آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’نئے امارات‘ کی سعودی عرب اور پاکستان جیسے اتحادیوں سے دوری: یو اے ای ’زیادہ مضبوط‘ بننے کی پالیسی پر کیسے عملدرآمد کر رہا ہے؟
- مصنف, امنیہ النجار
- عہدہ, ماہر امور مشرقِ وسطیٰ، بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
اگرچہ لگ بھگ ساڑھے تین ماہ کی کشیدگی اور تنازع کے بعد ایران اور امریکہ میں امن معاہدہ طے پا چکا ہے، مگر اس جنگ اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے اثرات کے ردعمل میں اہم خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے اپنی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے اور اب بظاہر اِس نے سکیورٹی سے متعلق اُمور پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کر لی ہے اور اس ضمن میں چند اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے قبل، روایتی طور پر متحدہ عرب امارات کا شمار تجارت اور سرمایہ کاری کے ایک مستحکم مرکز کے طور پر ہوتا تھا، لیکن اب یہ مرکز بظاہر اِس جنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ نظر آتا ہے، جس سے وہ دور رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یو اے ای کا ماڈل تھا کہ ’تجارت کے ذریعے امن‘۔ لیکن اِس کی سرزمین پر ہونے والے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں نے اس ماڈل کو چیلنج پیش کیا ہے۔
اِن حملوں سے واضح ہوا کہ جدید اور مضبوط دفاعی صلاحیتوں کے بغیر ایسے ماڈل کی بقا ممکن نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ابوظہبی نے اپنے اہم شراکت داروں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فوجی تعلقات کو مضبوط بنانے کی طرف حالیہ دنوں میں قدم بڑھایا ہے۔
اس جنگ نے سیاست اور معیشت کے باہمی انحصار کی حدود کو بھی واضح کیا اور ابوظہبی کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ تیزی سے تبدیل ہوتے مشرقِ وسطیٰ میں سٹریٹیجک خودمختاری کی جانب اپنے سفر کو تیز کرے۔
اپنے سیاسی، اقتصادی اور توانائی کے مفادات کو زیادہ آزادی سے حاصل کرنے کے لیے ابوظہبی نے علاقائی بلاکس پر اپنے انحصار کو کم کیا ہے۔
یو اے ای نے انڈیا، یوکرین، یونان، قبرص اور ایتھوپیا جیسے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے بعد بھی امارات اپنی خارجہ پالیسی کے دائرہ اثر کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملک ابھرتے ہوئے علاقائی اتحادوں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔
یہ تبدیلیاں امارات کی خارجہ پالیسی میں ایک وسیع تر تنظیمِ نو کی نشاندہی کرتی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ ایران کی جنگ کے بعد اس ملک کا مستقبل کا علاقائی کردار اس کے سابقہ مقام سے نمایاں طور پر مختلف ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات کا فروغ
امارات میں اہم تنصیبات پر ایران کے غیر معمولی حملوں نے ابوظہبی کو اُس کی روایتی خارجہ پالیسی سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے، یہ روایتی خارجہ پالیسی محتاط سفارتکاری اور اقتصادی مفادات کے درمیان توازن پر مبنی تھی۔
آٹھ اپریل کو امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود متحدہ عرب امارات یہ اطلاع دیتا رہا کہ اس پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ملک کی وزارت دفاع نے 10 مئی کی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ تنازع کے آغاز سے اب تک 551 بیلسٹک میزائل، 29 کروز میزائل اور 2265 ڈرون اس کی طرف داغے گئے ہیں۔
ابتدا میں اماراتی حکام نے کشیدگی کم کرنے کے مطالبات کیے، لیکن جنگ کے جاری رہنے کے ساتھ اُن کے سرکاری بیانات کا لہجہ سخت ہوتا گیا۔ یو اے ای کے صدر نے جنگ کے آغاز کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ امارات ’آسان شکار نہیں ہے‘، اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ملک اس بحران سے ’پہلے سے زیادہ مضبوط‘ ہو کر نکلے گا۔
ایران نے اپنے حملوں کا جواز یہ دیا کہ امریکہ کی فوجی تنصیبات امارات میں موجود ہیں اور وہ اسرائیل کے ساتھ بھی تعاون کرتا ہے۔ تاہم اماراتی حکام نے کہا ہے کہ ان حملوں سے سکیورٹی شراکت داری کے لیے ابوظہبی کا عزم کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوا ہے۔
اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا تھا کہ یہ حملے ابوظہبی کو امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ انھوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ امارات آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کی زیر قیادت اقدامات میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔
اسرائیلی اور عرب میڈیا نے بھی امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے سکیورٹی تعاون کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیلی دائیں بازو کے نیٹ ورک ’آئی 24 نیوز‘ نے فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے امارات کو فضائی دفاعی نظام اور جدید ہتھیار فراہم کیے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ان میں جدید لیزر نظام، نگرانی کا نظام ’سپیکٹرو‘ اور آئرن بیم اور آئرن ڈوم دفاعی نظام شامل ہیں۔
امارات نے اب تک ان رپورٹوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ تاہم اس نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ وہ جنگ کے دوران ’خفیہ طور پر‘ امارات گئے اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق معاملات پر بات چیت کی۔
دفاعی شراکت داریوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ابوظہبی نے حالیہ مہینوں میں یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے خود مختاری پر مبنی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ طرزِ عمل اس نظریے کی عکاسی کرتا ہے جسے یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر عبدالخالق عبداللہ ’نیا امارات‘ قرار دیتے ہیں، ایک ایسا امارات جو ان کے بقول اپنے مفادات کے دفاع میں زیادہ جرات مند ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ امارات کی سٹریٹیجک خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے اہم شراکت داروں سے دوری اختیار کر لے گا، بلکہ اس کا مقصد ان تعلقات کی ازسرِ نو تعریف اور تشکیل ہے۔
اس رجحان کو درج ذیل نکات میں دیکھا جا سکتا ہے۔
1: علاقائی تنظیموں پر تنقید
جنگ کے دوران امارات نے زیادہ تنقیدی موقف اپنایا، خاص طور پر عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے حوالے سے۔
انور قرقاش نے خلیج تعاون کونسل کے جنگ سے متعلق موقف کو ’تاریخ کا کمزور ترین مؤقف‘ قرار دیا اور کہا کہ علاقائی سلامتی کے حوالے سے خلیجی ممالک کی روایتی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران کو ’روکنے‘ کی وہ پالیسی جو خلیجی ممالک نے اپنائی تھی، ناکام ہو چکی ہے۔ انور قرقاش نے خود انحصاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے رُکن ممالک اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں۔
2: اوپیک کو چھوڑنا
متحدہ عرب امارات نے مئی 2026 میں اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
اگرچہ اماراتی حکام نے زور دے کر کہا کہ یہ فیصلہ ’سیاسی بنیادوں پر نہیں‘ لیا گیا، تاہم اس اقدام نے یہ سوالات اٹھا دیے کہ کیا یو اے ای خلیج تعاون کونسل، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت دیگر اہم عرب اور اسلامی تنظیموں سے بھی دستبردار ہو سکتا ہے۔
ایک اماراتی عہدیدار نے خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ ابوظہبی ’کثیرالجہتی تنظیموں میں اپنی رکنیت کی افادیت کا عمومی جائزہ لے رہا ہے‘، تاہم انھوں نے واضح کیا کہ فی الحال مزید کسی تنظیم سے نکلنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔
یو اے ای ماضی میں جنگ کے حوالے سے عرب اور اسلامی تنظیموں کے ردعمل پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکا ہے۔ انور قرقاش نے اس دوران، جب خلیجی ممالک حملوں کی زد میں تھے، ان اداروں کی ’(منظر سے) غیر موجودگی اور نااہلی‘ پر تنقید کی تھی۔
اس تناظر میں بعض مبصرین یو اے ای کی اوپیک سے علیحدگی کو محض توانائی کے شعبے سے متعلق فیصلہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے وسیع تر جغرافیائی و سیاسی صف بندی میں تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہیں۔
