آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, متحدہ عرب امارات کا تین ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ، فجیرہ بندرگاہ پر ڈرون حملے میں تین انڈین شہری زخمی

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی مار گرائے ہیں جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گرا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا مزید کہنا ہے کہ فجیرہ بندرگاہ پر ایرانی ڈرن حملے کے نتیجے میں آگ بھرک اٹھی ہے جبکہ تین انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

  • متحدہ عرب امارات کا تین ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ
  • امریکہ کا اپنے بحری جہاز اور ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزارنے کا دعویٰ
  • گذشتہ چند گھنٹوں میں کوئی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا: پاسدارانِ انقلاب
  • آبنائے ہرمز میں امریکی ڈسٹرائر جہازوں کو متنبہ کرنے کے لیے 'کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون' فائر کیے گئے: ایرانی فوج
  • امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا: سینٹکام
  • امریکی جہاز کو نشانہ بنانے کے ایرانی دعوے پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی
  • ایرانی جہاز توسکا کے عملے کے 15 ارکان کو ایران منتقل کردیا گیا، ڈی سی گوادر کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. ایرانی جارحیت ناقابلِ قبول اور خودمختاری کے خلاف ہے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہونے والی ’ایرانی جارحیت کی نئی لہر‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’خطرناک اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔

    یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال کو ’ایرانی جارحیت کی تجدید‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک خطرناک اور ناقابلِ قبول اضافہ ہے۔

    وزارت نے زور دیا کہ یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات کے امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، اور اس بات پر بھی زور دیا کہ یو اے ای اپنی خودمختاری اور سلامتی کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو آج ہونے والے نئے حملوں کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے خطرناک اشتعال انگیزی اور ناقابلِ قبول حد سے تجاوز ہیں‘، اور یہ کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔

    یو اے ای نے مزید کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ان حملوں کے جواب میں کارروائی کا اپنا مکمل اور جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم ’سینیئر فوجی اہلکار‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران کا متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘

    ایران کی جانب سے اس بیان کے بعد تاحال کسی سرکاری اہلکار نے مزید ردِعمل نہیں دیا۔

  2. عمان کے ایک قصبے میں رہائشی عمارت پر حملے میں دو غیر ملکی زخمی: سرکاری میڈیا

    عمان کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے ایک قصبے میں واقع رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں دو غیر ملکی زخمی ہو گئے ہیں۔

    عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے علاقے طیبات میں جس رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، وہاں ایک کمپنی کے ملازمین رہائش پذیر تھے۔

    خبر کے مطابق اس حملے میں دو غیر ملکی ملازمین معمولی زخمی ہوئے، جبکہ چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حملے کے نتیجے میں قریب ہی واقع ایک گھر کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

    متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  3. متحدہ عرب امارات کے فجیرہ انڈسٹریل زون میں آتشزدگی، خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی, بین کنگ، بزنس رپورٹر

    متحدہ عرب امارات میں حملے کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری تھا، تاہم پیر کی شام فجیرہ بندرگاہ کی اہم تنصیب پر حملے کی اطلاع کے بعد تیل کی قیمت میں پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

    فجیرہ آبنائے ہرمز سے آگے متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔

    ابوظہبی کے آئل فیلڈز سے ایک پائپ لائن فجیرہ تک جاتی ہے، جس سے آبنائے کے مؤثر طریقے سے بند ہونے کے باوجود محدود مقدار میں خام تیل کو ٹینکروں پر لوڈ کیا جا سکتا ہے اور عالمی منڈیوں میں بھیجا جا سکتا ہے۔

  4. قطر نے متحدہ عرب امارات کے جہاز پر مبینہ حملے کو ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ قرار دے دیا

    قطر نے متحدہ عرب امارات کے فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون میں ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

    قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون اور میری ٹائم نیوی گیشن کی آزادی کے اُصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    قطر نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  5. فجیرہ بندرگاہ پر ایرانی ڈرون حملے میں تین انڈین شہری زخمی

