’ملبے سے آواز آئی کہ مجھے نکالو‘: جس شخص کی تدفین کی گئی وہ 17 دن بعد زندہ مل گیا

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

کسی جان لیوا حادثے کے بعد اگر متاثرین کے رشتہ داروں کو یہ خبر ملے کہ ان کا پیارا زندہ ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں لیکن عبدالوہاب کے خاندن کے لیے یہ خبر صرف خوشی نہیں بلکہ حیرت اور غیر یقینی کا امتزاج تھی اور وہ اس لیے کہ ایک جان لیوا حادثے کے بعد وہ اپنے طور پر عبدالوہاب کی تدفین کر آئے تھے۔

لیکن 17 دن بعد خبر ملی کہ عبدالوہاب تو زندہ ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے رستم میں 31 مارچ کو ماربل کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں پر اچانک پہاڑ کا ایک بڑا حصہ آ گرا تھا۔ اس کان میں 12 مزدور تھے جن میں سے نو کی جان چلی گئی اور دو زخمی حالت میں ملے۔

کان میں کام کرنے والے ایک شخص کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ نہیں مل سکے جس کی وجہ سے تلاش کا کام جاری رہا۔

اتنے دن سے جاری تلاش کے بعد ملبے کے ڈھیر سے ایک شخص زندہ تو ملا لیکن وہ کوئی اور نہیں بلکہ عبدالوہاب تھے، جن کا خاندان ایک لاش کو عبدالوہاب سمجھ کر اس کی تدفین کر چکا تھا۔

عبدالوہاب کے خاندان کے ایک فرد فضل منان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم تو ایک لاش کو عبدالوہاب سمجھ کر تدفین کر چکے تھے کیونکہ اہلخانہ نے کپڑے دیکھ کر کہا تھا کہ یہ وہ ہو سکتے ہیں لیکن لاش مسخ شدہ تھی تو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔‘

فضل منان نے بتایا کہ ’آج صبح عبدالوہاب کے بھائی ناصر نے فون کیا۔ وہ رو رہا تھا اور روتے ہوئے اس نے بتایا کہ عبدالوہاب زندہ ہیں اور ناصر پھر زور زور سے رونے لگا۔‘

فضل منان نے بتایا کہ ’کل رات میں عبدالوہاب کے والدین کے ساتھ بیٹھا تھا، ان کی والدہ بہت افسردہ تھیں کیونکہ کوئی ایک ڈیڑھ سال پہلے ان کا دوسرا بیٹا سعودی عرب سے بیمار آیا تھا اور پھر اس کی وفات ہو گئی تھی۔‘

اب چونکہ 17 دن بعد سنگِ مرمر کی کان سے عبدالوہاب زندہ سلامت مل گئے ہیں تو اہلخانہ اور علاقے کے لوگ بہت خوش ہیں۔

عبدالوہاب کیسے ملے؟

فضل منان نے بتایا کہ تلاش کے کام میں اس علاقے سے لوگ جاتے تھے اور ان میں وہ مزدور بھی تھے جو یہاں کان پر کام کرتے ہیں اور پھر ان کے رشتہ دار بھی تلاش میں مدد کر رہے تھے۔

نجیب اللہ جو خود اس ماربل کی کان میں کام کرتے ہیں، نے بتایا کہ ’17 دن سے ہمارے ایک ساتھی کی تلاش جاری تھی اور اس کے لیے یہاں مائنز میں بھاری مشینری استعمال ہو رہی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم تو عبدالوہاب کی نماز جنازہ بھی ادا کر چکے تھے لیکن آج وہ ہمیں سنگ مرمر کی اس کان سے زندہ مل گیا۔‘

نجیب اللہ نے بتایا کہ ’ہم کان کے سامنے سے ملبہ ہٹا رہے تھے اور توقع تھی کہ شام تک ہم کان کی سرنگ تک پہنچ جائیں گے لیکن دوپہر سے پہلے ہی جب ہم کھدائی کر رہے تھے تو اندر سے آواز آئی کہ میں زندہ ہوں مجھے نکالو۔‘

’ہم سب خوش ہوئے اور اس کے بعد ہم ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے لگ گئے۔ اتنے میں وہاں سے ہمیں وہاب زندہ مل گیا۔‘

کپڑوں کی وجہ سے لاش کے بارے میں غلط فہمی

سماجی کارکن محمد قاسم نے بتایا کہ وہ 31 مارچ سے وہاں کان پر موجود رہے اور مزدوروں کی تلاش کے کام میں حصہ لیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب لاشیں نکالی جا رہی تھیں تو اس وقت وہاں عبدالوہاب کے اہلخانہ نے ایک لاش کے کپڑے دیکھ کر کہا کہ یہ عبدالوہاب ہو سکتے ہیں۔‘

اس بارے میں ریسکیو 1122 کے مردان کے ترجمان عباس خان نے بتایا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے شناخت کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ جس شخص کی تدفین کی گئی، وہ کون تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے لیے ڈی این اے سے شناخت ہو سکے گی۔

محمد قاسم نے بتایا کہ اس وقت عبدالوہاب مردان ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں انھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کان کنی کے لیے آئے مزدور اپنی جگہ اور مشینری کی صاف ستھرائی کے بعد بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ پہاڑ کا ایک حصہ ان پر آ گرا تھا۔

اس وقت محمد قاسم نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ واقعہ ضلع مردان میں رستم کے علاقے میں پلوڈھیری ننگ آباد میں پیش آیا تھا۔

محمد قاسم نے بتایا تھا کہ اس علاقے میں کچھ دن سے بارشیں جاری تھیں تو اور ابھی کان کنی یعنی مائننگ باقاعدہ شروع نہیں ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑی تعداد میں ماربل اور دیگر معدنیات کی کانیں ہیں۔ مردان میں بھی ماربل کی کانیں رستم، کاٹلنگ اور بائزئی کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔ صوبے میں ان کانوں میں ایک اندازے کے مطابق 75 ہزار مزدور کام کرتے ہیں۔