3: سعودی عرب کے ساتھ جاری تنازعات
ایران جنگ کے باعث ابوظہبی اور ریاض کے درمیان گذشتہ چند برسوں سے چلے آ رہے اختلافات ختم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔
دونوں دیرینہ حریف کئی امور پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں، خصوصاً جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار پر۔ سعودی عرب، اگرچہ ایران پر کھلی تنقید کرتا ہے، تاہم اس نے نسبتاً کم تصادم والا رویہ اختیار کیا ہے اور سفارتی ذرائع کے استعمال پر زیادہ زور دیا ہے۔
دونوں ممالک نے اسرائیل کے حوالے سے بھی اپنے مختلف مؤقف برقرار رکھے ہیں۔ یو اے ای کے برعکس، سعودی عرب اب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول پر لانے کو ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کرتا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں نے یو اے ای کے اوپیک سے انخلا کو سعودی اثر و رسوخ کے لیے ایک ’دھچکہ‘ بھی قرار دیا ہے۔ عبد الخالق عبداللہ کے مطابق، ابو ظہبی اوپیک کو ’ایک رکاوٹ‘ کے طور پر دیکھتا ہے جو یو اے ای کے عزائم کو محدود کرتی ہے۔
ابو ظہبی اور ریاض کے درمیان اختلافات دیگر شعبوں میں بھی جاری ہیں، جن میں یمن اور شام کے محاذ شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یو اے ای بدستور یمنی علیحدگی پسند قوتوں کی حمایت کرتا ہے اور اس نے براہِ راست فوجی موجودگی کے بجائے خفیہ اور بالواسطہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔
شام میں، جہاں کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب یو اے ای کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ابوظہبی پہلے ہی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، خاص طور پر رئیل سٹیٹ، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔
اتحاد اور شراکت داری کے دائرہ کار میں توسیع
متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس نے حالیہ مہینوں میں اپنے روایتی اتحادیوں سے آگے بڑھ کر تعلقات اور شراکت داریوں کو وسعت دی ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ’سٹریٹجک تنوع‘ یو اے ای کو یہ موقع فراہم کرے گا کہ وہ عالمی طاقتوں کے مختلف مراکز میں اپنا اثر و رسوخ اور مقام مضبوط کرے، جبکہ اپنی خودمختار فیصلہ سازی کی آزادی بھی برقرار رکھ سکے۔
اس حکمت عملی کا ایک اور مقصد بھی دکھائی دیتا ہے: ایسے ممکنہ جغرافیائی و سیاسی بلاک کا مقابلہ کرنا جو یو اے ای کے حریف سعودی عرب، ترکی، مصر اور پاکستان کے درمیان اُبھرتا نظر آ رہا ہے۔ اگرچہ ایسا کوئی بلاک تاحال باضابطہ طور پر قائم نہیں ہوا، تاہم ان ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون نے یو اے ای کو ان کے ممکنہ اثر کو محدود کرنے سے متعلق پیشگی اقدامات اٹھانے پر آمادہ کیا ہے۔
اسی تناظر میں یو اے ای نے یوکرین، انڈیا، ایتھوپیا، یونان اور قبرص کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔
ان ممالک کے ساتھ یو اے ای کے تعاون میں توسیع کے وسیع جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بحیرہ احمر اور ہارن آف افریقہ کے علاقوں میں، جہاں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی مسابقت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ابوظہبی کی خارجہ پالیسی میں اس تبدیلی نے بعض موجودہ تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر اپریل میں آنے والی رپورٹس میں یو اے ای اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ اضافے کا عندیہ دیا گیا تھا، جب پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ اسلام آباد نے یو اے ای کے ڈپازٹس کی جزوی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں نے اس پیش رفت کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی اور عسکری تعاون میں اضافے سے بھی جوڑا ہے۔ ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان نے ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق دونوں میں سے کسی ایک کے خلاف ’جارحیت‘ کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