    فجیرہ گورنمنٹ میڈیا آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون پر ہونے والے ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  6. ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں فجیرہ بندرگاہ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ڈرون حملے کے نتیجے میں ملک میں تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی فجیرہ بندرگاہ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    فجیرہ امارات کی سب سے بڑی بندرگاہ اور تیل ذخیرہ کرنے کی اہم ترین تنصیب ہے۔ جنگ بندی سے قبل بھی اس مقام کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں فجیرہ گورنمنٹ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی مار گرائے ہیں جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گرا ہے۔

    ایران کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  7. متحدہ عرب امارات کا تین ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی مار گرائے ہیں جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گرا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں سنی گئی دھماکوں کی آوازیں ان میزائلوں کو مار گرانے کی تھیں۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر اتھارٹی نے میزائل حملے کا الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کا مشورہ دیا تھا۔

  8. آبنائے ہرمز میں لنگر انداز جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملے کا شبہ

    جنوبی کوریا کی وزارتِ بحری امور اور ماہی گیری کا کہنا ہے کہ اسے شبہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں لنگر انداز ایک جنوبی کوریائی مال بردار جہاز پر حملہ کیا گیا ہے۔

    وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 11:40 جی ایم ٹی (پاکستانی وقت کے مطابق چار بج کر 40 منٹ) پر آبنائے ہرمز میں ایچ ایم ایم نامو نامی مال بردار جہاز پر ’مشتبہ حملے‘ کی اطلاع ملی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جہاز متحدہ عرب امارات کے قریب سمندری حدود میں لنگر انداز تھا۔ اس پر عملے کے 24 افراد سوار ہیں جن میں چھ جنوبی کوریائی شہری جبکہ دیگر 18 کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔ وزارت بحری اُمور کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملے کے دوران انجن روم کے بائیں جانب دھماکا ہونے کی اطلاع ہے۔

    اس سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کی سرکاری تیل کمپنی اڈنوک سے وابستہ ایک ٹینکر کو آج آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

  9. ملک کا فضائی دفاعی نظام میزائل حملے کا جواب دے رہا ہے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام میزائل حملے کا جواب دے رہا ہے۔

    ملک کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر اتھارٹی نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کا مشورہ دیا ہے۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو ملک کی وزارت داخلہ کی جانب سے میزائل حملے کے متعلق الرٹ بھیجا گیا تھا۔

    لیکن اُس انتباہی پیغام کے کچھ ہی دیر بعد لوگوں کو حکام کی جانب سے سب کچھ ٹھیک ہے کا میسج موصول ہوا جس میں لوگوں سے کہا گیا صورتحال مکمل طور پر محفوظ ہے او وہ اپنی روز مرہ کی معمولات جاری رکھ سکتے ہیں۔

  10. ہم سینٹکام کے آبنائے ہرمز سے دو امریکی پرچم بردار جہازوں کے گزرنے کے دعوے کا جائزہ لے رہے ہیں, ایما پینگلی، بی بی سی ویریفائی

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے اس دعوے کے بعد کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز ’کامیابی سے‘ آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں ہم نے جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کا جائزہ لیا ہے۔

    میرین ٹریفک پر ان جہازوں سے مطابقت رکھنے والے کسی جہاز کا ڈیٹا نظر نہیں آیا، البتہ ہم اس پلیٹ فارم کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ میرین ٹریفک بحری جہازوں کے مقامات کے متعلق متعلق ان جہازوں پر ٹریکر کے ذریعے نشر ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر شائع کرتا ہے۔ اس نظام کو آٹومیٹک آئیڈینٹی فکیشن سسٹم (اے آئی ایس) کہا جاتا ہے۔

    تاہم بعض اوقات جہاز اپنی لوکیشن کی نشریات بند بھی کر سکتے ہیں جس کے باعث وہ میرین ٹریفک جیسے ٹریکنگ پلیٹ فارمز پر دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ جہاز ’سپیوفنگ‘ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اپنی لوکیشن اصل پوزیشن سے مختلف دکھا سکتے ہیں۔

  11. گذشتہ چند گھنٹوں میں کوئی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا: پاسدارانِ انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران کوئی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا اور امریکی حکام کی جانب سے کیے گئے دعوے بے بنیاد اور مکمل طور پر غلط ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے طے کردہ اصولوں کے منافی کسی بھی بحری سرگرمی کو سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو طاقت کے زور پر روکا جائے گا۔‘

