ادارہ چھوڑتے سائنسدان اور ’نجکاری‘ پر خدشات: انڈین خلائی ادارے ’اِسرو‘ کے مستقبل پر سوال کیوں اٹھ رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
زیادہ پرانی بات نہیں کہ دنیا بھر کے ماہرین انڈیا کے خلائی تحقیق کے ادارے ’اسرو‘ کی جانب سے سورج، چاند اور مریخ پر بھیجے جانے والے انڈین مشنز پر آنے والی کم لاگت پر حیرت کا اظہار کرتے پائے جاتے تھے مگر حالیہ دنوں میں صورتحال میں واضح تبدیلی نظر آئی ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس ادارے سے متعلق معاملات غیریقینی کا شکار نظر آتے ہیں۔
گذشتہ دنوں ’اسرو‘ کے سائنسدانوں اور ملازمین نے اپنے ادارے کی ممکنہ نجکاری، راکٹ سازی اور متعلقہ آپریشنز نجی کمپنیوں کو منتقل کرنے کے امکانات اور اپنے مستقبل پر اِس کے اثرات کے حوالے سے اپنے ادارے کے سربراہ سے باضابطہ تحریری وضاحت طلب کی ہے۔
یاد رہے کہ اِس وقت اسرو کے سائنسدانوں اور ملازمین کی نو نمائندہ تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں، جس کی کئی وجوہات ہیں۔
گذشتہ مہینوں کے دوران اسرو کے بنگلور اور تروندرم میں واقع راکٹ سازی اور لانچنگ مراکز میں کام کرنے والے 100 سے زیادہ سائنسدان اس ادارے کو چھوڑ کر ملک میں کام کرنے والی نجی خلائی کمپنیوں کا حصہ بن گئے ہیں، جس کے بعد اسرو کے ملازمین میں گھبراہٹ پیدا ہوئی ہے۔
اسی دوران قریباً دو ماہ قبل، یعنی 18 جولائی کو حیدرآباد کی ایک نجی خلائی کمپنی ’سکائی روٹ ایرو سپیس‘ نے اپنے بنائے ہوئے راکٹ کی مدد سے مصنوعی سیارے کو کامیابی کے ساتھ خلا میں پہنچایا، جسے انڈیا کے خلائی شعبے میں نجکاری کی طرف ایک بڑے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انڈیا کی خلائی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی پرائیوٹ راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا ہے۔
اس لانچ کے پس منظر میں گذشتہ مہینے 21 اگست کو خلائی سرگرمیوں کے ضابطہ ساز ادارے ’ان سپیس‘ کے سربراہ ڈاکٹر پون کمار گوئنکا نے ایک ٹی وی پروگرام میں خلائی مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اب اسرو مصنوعی سیارے چھوڑنے والا کوئی لانچنگ راکٹ نہیں بنائے گا۔ یہ کام اب پرائیوٹ سیکٹر یا پبلک سروس انڈرٹیکنگ کمپنیوں کے ذریعے کیا جائے گا۔‘
سائنسدانوں کا سوال اور اِن سپیس کی وضاحت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرو کے سائنسدانوں اور ملازمین کی تنظیموں نے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر وی نارائنن کو لکھے گئے چار صفحات پر مشتمل اپنے خط میں سوال کیا ہے کہ ’کیا ان سپیس کے سربراہ کا یہ بیان انڈیا کی حکومت، خلائی کمیشن یا خلائی محکمے کے منظور شدہ فیصلے کی عکاسی کرتا ہے؟ اگر اس پالیسی فیصلے کو حکومت کی منظوری حاصل ہے تو ملازمین کو یہ بتایا جائے کہ یہ فیصلہ کب اور کس نے کیا ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ خط سامنے آنے کے بعد ’ان سپیس‘ کے سربراہ ڈاکٹر پون کمار گوئنکا نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ ’میں بالکل غیر مبہم الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اسرو کے کردار میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے۔ یہ انڈیا کے خلائی شعبے کی بنیاد کے طور پر کام کرتا رہے گا۔‘
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ خلائی شعبے کی ترقی میں ان سپیس غیر سرکاری کمپنیوں کی شراکت بڑھانے اور انھیں آگے لانے میں مدد کرے گا جبکہ ’نیو سپیس انڈیا لمیٹیڈ‘ نئی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کو تجارتی شکل دینے میں مدد کرے گا۔
