پاکستانی لڑاکا طیاروں اور فوجی دستے کی سعودی عرب میں تعیناتی: غیرجانبدار ثالثی کے بیچ حالیہ عسکری تعیناتی کیا ظاہر کرتی ہے؟

    • مصنف, نسرین حاطوم
    • عہدہ, بی بی سی عربی
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

چند روز قبل پاکستانی لڑاکا طیارے اور فوجی دستے سعودی عرب پہنچے ہیں اور سعودی وزرات دفاع کے مطابق یہ اقدام ستمبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے دفاعی سٹریٹجک معاہدے کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق ’پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کے معیار کو بلند کرنا اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون فراہم کرنا ہے۔‘

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب سنیچر (11 اپریل) کو اسلام آباد امریکہ اور ایران کے بیچ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کی میزبانی کر رہا تھا۔

پاکستان کی جانب سے اب بھی کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے بھرپور سفارتی اور مذاکراتی کوششیں جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

سعودی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں وضاحت کی تھی کہ یہ تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب ایک پاکستانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا تھا کہ یہ تعیناتی ’کسی پر حملہ کرنے کے لیے نہیں‘ ہے۔

یہ اقدام اپنے وقت اور اُس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے، جیسا کہ خلیجی خطے میں امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے مستقبل سے اس کا تعلق، پاکستانی فوجی ٹیکنالوجی (جس کا بڑا حصہ چین سے درآمد ہوتا ہے) اور اس کے امریکی دفاعی نظاموں کے درمیان مطابقت جیسے مسائل شامل ہیں۔

ساتھ میں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ پاکستانی دستے کی سعودی عرب میں تعیناتی کیا پاکستان کے اُس کردار پر بھی ممکنہ اثرات مرتب کر سکتی، جس کے تحت اسے ایک ایسے ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو بظاہر تاحال تمام فریقوں (ایران اور امریکہ) کے لیے قابلِ قبول ہے۔

سٹریٹجک تحفظ

مبصرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ، سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کا ایک واضح اشارہ ہے اور یہ معاہدہ سعودی عرب کو لاحق خطرات کے خلاف اضافی ڈیٹیرینس کی ایک نئی سطح فراہم کرتا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے واشنگٹن پر یکطرفہ انحصار اور علاقائی سطح پر اِس کے سفارتی و عسکری قد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

سعودی عرب سمیت اہم خلیجی ریاستوں میں غیر سرکاری سطح پر اِس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کرتے وقت خلیجی ریاستوں کے مفادات اور اُن نقصانات کو خاطر میں نہیں لایا گیا جن کا سامنا انھیں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے کرنا پڑ ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے تہران پر مشترکہ حملے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا بڑا حصہ خلیجی ممالک اور اُن کی اہم تیل تنصیبات کی جانب مرکوز کیا تھا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔

سکیورٹی و سٹریٹجک أمور کے سعودی ماہر حسن الشہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستے اور لڑاکا طیاروں کی تعیناتی دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کے تحت سکیورٹی ضمانتوں میں تنوع لانے کی سعودی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔‘

انھوں نے اس موقع پر سعودی عرب کے اِس اقدام کو ’دانشمندانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ ’ایک جانب واشنگٹن کے ساتھ سعودی شراکت کو برقرار رکھتا ہے اور دوسری جانب پاکستان کے ساتھ متوازی دفاعی حکتِ عملی کو قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی دستے کی تعیناتی ایسے وسیع تر تناظر میں دیکھی جا رہی ہے جہاں خلیجی ممالک میں امریکی سکیورٹی ضمانتوں کی سنجیدگی پر شکوک بڑھ رہے ہیں اور متبادل آپشنز کی تلاش جاری ہے۔

حسن الشہری نے توقع ظاہر کی کہ ’پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور اس کے تحت اٹھایا جانے والا اقدام (فوجی دستے کی تعیناتی) کسی بھی ممکنہ حملہ آور کے لیے سعودی عرب پر حملے کی قیمت بڑھا دے گا، اور اس پیش رفت کے تناظر میں وہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے سے پہلے دو بار غور کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘

