ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی قیمتیں: پاکستان میں ای بائیکس کی فروخت میں ’غیر معمولی‘ اضافہ

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

اور اس دوران مہنگائی سے متاثر ہونے والے سینکڑوں پاکستانیوں نے بھی بظاہر ’پیٹرول کی قید‘ سے آزاد ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

مارچ اور اپریل کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور سکوٹرز کی فروخت میں تیزی دیکھی گئی ہے جسے کمپنیوں نے ’غیر معمولی‘ قرار دیا ہے۔

دو پہیوں والی موٹر سائیکلیں طویل عرصے سے پاکستانیوں کی عام سواری سمجھی جاتی ہیں۔ مالی سال 2025 کے دوران ملک میں 15 لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکلیں فروخت ہوئی تھیں۔ تاہم اس بحران سے قبل پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل ہی عوام کی پہلی ترجیح تھی۔

لیکن مارچ کے دوران ای وی کمپنیوں نے اپنی بائیکس اور سکوٹرز کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ کمپنیوں کے مطابق صارفین کی اکثریت اب پیٹرول سے الیکٹرک سواری کی جانب منتقل ہونے والوں کی ہے، جو کہ اس سے قبل نئے صارفین اور خواتین ہوتی تھیں۔

الیکٹرک بائیکس کی سیلز کتنی بڑھیں؟

الیکٹرک بائیکس بنانے والی کمپنی ’ایوی‘ کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ حمزہ اسد کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 میں اُن کی کمپنی نے 9,800 یونٹس فروخت کیے، جبکہ جنگ کے اغاز سے قبل اُن کی ماہانہ فروخت لگ بھگ پانچ ہزار یونٹس کے قریب رہا کرتی تھی۔

ان کے مطابق ماضی میں صرف 30 فیصد صارفین ایسے ہوتے تھے جو پیٹرول سے الیکٹرک بائیک پر منتقل ہوتے تھے، جبکہ اکثریت نئے صارفین کی تھی۔

تاہم جنگ کے آغاز کے بعد اور تیل کی قیمتیں بڑھتے ہی مارچ میں صورتحال مکمل طور پر بدل گئی۔ حمزہ اسد کے مطابق اب ’80 فیصد صارفین پیٹرول سے الیکٹرک بائیک پر منتقل ہوئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 سے قبل ملک بھر میں الیکٹرک بائیکس اور سکوٹرز کی مجموعی ماہانہ اوسط فروخت 15 ہزار تھی، جبکہ مارچ 2026 میں یہ بڑھ کر 29 ہزار تک پہنچ گئی۔

ان کی رائے ہے کہ اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کی بڑی وجوہات مشرقِ وسطیٰ میں جنگ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس عرصے میں ہمارا کاروبار بہت اچھا رہا ہے۔‘

الیکٹرک بائیکس بنانے والی کمپنی ’یاڈیا‘ کے سی ای او سلمان تنویر نے بھی مارچ اور اپریل کے دوران فروخت میں نمایاں اضافے کا ذکر کیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ جب سے پاکستان میں الیکٹرک بائیکس متعارف ہوئی ہیں، یہ پہلی بار ہے کہ صارفین نے اس پیمانے پر دلچسپی ظاہر کی ہے۔

اُن کے مطابق 2025 کے مالی سال میں الیکٹرک بائیکس کا مارکیٹ سائز ایک لاکھ چھ ہزار یونٹس تھا، جن میں بائیکس اور سکوٹرز دونوں شامل تھے۔ انھیں امید ہے کہ رواں سال یہ تعداد تین سے چار لاکھ کے درمیان جا سکتی ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ مارچ کے دوران اُن کی کمپنی کی فروخت 1,500 یونٹس سے تجاوز کر گئی جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

صابر شیخ، جو الیکٹرک بائیکس کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ پہلے ملک میں الیکٹرک بائیکس میں دلچسپی محدود تھی اور سیلز سست روی کا شکار تھیں۔

ان کے مطابق ’جیسے ہی امریکہ ایران جنگ کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھی، بہت سے لوگوں نے فوراً الیکٹرک بائیک خریدنے کا فیصلہ کیا۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے فروغ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کوششوں کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔

’30 روپے فی لیٹر‘

یاڈیا کے نمائندے سلمان تنویر کا کہنا ہے کہ الیکٹرک بائیکس نہ صرف صارفین کے لیے بچت کا ذریعہ بن سکتی ہیں بلکہ اس سے ملک کے فیول بل میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔

اُن کے مطابق ’جس طرح گھریلو سولر پینلز نے ہمیں (بجلی کی مہنگی قیمتوں سے) بچایا ہے، اسی طرح الیکٹرک بائیکس بھی یہی کردار ادا کریں گی۔ اگر فیول کی قیمت مزید بڑھی تو الیکٹرک بائیکس رکھنے والے صارفین زیادہ محفوظ ہوں گے۔‘

پاکستان میں گھریلو سطح پر شمسی توانائی کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بڑی وجوہات میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بل، لوڈشیڈنگ اور قابل تجدید توانائی کا حصول شامل ہیں۔

شہروں کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں میں بھی گھرانے شمسی پینلز کو متبادل یا جزوی توانائی کے ذرائع کے طور پر اپنا رہے ہیں۔ اس رجحان نے نہ صرف صارفین کے لیے اخراجات کم کیے بلکہ قومی گرڈ پر دباؤ میں بھی کسی حد تک کمی لانے میں مدد دی ہے۔

اس سے قبل معیشت دان عاطف میاں نے بھی ایک تجزیے میں دعویٰ کیا تھا کہ ای وی موٹر سائیکلوں کو اپنانے سے اور اس حوالے سے انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری سے پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 30 روپے تک گِر سکتی ہے۔

