لائیو, ’بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر‘ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عمان میں اجلاس ملتوی

خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر تبادلۂ خیال کے لیے پیر کو عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ اس کی وجہ ’بعض علاقائی ممالک کی درخواست‘ تھی۔

خلاصہ

  • ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی
  • سابق برطانوی وزیر اعظم اور دیگر حکام کی سٹیشن سے روانگی کے کچھ ہی دیر روس کا یوکرین میں ٹرین پر حملہ
  • سعودی عرب کا یمن کی سرحد سے متصل علاقوں میں اپنے شہریوں کو ممکنہ حملوں سے متعلق انتباہ
  • سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں: حوثیوں کا دعویٰ
  • ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی اور ایندھن کی قیمت 'تیزی سے' کم ہو گی: ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. عمان کے قریب تجارتی بحری جہاز پر حملہ، عملے کے 13 انڈین ارکان کو بچا لیا گیا، ایک تا حال لاپتہ

    انڈین وزارت خارجہ نے جہاز پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے (علامتی تصویر)۔

    ،تصویر کا ذریعہMEHDI MARIZAD/FARS NEWS/AFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈین وزارت خارجہ نے جہاز پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے (علامتی تصویر)

    اتوار کو عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز ایم ٹی ایل گائیا پر حملہ کیا گیا۔ جہاز پر عملے کے 14 انڈین ارکان سوار تھے، جن میں سے 13 کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ ایک انڈین اب بھی لاپتہ ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ نے جہاز پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ وزارت کے مطابق عمان میں انڈین سفارت خانہ پورے واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور لاپتہ شہری کی تلاش اور امدادی کارروائی کے سلسلے میں عمانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    وزارت خارجہ نے کہا: ’ہم سب سے پہلے عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز ایم ٹی ایل گائیا پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ جہاز پر سوار عملے کے 14 میں سے 13 انڈین ارکان کو بچا لیا گیا ہے۔ لاپتہ انڈین شہری کی تلاش جاری ہے۔ عمان میں ہمارا سفارت خانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

    ’سفارت خانہ تلاش اور امدادی کارروائی میں عمانی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ہمارے شہریوں کو بچانے میں مدد پر ہم عمانی حکام کے شکر گزار ہیں۔‘

    وزارت نے کہا: ’ہم کشیدگی میں فوری کمی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی اپنی اپیل دہراتے ہیں۔ خطے میں تجارتی جہازوں، ملاحوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا نا قابل قبول ہے۔‘

  2. سعودی عرب کی ’مشرق۔مغرب‘ تیل پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی سیٹلائٹ تصاویر

    : وینٹور کمپنی کی جانب سے سعودی عرب کی متاثرہ مشرق۔مغرب پائپ لائن کی نئی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہVantor / Reuters

    ،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کی متاثرہ مشرق۔مغرب پائپ لائن کی نئی تصویر جو وینٹور کمپنی نے جاری کی

    سعودی عرب کی ’مشرق۔مغرب‘ تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد وہاں تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔ اب سیٹلائٹ تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں حملے کے نتیجے میں پہنچنے والا نقصان دکھائی دے رہا ہے۔

    اتوار کے روز امریکی نشریاتی ادارے این پی آر کے شعبۂ سائنس کے رپورٹر جیف برومفیل نے خلا سے تصاویر بنانے والی کمپنی وینٹورٹیک کی فراہم کردہ ہائی ریزولوشن تصاویر شائع کرتے ہوئے لکھا: ’آج وینٹورٹیک نے سعودی عرب کی مشرق۔مغرب پائپ لائن کے المسبعہ پمپنگ سٹیشن کو پہنچنے والے نقصان کی ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں۔‘

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملے عراق کی سر زمین سے کیے گئے تھے۔

    سعودی عرب کی متاثرہ مشرق۔مغرب پائپ لائن کی نئی تصویر جو وینٹور کمپنی نے جاری کی

    ،تصویر کا ذریعہVantor / Reuters

    ،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کی متاثرہ مشرق۔مغرب پائپ لائن کی نئی تصویر جو وینٹور کمپنی نے جاری کی

    جمعرات کے روز سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ’مشرق۔مغرب‘ تیل پائپ لائن کے قریب دھویں کے بادل دکھائی دیے تھے۔

    جنگ کے آغاز کے بعد سے مشرق۔مغرب پائپ لائن سعودی عرب کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ آرامکو اس کے ذریعے خلیج فارس کے مشرقی ساحل سے تیل بحیرۂ احمر کے مغربی ساحل تک منتقل کر رہی تھی، جس کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔

