آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کولمبیا کے لیے دردِ سر بننے والے ایسکوبار کے دریائی گھوڑے اور اننت امبانی کی پیشکش
- مصنف, پولن کولا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
ایک انڈین ارب پتی شخصیت کے بیٹے نے کولمبیا کو ایک ایسے مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد کی پیشکس کی ہے، جس کا اسے دہائیوں سے سامنا ہے: یعنی بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ پابلو ایسکوبار کے دریائی گھوڑوں کا ایک جُھنڈ۔
ایسکوبار، جنھیں سنہ 1993 میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا، نے اپنی زندگی میں اپنے فارم ہاؤس پر غیرقانونی طریقے سے دریائی گھوڑوں کا ایک جوڑا (نر اور مادہ) درآمد کیا تھا، جنھیں ’کوکین ہپوز‘ بھی کہا جاتا ہے۔
آنے والے برسوں میں ان دریائی گھوڑوں کی آبادی میں اضافہ ہوا اور کولمبیا کی حکومت نے اس آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے، جن میں دریائی گھوڑوں کو خصی کرنا بھی شامل تھا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔
بالآخر حکام نے تقریباً 80 جانوروں کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انڈین ارب پتی کاروباری شخصیت مکیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کا کہنا ہے کہ وہ اِن جانوروں کو (جنھیں مارنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے) گجرات میں واقع اپنے نجی چڑیا گھر میں رکھنے اور ان کا خیال رکھنے کو تیار ہیں۔
کولمبیا کی حکومت نے اس پیشکش پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
کولمبیا کے وزیرِ ماحولیات کو لکھے گئے خط میں امبانی کے چڑیا گھر کے سی ای او کا کہنا ہے کہ وہ دریائی گھوڑوں کے اس جھنڈ کا انڈیا میں ’تاحیات خیال رکھنے‘ کو تیار ہیں۔
امبانی کے ’ونتارا چڑیا گھر‘ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شائع کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’اس تجویز کا مقصد ونتارا کا یہ یقین ہے کہ ہر جان قیمتی ہے اور جہاں بھی ممکن ہو اس کا تحفظ کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسکوبار اپنے دریائی گھوڑوں کو ہسیانڈا نیپولس میں اپنے اصطبل میں رکھا کرتے تھے، جو کہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کے شمال مغرب میں 255 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ایسکوبار کی موت کے بعد دریائی گھوڑوں کے اس جوڑے کو کولمبیا کے مگدالینا دریا کے اطراف آزاد گھومنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
اس کے بعد حکام کی اس جانور کی آبادی کو روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں، کیونکہ یہاں شکاری جانوروں کی کمی تھی اور اینٹیوکیا کے خطے میں یہ زرخیز اور دلدلی علاقہ افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس جانور کے پھلنے پھولنے کے لیے بہترین حالات فراہم کرتا تھا۔
کولمبیا میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کولمبیا میں موجود دریائی گھوڑوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افریقہ سے باہر اس نسل کا سب سے بڑا جھنڈ ہیں۔
مگدلینا دریا کے اطراف بسنے والی ماہی گیر کیمونیٹی پر بھی ان دریائی گھوڑوں نے کئی بار حملہ کیا ہے۔ دریائی گھوڑوں کا شمار دیو ہیکل جانوروں میں ہوتا ہے اور ایک نر دریائی گھوڑے کا وزن تین ٹن تک ہو سکتا ہے۔
گجرات میں واقع اننت امبانی کے ونتارا چڑیا گھر میں جانوروں کی دو ہزار اقسام موجود ہیں، جن میں ہاتھی، شیر اور دیگر جانور شامل ہیں۔ ساڑھے تین ہزار ایکڑ پر محیط یہ چڑیا گھر جامنگر میں واقع ہے، جو مکیش امبانی کی ملکیت میں چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری سے زیادہ دور نہیں ہے۔
اس نجی چڑیا گھر پر جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی طرف سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کچھ جانوروں کے لیے اس علاقے کا ماحول کافی گرم اور خشک ہے۔
پابلو ایسکوبار میڈیئن کارٹل کے سربراہ تھے اور انھیں ’کوکین کنگ‘ بھی کہا جاتا تھا۔ امریکہ کے جنوبی علاقوں اور میامی میں منشیات کی سمگلنگ کے ذریعے انھوں نے 30 ارب ڈالر کی جائیداد بنائی تھی۔
لوگوں کو دہشت زدہ کر دینے والی ان کی سرگرمیاں ایک دہائی سے زیادہ جاری رہیں، جس دوران سینکڑوں افراد کو قتل کیا گئے، رشوت کا استعمال کیا گیا، بم دھماکے ہوئے اور حریف منشیات فروش گروہوں کے ساتھ لڑائیاں بھی معمول کی بات تھیں۔
وہ مختصر عرصے کے لیے سیاست میں بھی متحرک رہے تھے اور ایک انتخاب بھی جیتے تھے۔