صبح یا رات، ورزش کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟

    • مصنف, مشیل رابرٹس
    • عہدہ, ڈیجیٹل ہیلتھ ایڈیٹر
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

طبی ماہرین کے مطابق جِم جانے، فٹنس کلاس لینے یا دوڑ لگانے سے زیادہ فائدہ تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب اس کا وقت آپ کے جسم کے لیے موزوں ہو۔

ان کے مطابق صبح جلدی اٹھنے والے ’لارکس‘ کو اسی وقت ورزش کرنی چاہیے جبکہ رات کو جاگنے والے ’نائٹ آؤلز‘ کے لیے شام کے وقت ورزش بہتر ہے۔

اوپن ہارٹ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق اس طرح ورزش کو ہم آہنگ کرنے سے دل کی صحت کے فوائد بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو پہلے ہی دل کی بیماری کے زیادہ خطرے میں ہیں۔

جن رضاکاروں نے اس طریقے کو اپنایا ان کی نیند بہتر ہوئی، بلڈ پریشر کم ہوا اور مجموعی طور پر بلڈ شوگر کی سطح زیادہ بہتر رہی۔

فٹنس میں بہتری سے گُر

مطالعے میں پاکستان میں 40 اور 50 سال کی عمر کے 134 افراد نے حصہ لیا۔

ان میں سے کوئی بھی بہت زیادہ فٹ نہیں تھا اور ہر ایک میں دل کی بیماری کا کم از کم ایک خطرے کا عنصر موجود تھا، جیسے بلند بلڈ پریشر یا زائد وزن۔

شرکا سے کہا گیا کہ وہ تین ماہ تک، ہفتے میں پانچ دن، روزانہ 40 منٹ نگرانی میں ٹریڈمل پر تیز چہل قدمی کریں۔

سوالناموں کی بنیاد پر 70 افراد کو صبح جلدی متحرک ہونے والے ’لارکس‘ اور 64 کو رات کو زیادہ متحرک رہنے والے ’نائٹ آؤلز‘ قرار دیا گیا۔

کچھ لوگوں نے اپنی ورزش اپنے باڈی کلاک (جسمانی گھڑی) کے مطابق کی یعنی صبح یا شام میں قدرتی طور پر زیادہ چوکنا رہنے کے رجحان کے مطابق جبکہ کچھ نے اس کے برعکس اوقات میں ورزش کی۔

دونوں گروپوں میں فٹنس میں بہتری دیکھی گئی۔

لیکن ورزش کو جسمانی گھڑی کے مطابق کرنے سے بلڈ پریشر، ایروبک صلاحیت، میٹابولک اشاریوں اور نیند کے معیار میں زیادہ نمایاں صحت بخش فوائد حاصل ہوئے۔

محققین کے مطابق، جسم کی اندرونی گھڑی نیند اور جاگنے کے معمولات، ہارمونز اور دن بھر توانائی کی سطح کو متاثر کرتی ہے، جو بالآخر ورزش کی کارکردگی اور اس پر قائم رہنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

’سماجی جیٹ لیگ‘

مطالعے کے مصنفین کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورزش کے وقت کے لیے ’ایک ہی اصول سب پر لاگو‘ کرنے کا طریقہ مثالی نہیں ہے۔

حیاتیاتی اور سماجی اوقات کے درمیان عدم مطابقت، جسے ’سماجی جیٹ لیگ‘ کہا جاتا ہے، کو دل کی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ رات کو زیادہ متحرک رہنے والے افراد اس خطرے کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے انھیں خود کو زبردستی صبح سویرے ورزش پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔

اب کچھ جم دن رات کھلے رہتے ہیں۔

پیور جم کے پرسنل ٹریننگ اور فٹنس ڈائریکٹر ہیو ہینلے کا کہنا ہے کہ پیر اور منگل کی شامیں عموماً سب سے زیادہ مصروف ہوتی ہیں، لیکن اب لوگ اپنی ورزش کے اوقات کو زیادہ پھیلا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ چند برسوں میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ لوگ اپنی صحت کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں اور زیادہ لچک اپنا رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق فٹ رہنے کی اصل کنجی تسلسل ہے۔ یعنی حرکت کو عادت بنانا اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا۔

انھوں نے کہا کہ ’باقاعدگی سے کرنا ایک یا دو بار بہت زیادہ کرنے سے بہتر ہے۔‘

’ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ ابتدا میں بہت بڑا ہدف مقرر کر لیتے ہیں۔ ہم ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ وہ اسے چھوٹے، قابلِ حصول اہداف میں تقسیم کریں۔‘

ان کے بقول اس وقت رجحان طاقت کی تربیت (سٹرینتھ ٹریننگ) کی طرف ہے۔

’ہم اس میں نمایاں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔۔۔ تمام عمر کے گروپوں میں۔ نوجوان نسل تو خاص طور پر سٹرینتھ ٹریننگ کو ترجیح دے رہی ہے، لیکن بڑی عمر کے لوگ بھی۔‘

برطانوی کارڈیو ویسکولر سوسائٹی کے ڈاکٹر راجیو شنکر نارائنن اس جریدے کے شریک مالک بھی ہیں جس میں یہ تحقیق شائع ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ نتائج ورزش کو جسمانی گھڑی کے مطابق کرنے کی جانب رجحان کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی میں جسمانی حیاتیاتی ردھمز کی ماہر ڈاکٹر نینا رزے خورزیک نے کہا کہ اگرچہ ورزش کا وقت ایک ایسا عنصر ہو سکتا ہے جس پر غور کیا جائے، لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ باقاعدگی سے مناسب مقدار میں ورزش کی جائے۔

شواہد کے مطابق مختلف اقسام کی ورزش کرنا مفید ہے، جبکہ این ایچ ایس ہفتے میں کم از کم دو دن طاقت بڑھانے والی سرگرمیوں اور کم از کم 75 منٹ تیز رفتار کارڈیو ورزش کی سفارش کرتا ہے۔

کیا آپ صبح یا رات کو جم جانے کے لیے تیار ہیں؟ طاقت بڑھانے والی ورزشیں، جیسے دیوار کے ساتھ سکواٹس کرنا یا پلینک کی پوزیشن میں ٹھہرے رہنا، بلڈ پریشر کم کرنے کے بہترین طریقوں میں شامل ہیں۔

یہ آئسومیٹرک ورزشیں ہوتی ہیں، جو پٹھوں یا جوڑوں کو حرکت دیے بغیر طاقت بڑھانے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔

وال سکواٹس میں دیوار کے ساتھ پیٹھ لگا کر کولہوں کے بل نیچے بیٹھا جاتا ہے، یہاں تک کہ رانیں زمین کے متوازی ہو جائیں۔

پلینک میں پُش اپ جیسی حالت میں کچھ دیر تک خود کو تھامے رکھا جاتا ہے، جس سے پیٹ کے مرکزی پٹھے، کمر، کندھے، بازو اور کولہے مضبوط ہوتے ہیں۔