انھوں نے اس وضاحتی بیان میں کہا کہ ’تصور یہ ہے کہ نجی کمپنیاں تیزی سے اعلیٰ معیار کے راکٹ، سٹیلائٹس اور دوسرے متعلقہ پرزے بنائیں۔ جبکہ اسرو ان پہلوؤں پر توجہ مرکوز دے جو اس کی بنیادی صلاحیت کا ایریا ہے، جیسے جدید تحقیق و ترقی، سائنسی مشن، سٹریٹیجک مشن، نئی ٹیکنالوجی اور ایسے پیچیدہ بنیادی ڈھانچے جو نجی کمپنیوں کے لیے بنانا مشکل ہے۔‘
ایک صفحے کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرو 2035 تک خلائی سٹیشن بنانے، 2040 تک چاند پر انسان اتارنے، مستقبل کے لانچنگ سسٹم کی تحقیق اور چاند اور دوسرے سیاروں کی تحقیقی جستجو سمیت انڈیا کے بنیادی خلائی پروگراموں اور مستقبل کے قومی مشن کا محور بنا رہے گا۔‘
ڈاکٹر پون کمار کے اس بیان سے واضح ہے کہ انڈیا کا سرکاری خلائی تحقیق اور ترقی کا ادارہ اسرو اب مصنوعی سیارے چھوڑنے والے راکٹ نہیں بنائے گا اور نہ ہی وہ تجارتی طور پر انڈیا سمیت مختلف ملکوں کے سیارے خلا میں بھیجے گا۔
یہ منافع بخش تجارتی ذمے داری کا کام اب انڈین حکومت کی سرپرستی اور مدد سے تیزی سے ابھرتی ہوئی نجی خلائی کمپنیوں کو دے دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2020 میں وضع کی گئی حکومت کی نئی خلائی پالیسی کے تحت اس وقت ملک میں تقریباً 445 خلائی کمپنیاں وجود میں آ چکی ہیں، جن میں کئی انڈین کمپنیاں سکائی روٹ ایروسپیس کی طرح راکٹ تیار کرنے اور خلا میں سٹیلائٹ چھوڑنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب ہیں۔
بیشتر پرائیوٹ کمپنیاں اسرو کے سبکدوش سائنسدانوں نے قائم کی ہیں یا ان کی سرپرستی میں بنائی گئی ہیں۔ کچھ عرصے پہلے تک خلائی شعبے پر سرکاری خلائی ادارہ اسرو کی مکمل اجارہ داری تھی اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اب وہ ختم ہو رہی ہے۔
اس بدلتی ہوئی صورتحال میں اسرو کے سائنسدان اور انجینیئرز بھی بہتر سہولیات اور مواقع کی امید میں نئی کمپنیوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ سائنسدانوں کو اسرو چھوڑنے سے روکنے کے لیے حکومت کو ایک نیا ضابطہ لانا پڑا ہے جس کے تحت اب وہ سائنسدان جو چاند، مریخ اور خلائی سٹیشن جیسے اہم مشنوں پر کام کر رہے ہیں، ان کے استعفے صرف صدر دفتر کے ذریعے ہی منظور کیے جائیں گے۔
اسرو کے ملازمین نے گذشتہ ہفتے ادارے کے سربراہ کو لکھے گئے اپنے خط میں پرائیوٹ کمپنیوں کو ٹیکنالوجی کی منتقلی اور لانچنگ اڈوں کو پرائیوٹ کمپنیوں کے لیے کھولنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خط میں لکھا گیا کہ ’اطلاعات ہیں کہ ایس ایس ایل وی لانچنگ وہیکل کی ٹیکنالوجی اور تیاری کے حقوق پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں۔ یہ بھی خبر ہے کہ معمول کے سیارے بنانے کا آپریشن بھی اسرو سے باہر چلا جائے گا۔ نئے لانچ سٹیشن اور لانچ کمپلیکس نجی کمپنیوں کے لیے کھولے جا رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرو سے تقریباً 120 ٹیکنالوجیز نجی کمپنیوں کو منتقل کر دی گئی ہیں۔‘
ان سائنسدانوں نے سوال کیا ہے کہ ایک سرکاری خلائی ادارے کے طور پر مستقبل میں اسرو کا کیا رول ہو گا؟
خلائی شعبے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں خلائی سائنسدانوں کی بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان اسرو کے سربراہ وی نارائنن نے گذشتہ دنوں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ادارے کے مختلف مراکز کے ملازمین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس ادارے کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
