آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا ساکٹ میں لگا موبائل چارجر واقعی آپ کے بجلی کے بل میں اضافے کا باعث بن رہا ہے؟
پاکستانی سوشل میڈیا پر اس وقت یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ملک میں بجلی کی بڑھتی کھپت اور وقتاً فوقتاً ہونے والی لوڈ شیڈنگ کا کروڑوں صارفین کے موبائل فونز کی چارجنگ سے کیا تعلق ہے۔
یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب پاکستانی اینکر پرسن جاوید چوہدری نے ایک پوڈکاسٹ کے دوران دعویٰ کیا کہ ’پاکستان میں بجلی کے بحران کی سب سے بڑی وجہ موبائل فون کے چارجرز ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان میں 18 کروڑ موبائل فونز ہیں، اس سے اگر آدھا یونٹ بھی یومیہ خرچ ہوتا ہے تو روزانہ نو کروڑ یونٹ ضائع ہوتے ہیں۔‘
اس ویڈیو میں انھوں نے مزید یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر موبائل چارجنگ پر نہ لگا ہو مگر ’چارجر (ساکٹ میں) لگا رہے تو کوئل کے اندر بجلی استعمال ہو رہی ہوتی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر اکثر صارفین اس دعوے پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین دعوے کو غیر حقیقی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اس کی توثیق کر رہے ہیں۔
تو کیا واقعی چارجر ساکٹ میں لگا رہنے سے بجلی ضائع ہوتی ہے، یا موبائل فون کے چارجر واقعی زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں اور کیا دیگر اپلائنسز بشمول ٹی وی، مائیکرو ویو اور دیگر گھریلو اپلائنسز ’سٹینڈ بائی‘ پر ہوتے ہوئے بجلی ضائع کرنے کا سبب بنتی ہیں؟
یہ جاننے کے لیے ہم نے ماہرین سے بات کی ہے۔
برطانیہ میں سنہ 2019 میں کی گئی تحقیق میں ایسی ڈیوائسز کو ’ویمپائر ڈیوائسز‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے سنہ 2019 میں ایک تحقیق بھی کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جو ڈیوائسز زیر استعمال نہیں ہیں، اُن کا سوئچ بند کر کے سالانہ کتنی بچت کی جا سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان میں کچن اپلائنسز یعنی مائیکرو ویو، کافی مشینز، ٹوسٹر، گیمنگ کونسولز، کمپیوٹر مانیٹر، پرنٹرز وغیرہ شامل ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا تھا کہ ہر برطانوی شہری ’ویمپائر ڈیوائسز‘ بند کر کے اپنے بجلی کے بلوں میں سالانہ 147 پاؤنڈ کم کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق 2019 میں کی گئی تھی، لہذا سنہ 2026 کے لحاظ سے اس رقم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ ایسی الیکٹرانک ڈیوائسز ہیں جو سٹینڈ بائی پر ہوتے ہوئے بھی بجلی خرچ کرتے ہیں۔
انرجی سیونگ ٹرسٹ (ای ایس ٹی) نے کہا کہ صارفین کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کن ڈیوائسز کو آن چھوڑتے ہیں۔
انرجی سیونگ ٹرسٹ کے مطابق ’اپلائنسز کے ماڈلز ان کی پائیداری اور انفرادی استعمال سے متعلق اعداد و شمار یا قیمتیں کئی عوامل پر منحصر ہیں۔‘
تحقیق میں کہا گیا تھا کہ جب تک آلات دیوار پر لگے ہوتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ توانائی حاصل کر رہے ہوتے ہیں، ٹیلی ویژن کو سٹینڈ بائی پر چھوڑنا اور اسے ریموٹ پر بٹن دبانے سے آن کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن یہ مہنگا ہو سکتا ہے۔
