’یقینی طور پر پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں‘: بغیر ڈرائیور چلنے والی گاڑی کی پولیس وین سے ٹکر کے پیچھے اصل کہانی

بغیر ڈرائیور گاڑی کے پولیس وین سے ٹکرانے کے مناظر

،تصویر کا ذریعہfb/Muhammad Aalijah

    • مصنف, عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ خالی ہے لیکن وہ پھر بھی چلی جا رہی ہے۔۔۔ ڈرائیور کی خالی سیٹ کے ساتھ والی نشست پر موجود نوجوان بتا رہے ہیں کہ اس گاڑی کو دور بیٹھے آپریٹر انٹرنیٹ کے ذریعے کنٹرول کر رہے ہیں۔

وہ دکھاتے ہیں کہ گاڑی ہارن بھی بجا رہی ہے اور دائیں بائیں مڑ بھی رہی ہے۔

یہ سب کچھ ویڈیو میں ریکارڈ ہو رہا ہے۔ کمنٹری کرنے والے نوجوان اس نئی ایجاد سے متاثر دکھائی دیتے ہیں اور کہتے ہیں: ’یقینی طور پر پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘

یہ حادثہ ہونے سے پہلے آخری جملہ تھا، کیوں کہ عین اسی لمحے بغیر ڈرائیور کے یہ گاڑی سڑک پر کھڑی پولیس وین کے خطرناک حد تک قریب پہنچ چکی تھی۔

تعریف کرنے والے نوجوان کو جملہ بولنے کے دوران احساس ہوا کہ تصادم ہونے ہی والا ہے، انھوں نے بیتابی سے ہینڈ بریک کھینچی، لیکن ’ڈز‘ کی آواز آئی اور بغیر ڈرائیور کے کار سڑک کنارے موجود پولیس وین سے ٹکرا ہی گئی۔

ٹکر کے بعد پولیس اہلکار وین کا دروازہ کھولتے ہیں اور ویڈیو ختم ہو جاتی ہے۔

اس وائرل ویڈیو پر ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے صارفین مختلف زاویوں سے تبصرے کر رہے ہیں۔ ایک جانب لوگ ’یقینی طور پر پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں‘ کہنے کے فوراً بعد پیش آنے والے حادثے پر گفتگو کر رہے ہیں، تو دوسری جانب بہت سے صارفین کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ تصادم کے بعد آگے کیا ہوا؟

شاہد حسین نامی ایک صارف نے ایکس پر سوال کیا، ’گاڑی ٹکرانے کے بعد پولیس نے ٹیلنٹ کی قدر کی تھی یا نہیں؟‘

اطہر سلیم نے ایکس پر لکھا واقعی ’ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اب پولیس کی باری ہے کہ وہ اپنا ٹیلنٹ دکھائے۔‘

کچھ صارفین یہ جاننے کے خواہش مند نظر آئے کہ حادثے کے بعد پولیس کا ردعمل کیا تھا، جبکہ کئی لوگوں نے پوچھا کہ ’ویڈیو کا دوسرا پارٹ کب آئے گا؟‘

انھی سوالات کے جواب جاننے کے لیے بی بی سی اردو نے اس ویڈیو میں موجود کرداروں سے بات کی۔

ڈرائیور لیس کار بنانے والے احسان ظفر عباسی

،تصویر کا ذریعہEhsan Zafar Abbasi

سب سے پہلے ہم نے احسان ظفر عباسی کا مؤقف لیا، جو بغیر ڈرائیور اس گاڑی کو ریموٹلی کنٹرول کر رہے تھے۔

احسان کا کہنا ہے کہ وہ ایبٹ آباد میں کامسیٹس یونیورسٹی کے کمپیوٹر انجینیئرنگ پروگرام کے تیسرے سمسٹر کے طالب علم ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس سے پہلے کمپیوٹر کی بورڈ سے چلنے والی گاڑی بھی تیار کر چکے ہیں اور بعد ازاں انھوں نے فیصلہ کیا کہ گاڑی کو انٹرنیٹ یا سیٹلائٹ کے ذریعے دور سے کنٹرول کیا جائے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے احسان ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑی انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل فون یا کمپیوٹر میں موجود ایپلیکیشن سے منسلک ہوتی ہے۔ گاڑی کی چھت پر 360 ڈگری ویو والا کیمرہ نصب ہوتا ہے، جس کے ذریعے آپریٹر گاڑی کے گرد مناظر اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر کی سکرین پر دیکھ سکتا ہے اور ایپلیکیشن کے ذریعے گاڑی کو چلنے، رکنے یا مڑنے کی ہدایات دیتا ہے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے احسان ظفر عباسی نے بتایا کہ ایک ٹیلی وژن چینل نے ان کی ایجاد پر رپورٹ بنانے کا فیصلہ کیا۔

ان کے مطابق طے یہ ہوا کہ رپورٹ کی عکس بندی اسلام آباد کے ڈی چوک میں کی جائے گی جہاں ’مناظر بھی اچھے ہیں اور رش بھی نہیں ہو گا۔‘