اس سے ایک روز پہلے انھوں نے کہا تھا کہ ’کچھ ملازمین کے ذریعے خط لکھے جانے کا فوری طور پر تحریری جواب نہیں دیا جا سکتا۔‘
ملازمین کا خط عام ہونے کے بعد ڈاکٹر نارائنن کا ملازمین کے ساتھ یہ پہلا براہِ راست خطاب تھا۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق انھوں نے ملازمین کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اسرو کے مستقبل کے پروجیکٹوں اور اہم مشنوں کا ذکر کیا۔
پردیپ کمار اسرو کے چندریان اور منگل یان جیسے اہم منصوبوں پر کام کر چکے ہیں اور وہ ایک برس پہلے ہی اسرو سے سبکدوش ہوئے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرو یقینی طور پر انڈیا کے ایمبیشس پروگرام کا حصہ ہو گا اور وہ مستقبل کے خلائی پروگرام میں سرکردہ رول ادا کرے گا۔ وہ پرائیوٹ کمپنیوں کی بھی مدد کرے گا۔ اسرو ایک سرکاری ادارہ ہے۔ اس کے بارے میں یہ سوچنا کہ یہ نجی ادارہ بن جائے گا بالکل غلط ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پردیپ کمار کا کہنا ہے کہ پرائیوٹ کمپنیوں کے وجود میں آنے سے اسرو کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔
’دراصل اسرو ان کمپنیوں کو کھڑا کرنے میں ان کی مدد کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ اس شعبے کی عالمی مارکیٹ میں ہمارا حصہ اِس وقت صرف دو سے تین فیصد تک ہے۔ ہم دنیا کے پانچ خلائی مشن والے ملکوں میں شامل ہیں۔‘
’آئیڈیل سچویشن تو یہ ہوتی کہ عالمی مارکیٹ میں ہمارا 20 سے 25 فیصد حصہ ہوتا لیکن ہمارا حصہ صرف دو سے تین فیصد تک محدود ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرو مطلوبہ سائنسدانوں، انجینیئروں اور وقت کی کمی کے سبب یہ ہدف حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرو صرف سرکاری مشنز تک ہی محدود ہو گیا ہے۔ اس لیے پرائیوٹ صنعت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم عالمی مارکیٹ میں 10 سے 30 فی صد تک حصہ داری لے سکیں۔‘
پردیپ کمار کہتے ہیں کہ تربیت یافتہ اور تجربہ کار سائنسدانوں یا ٹیکنیشن کے ادارہ چھوڑ کر جانے سے یقیناً مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
’انڈیا میں بڑی تعداد میں باصلاحیت سائنسدان موجود ہیں۔ سبھی سائنسدان اسرو میں ملازمت نہیں کرتے۔ اس لیے سائنسدانوں کی کمی نہیں ہے۔ لیکن اس وقت چونکہ اسرو اور سبھی نجی خلائی کمپنیاں تقریباً ایک جیسا ہی کام کر رہی ہیں اس لیے بہتر سہولیات اور مواقع کی امید میں سائنسدان نجی کمپنیوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے صورتحال معمول پر آتی جائے گی، تو یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔‘
پردیپ کمار کہتے ہیں کہ ’خلائی شعبے میں نجکاری حکومت کا ایک انقلابی قدم ہے۔ ہم نے گذشتہ دو عشروں میں وہ سبھی صلاحیت حاصل کر لی ہے جو اربوں ڈالر کی غیر ملکی خلائی مارکیٹ کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے درکار ہیں۔ ہم بہت جلد ایک خلائی طاقت کے طور پر اُبھریں گے اور خلائی مارکیٹ میں ہمارا 10 سے 30 فیصد تک حصہ ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسرو کی تعمیر کی ہوئی خلائی بنیاد پر نجی کمپنیاں اب اپنے منافع کے لیے سیٹیلائٹ لانچنگ کی تجارت کریں گی اور منافع کمائیں گی۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض سائنسدان اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ کہتے ہیں کہ اسرو کو کمرشل لانچنگ سے الگ کرنے کے بعد، یہ (اسرو) وہ ادارہ نہیں رہے گا جو وہ کبھی ہوا کرتا تھا۔



















