امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب ہے اور ایران پر مزید حملوں کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تیسرے دن یہ اعلان کر کے صورتِ حال بدل دی کہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان اطلاعات کو ’قیاس آرائیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی حتمی نہیں ہوا اور امریکہ نے نئے مطالبات پیش کیے ہیں۔
تاہم اس صورتحال تک پہنچنے سے قبل ان دونوں میں ایک دوسرے پر حملے اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ایران پر ’سخت حملے‘ کی دھمکی سے ’معاہدے کے قریب تک‘
حالیہ اعلان سے پہلے دو راتوں کے دوران امریکہ نے جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خلیجی ریاستوں اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا اعلان کیا۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایران پر کارروائی کو اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے ردِعمل میں ’متناسب جواب‘ قرار دیا۔
جمعرات کو امریکی صدر نے حملے جاری رکھنے اور ایرانی تیل و گیس تنصیبات پر قبضے کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’امریکہ آج رات ایران پر بمباری کرے گا، بہت سخت"، اور کہا کہ ایران اپنی زیادہ تر دفاعی صلاحیت کھو چکا ہے۔‘
اس کے ردِعمل میں ایران کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹر نے کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا، اور ایرانی میڈیا کے مطابق خبردار کیا کہ ’یا تو تیل اور گیس کی برآمدات سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں۔‘
گزشتہ دو راتوں میں امریکہ نے جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے جبکہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
تاپم پھر صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ وہ حملے نہیں کریں گے اور ایک ’بہترین معاہدہ‘ قریب ہے، جس پر ممکنہ طور پر یورپ میں دستخط ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز سے ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ معاہدے کے اہم حصے تقریباً تیار ہیں لیکن وہ اپنی سرخ لکیروں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
امریکہ نے اس سے قبل ایران کے ساتھ کب ’معاہدے ہونے کے قریب‘ کا بیان دیا
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ٹرمپ کئی بار معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں تاہم اب تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ نے 20 اپریل کو کہا تھا کہ معاہدہ ’جلد‘ ہو جائے گا۔ جس کے بعد 6 مئی کو کہا کہ جنگ ’جلد ختم‘ ہو جائے گی اور 14 نکاتی یادداشت قریب ہے۔
23 مئی کو بتایا کہ معاہدے پر ’وسیع بات چیت‘ ہو چکی ہے۔ تاہم چند روز بعد کہا کہ وہ شرائط سے خوش نہیں۔
28 مئی کو جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے یہاں تک کہ 29 مئی کو ٹرمپ نے ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے لیے اجلاس کیا۔
اور اب پطر ان کا دعویٰ سامنے آ گیا ہے کہ چند دنوں میں معاہدہ ہو جائے گا۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاہدے میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں شامل ہوں۔
ان پیش رفتوں کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران پابندیوں کے خاتمے، اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور علاقے سے امریکی افواج کے انخلا کی ضمانت چاہتا ہے۔
کشیدگی میں کمی کے مطالبات
دوسری جانب اقوام متحدہ اور کئی ممالک نے بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور جنگ بندی پر عمل کا مطالبہ کیا ہے۔
حالیہ حملوں کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
انھوں نے فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی پر مکمل عمل کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔
پاکستان، روس، چین، ترکی، انڈیا اور سعودی عرب نے بھی کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