پاکستانی افواج کی سعودی عرب میں آمد کو اب اس معاہدے کے عملی نفاذ کا پہلا امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے، چاہے اس کا مقصد ’کسی پر حملہ کرنا‘ نہ بھی ہو، جیسا کہ پاکستانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا تھا۔

یاد رہے کہ سنہ 2015 میں یمن جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد طلب کی تھی تاہم پاکستانی پارلیمان نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔

حسن الشہری کے مطابق موجودہ صورتحال مختلف ہے کیونکہ اب دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

دوسری جانب امریکی دفاعی امور کے ماہر صحافی سیبسٹین روبلن نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’یمن جنگ میں سعودی مداخلت جارحانہ نوعیت کی زمینی کارروائیوں پر مشتمل تھی جبکہ موجودہ جنگ میں سعودی کردار اب تک ایرانی حملوں کے خلاف دفاعی نوعیت کا ہے۔‘

عرب یوریشین سٹڈیز سینٹر میں جنوبی ایشیا یونٹ کے سربراہ اور محقق ڈاکٹر مصطفیٰ شلش کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی بڑے پیمانے پر ایک ’علامتی اقدام‘ ہے جو سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور اسلام آباد کی اپنے اتحادیوں سے وفاداری کا پیغام بھی دیتا ہے۔

اُن کے بقول اس نازک وقت میں یہ تعیناتی جنگ میں کسی بھی نوعیت کی عملی شرکت کے بجائے ’علامتی نوعیت‘ کی حامل ہے۔

ڈاکٹر شلش نے مزید کہا کہ ’اگرچہ پاکستان ایک بڑی فوجی اور ایٹمی طاقت ہے تاہم معاشی طور پر کمزور ہے اور اس کی معیشت خلیجی ممالک پر انحصار کرتی ہے۔‘

انھوں نے پاکستانی افواج کی آمد کو اس خبر سے بھی جوڑا جس کے تحت پاکستان کو حال ہی میں سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کے اضافی ڈیپازٹس فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ تین ارب ڈالر اُن پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کے علاوہ ہیں جو پہلے ہی پاکستان کے پاس موجود ہیں۔

اس کے برعکس سیبسٹین روبلن کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ممکنہ ’غیر یقینی صورتحال‘ کے پیش نظر دیگر شراکت داریاں بھی مضبوط کی ہیں تاکہ ایک طرح کا توازن قائم رکھا جا سکے۔‘

ان کے مطابق اس کا مقصد واشنگٹن پر دباؤ ڈالنا بھی ہو سکتا ہے تاکہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی شراکت برقرار رکھے اور دیگر ممالک اس کی جگہ نہ لے سکیں۔

روبلن کے مطابق پاکستانی فوجی موجودگی سعودی عرب کی اس صلاحیت کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ دیگر اتحادیوں کو بھی اپنے ساتھ کسی بھی موقع پر ملا سکتا ہے۔

تاہم روبلن نے خبردار کیا کہ پاکستانی افواج کی موجودگی ایران کے ساتھ سیاسی حساسیت کو بڑھا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر کسی ایرانی ڈرون حملے میں کوئی پاکستانی فوجی ہلاک ہو جاتا ہے، تو اس سے ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحد بھی ملتی ہے۔‘

فوجی نظام کے انضمام میں درپیش چیلنجز

سعودی عرب اپنے دفاعی نظام میں مختلف ممالک کے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے تاہم امریکی سسٹمز ’تھاڈ‘ اور ’پیٹریاٹ‘ اس دفاعی نظام کا بنیادی حصہ ہیں۔

دفاعی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب جنوبی کوریا، روس، چین، ترکی اور یوکرین سے بھی مختلف دفاعی سسٹمز حاصل کرتا ہے، جو خطرات کی نوعیت اور خاص طور پر ڈرون حملوں کے مطابق استعمال کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان بڑے پیمانے پر چین سے حاصل کردہ ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے، خصوصاً طیاروں، ٹینکوں اور میزائلوں کے شعبوں میں۔

اس کے علاوہ پاکستانی فوجی ٹیکنالوجی امریکہ اور فرانس پر بھی کسی حد تک منحصر ہے، جس میں ایف 15 طیارے، امریکی ایم 113 بکتر بند گاڑیاں اور فرانسیسی 'میراج' لڑاکا طیارے شامل ہیں۔