انھوں نے اپنے تجزیے میں بتایا کہ پاکستان میں گھریلو سولر کا تیزی سے پھیلنا ’کوئی فیشن یا وقتی رجحان نہیں بلکہ ایک عقلی معاشی ردِعمل ہے۔‘

ان کے مطابق بجلی کے بلند نرخوں اور غیر مؤثر پاور سیکٹر کی پالیسیوں نے صارفین کو قومی گرڈ سے دور ہونے پر مجبور کیا ہے۔ یعنی جو گھر اور کاروبار سولر لگانے کی سکت رکھتے ہیں وہ گرڈ چھوڑ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگ پیٹرول عموماً سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ’پاکستان میں عام شہری موٹر سائیکل استعمال کرتا ہے۔ ایک ایندھن کی بچت کرنے والی موٹر سائیکل ایک لیٹر میں تقریباً 60 کلومیٹر کا سفر طے کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایک اچھی الیکٹرک سکوٹر فی کلو واٹ آور تقریباً 30 کلومیٹر چل سکتی ہے، یعنی اِسی 60 کلومیٹر فاصلے کے لیے اسے صرف دو کلو واٹ آور درکار ہوتے ہیں۔‘

وہ اپنے ان اعداد و شمار کو سولر چارجنگ سے ثابت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دو کلو واٹ آور یعنی دو یونٹ کی لاگت ’صرف 10 سینٹ بنتی ہے۔‘

فروخت میں تیزی کے باوجود مشکلات کیوں؟

اگرچہ الیکٹرک بائیکس مختلف خصوصیات کے باعث مختلف قیمتوں میں دستیاب ہیں تاہم ایوی کمپنی سے منسلک حمزہ اسد کے مطابق پاکستانی صارفین کی اکثریت ایک لاکھ 60 ہزار سے دو لاکھ روپے تک کی ای وی بائیک خریدنے کی استطاعت رکھتی ہے۔

یاڈیا کے سی ای او سلمان تنویر کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ماڈل تقریباً دو لاکھ نو ہزار روپے کا ہے۔ اگرچہ کمپنی کی مجموعی قیمتیں ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ روپے تک ہیں، تاہم ان کے بقول زیادہ تر صارفین ایک لاکھ 70 ہزار سے دو لاکھ روپے کے بجٹ میں ہی ای بائیک خریدنا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق لیتھیئم بیٹری والی بائیکس کے لیے صارفین کو بجٹ بڑھانا پڑتا ہے اور اسی باعث زیادہ مہنگے ماڈلز کی فروخت محدود رہتی ہے۔

چونکہ زیادہ تر بائیکس چین سے درآمد کی جاتی ہیں، اس لیے سٹاک میں قلت کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ سلمان تنویر کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات میں لوکلائزیشن نہ ہونے کے برابر ہے۔

صابر شیخ کے مطابق کئی ڈیلرز کے پاس سٹاک ختم ہو چکا ہے اور چونکہ زیادہ تر کمپنیاں ڈیلرز نے خود قائم کی ہیں، اس لیے ان کے پاس فوری طور پر نئی بائیکس منگوانے کے لیے مطلوبہ سرمایہ بھی نہیں ہوتا۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اب اس بڑھتی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ڈیلرز نے مزید سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آپ کے لیے کون سی ای وی بائیک بہتر رہے گی؟

صابر شیخ کے مطابق صارفین کو الیکٹرک بائیک خریدتے وقت سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کا یومیہ استعمال کتنا ہے اور وہ چارجنگ کہاں سے اور کیسے کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ مختلف قیمتوں میں دستیاب ماڈلز میں موٹر اور بیٹری کی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ 600 سے 1200 واٹ کی موٹر میں طاقت اور رفتار نسبتاً کم ہوتی ہے، اسی لیے یہ بائیکس سستی ہوتی ہیں۔ جبکہ 1500 سے 3000 واٹ کی موٹر بہتر رفتار اور طاقت فراہم کرتی ہے، تاہم قیمت زیادہ ہوتی ہے۔

وہ اس کا موازنہ 70 سی سی اور 125 یا 150 سی سی موٹر سائیکل سے کرتے ہیں۔

ان کے مطابق زیادہ گرم علاقوں میں گریفین بیٹریاں نسبتاً محفوظ سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان میں مئی، جون اور جولائی جیسے مہینوں میں آگ لگنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

صابر شیخ کا کہنا ہے کہ بعض صارفین لیتھیئم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم غلط تنصیب کی صورت میں ان میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ایسی بائیکس خریدتے وقت احتیاط ضروری ہے، جیسے دھوپ میں بائیک کھڑی نہ کرنا اور ٹھنڈی جگہ پر چارج کرنا۔

ان کے مطابق اگر کوئی شخص پیٹرول بائیک کا قابلِ اعتماد الیکٹرک متبادل خریدنا چاہتا ہے، جسے روزانہ کالج، یونیورسٹی یا دفتر جانے کے لیے استعمال کیا جا سکے، تو کم از کم دو ہزار واٹ کی موٹر اور 72 وولٹ، 38 امپیئر کی بیٹری ہونی چاہیے، اگرچہ اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ جن علاقوں میں سڑکیں خراب ہوں وہاں بڑے وہیل سائز والی بائیک زیادہ موزوں رہتی ہے۔ مثال کے طور پر کراچی میں 10 سے 12 انچ کے پہیے مناسب نہیں سمجھے جاتے، اس لیے کم از کم 14 انچ کے پہیے بہتر رہتے ہیں، جو سڑکوں کے جھٹکے بہتر طور پر برداشت کر سکتے ہیں۔