متحدہ عرب امارات کا 60 سال بعد اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ اہم کیوں ہے؟

    • مصنف, فیصل اسلام
    • عہدہ, مدیر برائے معاشی امور
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

یہ کوئی عام بات نہیں کہ متحدہ عرب امارات نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی ایک ایسی تنظیم (اوپیک) سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے جس کا وہ سنہ 1971 یعنی قومی ریاست بننے سے پہلے کا رُکن تھا۔

اوپیک زیادہ تر خلیجی تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ہے، جس نے کئی دہائیوں تک خام تیل کی قیمت کو پیداوار کم یا زیادہ کر کے اور اپنے رُکن ممالک کا کوٹہ مختص کرنے کے ذریعے کنٹرول کیا ہے۔

اس تنظیم کا 1970 کی دہائی میں تیل کے اُن بحرانوں میں اہم کردار رہا ہے، جنھوں نے عالمی توانائی پالیسی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

اگرچہ اوپیک کی پیداوار پر سعودی عرب کا غلبہ ہے، لیکن متحدہ عرب امارات کے پاس دوسری سب سے زیادہ اضافی پیداواری صلاحیت تھی۔ دوسرے لفظوں میں، یو اے ای دوسرا سب سے اہم سوئنگ پروڈیوسر تھا، جو قیمتوں میں کمی لانے کے لیے پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

درحقیقت، یہی امر یو اے ای کے موقف پر طویل مدتی نظرِ ثانی کا باعث بنا۔ سادہ الفاظ میں، یو اے ای اس قابلِ ذکر صلاحیت کو استعمال کرنا چاہتا تھا جس میں اس نے سرمایہ کاری کی ہے۔

اوپیک کے کوٹے اس کے رُکن ممالک کی تیل کی پیداوار کو 30 سے 35 لاکھ بیرل یومیہ تک محدود رکھتے تھے اور تنظیم کی رکنیت کے نتیجے میں یو اے ای غیرمتناسب طور پر (کم پیداوار کے ذریعے) قربانی دے رہا تھا جس کا نتیجہ اس کی تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدنی میں کمی کی صورت میں نکلتا تھا۔

تاہم اب جب یو اے ای کی جانب سے یہ فیصلہ سامنے آیا ہے تو اس کے ایران جنگ کے اثرات سے منسلک ہونے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ خلیج میں جاری تنازع نے ایران کے ساتھ یو اے ای کے تعلقات کو متاثر کیا ہے اور یہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے پہلے سے کشیدہ تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

جہاں تک اوپیک کا تعلق ہے، یہ ایسے وقت میں ایک بڑا دھچکا ہے جب اس کی طویل مدتی ہم آہنگی کے بارے میں اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بات صرف یہ نہیں کہ یو اے ای، جب اپنے تیل کو سمندر یا پائپ لائن کے ذریعے مکمل طور پر دوبارہ مارکیٹ میں لا سکے گا، تو غالباً 50 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کا ہدف رکھے گا یا اس سے زیادہ کا۔ سعودی عرب ممکن ہے تیل کی قیمتوں کی جنگ کے ذریعے ردِ عمل دے گا، جس کا سامنا یو اے ای کی زیادہ متنوع معیشت کر سکتی ہے لیکن اوپیک کے دوسرے غریب رکن ممالک شاید ایسا نہ کر سکیں۔

سو اس وقت بہت کچھ سعودی ردِعمل پر منحصر ہے۔

اماراتی حکام ابوظہبی کے تیل کے کنوؤں سے نئی پائپ لائنوں کو نکالنے کی بات کرتے ہیں، جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے کم استعمال ہونے والی فجیرہ بندرگاہ کی طرف جائیں گی۔

فی الوقت بھی یو اے ای میں ایک ایسی پائپ لائن استعمال میں ہے، لیکن بڑھتی ہوئی پیداوار اور خلیج میں ٹینکر ٹریفک کی روانی اور لاگت میں مستقل تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مزید صلاحیت درکار ہو گی۔