اسی تناظر میں سکیورٹی و سٹریٹجک اُمور کے ماہر حسن الشہری کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے زیادہ تر چینی ٹیکنالوجی کا استعمال، سعودی عرب میں موجود امریکی دفاعی نظاموں کے ساتھ تضاد پیدا کر سکتا ہے تاہم اُن کے مطابق اسے بہتر ہم آہنگی کے ذریعے کثیر سطحی دفاعی نظام میں تبدیل کر کے فائدہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

اسی حوالے سے ڈاکٹر مصطفیٰ شلش کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کو امریکی ٹیکنالوجی کا بھی تجربہ حاصل ہے اور وہ صرف چینی ہتھیاروں پر انحصار نہیں کرتا، جس کے باعث اسے مختلف نظاموں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے۔‘

تاہم امریکی صحافی سیبسٹین روبلن اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق سعودی عرب خود بھی بعض چینی ہتھیار استعمال کرتا ہے جن میں ’ونگ لونگ‘ ڈرونز اور بیلسٹک میزائل شامل ہیں جبکہ پاکستان بھی چینی اور امریکی ہتھیاروں کو ایک ساتھ استعمال کرنے کا عادی ہے۔

اس کے باوجود روبلن کا خیال ہے کہ پاکستانی ’جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کو سعودی فضائی دفاعی نظام، خصوصاً مغربی ساختہ طیاروں اور ’پیٹریاٹ‘ دفاعی نظام کے ساتھ ہم آہنگی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔‘

روبلن نے مزید کہا کہ ’فرینڈلی فائر‘ کے خطرات اور مربوط رابطے کی ضرورت ایسے مسائل ہیں جو خالصتاً امریکی نظام میں بھی موجود رہتے ہیں، لہٰذا سعودی عرب کو پاکستانی طیاروں اور ریڈار سسٹمز کے ساتھ اپنے دفاعی نظام کی ہم آہنگی میں خاص احتیاط برتنی ہو گی۔

پاکستانی کی سفارتی غیر جانبداری کی حدود

دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی اور امریکہ، ایران جنگ بندی مذاکرات میں ایک غیر جانبدار ثالث کے کردار کے درمیان توازن کیسے قائم رکھے گا۔

یہ صورتحال اس بات پر بھی سوال اٹھاتی ہے کہ آیا پاکستان اپنی غیر جانبداری برقرار رکھ پائے گا جبکہ اس کی افواج بظاہر سعودی عرب کی حمایت کے لیے تعینات ہیں۔

اس حوالے سے ڈاکٹر شلش کا کہنا ہے کہ پاکستان روایتی طور پر ثالثی کے میدان میں زیادہ تجربہ کار نہیں رہا تاہم اس جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خطے کے اہم ثالث ممالک بشمول قطر اور عمان کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، پاکستان کو ثالثی کا مشکل کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کئی عوامل پاکستان کے حق میں گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ پاکستان اور ایران، دونوں خطے میں اسرائیل کے اثر و رسوخ میں اضافے پر تحفظات رکھتے ہیں۔

دوسرا پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں جس کے باعث وہ ایرانی وفد کو کسی ممکنہ جاسوسی سے محفوظ رکھتے ہوئے مذاکرات کے لیے بہتر ماحول فراہم کر سکا۔

تیسرا پاکستان اور ایران دونوں کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جس سے ایران کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں کی ایک اضافی سطح موجود رہتی ہے اور بیجنگ پسِ پردہ کردار ادا کر سکتا ہے۔

چوتھا پاکستان میں شیعہ آبادی کا ایک قابلِ ذکر حصہ موجود ہے جس کے پیش نظر اسلام آباد کسی بھی فرقہ وارانہ کشیدگی سے گریز کرنا چاہتا ہے جو داخلی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔

ان عوامل کی بنیاد پر ڈاکٹر شلش پاکستان کے کردار کو ’فعال غیر جانبداری‘ کی مثال قرار دیتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ اب تک سعودی عرب نے ایران کے خلاف کوئی حملہ کرنے یا جواب دینے کا فیصلہ نہیں کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی افواج کا کردار دفاعی ہے نہ کہ جارحانہ۔