آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ ایران کشیدگی: جنگ اور سفارت کاری کے درمیان چار ممکنہ منظر نامے کیا ہو سکتے ہیں
- مصنف, سعید جعفری
- عہدہ, سیاسی تجزیہ کار
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر وفد کے ہمراہ ایران میں موجود ہیں، یہ خیال تقویض پکڑ چکا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بات چیت کے دوسرے مرحلے پر غور کر رہا ہے۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی امریکہ ایران بات چیت 20 گھنٹے جاری رہنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوئی تھی تاہم دو ہفتوں کی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
ان مذاکرات کے ختم ہونے کے ایک ہی دن بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بارے میں نئی حکمتِ عملی کا اعلان سامنے آیا جس میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی تجویز بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز وہ اہم آبی راستہ ہے جو تیل کی عالمی تجارت کے لیے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
تاہم یہاں اب سوال اٹھتا ہے کہ مذاکرات کی اس ابتدائی ناکامی کے پیش نظر کیا مزید بات چیت ممکن ہے اور کیا امریکہ اور ایران ایک بار پھر کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور خطہ ایک وسیع تر جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق آئندہ حالات کے چار ممکنہ منظرنامے سامنے آ سکتے ہیں۔
کمزور جنگ بندی یا عارضی وقفہ
امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کی لڑائی جاری رہنے کے بعد ہونے والی جنگ بندی نے بظاہر یہ تاثر دیا تھا کہ دونوں فریق غالباً اس بحران کو کم کرنا چاہتے ہیں تاہم ابتدا سے ہی اس جنگ بندی میں کئی ابہام سامنے آ گئے تھے۔
اس جنگ بندی کے دائرہ کار، اہداف کے تعین اور اس کی خلاف ورزی کے اثرات سے متعلق اختلاف نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ یہ جنگ بندی کوئی پائیدار معاہدہ نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ’فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز‘ کے سینیئر فیلو بہنام بن طالب لو کے مطابق ’جنگ شروع ہونے کے بعد کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات شروع سے ہی تقریباً صفر تھے۔‘
بن طالب لو نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی بنیادی پالیسی اختلافات موجود ہیں اور حالیہ جنگ نے ان اختلافات کو کم کرنے کے بجائے مزید ہوا دی۔
اسی دوران دونوں جانب سے آنے والے متضاد بیانات نے بھی صورتحال کو مزید نازک بنانے کا کام کیا۔
ایران کے حکام بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی سے متعلق اپنے کردار کی مختلف توجیح پیش کرتے ہیں۔
یہ مختلف بیانیے فریقین کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر رہے ہیں اور جنگ بندی کی پائیداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
اگر مذاکرات کی کوششیں نتیجہ خیز نہ ہو سکیں تو یہ جنگ بندی محض وقت حاصل کرنے کا طریقہ ہو گی جس سے فریقین کو شاید تھوڑا سانس لینےکا موقع مل سکے گا جس دوران وہ اپنی پوزیشنوں کا جائزہ لے کر اگلے مرحلے کی تیاری کر سکیں گے۔
یہ منظرنامہ اس وقت زیادہ واضح ہو جاتا ہے جب کسی ایک فریق کو احساس ہو کہ موجودہ صورتحال میں وہ فائدے میں نہیں اور اسے دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مثال کے طور پر امریکہ ایران کے بجلی گھر، پل یا توانائی کے مراکز سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
ایسے حملے قلیل مدت میں دباؤ تو بڑھا سکتے ہیں لیکن ان کے انسانی اور معاشی اثرات بہت سنگین اثرات ہوں گے اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
اسی دوران اسرائیل جو مذاکرات کے حوالے سے پہلے ہی شکوک رکھتا ہے، موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچ سکتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے محقق حمید رضا عزیزی کے مطابق ’اسرائیل ایرانی شخصیات یا مذاکرات میں شامل افراد کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کر سکتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی پالیسی بھی فریقین کے ارادوں کے برعکس تصادم کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
اگرچہ کشیدگی میں اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا تاہم خطے میں وسیع جنگ اور عالمی معاشی دباؤ سمیت اس کے ممکنہ بھاری اخراجات اس صورتحال کی جانب کم از کم فوری طور پر بڑھتا نہیں دکھا رہے۔
’شیڈو وار‘
سب سے ذیادہ جس بات کا امکان دکھائی دیتا ہے وہ یہ کہ امریکہ اور ایران ایسی صورتحال میں واپس آ جائیں جسے ’کنٹرولڈ ایسکلیشن‘ کہا جاتا ہے یعنی کشیدگی تو بڑھے گی مگر مکمل جنگ تک بات نہیں پہنچے گی۔
اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دونوں فریق فوجی کارروائیاں مکمل طور پر نہیں روکیں گے لیکن جنگ کو پوری شدت تک بھی نہیں جانے دیں گے۔
اس دوران بنیادی ڈھانچے، فوجی اہداف یا سپلائی لائنز پر محدود حملے جاری رہ سکتے ہیں۔ پراکسی گروہوں کا کردار بڑھ سکتا ہے۔
عراق یا بحیرہ احمر میں سرگرم تنظیموں سمیت ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ ساتھ ہی امریکہ ان نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
