ڈرون حملوں کا خطرہ، خیبر پختونخوا پولیس نے یوکرین کی حکمت عملی اپنا لی

Drone Khyber Pakhtunkhwa

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’یہ جال اُن چوکیوں پر لگائے گئے ہیں جہاں شدت پسندوں کی جانب سے ڈرون، کواڈ کاپٹر حملوں کا زیادہ خطرہ ہے‘
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

وقت کے ساتھ جہاں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں شدت پسند تنظیموں کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، وہیں صوبے کی پولیس ’سروں پر منڈلاتے‘ اِس خطرے سے نمٹنے کے لیے دہائیوں پرانے حفاظتی انتظام کی جانب لوٹ رہی ہے، یعنی پولیس چوکیوں پر جال کا استعمال۔

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیس کی کچھ چوکیوں پر مسلح اہلکاروں، ریت کی بوریوں اور سیمنٹ کے بلاکس کے ساتھ ساتھ فضا سے شدت پسندوں کے دیسی ساختہ اور سستے کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کے حملوں کو بے اثر یا اُن کا نقصان کم کرنے کے لیے حفاظتی جال کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) وقار احمد نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ یہ جال ضلع میں اُن چوکیوں پر لگائے گئے ہیں جہاں اس نوعیت کا زیادہ خطرہ ہے۔

خیبر پولیس کے مطابق یہ عام مچھلی پکڑنے والے جال نہیں ہیں بلکہ ان کی تیاری میں زیادہ مضبوط اور بہتر میٹریل استعمال کیا گیا ہے۔ اس جال کو پولیس چوکیوں کے اوپر اور سامنے زمین سے کئی میٹر اوپر تان دیا جاتا ہے اور مقصد یہ ہے کہ شدت پسندوں کے ڈرون، کواڈ کاپٹر یا اُن کی مدد سے فضا سے چوکیوں پر پھینکا جانے والا گرینیڈ، گولہ بارود وغیرہ اِن میں پھنس جائے یا اگر پھٹے بھی تو اس سے ہونے والا نقصان عمارت پر کسی براہ راست حملے کی نسبت کم ہو۔

Drone Khyber Pakhtunkhwa

،تصویر کا ذریعہKP Police

،تصویر کا کیپشنضلع خیبر کی پولیس کے مطابق چوکیوں پر جال لگانے کا مقصد ڈرون یا کواڈ کاپٹر سے ہونے والے نقصان کو کم کرنا ہے

خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ درحقیقت یوکرین کے محاذِ جنگ سے اپنائی گئی ایک کارآمد حکمتِ عملی ہے جس کی مدد سے یوکرین سستے روسی ڈرونز کے خلاف تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔

یوکرین کے وہ شہر اور علاقے جو روسی سرحد کے پاس ہیں وہاں ناصرف سکیورٹی چوکیوں بلکہ عوامی حفاظت کی غرض سے بھی بڑے پیمانے پر گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والے جال کا استعمال ہو رہا ہے، اور وہاں سے سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ناصرف سکیورٹی عمارتوں بلکہ پوری پوری رہائشی گلیوں کے اُوپر اس نوعیت کے جال لگائے گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی حکومت کی جانب سے ماضی میں ناصرف ملک کے ماہی گیروں سے اس نوعیت کے جال حکومت کو عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی بلکہ بعدازاں یورپی ممالک سے بھی استعمال شدہ جال اسی مقصد کے لیے یوکرین برآمد کیے گئے۔

دی گارڈیئن کی ایک رپورٹ کے مطابق گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے مضبوط جال محض 12 سے 24 ماہ کے اندر متروک کر دیے جاتے ہیں اور اب یہی متروک شدہ جال روسی ڈرونز سے حفاظت کے لیے یوکرین استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیل میں بھی حزب اللہ کے ایف پی وی ڈرونز سے بچاؤ کے لیے فوجی گاڑیوں اور چوکیوں پر میش جال استعمال کیے جاتے ہیں۔

anti drone netting Ukarain

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیوکرین کے شہر دونیتسک میں محاذِ جنگ سے متصل سڑکوں کے ساتھ ساتھ یوکرینی فوجی اینٹی ڈرون جال نصب کرتے ہوئے (فائل فوٹو)
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ماضی میں اس نوعیت کے حملوں میں خیبرپختونخوا میں پولیس چوکیوں اور تھانوں کی عمارتوں کو ناصرف نقصان پہنچا بلکہ جانی نقصان بھی ہوا۔

ضلع خیبر کی پولیس کے مطابق تحصیل باڑہ میں چار سے پانچ ایسی چوکیاں ہیں جہاں حال ہی میں یہ نیٹ لگائے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے سینٹرل پولیس آفس میں ڈائریکٹر پبلک ریلیشن عبدالسلام خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر جال کی مدد سے حفاظت کا طریقہ کار مختلف ممالک میں اپنایا گیا ہے اور اکثر فوجی کارروائیوں کے دوران حفاظت کے لیے اس طرح کے جال یا کیج استعمال ہوتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں خاص طور پر بنوں میں شدت پسندوں کی جانب سے کواڈ کاپٹر یا ڈرون کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے خلاف مختلف حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں ۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف حفاظتی اقدامات کی مدد سے رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں درجنوں ڈرون یا کواڈ کاپٹر حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

عبدالسلام خالد کے مطابق جال لگانا صرف ایک حفاظتی تدبیر ہے اور فضا سے ہونے والے حملوں سے بچنے کے لیے خیبرپختونخوا پولیس نے نئی ٹیکنالوجی، جیسا کہ اینٹی ڈرون گنز، بھی حاصل کی ہیں۔

