ایفل ٹاور تنازع: فرانس میں عوامی غصے کا نشانہ بننے والا ہندو فرقہ جس کے سادھوؤں کو خواتین کی جانب دیکھنے کی اجازت نہیں

سوامی نارائن فرقے کے اراکین ایفل ٹاور پر

،تصویر کا ذریعہKenzo TRIBOUILLARD / AFP via Getty Images

    • مصنف, راکسی گاگدیکر چھارا
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پیرس میں حال ہی میں ایک ایسے واقعے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا جس میں ہندو مذہبی تنظیم بوچاسنواسی اکشر پروشوتم سوامی نارائن سنستھا (بی اے پی ایس) کے سادھوؤں کے دورے کے دوران ایفل ٹاور کی انتظامیہ نے خواتین ملازمین کو عارضی طور پر اپنی ڈیوٹی کی جگہوں سے ہٹا دیا۔

یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد فرانس اور انڈیا میں بحث شروع ہو گئی تھی اور خواتین ملازمین کو کام کی جگہ سے ہٹائے جانے پر تنقید کی گئی۔

تنازع نے یہ سوال بھی پیدا کیا ہے کہ تقریباً دو صدی پرانے سوامی نارائن فرقے میں خواتین کے بارے میں کیا مذہبی تعلیمات موجود ہیں اور سادھو خواتین سے دور کیوں رہتے ہیں؟

یہ فرقہ تقریباً 200 سال پرانا ہے۔ اس کی بنیاد اتر پردیش میں پیدا ہونے والے سوامی نارائن نے رکھی تھی۔ پیدائش کے وقت سوامی نارائن کو گھنشام پانڈے کا نام دیا گیا تھا۔

پیرس کے تنازع کے باعث اس فرقے کی صدیوں پرانی مذہبی روایت دوبارہ بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ بی بی سی نے اس موضوع سے متعلق چند سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔

مثال کے طور پر، سوامی نارائن فرقے کی مذہبی کتابوں میں خواتین کے بارے میں کیا لکھا گیا ہے اور سادھو خواتین سے اتنا دور کیوں رہتے ہیں؟

سوامی نارائن مندروں میں باقاعدگی سے آنے والے عقیدت مندوں کے مطابق خواتین کو اَشِیر باد لینے کے لیے سنتوں (سادھو) کے قدم چھونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس موضوع پر بی بی سی نے بی اے پی ایس کے سرکاری ترجمان سے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

انڈیا میں مذہبی مقامات پر خواتین پر پابندیاں عائد کیے جانے کی روایت نئی نہیں ہے۔ کیرالہ کا شبرمالا مندر خواتین کے داخلے پر پابندی کے مسئلے کے باعث کئی برسوں سے تنازع کی زد میں رہا ہے۔

انڈیا کی سپریم کورٹ نے یہ پابندی ہٹانے کا حکم دیا تھا، تاہم اس معاملے پر حتمی فیصلہ اب بھی زیرِ التوا ہے۔

سماجی کارکن، مصنفہ اور عقلیت پسند سروپ دھرو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میرے خیال میں ہر مذہب نے کسی نہ کسی شکل میں خواتین کو اچھوت سمجھا ہے۔ بعض مذاہب نے تو اسے اپنی خصوصیت کے طور پر پیش کیا ہے، اور یہاں سوامی نارائن فرقے نے بھی اسی اصول پر عمل کیا ہے۔‘

سماجیات کے ماہر اور سوامی نارائن فرقے کے محقق گورنگ جانی کے مطابق یہ فرقہ بنایا ہی اس مقصد سے گیا تھا کہ معاشرے کے محروم اور نظر انداز کیے گئے طبقات کو اپنی جانب متوجہ کر سکے۔

سوامی نارائن فرقے کا آغاز

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

19ویں صدی کے آغاز میں، جب ہندو مذہب میں پہلے ہی کئی فرقے موجود تھے، گھنشام پانڈے نے 1801 میں ایک نئی روایت کا آغاز کیا اور اسے سوامی نارائن سمپرادیا کا نام دیا۔

تب سے اس فرقے کا مرکز گجرات میں ہے۔

1801 میں قیام کے بعد سے اس فرقے میں شاگردوں، خصوصاً سنتوں، کے لیے برہم چریہ (بن بیاہا/غیر شادی شدہ/کنوارا رہنے) کے سخت اصول ہیں۔ بھگوان سوامی نارائن نے ’شکشاپتری‘ نامی کتاب میں لکھا ہے کہ سنت کسی بھی عورت کو نہ چھوئیں اور نہ ہی اس کی طرف دیکھیں۔

