انڈین فوج کی مدراس رجمنٹ کے اسلحہ خانے میں چوری: رائفلیں اور گولہ بارود سمیت کیا کیا غائب ہوا؟

،تصویر کا ذریعہUGC
- مصنف, امریندر یارلاگاڈا
- عہدہ, بی بی سی تیلگو سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
انڈیا میں سکندرآباد کینٹونمنٹ کے انتہائی محفوظ علاقے میں واقع مدراس رجمنٹ سے اسلحہ چوری ہونے کی اطلاعات کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔
آرمی حکام کے مطابق چوری کا معاملہ 31 اگست کی صبح تقریباً آٹھ بجے سامنے آیا، جس کے بعد مدراس رجمنٹ کی شکایت پر حیدرآباد کے بولارم پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ 30 اگست کی رات بڑی مقدار میں فوجی اسلحہ غائب ہوا، جس پر پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ فوجی حکام بھی الگ سے معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔
تاہم اب تک نہ فوج کی جانب سے اور نہ ہی پولیس کی طرف سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے۔
بی بی سی نے بولارم پولیس سٹیشن میں درج ایف آئی آر کی نقل دیکھی ہے، جس کے مطابق اس واقعے کا مقدمہ 31 اگست کو درج کیا گیا تھا۔
کیا کیا چوری ہوا؟
مدراس رجمنٹ کے لیفٹیننٹ کرنل مایانک گوویترکر نے اپنی شکایت میں لکھا ہے کہ ’کوٹے (اسلحہ خانہ) اور بٹالین میگزین (جہاں گولہ بارود رکھا جاتا ہے) کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے۔ اسلحہ اور گولہ بارود موجود نہیں تھا۔ سٹور اور اندرونی ڈبوں کے تالے مکمل طور پر توڑے گئے تھے۔‘
فوجی حکام کی شکایت کے مطابق چار اے کے 203 رائفلیں، پانچ میگزین، انساس 1B1 کے تین میگزین، چھ نائن ایم ایم پسٹل اور ان کے 12 میگزین، ایک بور پسٹل اور اس کا ایک میگزین، ایک نائٹ وژن دوربین، نائن ایم ایم پسٹل کی 1120 گولیاں (مزید 36 گولیوں کی تفصیلات فی الحال معلوم نہیں ہیں)، اے کے 203 کی 720 گولیاں اور انساس کے لیے استعمال ہونے والا گولہ بارود چوری کیا گیا۔
یاد رہے انساس (INSAS) انڈین فوج کا مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں کا نظام ہے، جس کے تحت 5.56 ملی میٹر کی انساس رائفل اور اس سے متعلقہ اسلحہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق ان اشیا کی مالیت تقریباً 15 لاکھ روپے ہو سکتی ہے۔
لیفٹیننٹ کرنل نے اپنی شکایت میں کہا کہ: ’30 اگست کی شام چھ بجے جب اسلحہ خانہ بند کیا گیا تو یہ تمام ہتھیار اور گولہ بارود موجود تھے۔ چوری کس وقت ہوئی، اس کا درست وقت معلوم نہیں ہے۔‘
واقعے کے سامنے آنے کے بعد فوج میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔
خاص طور پر مدراس رجمنٹ سمیت اعلیٰ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بی بی سی نے چوری کے واقعے کے بارے میں مدراس رجمنٹ کے لیفٹیننٹ کرنل مایانک گوویترکر سے رابطہ کیا، تاہم انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
پولیس کے مطابق چوری ہونے والے ہتھیاروں میں شامل اے کے 203 رائفل روس اور انڈیا نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔
اس کا وزن تقریباً 3.8 کلوگرام ہے۔
فوجی حکام کی داخلی تحقیقات
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد انھوں نے اپنی سطح پر بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کو دی گئی شکایت میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہم نے اسلحے اور گولہ بارود کی تفصیلات کی مکمل دوبارہ تصدیق کی۔ دیگر اسلحہ خانوں اور قریبی مقامات کا بھی معائنہ کیا۔ تمام ریکارڈز کا جائزہ لیا۔ ان افراد سے پوچھ گچھ کی جنھیں اسلحہ خانوں تک رسائی حاصل تھی۔ اعلیٰ حکام کو اطلاع دی گئی۔ داخلی سطح پر جامع تحقیقات کی گئیں۔‘
بولارم پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں بی این ایس کی دفعات 331(4) اور 305 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
بی بی سی نے اس بارے میں بولارم کے انسپکٹر لکشمی نارائن راجو سے فون پر رابطہ کیا، تاہم وہ دستیاب نہیں تھے۔
اس معاملے پر آرمی کے ریٹائرڈ میجر پی ٹی چودھری نے بی بی سی سے بات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آرمی کی جانب سے ’کورٹ آف انکوائری‘ جاری ہے اور جلد ہی تمام حقائق سامنے آ جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مدراس رجمنٹ کیا ہے؟
مدراس رجمنٹ حیدرآباد میں قائم ہے۔
اسے برطانوی دور میں قائم کیا گیا تھا۔
انڈین فوج کے ریٹائرڈ میجر پی ٹی چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ مدراس رجمنٹ انڈیا کی قدیم ترین رجمنٹوں میں سے ایک ہے اور اسے 1750 کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا۔
انھوں نے واضح کیا کہ انڈیا میں رجمنٹوں کے ناموں کا تعلق ضروری نہیں کہ ان علاقوں سے ہو جہاں وہ قائم ہیں۔
اگرچہ اس کا نام مدراس رجمنٹ ہے، لیکن یہ حیدرآباد کینٹونمنٹ کے علاقے میں واقع ہے۔
ان کے مطابق ہر رجمنٹ میں تقریباً 800 سے 1000 فوجی اور افسران ہوتے ہیں۔
پی ٹی چودھری نے بتایا کہ رجمنٹ میں سکیورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے اور چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اتنی سخت سکیورٹی والے علاقے سے اسلحہ چوری ہونا حیران کن ہے۔



















