’میں وقار یونس کو فالو کرتا ہوں‘: پاکستانی بولر رضا اللہ جن کی رفتار اور انداز نے شائقین کے دل جیت لیے

رضا اللہ

،تصویر کا ذریعہ#Getty Images

    • مصنف, عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’میں وقار یونس کو فالو کرتا ہوں۔‘ یہ کہنا تھا ایجبسٹن میں پاکستانی بولر رضا اللہ کا جنھوں نے انگلینڈ کے خلاف اپنی رفتار اور کپتان جو روٹ کی وکٹ حاصل کر کے کافی پذیرائی حاصل کی ہے۔

آخری ٹیسٹ کے دوسرے روز کی شروعات سے قبل سکائی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے 21 سالہ رضا اللہ نے کہا کہ ’میں پہلے سے وقار یونس کو دیکھ رہا ہوں اور انھیں فالو کرتا ہوں۔ کوشش کرتا ہوں ان کی طرح بنوں۔ میں انھیں آخر تک فالو کروں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ 'میں زندگی انجوائے کرتا ہوں اور سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔'

انھوں نے بتایا کہ کیریئر کے آغاز میں ان کے والد کو نہیں پتا تھا کہ وہ کرکٹ کھیلتے ہیں مگر 'ماں اور بھائی نے کافی سپورٹ کیا۔'

رضا اللہ کے مطابق وہ والد سے چھپ کر کرکٹ کھیلتے تھے۔

ٹیم میں شمولیت کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 'ہم این سی اے میں تھے جہاں سپیڈ گن ٹرائلز لگے تھے۔ ایک ہفتے بعد میں گھر گیا تو رات کو کال آئی کہ فوراً این سی اے واپس آئیں۔ مجھے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ آپ ٹیسٹ کے لیے جا رہے ہو۔

'جب میں وہاں پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ مجھے ٹیسٹ میچ کے لیے جانا ہو گا۔'

انھوں نے بتایا کہ ٹیسٹ کے پہلے روز سکرین پر اپنی سپیڈ 90 میل فی گھنٹہ دیکھ کر انھیں لگا کہ وہ 135 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے بولنگ کر رہے ہیں۔ لیکن بعد میں انھیں بتایا گیا کہ یہ 145 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اپنی بولنگ کی رفتار دیکھ کر کافی خوشی ہوئی۔

رضا اللہ

،تصویر کا ذریعہGareth Copley/Getty Images

’145 کلومیٹر فی گھنٹہ‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آخری ٹیسٹ کے پہلے روز کمنٹیٹر نے رضا اللہ کی بولنگ پر جوشیلے انداز میں کہا تھا کہ ’واٹ آ سٹارٹ ٹو ہز کریئر!‘

بدھ کو انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں واقع ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کیریئر کی شروعات کرتے ہوئے رضا اللہ گیند ہاتھ میں لیے رن اپ لے رہے تھے۔ اُس وقت تک کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ کچھ ہی دیر میں وہ کرکٹ کی دنیا میں گفتگو کا موضوع بننے والے ہیں۔

وہ دوڑ کر کریز تک پہنچے اور گیند پھینکی، ان کا سامنا کرنے والے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ گیند کی سمت سمجھنے میں چوک گئے اور اگلے ہی لمحے انھیں ایل بی ڈبلیو قرار دیے جانے کی اپیل کی جا چکی تھی۔

امپائر کی انگلی اٹھی اور ہر جانب شور مچ گیا۔ سیریز میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے رضا اللہ نے، چوتھی ہی گیند میں انگلینڈ کے کپتان جو روٹ کو شکار کر لیا تھا۔

بعد ازاں انھوں نے اوپنر ایمیلیو گے کو بھی آؤٹ کیا اور یوں اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں دو وکٹیں حاصل کیں۔

یہ اور بات کہ اس سے قبل کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچز کی طرح، اس تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں بھی پاکستان کی ٹیم ایک بار پھر بیٹنگ میں ناکام رہی اور سبھی کھلاڑی محض 133 رنز پر ڈھیر ہو گئے۔ صرف تین کھلاڑیوں کا سکور دو ہندسوں میں گیا۔ دو ہندسوں میں داخل ہونے کھلاڑیوں میں رضا اللہ بھی شامل تھے، جنھوں نے 11 رنز بنائے۔

پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بیچ کرکٹ شائقین کو نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ کی صورت میں امید کی ایک کرن نظر آئی ہے۔ 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار، اندر آتی گیندوں اور جارحانہ باڈی لینگوئج نے بہت سے مبصرین کو پاکستان کرکٹ کا پرانا دور یاد دلا دیا ہے۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو پر اپنے تبصرے میں دانیال رسول نے لکھا کہ رضا اللہ کی پہلی ہی گیند نے ان کی صلاحیت کا اندازہ کرا دیا تھا۔

’آف سٹمپ کے قریب اچھی لینتھ پر کی گئی یہ گیند 143 کلومیٹر فی گھنٹہ (89 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے آئی، اور یوں وہ اس پوری سیریز میں کسی پاکستانی بولر کی جانب سے کرائی گئی تیز ترین گیند بن گئی۔‘

دانیال رسول لکھتے ہیں کہ تیسری گیند تک پہنچتے پہنچتے رضا اللہ کے ایکشن میں مزید روانی آ چکی تھی، ’ان کی للکار پہلے سے زیادہ بلند تھی اور رفتار میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ اب رفتار 144 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔‘

رضا اللہ کی ٹیسٹ ٹیم میں آمد بھی غیر معمولی حالات میں ہوئی۔ پہلے دو میچز میں شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیریز کے دوران ہی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی تھیں، کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گُل کو ان کی ذمہ داریوں سے ہٹایا گیا تھا اور کئی کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔

رضا اللہ ان نئے کھلاڑیوں میں شامل تھے جنھیں آخری ٹیسٹ کے لیے سکواڈ میں شامل کیا گیا۔

رضا اللہ کون ہیں؟

رضا اللہ

،تصویر کا ذریعہGareth Copley/Getty Images

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو ڈاٹ کام پر دستیاب پروفائل کے مطابق رضا اللہ پانچ اپریل 2005 کو مردان میں پیدا ہوئے، ان کی عمر 21 برس ہے اور وہ دائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کرتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر رضا اللہ کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ اپنے کرکٹ کے سفر کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

اس ویڈیو میں رضا اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ گلیوں میں ٹیپ بال سے کھیلا کرتے تھے۔ البتہ کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں انھیں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

’ایک دفعہ انڈر 19 کھیلا، ٹرائلز دیے تو میرا نام نہیں آیا۔‘

یہ کہتے ہوئے رضا اللہ مسکرانے کے ساتھ ساتھ تھوڑا شرماتے بھی ہیں۔

تاہم ان ابتدائی ناکامیوں نے انھیں کھیل سے دور نہیں کیا اور وہ ضلعی اور ریجنل سطح پر مسلسل محنت کرتے رہے۔

وہ بتاتے ہیں: ’2023 میں پھر انڈر 19 کھیلا، اس میں ڈسٹرکٹ کی سطح پر کھیلا، پھر ریجن کی سطح پر کھیلا اور پرفارم کیا۔ 2026 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔‘

اگرچہ رضا اللہ ابھی اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی کارکردگی خاصی متاثر کن رہی ہے۔

کرک انفو پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رضا اللہ نے آٹھ فرسٹ کلاس میچوں میں 30 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ان کی بولنگ اوسط 20.86 رہی ہے۔ یعنی وہ اوسطاً تقریباً 21 رنز دینے کے بعد ایک وکٹ حاصل کرتے ہیں۔

انھوں نے تین مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں بھی حاصل کیں اور ان کی بہترین بولنگ 37 رنز کے عوض پانچ وکٹیں رہی۔

بولنگ کے ساتھ ساتھ رضا اللہ نے بیٹنگ میں بھی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ کرک انفو کے مطابق انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 333 رنز بنا رکھے ہیں جن میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری شامل ہے۔

رضا اللہ نے نو ون ڈے میچز کھیلے ہیں اور ان میں سات وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ سات ٹی20 مقابلوں میں بھی ان کے نام سات وکٹیں ہیں۔