ایفل ٹاور تنازع پر بی اے پی ایس نے کیا کہا؟

بی اے پی ایس کے سادھوؤں کے وفد کے بارے میں یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے برہم چریہ کے سخت نظریے کی وجہ سے درخواست کی تھی کہ خواتین سے ان کا رابطہ محدود رکھا جائے۔

اس کے بعد ایفل ٹاور انتظامیہ نے خواتین ملازمین سے کہا تھا کہ وہ عارضی طور پر اپنی کام کی جگہ چھوڑ دیں۔ ان کی جگہ مرد ملازمین تعینات کیے گئے اور الزام کے مطابق، بعض حصوں میں خواتین سے کہا گیا کہ وہ ’نگاہوں سے اوجھل رہیں‘ یا ’اس طرح رہیں کہ دوسروں کو نظر نہ آئیں۔‘

اس تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا: ’ہمیں پیرس میں بی اے پی ایس کے مندر کے افتتاح سے متعلق معلوم ہے۔ تاہم، ایفل ٹاور سے متعلق مخصوص معاملہ متعلقہ فریقوں کے درمیان اندرونی اور باہمی رابطے کا موضوع ہے۔‘

دوسری جانب بی اے پی ایس کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پیرس میں سادھوؤں کے دورے کی منصوبہ بندی ایفل ٹاور انتظامیہ کے ساتھ پیشگی رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے کی گئی تھی۔ دورے کا وقت معمول کے اوقاتِ کار شروع ہونے سے پہلے رکھا گیا تھا تاکہ وہاں کے عملے، دیگر سیاحوں اور ٹاور کی معمول کی سرگرمیوں میں کم سے کم خلل پڑے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا تھا: ’ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ انتظام ٹاور کے طریقہ کار اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔

’مقصد یہ تھا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کا دورہ کسی قسم کی پریشانی کے بغیر مکمل ہو اور ٹاور کے عملے یا عوام کو کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

’کسی بھی مرحلے پر جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی مطالبہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اگر اس کے بر عکس کوئی مفہوم اخذ کیا جا رہا ہے تو وہ ہمارے فرقے یا وفد کے جذبات اور اقدار کی نمائندگی نہیں کرتا۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بی اے پی ایس جنس، پس منظر یا عقیدے سے قطع نظر سب کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور خدمت کے اصولوں پر کاربند ہے۔

سماجیات کے ماہرین کیا کہتے ہیں؟

تاہم، بی اے پی ایس کے باقاعدہ پیروکاروں کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

مثال کے طور پر، گورنگ جانی کی والدہ سوامی نارائن مندر میں باقاعدگی سے جایا کرتی تھیں۔ وہ معروف ماہرِ سماجیات ہیں اور گجرات یونیورسٹی کے شعبۂ سماجیات کے سابق سربراہ ہیں۔

ان کی والدہ کو عام انداز میں دیوتا کے درشن کرنے یا مندر میں آزادانہ گھومنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ انھوں نے مشاہدہ کیا تھا کہ اگرچہ خواتین کو مندر میں داخلے کی اجازت تھی، لیکن انھیں ہمیشہ مردوں سے الگ رکھا جاتا تھا۔

ایک عبادت گزار جس نے ہاتھوں میں مالا تھام رکھی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’مذہب کے معاملے میں ہماری سماجی تاریخ بتاتی ہے کہ خواتین نے ان باتوں کو خدا کی مرضی سمجھ کر قبول کیا۔

’بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ مذہبی رسومات اور روایات پر سوال نہیں اٹھانے چاہئیں۔ اسی لیے سوامی نارائن مندروں میں بھی یہ روایت آہستہ آہستہ وسیع پیمانے پر قبول کر لی گئی۔ بڑی تعداد میں خواتین باقاعدگی سے درشن کے لیے آتی ہیں۔‘

تاہم، یہ سب کیسے شروع ہوا، اس کی وجہ نہایت دلچسپ ہے۔

جانی کے مطابق برہم چریہ کے یہ سخت اصول خود کو دیگر مذہبی روایات سے الگ دکھانے کی کوشش کا حصہ تھے۔

اُس دور میں مختلف روایات (فرقوں) کے درمیان پیروکار حاصل کرنے کے لیے مقابلہ تھا۔

انھوں نے کہا: ’اس فرقے کو ہندو مذہب کی دیگر روایات، خصوصاً ویشنو فرقے، سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ اسی لیے اپنی الگ شناخت قائم کرنے کے لیے انھوں نے سخت برہم چریہ پر زور دیا اور لوگوں کو فرقے کا سادھو بننے کے لیے برہم چریہ اختیار کرنے کی ترغیب دی۔‘

