ایرانی جارحیت ناقابلِ قبول اور خودمختاری کے خلاف ہے: متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہونے والی ’ایرانی جارحیت کی نئی لہر‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’خطرناک اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔
یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال کو ’ایرانی جارحیت کی تجدید‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک خطرناک اور ناقابلِ قبول اضافہ ہے۔
وزارت نے زور دیا کہ یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات کے امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، اور اس بات پر بھی زور دیا کہ یو اے ای اپنی خودمختاری اور سلامتی کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو آج ہونے والے نئے حملوں کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے خطرناک اشتعال انگیزی اور ناقابلِ قبول حد سے تجاوز ہیں‘، اور یہ کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
یو اے ای نے مزید کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ان حملوں کے جواب میں کارروائی کا اپنا مکمل اور جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم ’سینیئر فوجی اہلکار‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران کا متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘
ایران کی جانب سے اس بیان کے بعد تاحال کسی سرکاری اہلکار نے مزید ردِعمل نہیں دیا۔