    اس سے قبل امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا تھا امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر جہاز اور ان کے ہمراہ امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز ’کامیابی کے ساتھ‘ آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

  12. عباس عراقچی نے بتایا ہے کہ فی الوقت جوہری معاملے پر دشمن کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو رہے: ایرانی پارلیمانی کمیشن کے سربراہ کا بیان

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ارکان سے ملاقات کی ہے۔

    کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے، ’وزیر خارجہ کی جانب سے دی گئی وضاحتوں کے مطابق فی الوقت ایران جوہری معاملے پر دشمن کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا اور ہم کسی بھی طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں وزیرِ خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران لبنان میں جنگ بندی پر بھی زور دیتا ہے۔

    قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان کے مطابق عراقچی نے میٹنگ کے دوران بتایا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے ایک طریقہ کار تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق عرقچی نے بتایا آبنائے ہرمز اپنے سابقہ ​​حالات میں واپس نہیں آئے گی اور دشمن جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  13. متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو میزائل الرٹ موصول, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو ملک کی وزارت داخلہ کی جانب سے میزائل حملے کے متعلق الرٹ موصول ہوا ہے۔

    لیکن اس کے کچھ ہی دیر بعد انھیں سب کچھ ٹھیک ہے کا میسج موصول ہوا جس میں لوگوں سے کہا گیا صورتحال مکمل طور پر محفوظ ہے او وہ اپنی روز مرہ کی معمولات جاری رکھ سکتے ہیں۔

    یہ واضح نہیں کہ یہ انتباہی پیغام بھیجے جانے کی وجہ کیا تھی۔

  14. آبنائے ہرمز میں امریکی ڈسٹرائر جہازوں کو متنبہ کرنے کے لیے ’کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون‘ فائر کیے گئے: ایرانی فوج

    ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ڈسٹرائر بحری جہازوں کی موجودگی کا علم ہونے پر انھوں نے ان جہازوں کو متنبہ کرنے کے لیے ان کے نزدیک انتباہی فائرنگ کی۔

    ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چند گھنٹے قبل امریکی ڈسٹرائر بحری جہازوں نے بحیرہ عمان میں اپنے ریڈار بند کر دیے تھے اور ان کا ارادہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی ان جہازوں نے اپنے ریڈار آن کیے اس کے فوراً بعد ان کی شناخت کر لی گئی اور انھیں ایرانی بحریہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے خطرات کے متعلق ایک ریڈیو وارننگ بھیجی گئی۔

    ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ امریکی جہازوں کی جانب سے جواب نہ ملنے پر ایک اور وارننگ جاری کی گئی کہ ’آبنائے ہرمز میں داخلہ جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔‘

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ڈسٹرائر جہازوں نے ان انتباہات کو نظر انداز کیا جس کے بعد ایرانی بحریہ نے ان کے ارد گرد ’کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرون‘ فائر کیے۔

    تاہم ایرانی فوج کی جانب سے اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا ان اقدامات کا نتیجہ کیا نکلا۔ بیان میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ’اس طرح کے خطرناک اقدامات کے نتائج کی ذمہ دار امریکہ ہوگا۔‘

    اس سے قبل ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کی بحریہ نے امریکی ڈسٹرائر جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکا ہے۔

  15. دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزر گئے، سینٹکام کا دعویٰ

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز ’کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔‘

    سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں ان جہازوں کے نام فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد خلیج میں کام کر رہے ہیں۔

    سینٹکام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی افواج تجارتی جہاز رانی کا راستہ بحال کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

  16. امریکی جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے وارننگ شاٹ فائر کیا گیا تھا: ایرانی اہلکار

    ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایران نے امریکی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے وارننگ شاٹ فائر کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس سے کوئی نقصان ہوا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی فوج نے امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک جہاز پر دو میزائل داغے گئے تھے۔

    بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ اس کے ایک جنگی جہاز کو دو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا‘۔