اس فرقے کا ظہور 19ویں صدی کے آغاز میں مغربی انڈیا میں ہوا۔ اس کے بانی سوامی نارائن 1781 میں موجودہ اتر پردیش کے گاؤں چھپیا میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا نام گھنشام رکھا گیا تھا۔

سات سال تک انڈیا بھر میں سیاحت اور سفر کرنے کے بعد وہ گجرات آئے اور 1801 میں اس فرقے کی بنیاد رکھی۔

اس فرقے کا مقصد محروم اور نظر انداز سماجی طبقات میں موجود خلا کو پُر کرنا اور انھیں اپنی جانب متوجہ کرنا تھا۔

ایک مورتی

،تصویر کا ذریعہSAM PANTHAKY/AFP/GETTY IMAGES

بعد ازاں دنیا کے مختلف حصوں میں آباد ہونے والی گجرات کی پاٹیدر برادری اس فرقے کی سب سے بڑی پیروکار گروہ بن گئی۔

اسی وجہ سے انڈیا کی آزادی سے قبل ہی 1945 میں نیروبی میں اس فرقے کا پہلا بین الاقوامی مندر تعمیر کیا گیا۔

سوامی نارائن فرقے کے سادھوؤں کے سیاسی رہنماؤں سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ ان میں مقامی میئروں سے لے کر امریکہ کے صدور تک متعدد رہنما شامل ہیں۔

اس فرقے کے سب سے مقبول سنت پرمکھ سوامی مہاراج کے نام دنیا بھر میں سب سے زیادہ مندر تعمیر کروانے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 1300 مندر تعمیر کیے جا چکے ہیں۔

برہم چریہ پر عمل کیوں کیا جاتا ہے؟

سوامی نارائن کی تحریر کردہ مقدس کتاب ’شکشاپتری‘ میں پیروکاروں کے لیے ضابطۂ اخلاق درج کیا گیا ہے۔

212 اشلوک پر مشتمل اس کتاب میں گھریلو افراد، خواتین، سادھوؤں اور عمر بھر برہم چریہ پر قائم رہنے کا عہد کرنے والے سنیاسیوں کے لیے الگ الگ اصول بیان کیے گئے ہیں۔

شکشاپتری میں خواتین کے لیے درج اصولوں میں لکھا گیا ہے کہ ماہواری کے دوران وہ تین دن تک کسی شخص، کپڑے یا برتن کو نہ چھوئیں۔ چوتھے دن غسل کے بعد وہ ایسا کر سکتی ہیں۔

تاہم، خواتین سے تعلقات کے حوالے سے سب سے سخت اصول خواتین کے لیے نہیں بلکہ سادھوؤں اور عمر بھر برہم چریہ اختیار کرنے والے سنیاسیوں کے لیے ہیں۔

اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ جان بوجھ کر کسی عورت کو نہ چھوئیں، نہ اس سے گفتگو کریں اور نہ ہی اس کی طرف دیکھیں۔

گاندھی نگر میں واقع اکشردھام مندر

،تصویر کا ذریعہSAM PANTHAKY/AFP/GETTY IMAGES

اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق، اس اصول کا مقصد خواتین کو کمتر یا نا پاک قرار دینا نہیں ہے بلکہ سادھوؤں کو روحانی ریاضت کے دوران دنیاوی خواہشات اور وابستگیوں سے دور رکھنا ہے۔

تاہم، اس روایت کے ناقدین کہتے ہیں کہ مذہبی وجوہات کچھ بھی ہوں، عملی طور پر اس کا بوجھ خواتین پر ہی پڑتا ہے کیونکہ مرد سادھوؤں کے برہم چریہ کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری خواتین پر ڈال دی جاتی ہے۔

متعدد خواتین کارکنوں کے مطابق اصل مسئلہ مردوں کے جذبات اور ان کے ضبط کا تھا، لیکن اس کے نتائج اور مشکلات خواتین کو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔

تاہم، بروڈا کے ہریدھام سوکھڈا کے سادھوؤں کی تنظیم میں خواتین کو شامل کرنے کی روایت موجود ہے۔

اس کی بنیاد مرحوم ہری پرساد سوامی نے رکھی تھی۔ وہ بی اے پی ایس سے الگ ہو گئے تھے۔ تب سے ہریدھام میں سنیاس لینے والی خواتین، یعنی سادھویاں، بھی موجود ہیں۔

بی بی سی نے ہریدھام کے سرکاری ترجمان سادھک سوامی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر انھوں نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