پاکستان سپر لیگ 2026 میں انھیں راولپنڈیز کی جانب سے دو میچ کھیلنے کا موقع ملا جہاں انھوں نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

وقار یونس سے موازنہ

وقار یونس

،تصویر کا ذریعہMike Finn-Kelcey/ALLSPORT

تینوں ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد جہاں اس سیریز میں پاکستانی بیٹرز کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا جا رہا ہے، وہیں سوشل میڈیا پر مبصرین رضا اللہ کی آمد کو ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر تبصروں میں رضا اللہ کی رفتار کو سراہا گیا، انھیں 1990 کی دہائی کے پاکستانی فاسٹ بولرز کی یاد دلانے والا کرکٹر قرار دیا گیا، اور بعض مبصرین نے ان کے بولنگ کے انداز کا موازنہ سابق پاکستانی فاسٹ بولر وقار یونس سے بھی کیا۔

اگرچہ سیریز میں پاکستان نے شکست کھائی ہے، تاہم رضا اللہ کی آمد کو بہت سے مبصرین مستقبل کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’رضا اللہ ابتدائی دور کے نوجوان وقار یونس کی طرح بولنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔‘ ان کے مطابق رضا اللہ 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ اچھی سوئنگ کرا رہے ہیں۔ انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب پاکستان نسبتاً کم رفتار بولرز آزما رہا تھا تو ایسا بولر پہلے کیوں سامنے نہیں آیا۔

کرکٹ پر پوڈکاسٹ کے میزبان ایڈم بیل نے لکھا کہ ’رضا اللہ میں وہی غیر تراشیدہ مگر فطری صلاحیت موجود ہے جو 1990 کی دہائی کے پاکستانی کھلاڑیوں کا خاصہ سمجھی جاتی تھی۔‘

وقار یونس

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنچار جون 2001 کی تصویر: اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ کے دوران پاکستانی فاسٹ بولر وقار یونس انگلینڈ کے بلے باز مائیکل ایتھرٹن کو آؤٹ کرنے کے بعد جشن منا رہے ہیں

پاکستانی صحافی اجمل جامی نے بھی رضا اللہ کی رفتار کو سراہتے ہوئے لکھا کہ بالآخر پاکستان کو حقیقی رفتار رکھنے والا ایک بولر ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق فاسٹ بولرز، خصوصاً وقار یونس، اگر ان کی رہنمائی کریں تو یہ نوجوان بولر اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکتے ہیں۔

اسی تاثر کو آسٹریلوی کرکٹ صحافی ایڈم کولنز نے مختصر مگر دلچسپ انداز میں بیان کیا۔ انھوں نے رضا اللہ کو ’لمبے قد کا وقار یونس‘ قرار دیا۔

دوسری جانب جیمز بٹلر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان کے لیے سیریز میں خوش ہونے کے مواقع کم رہے، لیکن 90 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے بولنگ کرنے والا ایک نوجوان فاسٹ بولر یقیناً ایسی بات ہے جس پر پُر جوش ہوا جا سکتا ہے۔

انھوں نے یہاں تک لکھا کہ رضا اللہ نہ صرف اچھے نظر آ رہے ہیں بلکہ ان میں ’ایکس فیکٹر‘ موجود ہے اور وہ مستقبل میں بڑا سٹار بن سکتے ہیں۔

شاہ فیصل نے اپنے تبصرے میں رضا اللہ کی مثال دیتے ہوئے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ ’پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہے۔‘ ان کے مطابق یہ نوجوان فاسٹ بولر اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ انھیں تلاش کرنے اور مواقع فراہم کرنے کا ہے۔

کرکٹ پر تبصرہ کرنے والی پریزنٹر زینب عباس نے ایکس پر لکھا کہ ’رضا اللہ کی پہلی جھلک خاصی متاثر کن ہے، تاہم وہ ابھی مکمل طور پر تیار شدہ بولر نہیں ہیں۔‘ انھوں نے رائے دی کہ رضا اللہ کو مزید فرسٹ کلاس سیزن کھیلنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