احسان کے بقول پہلے گاڑی بغیر کسی مسافر کے چلائی گئی، بعد ازاں رپورٹر نے کہا کہ وہ گاڑی میں بیٹھ کر بھی ریکارڈنگ کریں گے۔

احسان نے بتایا کہ ایک کیمرہ مین رپورٹر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے، جبکہ دوسرے ان کے ساتھ ہی موجود رہے اور گاڑی کنٹرول کرنے کے مناظر فلماتے رہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو میں احسان کا کہنا تھا کہ وہ گاڑی سے تقریباً 100 میٹر دور کھڑے ہو کر موبائل فون کے ذریعے اسے کنٹرول کر رہے تھے اور دائیں اور بائیں موڑ رہے تھے۔ اسی دوران کیمرہ مین نے ان سے کہا کہ وہ موبائل فون اور کنٹرولنگ بٹنوں کو کیمرے پر دکھائیں۔

احسان کے مطابق کیمرہ مین کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ان کی توجہ گاڑی سے ہٹ گئی۔ ’میں چند سیکنڈ کے لیے کیمرے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اس دوران میں گاڑی کو دائیں موڑنا چاہتا تھا لیکن غلطی سے بائیں موڑنے والا بٹن دب گیا۔ چونکہ اُس وقت میری نظریں گاڑی پر نہیں تھیں، اس لیے گاڑی پولیس کی گاڑی سے جا ٹکرائی۔‘

احسان ظفر کے مطابق حادثے کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان کا مؤقف سنا، اور چونکہ انھوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی اس لیے پولیس وین کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگوایا گیا۔ انھوں نے’ ڈینٹنگ اور پینٹنگ کے اخراجات کی مد میں مطلوبہ رقم ادا کر دی، جس کے بعد ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔‘

بی بی سی اردو نے رپورٹ بنانے والے اور حادثے کا کلپ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے والے ٹی وی رپورٹر محمد عالی جاہ سے بھی بات کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے ٹیلی وژن چینل نے احسان ظفر کی ڈرائیور کے بغیر گاڑی پر رپورٹ تیار کرنے کے لیے کہا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے حادثے کی ویڈیو کا یہ کلپ ایک انتباہ کے طور پر شیئر کیا جس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ ریموٹ آپریٹڈ گاڑی ایک تکنیکی کامیابی ضرور ہے لیکن ’یہ سسٹم ابھی مکمل طور پر محفوظ اور قابل اعتماد نہیں۔‘

ان کا خیال تھا کہ گاڑی اس لیے بے قابو ہوئی کیوں کہ اس کا انٹرنیٹ سے کنکشن منقطع ہو گیا تھا۔

یہ وضاحت تو احسان کر چکے ہیں کہ انٹرنیٹ کنکشن منقطع نہیں ہوا تھا بلکہ ان کی توجہ ہٹ گئی تھی اور انھوں نے غلط بٹن دبا دیا تھا۔ تاہم بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ اگر گاڑی کا رابطہ انٹرنیٹ یا سیٹلائٹ سے ٹوٹ جائے تو اس صورت میں کیا ہو گا؟

احسان ظفر نے جواب دیا کہ انھوں نے ’پروگرامنگ میں یہ بات شامل کر رکھی ہے اگر انٹرنیٹ رابطہ ٹوٹے تو گاڑی خود بخود رک جائے۔‘

’نوجوان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، انھوں نے اپنی ذہنی صلاحیت ایک مفید منصوبے پر صرف کی ہے‘

جب محمد عالی جاہ نے اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تو تیزی سے وائرل ہو گئی۔

اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئیں، جن میں کئی صارفین نے نوجوان موجد کی حوصلہ افزائی کی اور کچھ نے طنز و مزاح کا راستہ اختیار کیا۔

فاروق بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خود کار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے با صلاحیت افراد موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا ابھرتا ہوا شعبہ ہے اور نوجوان کو مایوس ہونے کے بجائے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔

فیصل اقبال نے جہاں نوجوان کی صلاحیت کو سراہا وہیں یہ مشورہ بھی دیا کہ آئندہ ٹیسٹ زیادہ محفوظ ماحول میں کیے جائیں۔

عظیم بھٹی سمجھتے ہیں کہ ’نوجوان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کیونکہ انھوں نے اپنی ذہنی صلاحیت ایک مفید منصوبے پر صرف کی ہے‘۔ ان کے بقول سسٹم میں کچھ خامیاں ضرور ہیں لیکن مناسب بہتری کے بعد یہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

’سینا صاب‘ نامی صارف نے واقعے کو ناکامی سے سیکھنے کے عمل کا حصہ قرار دیا اور ایلون مسک کی مثال دی، جن کی کمپنی ٹیسلا ڈرائیور لیس اور خود کار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔

کچھ صارفین نے اس واقعے پر طنزیہ اور مزاحیہ تبصرے بھی کیے۔ رامین نے لکھا کہ ’گاڑی آ رہی ہے، بھاگو! کہیں یہ ہم میں سے کسی سے نہ ٹکرا جائے۔‘

شہزاد نواز نے مختصر تبصرے میں کہا کہ ’ٹیلنٹ پولیس نے بھی دیکھ لیا۔‘

اویس حمید نے لکھا: ’پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی؟‘