نیپال کی نئی ’گلیشیائی جھیل‘ کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGuoxiong Zheng Via FFD Nepal
- مصنف, غنی انصاری
- عہدہ, بی بی سی نیپالی سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
نیپالی حکام نے چین کی وزارتِ آبی وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رسووا میں واقع گلیشیائی جھیل یعنی ’لیک ٹو‘ میں پانی جمع ہونے کا عمل جاری ہے۔
سیلاب کی پیش گوئی کے محکمے کے سربراہ اور سینیئر ہائیڈرولوجسٹ بنود پرا جولی نے کہا کہ چینی اعداد و شمار کے مطابق 31 اگست تک اس گلیشیائی جھیل میں اندازاً 650,000 مکعب میٹر پانی جمع ہو چکا ہے۔
انھوں نے بی بی سی نیوز نیپالی کو بتایا: ’یہ گلیشیائی جھیل بھری ہوئی ہے۔ اس لیے اس کے پھٹنے کا خطرہ ہے۔‘
پراجولی نے امدادی کارکنوں، خصوصاً آبی بجلی کے منصوبے کی سرنگوں میں تعینات اہلکاروں سے کہا ہے کہ جھیل کے پھٹنے کے امکان کے پیشِ نظر چوکس رہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس گلیشیائی جھیل کو مکمل بھرنے اور پھٹنے میں کتنا وقت لگے گا۔
یہ جھیل کہاں واقع ہے اور کیسی نظر آتی ہے؟
حکام کے مطابق 30 اگست کو جو گلیشیئر ٹوٹا تھا وہ نیپال۔چین سرحد پر واقع تھا، جبکہ یہ جھیل نیپالی علاقے کے اندر ہے۔
پرتھوی شاہراہ کے کنارے کرشنا بھیر کے علاقے میں کٹاؤ کو 30 اگست کو جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔
سینیئر ہائیڈرولوجسٹ پراجولی کے مطابق نئی گلیشیائی جھیل لانگٹانگ لیرونگ ہمالیہ کی مغربی ڈھلوان پر، رسووا میں تینزنگ نامی مقام کے بالکل سامنے واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: ’یہ اتوار 30 اگست کی صبح پھٹنے والی جھیل سے تقریباً تین گنا چھوٹی ہے۔ یہ تین جانب سے چٹانوں سے گھری ہوئی ہے اور ایک جانب سے کچھ کھلی دکھائی دیتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پہاڑوں کے درمیان واقع ’لیک ٹو‘ گلیشیئر کی متوقع بلندی 4,000 میٹر ہے۔
پراجولی نے کہا: ’یہ اُس علاقے سے نیچے واقع ہے جہاں 26 اگست کو برفانی تودہ گرا تھا اور یہ دریا سے خاصی بلندی پر ہے۔ اسی لیے یہ تیزی سے نہیں بھر رہی۔ گلیشیئر سے پگھلنے والا پانی آہستہ آہستہ اس میں جمع ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس گول شکل کی گلیشیائی جھیل کا رقبہ 0.3 مربع کلومیٹر ہے۔
پراجولی کے مطابق اس کی گہرائی کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
انھوں نے کہا: ’گہرائی اہم ہے کیونکہ اس سے پانی کا صرف رقبہ نہیں بلکہ حجم بڑھتا ہے۔ جب پانی کے مکعب میٹر کا حساب لگایا جاتا ہے تو گہرائی تقریباً 10 میٹر ہو سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ جھیل کتنی خطرناک ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حکام کے مطابق 26 اگست کو آنے والے سیلاب میں نیپال کی جانب 20 لاکھ مکعب میٹر پانی بہہ کر آیا تھا۔
پراجولی نے بتایا کہ موجودہ گلیشیائی جھیل میں پانی کی مقدار اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
انھوں نے کہا: ’تاہم نشیبی علاقوں میں چھوٹے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات، دریا کے علاقے میں مٹی کے بہاؤ اور نالے موجود ہیں، اس لیے خطرہ ہے کہ اگر یہ جھیل پھٹ گئی تو یہ تمام نالے بڑی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔‘
اس لیے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے چوکس رہنا ضروری ہے۔
خصوصاً اُن افراد کے لیے جو سرنگ کے علاقے میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو نشیبی علاقوں میں ہلاک اور لاپتا افراد کی تلاش کر رہے ہیں، احتیاط ضروری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اگر یہ گلیشیائی جھیل پھٹتی ہے تو امکان نہیں کہ اس کے اثرات 26 اگست کے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں سے آگے جائیں۔
سینیئر ہائیڈرولوجسٹ پراجولی کے مطابق اُس مقام سے جہاں سے برفانی تودہ شروع ہوا اور 26 اگست کو نیچے کی جانب بہنا شروع ہوا، تب سے کئی لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
خطرے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’صرف ایک جھیل ایسی ہے جس کے پھٹنے کا خطرہ ہے اور وہ حال ہی میں بننے والی لیک ٹو ہے۔ ایک اضافی خطرہ یہ ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کسی بھی وقت ہو سکتی ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس کے کئی سطحوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘
پراجولی کے مطابق عام طور پر جب جھیلیں بھر جاتی ہیں تو دباؤ پیدا ہوتا ہے اور ان کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انھوں نے کہا: ’رساؤ کی وجہ سے بعض گلیشیائی جھیلیں ایک یا دو دن بعد پھٹ جاتی ہیں۔ لیک ٹو ابھی بھرنے کے عمل میں ہے، اس لیے اس کے پھٹنے کا خطرہ موجود ہے۔‘



