اس طرح تنازع کا دائرہ پھیل سکتا ہے، چاہے اس کی شدت نہ بڑھے۔ بعض ماہرین اس کے لیے ’شیڈو وار‘ کی اصطلاح بھی استعمال کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے محقق حمید رضا عزیزی کے مطابق ’دونوں فریق دباؤ ڈالنے کے اپنے طریقے تو استعمال کرنا چاہتے ہیں تاہم ان کا ارادہ غالباً مکمل جنگ کا نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ایران کی جانب سے خاص طور پر یمن میں اپنی اتحادی افواج کے ذریعے نئی کارروائیاں کرنے کا امکان بہت زیادہ ہے۔
تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ یہ منظر نامہ خطرے سے خالی نہیں۔ جیسے جیسے تناؤ بڑھتا ہے اندازے غلط ثابت ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ اگر کوئی بھی فریق بڑھنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ایک غلط فیصلہ تنازع کی سطح کو بے قابو کر سکتا ہے۔
خاموش سفارت کاری
پاکستان میں مذاکرات اگرچہ کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے تاہم یہ کہنا غلط ہو گا کہ سفارت کاری ختم ہو گئی یا بات چیت کا امکان نہیں رہا۔
پاکستان جو ان مذاکرات کا میزبان تھا، آئندہ دنوں میں بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات پہنچا کر کسی سمجھوتے کی کوشش جاری رکھ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے عندیہ دیا جا چکا ہے کہ ’اگر مذاکرات ہوئے تو قوی امکان ہے کہ اسلام آباد میں ہوں گے۔‘
اسی دوران قطر، عمان، سعودی عرب اور مصر سمیت روایتی ثالث ممالک بھی فعال ہو سکتے ہیں۔ ان ممالک کو ادراک ہے کہ بحران بے قابو ہونے سے صورتحال بگڑ سکتی ہے اس لیے وہ رابطے برقرار رکھنے اور اچانک کشیدگی بڑھنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔
تاہم اس راستے پر کوئی بھی پیش رفت تبھی ممکن ہے جب دونوں فریق اپنے بنیادی اختلافات کم کریں۔
امریکہ کی 15 نکاتی تجویز اور ایران کی 10 نکاتی جوابی تجویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریق اب بھی کسی درمیانی راستے کے بجائے اپنی اپنی شرائط کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اس لیے اگرچہ بات چیت کا نیا دور ناممکن نہیں تاہم جلد اور مکمل معاہدے کی توقع قریب مدت میں حقیقت پسندانہ نہیں لگتی۔
بحری ناکہ بندی
امریکی صدر کے اعلان کے مطابق ملک کی بحریہ ایران پر سمندری ناکہ بندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے کوئی بھی جہاز یا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکے گا۔
ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ جو جہاز ایران کو بھاری فیس ادا کر کے اس راستے سے گزرے گا امریکہ انھیں بین الاقوامی پانیوں میں روک سکتا ہے۔
اس حکمتِ عملی کا مقصد بظاہر ایران کی تیل آمدنی کم کرنے اور اس کی معیشت کو دباؤ میں لانے کے ساتھ ساتھ ایران کے سب سے بڑے خریدار چین کو بھی متاثر کرنا ہے۔
بہنام بن طالب کے مطابق اگر اس مقصد کے لیے مناسب انٹیلیجنس اور نگرانی کے وسائل مختص کیے جائیں تو ایران کے طویل ساحلی علاقے کو دیکھتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں کی سمندری ناکہ بندی مؤثر ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام کا عملی نتیجہ یہ ہو گا کہ حکومت اپنے بنیادی برآمدی سامان کو باہر نہیں بھیج سکے گی۔
لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کی قیمت امریکہ کے لیے بہت زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے امریکی فوج ایران کے زیادہ قریب آ جائے گی اور حملوں کے لیے زیادہ کمزور ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ اس منصوبے کو مؤثر بنانے کے لیے بحری افواج کو طویل عرصے تک ایران کی سرحدوں کے قریب رہنا پڑے گا، جس کے بڑے مالی اخراجات ہوں گے۔
ایسی پالیسی برقرار رکھنے سے عالمی تیل اور توانائی کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں اور اس بات کا امکان بھی زیادہ ہو جائے گا کہ حوثی گروہ باب المندب کی آبی گزرگاہ کو متاثر کرنے کی کوشش کریں جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
غیر واضح قوائد اور نتائج کا اندازہ لگانا مشکل
ان تمام ممکنہ منظرناموں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھنا آسان ہے کہ خطہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں جنگ اور امن کی لکیر پہلے سے کہیں زیادہ دھندلی ہو گئی ہے۔
پاکستان میں ہونے والی بات چیت سے معاہدے تک نہ پہنچنا نہ تو سفارت کاری کے خاتمے کی علامت ہے اور نہ ہی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی جنگ شروع ہونے والی ہے۔
تاہم اس کے بجائے یہ صورتحال ایک ایسے مبہم مرحلے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو نہ مکمل جنگ ہے اور نہ مکمل امن۔
حمید رضا عزیزی کے مطابق ’اگرچہ دونوں فریق چاہتے ہیں کہ یہ تنازع ختم ہو جائے لیکن فوری طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔‘
موجودہ ماحول میں چھوٹے چھوٹے فیصلے، سکیورٹی سے متعلق اقدامات اور زمینی سطح پر ہونے والی معمولی تبدیلیاں بھی بحران کی مجموعی سمت پر بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔
اسی لیے کئی تجزیہ کار اس صورتحال کو ایسا ماحول قرار دے رہے ہیں جہاں قواعد واضح نہیں اور نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
ایسی صورتحال میں شاید سب سے درست بات یہ ہے کہ ایران اور امریکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں جنگ اور مذاکرات دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دونوں فریق فوجی ذرائع پر بھی انحصار کر رہے ہیں اور سفارتی رابطے بھی مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے۔