ضلع خیبر کے ڈی پی او وقار احمد نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ نیٹ یا جال سابقہ قبائلی اضلاع میں لگائے جا چکے ہیں اور اب باڑہ میں پولیس نے بھی یہ جال حفاظتی انتظامات کے طور پر لگائے ہیں۔

دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ یہ ایک حفاظتی انتظام ہے مگر یہ طریقہ زیادہ موثر نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ بعض ممالک میں کیمو فلاج کے لیے اس نوعیت کے نیٹ استعمال کیے جاتے رہے ہیں لیکن حملوں سے بچاؤ کے لیے یہ شاید بہتر اور مستند طریقہ نہیں ہے۔

شدت پسندوں کی جانب سے ڈرون، کواڈ کاپٹرز کا استعمال

TTP Drone

،تصویر کا ذریعہKhyber Pakhtunkhwa Police

،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں کی جانب سے بعض اوقات پلاسٹک کی بوتل میں بارودی مواد ڈال کر اور اس پر بیڈمنٹن شٹل لگا کر اسے ڈرون کی مدد سے ہدف پر پھینکا جاتا ہے (فائل فوٹو)

گذشتہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں اور ضلع بنوں میں کواڈ کاپٹر یا ڈرونز کے ذریعے حملوں کی مسلسل اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ضلع بنوں میں ایک ایسا تھانہ (میران) بھی موجود ہے جہاں گذشتہ دو برسوں میں شدت پسندوں کی جانب سے مجموعی طور پر کواڈ کاپٹرز کی مدد سے 13 حملے کیے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں اس تھانے میں تعینات مجموعی طور پر دس پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

ستمبر 2025 میں بی بی سی اُردو کی ایک رپورٹ کے لیے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو محسود نے بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کی جانب سے استعمال ہونے والے کواڈ کاپٹر اُن ڈرونز سے یکسر مختلف ہیں جو امریکہ سمیت دیگر ممالک اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سستے چینی کواڈ کاپٹر ہیں۔ شدت پسند اِن میں رد و بدل کر کے اور ان میں بارودی مواد نصب کر کے استعمال کر رہے ہیں۔‘

ماضی میں سوشل میڈیا پر حکام اور شدت پسندوں کی جانب سے اس ضمن میں ریلیز کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے پلاسٹک کی بوتل میں بارودی مواد ڈال کر اور اس پر بیڈمنٹن شٹل لگا کر اسے ڈرون کی مدد سے ہدف پر پھینکا جاتا ہے۔

تجزیہ کار عبدالسید نے اسی رپورٹ کے لیے بتایا تھا کہ پاکستانی طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹرز اور چھوٹے سائز کے کمرشل ڈرونز کے ذریعے حملے کر کے اُن کی ذمہ داری قبول کرنے کے عمل میں اضافہ ہوا ہے۔

عبدالسید کے مطابق پاکستان میں اس نوعیت کے حملوں کی خبریں پہلی مرتبہ 2024 کے اوائل میں شمالی وزیرستان سے سامنے آئی تھیں، تاہم پاکستانی طالبان نے ابتدا میں ان کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔

اُن کے مطابق سنہ 2025 کے آغاز سے ’طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ اِن حملوں کی ریکارڈڈ ویڈیو فوٹیج بھی اپنے پراپیگنڈا آؤٹ لیٹس پر ریلیز کرنا شروع کیں۔‘

عبدالسید کا کہنا تھا کہ ابتدا میں اِن حملوں کی اعلانیہ طور پر ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق کالعدم تحریک طالبان کے دھڑوں میں اختلافات تھے، جو سوشل میڈیا پر اِن گروہوں کے مختلف رسمی چینلز پر باہمی تنازع کی صورت میں بھی سامنے آئے۔

’اِس نوعیت کے حملوں کی پہلی مرتبہ ذمہ داری اپریل 2025 میں حافظ گل بہادر کی قیادت میں بننے والی پاکستانی طالبان کے اتحادِ المجاہدین نے میڈیا بیانات میں قبول کی، جس پر پاکستانی طالبان کے سب سے بڑے دھڑے کالعدم تحریکِ طالبانِ پاکستان کے حمایتیوں کی جانب سے کافی تنقید کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈرون کے استعمال کی اعلانیہ تصدیق نہ کی جائے۔‘

عبدالسید کا کہنا تھا ’یہ تنقید کرنے والوں کی رائے یہ تھی کہ یہ طالبان کی جانب سے استعمال کی جانے والی ایک نئی ٹیکنالوجی ہے اور اس سے متعلق ذمہ داری قبول کرنے اور ویڈیوز ریلیز کرنے کی صورت میں اس کی سپلائی لائن متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم تنقید کے باوجود جب اتحادِ المجاہدین کی جانب سے اس پر کوئی کان نہ دھرا گیا تو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے بھی اپنے حملوں کی روزمرہ اور ماہانہ رپورٹس میں ذمہ داری قبول کرنا شروع کر دی۔‘

انھوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں جیسا کہ ’اتحادِ المجاہدین اور تحریکِ طالبانِ پاکستان کی جانب سے اب اس پر خصوصی پراپیگنڈا ویڈیوز تیار کر کے انھیں ایک اہم کامیابی کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔‘

عبدالسید کے مطابق ’اگر دیکھا جائے تو فقط شدت پسند ہی نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں ڈرون حملوں کا استعمال کرتی ہیں، جس کی فوٹیج فورسز کے حامی میڈیا آؤٹ لیٹس سے ریلیز ہوتی ہیں۔‘