آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چکوال میں مبینہ ڈکیتی کے دوران آسٹریلوی نژاد بچی کے قتل اور سی سی ڈی اہلکار کی گرفتاری کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
- مصنف, شہزاد ملک، نبیل انور ڈھکو
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں ایک مقامی عدالت نے فائرنگ کے نتیجے ہلاک ہونے والی نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلین لڑکی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
چکوال میں پیش آئے اس واقعے میں بچی کے والد اور بھائی بھی سی سی ڈی اہلکار کی جانب سے کی گئی مبینہ فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئے تھے۔
چکوال پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سی سی ڈی کے ملزم کانسٹیبل نے 10 اور 11 جون کی درمیانی شب ایک مبینہ ڈکیتی کو ناکام بنانے کی کوشش کے دوران فائرنگ کی، تاہم ’شناخت کی غلطی‘ کے باعث پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان، جنھیں ڈاکو لوٹ رہے تھے، اس فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔
اتوار کے روز فائرنگ کرنے والے ملزم اہکار کو چکوال کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم سے سرکاری گن برآمد کر لی گئی ہے جبکہ اس کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جس روز فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اُس روز سی سی ڈی اہلکار کی تھانے میں حاضری کو بھی چیک کیا گیا ہے۔
عدالت کو مزید آگاہ کیا گیا کہ وہ گاڑی جس پر سرکاری بندوق سے فائرنگ کی گئی اور جائے حادثہ سے ملنے والے گولیوں کے خول کو ٹیسٹ کے لیے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چونکہ ملزم کا بیان ہو چکا ہے اور اُن سے سرکاری گن بھی قبضے میں لے لی گئی ہے اس لیے تفتیشی ٹیم کو ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، جس پر عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔
دوسری طرف چکوال پولیس کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان سے ڈکیتی میں ملوث دونوں ڈاکو ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے فائرنگ سے زخمی ہونے والے بچی کے والد عدیل احمد کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔
متعلقہ حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اگلے دو روز میں اس واقعے سے متعلق حتمی رپورٹ سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کو پیش کرے گی۔
واقعے کی ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
اس واقعے کا مقدمہ چکوال سٹی تھانے میں ہلاک ہونے والی بچی کے والد عدیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کو دستیاب ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے پولیس کو بتایا کہ وہ چکوال کے علاقے ڈھڈیال کے رہائشی ہیں اور گذشتہ کافی عرصے سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی نے بتایا کہ 10 جون کی رات کو وہ اپنے سسرال میں دعوت پر آئے تھے۔
مدعی کے مطابق وہ رات 11 بجکر 40 منٹ پر سی سی ڈی کے دفتر کے سامنے پہنچے اور گاڑی اپنے عزیز کے گھر کے باہر روکی تو اُسی دوران وہاں دو افراد پہنچے جن کے پاس پستول تھی اور جنھوں نے اُن کو اہلیہ کے زیوارت سمیت تمام قیمتی چیزیں حوالے کرنے دھمکی دی۔
ایف آئی آر کے مطابق ’اِسی دوران ایک فائر ہوا اور جو افراد ہم سے زیورات وغیرہ چھین رہے تھے اُنھوں نے (ہماری) گاڑی کی اوٹ لے کر فائرنگ شروع کر دی جبکہ سامنے کی طرف سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔‘
ایف آئی آر کے مطابق مدعی اس وقت گاڑی کو برق رفتاری سے موقع سے بھگا کر لے گئے مگر اس وقت تک وہ، اُن کا بیٹا اور بیٹی فائرنگ سے زخمی ہو چکے تھے۔
مدعی نے ایف آئی آر میں مزید بتایا کہ وہ علاج کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال پہنچے جہاں زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اُن کی بیٹی ہانیہ ہلاک ہو گئیں۔
واقعے کی ایف آئی آر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302، 394 اور 440 کے تحت درج کی گئی ہے۔
اس ابتدائی ایف ائی آر میں سی سی ڈی کے اہلکار کی جانب سے مبینہ فائرنگ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ تاہم بعدازاں عدالت میں پیش کیے گئے عبوری چالان میں فائرنگ کرنے والے سی سی ڈی اہلکار کو ملزم ظاہر کیا گیا ہے۔
چکوال پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی اردو کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عبوری چالان میں بعدازاں کی گئی ترامیم متاثرہ خاندان کے کہنے پر کی گئی ہیں۔
