’انڈیا بھی تو آئرلینڈ سے ہارا۔۔۔‘ سکواڈ سے بے دخل کھلاڑیوں کے ہمراہ محسن نقوی کی شاہ چارلس سے ملاقات اور ناقدین کو جواب

PAKISTAN'S INTERIOR MINISTER

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم 2 ستمبر 2026 کو لندن میں واقع کلیرنس ہاؤس میں پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران تصویر بنوا رہے ہیں
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان کے وزیر داخلہ اور چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ہمراہ برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سے ملاقات کی ہے۔

اس دوران کپتان بابر اعظم نے شاہ چارلس کو ٹیم کے دستخظ والا بیٹ بطور تحفہ پیش کیا۔ مگر اسی تقریب کے بعد کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے اپنی کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کی بھی خوب خبر لی۔

شاہ چارلس سے ملاقات کی ویڈیوز اور تصاویر میں سکواڈ سے بے دخل کیے گئے چار کھلاڑیوں علی عثمان، عامر جمال، خرم شہزاد اور اویس ظفر کو تو دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر سلمان آغا ان کھلاڑیوں میں موجود نہیں تھے جو شاہ چارلس سے ملاقات کے لیے کلیرنس ہاؤس گئے تھے۔

کرکٹ بورڈ کی طرف سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثنا اپنے ایک انٹرویو میں محسن نقوی نے ٹیم کی کارکردگی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ’اب اگر سلمان آغا نہیں چل پا رہے تھے تو ہم کیا کرتے۔ کچھ وجوہات تھیں۔ ہم نے انھیں آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ نکال دینا مقصد نہیں، تاہم اگر وہ نہیں کلک ہو رہے تو چینج کر دینا ضروری تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سریز کا ایک ایک میچ اہم ہے۔‘

محسن نقوی نے یہ دلیل دی کہ ’جنوبی افریقہ کو نمیبیا اور انڈیا کو آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تو کیا ان ممالک میں بھی کرکٹ کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا؟‘

واضح رہے کہ انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں مصروف ہے۔ دو میچز ہارنے کے بعد اب پاکستان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ نو ستمبر سے برمنگھم میں کھیلے گی۔ پاکستانی ٹیم کی اس کارکردگی پر محسن نقوی پر بھی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

KING

،تصویر کا ذریعہPA

محسن نقوی کا ناقدین کو جواب

جمعرات کو جیو ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں محسن نقوی نے ٹیم کی ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’قومی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کا مجھے بہت دکھ ہے۔‘

محسن نقوی نے سکواڈ میں تبدیلیوں کے حوالے سے کہا کہ ’انگلینڈ میں جو کچھ کیا (اس کے بعد یہ) ضروری تھا۔ پرفارمنس کے علاوہ دیگر فیکٹرز بھی ہیں۔ فی الحال اس معاملے کو علیحدہ سے دیکھ رہے ہیں۔‘

محسن نقوی نے کہا ’جو لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں، کرکٹ انھی کے آنے سے تباہ ہوئی۔ لوگوں کی تنقید پر نہیں جاؤں گا، تنقید کرنے والے کبھی کہتے ہیں کہ اس کو نکال دو، کبھی کہتے ہیں اسے کیوں کھلایا، تنقید سے نہ گھبرایا ہوں نہ گھبراتا ہوں۔ ان کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا جنھوں نے خود کچھ نہیں کیا۔‘

محسن نقوی نے کہا ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری پرفارمنس بہت خراب ہے، کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھیں، ان کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے۔ دیکھیں پہلے ہماری کیا رینکنگ تھی، آج ہم آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پانچویں اور ٹی 20 میں چھٹے نمبر پر کھڑے ہیں۔‘

’آخر پاکستانی کرکٹ کا مزید کتنا بیڑا غرق کرنا ہے؟‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

محسن نقوی کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل دیکھنے میں آیا۔

بعض صارفین نے کہا کہ قومی ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کی ذمہ داری صرف کھلاڑیوں پر نہیں ڈالی جا سکتی اور بورڈ کو بھی اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے کہا کہ ٹیم اور کھلاڑیوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے انھیں بہتر کارکردگی کے لیے وقت اور اعتماد دیا جانا چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی ہم نے نمیبیا، روانڈا اور آئرلینڈ سے بھی ہارنا ہے۔ پھر جا کر چیئرمین کا مشن مکمل ہوگا۔‘

ایک صارف احمد حسن بوبک نے لکھا کہ ’وزیرِ داخلہ کہتے ہیں کہ نظام کولیپس کر چکا ہے، جبکہ چیئرمین پی سی بی مانتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری کارکردگی انتہائی خراب ہے۔ نقوی صاحب، ناکامیوں کا اعتراف اپنی جگہ، مگر کبھی استعفے کے بارے میں بھی سوچیے۔ آخر پاکستان کرکٹ کا مزید کتنا بیڑا غرق کرنا ہے؟‘

طارق خان نامی صارف نے محسن نقوی کے انٹرویو پر ردعمل دیتے لکھا کہ ’محسن نقوی صاحب، آپ کا یہ مؤقف زیادہ وزن نہیں رکھتا۔ جنوبی افریقہ اور انڈیا کبھی کبھار ایسوسی ایٹ ٹیموں کے خلاف شکست کھا بھی جائیں تو اس سے ان کی مجموعی کرکٹ متاثر نہیں ہوتی، کیونکہ ان کے پاس عالمی ٹائٹلز اور مسلسل اچھی کارکردگی کا ریکارڈ موجود ہے۔‘

محسن نقوی

،تصویر کا ذریعہPCB

ان کے مطابق ’لیکن ہمارے پاس کیا ہے، سر؟ آپ کے دور میں پاکستان تین آئی سی سی ٹورنامنٹس کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا، جن میں ایک ایونٹ ایسا بھی تھا جس کی ہم مشترکہ میزبانی کر رہے تھے۔ کمزور ٹیموں کے خلاف چند سیریز جیت لینا ایسا کارنامہ نہیں جو ان ناکامیوں پر پردہ ڈال سکے۔ آپ کو تسلیم کرنا چاہیے کہ آپ کے دور میں پاکستان کرکٹ بدترین پستی کا شکار ہوئی ہے۔ نتائج خود اپنی کہانی بیان کر رہے ہیں، اور بدقسمتی سے یہی حقیقت ہے۔‘

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی کے دور میں پاکستان نے گذشتہ تین برس کے بڑے عالمی ٹورنامنٹس میں مایوس کن نتائج دیے ہیں اور کسی بڑی ٹیم کے خلاف قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی عرصے میں انڈیا نے دو ٹی20 ورلڈ کپ اور دو ایشیا کپ جیتے۔ ’اس لیے پاکستان کی محدود طرز کی کرکٹ میں ’نمایاں بہتری‘ کے دعوے پر سوال اٹھتے ہیں۔‘

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ٹیم کی شاہ چارلس سے ملاقات کے موقع پر لندن میں ’برطانوی کشمیریوں نے محسن نقوی کے خلاف احتجاج کیا۔‘