کی تعداد سے کہیں کم ہے، وہاں اس عمل پر مزید گہری نظر ڈالی جا سکتی ہے۔ سیاست دان اور سماجی کارکن یوگیندر یادو نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ 'نتائج سامنے آنے کے بعد ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی ایک اہم کردار ادا کرے گی۔‘

تاہم بہت سے مبصرین کا ماننا ہے کہ صرف ووٹر فہرستوں کا تنازع بی جے پی کے غیر معمولی عروج کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔

بی جے پی کے حق میں کام کرنے والا ایک اور عنصر اس کی منظم اور مرکوز انتخابی مہم تھی، جس کی توجہ ترنمول کانگریس میں مبینہ بدعنوانی اور حکمرانی کی ناکامیوں پر مرکوز رہی۔ جماعت نے ممتا بینرجی پر ذاتی حملوں کے بجائے اساتذہ کی بھرتی جیسے اسکینڈلز کو زیادہ شدت سے اُجاگر کیا۔

’فلاحی کام اور تنظیم اتنے مضبوط نہیں کہ تفریق کو روک سکیں‘

برسوں تک ممتا بینرجی کی جماعت نے ایک مضبوط سماجی اتحاد تشکیل دیا، جس میں خواتین، مسلمان اور دیہی و شہری بنگال میں ہندو ووٹوں کے بڑے حصے شامل تھے۔

بالخصوص خواتین، پارٹی کی فلاحی سیاست کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی رہیں۔ 2021 کے ایک سروے کے مطابق خواتین میں ترنمول کانگریس کی حمایت 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی جو مردوں کے مقابلے میں چار فیصد پوائنٹس زیادہ تھی۔

یہ فرق خواتین کے لیے برسوں سے جاری فلاحی منصوبوں اور ممتا بینرجی کی جانب سے خواتین کی سیاسی نمائندگی بڑھانے کی کوششوں کا عکاس تھا۔

تاہم اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسی برتری کو براہ راست چیلنج کرنے کی کوشش کی اور زیادہ نقد رقوم کی منتقلی اور اپنی فلاحی مراعات میں توسیع کے وعدے کیے۔

تجزیہ کار بھانو جوشی کہتے ہیں کہ ’ممتا بینرجی کی طویل انتخابی کامیابی فلاحی سیاست اور تنظیم کے درمیان ایک نازک توازن پر قائم تھی۔ لیکن جس تنظیم نے انھیں 15 برس تک سہارا دیا وہی بالآخر ان کی کمزوری بن گئی۔‘

ان کے مطابق جیسے جیسے پارٹی کی مشینری کمزور پڑتی گئی اور فلاحی سیاست اپنی حدوں کو چھونے لگی، ووٹرز نے ان فوائد کو انقلابی کے بجائے معمول کا حصہ سمجھنا شروع کر دیا۔

بھانو جوشی کہتے ہیں کہ ’بی جے پی نے اسی ترنمول مخالف تھکن کو ہندو یکجہتی کی نسبتاً زیادہ سخت زبان میں ڈھالا۔

’اس لیے یہ محض فلاحی سیاست کی ناکامی کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ فلاحی سیاست اور تنظیم اب اس قدر مضبوط نہیں رہیں کہ تفریق کو قابو میں رکھ سکیں۔‘