’میری جگہ ہسپتال میں نہیں، فائٹنگ کیج میں ہے‘: کشمیری فضا نذیر جنھوں نے والد کی خواہش پوری کرنے کے لیے مارشل آرٹس کو چنا

،تصویر کا ذریعہFiza Nazir
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو، سرینگر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
’میرا بھی بیٹا ہوتا تو وہ عالمی چیمپئن بنتا۔‘
جب 25 سال قبل انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے رہائشی اور سابق ایتھلیٹ نذیر احمد اپنے دوست سے اس خواہش کا اظہار کر رہے تھے تو قریب ہی کھیل رہی اُن کی بیٹی فضا یہ گفتگو سُن رہی تھی۔
اُس وقت فضا کی عمر صرف چار برس تھی۔
فضا کہتی ہیں کہ ’میں نے اُسی وقت طے کر لیا تھا کہ میں ایتھلیٹ بنوں گی اور اگلے ہی سال میں نے ٹریننگ شروع کر دی۔۔ سکول اور کالج تک آتے آتے میں انڈیا کے قومی کھیلوں میں شرکت کر چکی تھی اور میڈل بھی جیت لیے تھے۔‘
نذیر احمد کو یہ اُمید نہیں تھی کہ اُن کی بیٹی اس جارحانہ کھیل کا انتخاب کرے گی جس سے لڑکے بھی خوف کھاتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے والدین خوش تھے کہ میں کھیل میں ہی اپنا مستقبل ڈھونڈ رہی ہوں، لیکن انھیں یہ تکلیف ضرور ہے کہ میں ایک خطرناک کھیل میں ہوں، جہاں ہر وقت زخمی ہونے کا خطرہ لگا رہتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہFiza Nazir
عالمی مقابلوں میں دو بار انڈیا کے لیے سونے کا تمغہ جیتنے والی فضا نذیر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی واحد مکسڈ مارشل آرٹ یعنی ایم ایم اے فائٹر ہیں جو عالمی مقابلوں میں کئی بار کامیاب ہو چکی ہیں۔
یہی نہیں، وہ اس وقت انڈیا کی بھی نمبرون فائٹر ہیں جنھوں نے ملک کے ٹاپ ٹین یعنی 10 بہترین فائٹرز کو مقابلوں میں ہرا دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھائی لینڈ میں ایک مقابلے کے دوران چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ آج کل سرینگر لوٹی ہیں۔
فضا کہتی ہیں کہ ’چوٹ لگنا اس گیم کا حصہ ہے۔ میرے والدین تو میری فائٹ بھی نہیں دیکھتے، وہ صرف میری جیت سے متعلق تقریبات کی تصویریں دیکھتے ہیں۔‘
فضا کہتی ہیں کہ وہ پانچ سال کی عمر سے ہی مارشل آرٹ کے ساتھ وابستہ ہوچکی تھیں۔ ’شروعات تو میں نے ایک جوڈو کراٹے طرز کے کھیل تھنگاٹا سے کی، لیکن 2019 میں مجھے لگا کہ مجھے دراصل ایک گلوبل پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، پھر میں نے مکسڈ مارشل آرٹ میں اپنی جگہ بنانے کا سفر شروع کیا جس میں مجھے بڑی کامیابیاں ملیں۔‘
فضا نے گذشتہ دو برسوں کے دوران مختلف عالمی مقابلوں میں انڈیا کی نمائندگی کرتے ہوئے دونوں دفعہ سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ مجموعی طور پر اُنھوں نے ابھی تک قومی اور بین الاقوامی سطح پر 40 سے زیادہ تمغے حاصل کیے ہیں۔
کیرئیر کے آغاز میں اپنے والدین کو آمادہ کرنے کے لیے فضا نے کئی سال تک کوشش کی۔
وہ ڈاکٹر بننے کے لیے ضروری امتحان کی تیاری میں مصروف بھی تھیں، لیکن ایک دن اچانک اُنھوں نے یہ راستہ ہی ترک کردیا۔

،تصویر کا ذریعہFiza Nazir
’مجھے یقین ہو گیا کہ میری جگہ ہسپتال میں نہیں، فائٹنگ کیج میں ہے۔ خود کو آمادہ کرنا آسان تھا کیونکہ یہ میرا خواب تھا کہ میں ایم ایم اے فائٹر بنوں، لیکن والدین ظاہر ہے اس جارحانہ کھیل سے گھبرا گئے اور انھیں میرے اس شوق سے وحشت محسوس ہوتی تھی۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو گیا۔‘
فضا پچھلے چار برس سے تھائی لینڈ میں ہیں، کیونکہ انڈیا میں ایم ایم اے کوچنگ کا معیار عالمی سطح کا نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو تھائی لینڈ جانا پڑا، جہاں باقاعدہ اکیڈمی میں ٹریننگ ہوتی ہے۔ اب اگر کشمیر کی بات کریں تو یہاں نہ انفراسٹرکچر ہے اور نہ ہی لوگوں کو مکسڈ مارشل آرٹ کا اتنا پتہ ہے۔ اس کھیل میں باکسنگ، کک باکسنگ اور جوڈو کے سبھی حربے استعمال ہوتے ہیں اور اس کے لیے معیاری کوچنگ لازمی ہے۔‘
فضا نے 2023 میں بحرین میں ہونے والے ایم ایم اے عالمی مقابلوں میں انڈیا کے لئے گولڈ میڈیل جیتا، اس کے بعد ایشین ایم ایم اے چیمپئن شپ میں بھی فضا نذیر گولڈ میڈل جیتنے والی انڈیا کی پہلی خاتون ثابت ہوئیں۔




