متاثرہ خاندان کون ہے اور ابتدائی تفتیش میں کیا پتا چل سکا ہے
چکوال کے ایک بڑے اور معروف قصبے ڈھڈیال سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ عدیل احمد تقریباً 20 برس قبل روزگار کی خاطر آسٹریلیا چلے گئے تھے۔
عدیل احمد پیشے کے اعتبار سے ایک سول انجینیئر جبکہ ان کی اہلیہ ایک ڈاکٹر ہیں۔
عدیل احمد کی اہلیہ کے ماموں راجہ علی اعجاز نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ عدیل اپنے اہلخانہ ہمراہ پاکستان اس لیے آئے تھے تاکہ وہ ’بچوں کو دادا اور دادی کے پاس چھوڑ کر حج پر جا سکیں۔‘
ماموں راجہ علی اعجاز کے مطابق عدیل اور ان کی اہلیہ کچھ دن قبل ہی حج کر کے واپس اپنے آبائی علاقے پہنچے تھے اور 10 جون کی رات اُن کے سسر نے چکوال کے گرلز کالج روڈ پر واقع اپنے گھر میں اُن کے لیے دعوت کا اہتمام بھی کیا تھا۔
متاثرہ خاندان کے رشتہ دار کے مطابق پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے وقت عدیل نے ایک گاڑی بھی رینٹ پر لے رکھی تھی، وہی گاڑی جس پر وہ وقوعے کے وقت اہلخانہ کے ہمراہ سوار تھے۔
راجہ علی اعجاز کے مطابق سسرال سے واپسی پر عدیل کی اہلیہ نے اُن سے (راجہ اعجاز) ملاقات کی خواہش کی تھی۔
لیکن یہ خاندان اعجاز کے گھر میں داخل نہیں ہو سکا۔
راجہ اعجاز کے پڑوس میں واقع گھر پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بی بی سی کو موصول ہوئی ہے۔ اس فوٹیج کی تصدیق سی سی ڈی اور چکوال پولیس کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔
اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گیارہ بج کر 47 منٹ پر عدیل نے اپنی کار کو موڑ کر راجہ اعجاز کے گھر کے سامنے ایک دیوار کے ساتھ کھڑا کیا، یہ دیوار دراصل سی سی ڈی تھانے کی ہی تھی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 11 بج کر 51 منٹ پر ایک موٹر سائیکل اسلامیہ چوک کی طرف سے آئی، جس پر دو افراد سوار تھے۔
یہ موٹر سائیکل عدیل کی کار کے سامنے سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے پاس رکی اور اس پر سوار ایک شخص نیچے اتر کر کار کے پاس بائیں طرف آیا، جبکہ دوسرا ڈرائیونگ سیٹ کی طرف اور اس موقع پر ایک شخص کی جانب سے پستول نکالی جاتی ہے۔
اس کیس کی تفتیش سے منسلک سی سی ڈی کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سی سی ڈی تھانے کا دروازہ عموماً اندر سے بند ہوتا ہے کیونکہ اس تھانے سے عوام کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
چکوال پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی اردو کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایف آئی آر میں بعدازاں کی گئی ترامیم متاثرہ خاندان کے کہنے پر کی گئی ہیں۔ اسی طرح قتل کی دفعات بھی بچی کی ہلاکت کے بعد ضمنی ایف آئی آر میں ڈالی گئی ہیں۔
مبینہ ڈاکوؤں کی پراسرار ہلاکت
جس رات یہ واقعہ پیش آیا، اُس سے اگلے ہی روز سی سی ڈی نے مبینہ پولیس مقابلے میں دو ڈاکوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا اور اُن کی شناخت محمد فیاض اور محمد عباس کے نام سے کی ہے۔
سی سی ڈی کے افسران کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی ڈاکو تھے جو عدیل اور اُن کے اہلخانہ کو لوٹ رہے تھے۔
سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ دونوں ڈاکو ریکارڈ یافتہ ہیں اور ماضی میں ہونے والی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں اور چکوال پولیس کو درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے۔
اُن کے مطابق مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والا ایک ملزم عباس چار سال قبل بھی گرفتار ہوا تھا تاہم بعدازاں وہ جیل سے باہر آ گیا تھا۔
سی سی ڈی حکام کی جانب سے تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا حالات تھے جن میں اِن ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا۔
یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے اور جو صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر، ایچ آر سی پی نے 2025 کے آٹھ ماہ کے عرصے میں کم از کم 670 سی سی ڈی مقابلوں کو دستاویزی شکل دی، جن میں 924 ملزم ہلاک ہوئے جبکہ اسی مدت میں صرف دو پولیس اہلکار مارے گئے۔
اس کے مطابق ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن یعنی اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ جان لیوا مقابلے اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے انداز میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفرادی بے ضابطگی کے واقعات نہیں بلکہ ایک ادارتی طرزِ عمل ہے۔