خواتین کیا کہتی ہیں؟

سماجی کارکن، مصنفہ سروپ دھرو نے کہا: ’سادھو اپنی خواہشات اور جذبات پر قابو رکھنے میں ناکام رہتے ہیں، اسی لیے اس فرقے میں خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’سادھو خواتین کے بارے میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ اسی لیے انھیں خواتین کو دیکھنے، انھیں چھونے یا کسی عورت کی تصویر دیکھنے تک کی اجازت نہیں۔ لہٰذا مسئلہ خواتین میں نہیں بلکہ اس فرقے کے سادھوؤں میں ہے۔‘

دھرو اپنے مضامین اور سٹریٹ تھیٹر کے ذریعے مذاہب میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔

گاندھی نگر کے اکشردھام مندر میں بھگوان سوامی نارائن کے مجسمے کے ساتھ رکھا گیا پرمکھ سوامی مہاراج کا پورٹریٹ

،تصویر کا ذریعہSAM PANTHAKY/AFP/GETTY IMAGE

،تصویر کا کیپشنگاندھی نگر کے اکشردھام مندر میں بھگوان سوامی نارائن کے مجسمے کے ساتھ رکھا گیا پرمکھ سوامی مہاراج کا پورٹریٹ

معروف فنکارہ اور سماجی کارکن ملیکا سارابھائی کا کہنا ہے کہ ’جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل طور پر غلط ہے۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بھی کہا کہ مسئلہ مردوں میں ہے، خواتین میں نہیں۔

’اگر کسی عورت کو دیکھ کر مرد اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو نہیں رکھ سکتے تو سزا خواتین کو کیوں ملنی چاہیے؟‘

’انھیں خود اپنی آنکھیں بند کر لینی چاہییں یا ان جگہوں پر جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں خواتین موجود ہوں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں سبزی خور ہوں، اس لیے یہ مطالبہ کروں کہ باہر نکلتے ہی میرے آس پاس کی تمام گوشت فروخت کرنے والی دکانیں بند کر دی جائیں۔‘

فرانس اور خواتین کے حقوق کی تاریخ

ایک طرف انڈیا میں سوامی نارائن فرقے میں خواتین کے ساتھ برتاؤ پر کچھ حد تک مخالفت دیکھنے میں آئی تھی، لیکن جب یہ الزامات سامنے آئے کہ پیرس میں بھی ایسا ہی ہوا، تو بڑا ہنگامہ برپا ہو گیا۔

بہت سے لوگوں کے مطابق فرانس میں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ایک مضبوط نسوانی روایت موجود ہے، اسی لیے یہ موضوع وہاں زیادہ زیرِ بحث آیا۔

اس ضمن میں کارکن اولمپ دے گوج کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ انھوں نے 1791 میں ’خاتون اور خاتون شہری کے حقوق کا اعلامیہ‘ شائع کیا تھا۔

اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر خواتین کو تختۂ دار پر چڑھنے کا حق حاصل ہے تو انھیں سیاسی پلیٹ فارم پر کھڑے ہونے کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے۔‘

1789 کے فرانسیسی انقلاب کے دوران جدید یورپی جمہوریت کے بنیادی تصورات فرانس میں جنم لے چکے تھے۔

تاہم، الزام عائد کیا جاتا ہے کہ خواتین کو ایک صدی سے زیادہ عرصے تک منظم انداز میں سیاسی میدان سے دور رکھا گیا۔

وہ حقیقی جمہوریت، جس میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق بھی حاصل ہو، 20ویں صدی کے وسط تک قائم نہیں ہو سکی تھی۔

اس کے بعد خواتین کو اپنی جسمانی اور معاشی آزادی کے لیے کئی دہائیوں تک قانونی جدوجہد جاری رہی۔

لوئیز ویس جیسی نمایاں خواتین نے 1930 کی دہائی میں دی نیو ویمن (نئی عورت) نامی تحریک شروع کی۔

انھوں نے پُر امن احتجاج کیے، بڑے عوامی مظاہرے منعقد کیے اور انتخابات میں حصہ لیا، لیکن اُس وقت کے قوانین کے تحت وہ کوئی عوامی عہدہ حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران فرانسیسی مزاحمتی تحریک میں خواتین کے بڑے کردار کے اعتراف میں جنرل چارلس ڈی گال نے 21 اپریل 1944 کو خواتین کو ووٹ دینے اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق دینے کی منظوری دی۔

فرانس کی خواتین نے 29 اپریل 1945 کو مقامی بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار ووٹ ڈالا۔

آج فرانس میں خواتین اور مردوں کی مساوات کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔

یوروسٹیٹ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت میں خواتین کی نمائندگی 48.6 فیصد ہے۔

اس میں سینئر اور جونیئر وزرا بھی شامل ہیں۔ اسی لیے فرانس کو اُن ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو خواتین اور مردوں کی تقریباً مکمل مساوات کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں۔