    سعودی عرب کی مشرق۔مغرب تنصیبات کی 2025 کی سیٹلائٹ تصویر

    ،تصویر کا ذریعہVantor / Reuters

    ،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کی مشرق۔مغرب تنصیبات کی 2025 کی سیٹلائٹ تصویر

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حملے عراق کے ساتھ اس کی سرحد کے قریب سے کیے گئے، اور اس نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی سر زمین کو سعودی عرب کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

  3. ’بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر‘ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی

    22 جون کی تصویر: ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف عمان کے دار الحکومت مسقط میں عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی سے مصافحہ کر رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشن22 جون کی تصویر: ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف عمان کے دار الحکومت مسقط میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے مصافحہ کر رہے ہیں

    عمان کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر تبادلۂ خیال کے لیے جو اجلاس پیر کو عمان میں ہونا تھا، اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک خلیجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیجی عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان پیر کو عمان میں ہونے والا اجلاس، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایک ممکنہ انتظام پر بات ہونی تھی، مذاکرات کی شرائط پر اختلافات کے باعث ملتوی کیا گیا ہے۔

    یہ اجلاس عمان اور ایران کی اس کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد اس اہم آبی گزر گاہ کے ذریعے جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عارضی فریم ورک کو یقینی بنانا تھا، جو عالمی تیل برآمدات کی ایک اہم شاہراہ ہے۔

    عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ پیر کو صلالہ میں ہونے والا علاقائی اجلاس ’مشترکہ مفاد میں‘ ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    وزیر خارجہ عمان نے ایکس پر اپنے پیغام کے ساتھ بحرین، ایران، عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پرچموں کی تصویر بھی شیئر کی۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا: ’ہم ایسے مکالمے کے فروغ کے لیے پُر عزم ہیں جو ہمارے خطے میں استحکام اور دیر پا تعاون کی حمایت کرے۔‘

    تاہم انھوں نے تاخیر کی وجوہات کی مزید وضاحت نہیں کی۔

    ایرانی حکام نے کہا تھا کہ وہ خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کریں گے تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے نظم و نسق سے متعلق عمان کے ساتھ ایک معاہدہ پیش کر سکیں۔

    روئٹرز کے مطابق ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ عمان میں ہونے والا اجلاس بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا۔ یہ فیصلہ تہران اور مسقط نے مشترکہ طور پر کیا۔ عہدیدار نے کہا کہ اجلاس کے انعقاد کے لیے موزوں تاریخ کے تعین میں ایران عمان کے ساتھ رابطہ کرے گا۔

    یہ التوا سعودی عرب کے اس فیصلے کے فوراً بعد سامنے آیا جس کے تحت اس نے، کم از کم فی الحال، اپنی اس پائپ لائن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ رہی ہے۔

    دوسری جانب، آبنائے ہرمز تیل بردار جہازوں کے لیے بدستور خطرات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ برطانیہ کی بحری سلامتی کی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے اتوار کو کہا کہ ایک بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک میزائل کی زد میں آ گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور عملے کو وہاں سے نکالنا پڑا۔

    ادھر ایران نے کہا کہ اس کے ساحل کے قریب ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور عملے کے چار ارکان زخمی ہو گئے۔

  4. سابق برطانوی وزیر اعظم اور دیگر حکام کی سٹیشن سے روانگی کے کچھ ہی دیر روس کا یوکرین میں ٹرین پر حملہ

    یوکرین کی ٹرین پر روس کا حملہ

    یوکرین-پولینڈ سرحد کے قریب ایک روسی ڈرون نے ایک ٹرین کو اُس وقت نشانہ بنایا، جب سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور یورپی سلامتی کے اعلیٰ حکام کو سٹیشن سے گئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی۔

    یاحودین میں ہونے والے اس حملے میں ٹرین کے انجن کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یوکرینی حکام نے بتایا کہ تمام مسافروں کو پہلے ہی نکال لیا گیا تھا۔

    جانسن اور یورپ کے مشیران برائے قومی سلامتی، جن میں برطانیہ کے جوناتھن پاول بھی شامل تھے، کیئو میں ہونے والی ایک کانفرنس سے واپسی پر ایک دوسری ٹرین کے ذریعے اسی ریلوے لائن سے گزرے تھے۔

    روس نے کہا کہ اس نے مغربی یوکرین میں ’ریلوے انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا، لیکن یوکرین کی سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا نے کہا کہ ’بہت ممکن ہے کہ اس ڈرون کا ہدف سفارتی ٹرین ہو۔‘

    ایک بیان میں کمپنی نے کہا کہ ٹرین ’روسی حملوں کے مسلسل خطرات کی وجہ سے ٹائم ٹیبل میں تبدیلی کے باعث متوقع وقت سے پہلے اسٹیشن چھوڑ چکی تھی۔‘