فی الحال، یقیناً، آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک کی دوہری ناکہ بندی کے دوران، یہ تیل کی منڈیوں کا وہ مرکزی واقعہ نہیں ہے جو تیل، گیس، پٹرول، پلاسٹک اور خوراک کی قیمتوں کو متاثر کر رہا ہے۔

اگرچہ دنیا قابلِ فہم طور پر تیل کی فی بیرل 110 ڈالر قیمت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تاہم یہ بات اس امکان کو نظرانداز نہ کرنے کی وجہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کا معاملہ طے پا جائے تو اگلے سال کسی وقت، خاص طور پر اس سال کے اواخر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں قیمت 50 ڈالر کے قریب بھی ہو سکتی ہے۔

اوپیک آج عالمی تیل کی منڈیوں کے لیے اتنا اہم نہیں جتنا 1970 کی دہائی میں تھا، جب اس کے پاس بین الاقوامی سطح پر تجارت ہونے والے تیل کا 85 فیصد حصہ تھا جو اب تقریباً 50 فیصد رہ گیا ہے۔

تیل بھی عالمی معیشت کے لیے اتنا فیصلہ کن نہیں جتنا اس وقت تھا۔ اوپیک کے پاس اب بھی اثرورسوخ ہے، مگر اجارہ داری نہیں۔ یہ دنیا کو یرغمال نہیں بنا سکتی، جیسا کہ پہلے ممکن تھا۔

مجھے اوپیک کے نمائندے اور سابق سعودی وزیرِ تیل شیخ یمانی کی بات یاد ہے ’پتھر کا زمانہ اس لیے ختم نہیں ہوا کہ دنیا میں پتھر ختم ہو گئے تھے۔ تیل کا زمانہ اس لیے ختم نہیں ہو گا کہ دنیا میں تیل ختم ہو جائے گا۔‘

یہ اس دنیا کے بارے میں پیش گوئی ہے جہاں ہائیڈروکاربنز کی جگہ توانائی کے دوسرے ذرائع لے رہے ہیں۔

یو اے ای کے اقدام کو سمجھنے کا ایک طریقہ تیل پر کم انحصارِ کرنے والی دنیا کی علامت کے طور پر دیکھنا ہے، اور موجودہ بھنور میں کچھ اور اشارے بھی ہیں۔ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں چین کی سرمایہ کاری نے تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں سے معاشی چوٹ کا اثر کم کرنے میں مدد دی ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق، چین میں کاروں، ٹرکوں اور ٹرینوں کو بجلی پر منتقل کرنے کے عمل نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں تیل کی طلب کو روزانہ 10 لاکھ بیرل کم کر دیا ہے اور جیسے جیسے یہ رجحان دنیا بھر میں تیز ہوگا، عالمی تیل کی طلب ٹھہر سکتی ہے۔

اس نقطۂ نظر میں، یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ طلب کے اچانک گرنے سے پہلے تیل کے ذخائر سے جلد از جلد زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کی جائے۔ یو اے ای کے پاس مالی قوت اور جزوی طور پر متنوع معیشت ہے، جس میں مالیاتی خدمات اور سیاحت کے شعبے شامل ہیں۔

تاہم بہت کچھ اس بات پر منحصر ہو گا کہ خلیج میں دشمنی کے خاتمے کے بعد نیا معمول کیا بنتا ہے اور کب بنتا ہے۔

اوپیک سے یو اے ای کا اخراج تنظیم سے مزید ممالک کے نکلنے کا سبب بھی بن سکتا ہے اور اب سعودی عرب پر خاصا دباؤ ہو گا۔

جب ٹینکر دوبارہ آبنائے ہرمز سے گزریں گے یا اگر یو اے ای نئی پائپ لائنیں بنانے کی اپنی کوششیں دوگنی کرتا ہے، تو اوپیک کی پابندیوں سے آزاد اماراتی تیل پہلے سے کہیں زیادہ بہے گا۔

اس کا موجودہ ناکہ بندیوں پر بہت کم اثر ہو گا لیکن ان کے بعد یہ سب کچھ بدل سکتا ہے۔