  17. آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی کے ٹینکر پر حملہ

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک سے وابستہ ایک ٹینکر کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ حملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی صریح خلاف ورزی ہے، جس میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت کی تصدیق کی گئی ہے، اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے یا بین الاقوامی سمندری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کو مسترد کیا گیا ہے۔

    متحد عرب امارات کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کو اقتصادی بلیک میلنگ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا ایران کے پاسداران انقلاب کی طرف سے بحری قزاقی کی کارروائیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی کارروائیاں خطے، اس کے لوگوں اور عالمی توانائی کی سلامتی کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے ایران سے حملے بند کرنے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  18. بریکنگ, ایرانی پاسداران انقلاب کا انتباہ: ’آبنائے ہرمز بند ہے، گزرنے کی کوشش کی تو نشانہ بنایا جائے گا‘, غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز سے منسلک ایک ادارے فارس پلس پاسدارانِ انقلاب سے منسوب دو آڈیو پیغامات شائع کیے ہیں۔

    ان پیغامات میں فارسی اور انگریزی زبان میں خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان میں موجود بحری جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’بدستور بند‘ ہے۔

    میں نے ان پیغامات کو سنا ہے اور ان میں یہ کہا گیا ہے: ’یہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج کی جانب سے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اسلامی جمہوریۂ ایران کی اجازت کے بغیر اور مقررہ راستے کے علاوہ اس سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

    ’اگر کسی جہاز نے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کی۔۔۔ تو اسے نشانہ بنایا جائے گا اور تباہ کر دیا جائے گا۔‘

  19. امریکی جہاز کو نشانہ بنانے کے ایرانی دعوے پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی, بین کنگ، بزنس رپورٹر/بی بی سی نیوز

    ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

    یہ دعویٰ سامنے آنے کے چند منٹوں میں ہی برینٹ خام تیل کی بینچ مارک قیمت چار ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 114 ڈالر تک جا پہنچی جو دن کے آغاز پر قیمت کے مقابلے میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اضافہ تھا۔

    تاہم بعد میں امریکہ کی جانب سے اس حملے کی تردید کے بعد قیمت میں قدرے کمی واقع ہوئی۔

    گذشتہ شب ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج میں پھنسے جہازوں کو باہر نکالنے کے لیے حفاظتی دستہ فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا جسے انھوں نے ’انسانی ہمدردی کا اقدام‘ قرار دیا۔

    اگر آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کی کوشش کے نتیجے میں دوبارہ لڑائی چھڑ جاتی ہے تو اس سے تیل اور گیس کی ترسیل بحال ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے اور تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔

  20. ایرانی جہاز توسکا کے عملے کے 15 ارکان کو ایران منتقل کردیا گیا، ڈی سی گوادر کی تصدیق, محمد کاظم، ریاض سہیل، بی بی سی

    بلوچستان کے شہر گوادر کے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی بحری جہاز توسکا کے عملے کے 15 ارکان کو ایران منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے تحویل میں لیے جانے والے ایرانی بحری جہاز توسکا کا 22 رکنی عملہ گذشتہ رات بحفاظت پاکستان پہنچ گیا تھا اور انھیں آج ایران منتقل کر دیا جائے گا۔

    پاکستانی حکام کے مطابق ایرانی جہاز عملے کے 15ارکان کو بلوچستان کے سرحدی ضلع گوادر میں گبد رمیدان کراسنگ پوائنٹ سے ایرانی حکام کے حوالے کیا گیا ۔

    مکران ڈویژن کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران بحری جہاز کے عملے کے 15ارکان کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے گبد رمیدان کراسنگ پوائنٹ پہنچایا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سخت سکیورٹی میں ایف سی کے حکام نے انھیں ایران کے سرحدی علاقے چاہ بہار میں نگور کے علاقے کے ایرانی حکام کے حوالے کیا گیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے معلومات نہیں کہ توسکا کے عملے کے باقی افراد کہاں ہیں اور انھیں ان 15 افراد کے ساتھ کیوں حوالے نہیں کیا گیا۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ ایران کے بحری جہاز کے ان اہلکاروں کو پہلے ضلع گوادر کے علاقے پسنی پہنچایا گیا تھا جہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کو ایران سے متصل سرحدی علاقے پہنچایا گیا تاہم سرکاری سطح پر تاحال اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