کُرم: میر باغ چیک پوسٹ پر ’ڈھائی گھنٹے‘ تک جاری رہنے والا حملہ، ’مقامی افراد نے سفید جھنڈے اٹھا کر فائربندی کی اپیلیں کیں‘

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی نیوز اردو، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں گذشتہ روز پولیس کی میر باغ چیک پوسٹ پر ایک مسلح حملے میں کم از کم تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور حکام اور عینی شاہدین اسے شدت پسندوں کی جانب سے حالیہ برسوں میں کیے گئے ’بڑے حملوں میں ایک‘ قرار دیا ہے۔

اسے بڑا حملہ قرار دینے کی وجہ شدت پسندوں کا ’بڑی تعداد‘ میں بیک وقت حملہ آور ہونا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں میں فائرنگ کا تبادلہ لگ بھگ ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔

کُرم پولیس نے اپنے ایک بیان میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینٹرل کرم میں قائم میرباغ پولیس چیک پوسٹ پر بعد از دوپہر شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے تین افراد ہلاک جبکہ 17 پولیس اہلکاروں اور 18 عام شہریوں سمیت 35 افراد زخمی ہوئے۔

تاہم دوسری جانب صدہ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رحیم نے اس حملے کے دوران مرنے والوں کی تعداد سات بتائی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر رحیم نے تصدیق کی ابتدائی حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد اِسی علاقے میں ایک گھر پر ایک مارٹر گولہ گرا اور اس واقعے میں مزید چار افراد، تین خواتین اور ایک بچہ، ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے۔

ڈاکٹر رحیم کا کہنا تھا کہ اُن کے ہسپتال میں گذشتہ رات تک تین لاشیں اور 38 زخمی لائے گئے تھے، جن میں سے 11 زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاڑہ چنار جبکہ کچھ شدید زخمیوں کو پشاور منتقل کیا گیا۔

ان کا کہنا مزید تھا کہ زخمیوں میں 15 پولیس اہلکار تھے اور باقی عام شہری ہیں، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

وسطی کرُم میں گذشتہ روز کیا ہوا تھا؟

یہ واقعہ گذشتہ روز وسطیٰ کرم کے علاقے میر باغ میں پیش آیا، جو تحصیل ہیڈ کوارٹر صدہ سے لگ بھگ چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

کُرم میں ایک پولیس اہلکار کے مطابق میرباغ چیک پوسٹ پر حملہ کرنے ’بڑی تعداد میں‘ شدت پسند آئے تھے، جنھوں نے چیک پوسٹ کو نہ صرف تباہ کیا بلکہ وہاں سے پولیس کے زیرِ استعمال سامان بھی لے کر فرار ہو گئے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سامان میں پولیس کے زیرِ استعمال اسلحہ بھی تھا، تو انھوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔

مقامی پولیس افسر عنایت خان نے بی بی سی کو اتوار کی شب بتایا تھا کہ اس حملے کے بعد سے علاقے میں کشیدگی ہے اور رات دیر تک علاقے میں فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی تھیں۔

پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیک پوسٹ پر حملے کی ابتدا تقریباً 4:50 بجے ہوئی اور یہ سلسلہ شام 7:25 بجے تک جاری رہا۔

ضلع کرم سے منتخب رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مسلح شدت پسندوں نے پولیس چوکی پر حملہ آور ہونے کے بعد اسے نذر آتش کیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس جھڑپ میں زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہوا ہے۔‘

بی بی سی اردو نے واقعے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے علاقے کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عنایت خان، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نصیر خان اور کُرم کے ڈی پی او ملک حبیب سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مقامی افراد کیا بتاتے ہیں؟

میر باغ کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور اس دوران ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔

اُن کے مطابق اس کارروائی کے طول پکڑنے کے بعد مقامی افراد سفید جھنڈے اٹھا کر نکلے اور انھیں نے فائر بندی کی اپیلیں کیں۔

اُن کے مطابق اس دوران صدہ اور قریبی علاقوں کی مساجد سے اعلانات بھی کیے گئے کہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث خون کی اشد ضرورت ہے، اور یہ کہ لوگ مقامی ہسپتال پہنچ کر خون عطیہ کریں۔

اس حملے کے ایک عینی شاہد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اُردو کو بتایا: ’حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ہم نے پولیس چیک پوسٹ کے قریب چھپ کر جان بچائی، لیکن میرے ساتھ موجود ایک شخص زخمی ہو گیا تھا اور ہم اسے وہاں سے نکال نہیں سکتے تھے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اگرچہ حملہ آوروں کی تعداد گننا مشکل تھا، لیکن اُن کی تعداد درجنوں میں تھی اور وہ لگ بھگ دو سے تین گھنٹے تک پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ کرتے رہے جبکہ اُدھر سے پولیس بھی جوابی کارروائی کر رہی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس حملے کے دوران کچھ دیر کے لیے پولیس کی جانب سے فائرنگ بند ہوئی تو حملہ آور چیک پوسٹ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور بعدازاں اس چیک پوسٹ کو آگ لگا دی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ چونکہ وہ چیک پوسٹ کے نزدیکی علاقے میں رہتے ہیں، اس لیے ’اس کے بعد ہم وہاں سے نکلے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ صدہ ہسپتال میں بڑی تعداد میں زخمی لائے جا رہے تھے۔ ہسپتال میں جگہ کم اور زخمی زیادہ تھے اور صورتحال کافی تشویشناک تھی۔‘

میر باغ چوکی کہاں واقع ہے؟

ضلع کرم کے صدر مقام پاڑہ چنار میں تعینات ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ چیک پوسٹ میر باغ چیک پوسٹ کے نام سے جانی جاتی ہے، جو مین ڈوگر روڈ پر واقع ہے اور یہ علاقہ تھانہ ڈوگر کی حدود میں آتا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق اسی چوکی سے گزرنے والا راستہ آگے اورکزئی اور خیبر کے اضلاع کی طرف جاتا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق ’اس چوکی کے آس پاس اچھی خاصی آبادی ہے اور مارکیٹ بھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ میر باغ چیک پوسٹ ایک اہم پوسٹ ہے اور عمومی طور پر یہاں اہلکاروں کی نفری زیادہ ہوتی ہے اور بیک وقت 20 سے 22 اہلکار یہاں موجود ہوتے ہیں۔

اس علاقے سے رُکن صوبائی اسمبلی ریاض کہتے ہیں کہ اس چیک پوسٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کیمپس اور چوکیاں بھی ہیں۔

پاڑہ چنار میں تعینات پولیس افسر مزید کہتے ہیں کہ کرم میں اگرچہ شدت پسندوں کے حملے ہوتے رہے ہیں، لیکن اتنی بڑی تعداد میں شدت پسندوں کا ایک ساتھ حملہ کرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔

’ایک ایسا حملہ عید الفطر کے دنوں میں سینٹرل کرم میں تھانہ مرغان پر ہوا تھا، جہاں عید کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کی تعداد کم تھی اور شدت پسندوں نے اس کا فائدہ اٹھا کر اس چوکی پر حملہ کیا تھا۔‘

گذشتہ چند برسوں میں وسطی کرُم میں امن کے قیام کے لیے متعدد اقدامات لیے گئے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن، شاہراہوں کی سکیورٹی اور مختلف علاقوں میں کشیدگی کے بعد امن قائم رکھنے کی کوششیں شامل رہی ہیں۔

ضلع کرم میں 2024 اور 2025 میں فرقہ وارانہ تصادم کے بعد سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا اور متعدد علاقوں میں بنکرز کے خاتمے اور اسلحہ جمع کرانے کے اقدامات بھی کیے گئے تھے۔