ای ایس ٹی کے مطابق گھروں میں استعمال ہونے والی بجلی کو نو سے 16 فیصد کے درمیان استعمال اُس وقت ہوتا ہے جب وہ سٹینڈ بائی موڈ پر ہوتی ہیں۔
کیا چارجر ساکٹ میں لگا رہے تب بھی بجلی ضائع ہوتی ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ موبائل فون چارجر ساکٹ میں لگا رہنے سے نہ ہونے کے برابر بجلی خرچ ہوتی ہے، لہذا یہ کہنا کہ یہ بجلی بحران کی وجہ ہے محض قیاس آرائی ہے۔
توانائی اُمور کے ماہر انجینیئر اخلاق احمد کہتے ہیں کہ موبائل فون چارجنگ یا اس نوعیت کی کم بجلی خرچ کرنے والی ڈیوائسز کا ہمارے بجلی کے نظام پر بہت کم لوڈ ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر فرض کریں کہ پاکستان میں 10 کروڑ موبائل فون ہیں اور اگر بجلی کے نظام پر اس کے لوڈ کی بات کی جائے تو یہ ایک فیصد سے بھی کہیں کم ہو گا۔
’10 کروڑ موبائل چارجر ایک ہی وقت میں ساکٹ کے ساتھ نہیں لگے ہوں، لوگ مختلف اوقات میں موبائل چارجنگ کے لیے لگاتے ہیں۔ کسی کا فون ایک گھنٹے میں چارج ہو جاتا ہے تو کسی کا زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے میں چارج ہو جاتا ہے۔‘
اُن کے بقول اگر اچھے معیار کا اصل چارجر ہے تو وہ 10 واٹ تک بجلی خرچ کرتا ہے اور اگر چارجر غیر معیاری ہیں تو زیادہ سے زیادہ 50 واٹ تک بجلی خرچ کرتا ہے۔
انجینیئر اخلاق احمد کہتے ہیں کہ جہاں تک چارجر ساکٹ کے ساتھ لگے رہنے کی بات ہے تو یہ نہ ہونے کے برابر بجلی خرچ کرتے ہیں اور اس کا ہمارے بجلی کے بلوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
اخلاق انجینیئر کے بقول اگر فرض کر لیں کہ 10 کروڑ موبائل فون بیک وقت چارج ہو رہے ہیں تو پورے پاکستان میں مجموعی طور پر کچھ میگا واٹ بجلی خرچ کر رہا ہو گا اور یہ پورے بجلی کے نظام میں تقسیم ہو رہا ہو گا۔ لہذا بجلی کے نظام پر اس کا اثر نہ ہونے کے برابر ہو گا۔
’انجینیئرنگ کی اصطلاح میں اسے ہم لوڈ فیکٹر کہتے ہیں اور سسٹم پر اس کا اثر آئے گا تو وہ 20 سے 25 میگاواٹ آئے گا، لہذا یہ کہنا ہے کہ بجلی کا بحران صرف موبائل فون چارجر کی وجہ سے ہے، یہ درست بات نہیں ہے۔‘
اُن کے بقول اگر بجلی کے نظام پر بوجھ پڑا ہے تو وہ ایئر کنڈیشنرز کی وجہ سے ہے جو بہت زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں۔
پاکستان میں کون سی اپلائنس سب سے زیادہ بجلی استعمال کرتی ہے؟
پاکستان انجینیئرنگ کونسل کی گورننگ باڈی کے رُکن عثمان فاروق کہتے ہیں کہ کونسل نے گھروں میں استعمال ہونے والی ڈیوائسز کا ڈیٹا جمع کیا ہے۔
بی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک چارجر 0٫015 کلو واٹ یعنی اوسطً 15 واٹ بجلی خرچ کرتا ہے۔
اُن کے بقول اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو اگر نو کروڑ موبائل روزانہ چارج ہوں تو یہ 18 کلو واٹ بجلی خرچ کرتے ہیں جس کا ہمارے بجلی کے بلوں پر بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
عثمان فاروق بھی انجینیئر اخلاق احمد سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایئر کنڈیشنر ہی ہمارے بجلی کے نظام پر بڑا بوجھ ہیں اور حالیہ دو دہائیوں میں بجلی کا بحران بھی ان کے بڑھتے ہوئے استعمال سے آیا تھا۔
اُن کے بقول بجلی کے نظام پر بوجھ کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم گھروں کی تعمیر میں ایسا میٹریل استعمال کریں جو گرمیوں میں دیواریں اور فرش ٹھنڈے رکھے اور سردیوں میں گرم رکھے۔