    کمپنی نے یہ بھی کہا کہ روسی جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرون کے حملے سے ’صرف 15 منٹ‘ پہلے متاثرہ ٹرین کے مسافروں کو نکالنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    ریلوے اتھارٹی نے یہ بھی بتایا کہ ڈرون حملے کے وقت سابق سی آئی اے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس یاحودین سٹیشن پر موجود ایک دوسری ٹرین میں سوار تھے۔

    یوکرینی اور پولش حکام نے کہا کہ روسی ڈرون پولش سرحد سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر گرا۔

    سابق سویڈش وزیر اعظم کارل بلڈٹ، جو کیئو کی کانفرنس میں بھی شریک تھے، نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ٹرین کے مسافروں کو پہلے انخلا کی تیاری کا کہا گیا، لیکن بعد میں انھیں سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

    انھوں نے کہا: ’میں جس ٹرین میں سوار تھا، اس کے رکنے کے بعد ہمیں انخلا کی تیاری کا حکم ملا۔ لیکن چند منٹ بعد ہمیں اطلاع دی گئی کہ سب کچھ محفوظ ہے اور ہم اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔‘

    بعد ازاں وہ ٹرین بحفاظت پولینڈ کے سرحدی سٹیشن دوروہوسک پہنچ گئی۔

    بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ بلڈٹ اسی ٹرین میں سوار تھے جس میں جانسن موجود تھے، لیکن سابق برطانوی وزیر اعظم نے اس بارے میں تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔

    جانسن نے ایکس پر لکھا: ’میں نہیں جانتا کہ آج صبح پولش سرحد پر کھڑی ایک یوکرینی لوکوموٹیو کو تباہ کرنے کے لیے پوتن کو کس منطق نے آمادہ کیا۔‘

    انھوں نے کیئو کے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر یوکرینیوں کو ’وہ فضائی دفاعی نظام فراہم کریں جن کی انھیں ضرورت ہے۔‘

    یوکرین اپنے اتحادیوں، خصوصاً امریکہ، سے بار بار مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے روسی حملوں سے دفاع کے لیے مزید انٹرسیپٹر فراہم کریں، کیونکہ روسی حملوں میں تیزی سے حرکت کرنے والے بیلسٹک میزائلوں اور جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

  5. سعودی عرب کا یمن کی سرحد سے متصل علاقوں میں اپنے شہریوں کو ممکنہ حملوں سے متعلق انتباہ

    سعودی عرب اور یمن کی سرحد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب نے یمن کی سرحد سے متصل دو علاقوں میں اپنے شہریوں کو ممکنہ حملوں سے خبردار کیا ہے۔

    سعودی عرب کے ادارہ سول ڈیفنس نے اتوار کو یمن سے ملحق دو علاقوں کے لیے ممکنہ حملوں کا انتباہ جاری کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق یہ انتباہ ابہا اور خمیس مشیط کے قریبی علاقوں کے لیے جاری کیا گیا تھا، تاہم اسے کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا۔

    یہ وارننگ حوثی ذرائع ابلاغ کی جانب سے شمالی یمن میں سرحد کے قریب سعودی حملوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی۔

    یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی گزشتہ ہفتے سے شدت اختیار کر گئی ہے۔

    20 جولائی کو حوثیوں نے سعودی ناکہ بندی کے جواب میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

    گزشتہ ہفتے حوثیوں نے ایک بڑی کارروائی کے بعد بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی علاقے اور آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا اور اس صورتحال میں یمنی حکومتی فورسز کو وہاں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

  6. سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں: حوثیوں کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حوثیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔

    چینل کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے تعز میں ان علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمنی حکومتی فورسز کے خلاف اہم فوجی پیش رفت کی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق المسیرہ نامی حوثیوں کے ٹی وی چینل نے یہ بھی بتایا کہ ’سعودی فضائی حملوں میں شمالی یمن میں حوثیوں کے اہم گڑھ صعدہ میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسی صوبے کے سرحدی علاقے منبہ میں توپ خانے سے فائرنگ کی گئی۔‘

    اس سے قبل حوثی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ گروپ نے جنوبی سعودی عرب میں ایک فوجی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب سعودی تیل کے تاجروں اور شراکت داروں کا کہنا ہے کہ ’اگر سعودی عرب چند روز میں اپنی اہم مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل پائپ لائن بحال کرنے میں ناکام رہا تو عالمی تیل کی رسد میں چار فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔‘

    سعودی عرب کی جانب سے 20 جولائی کو حوثیوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کے بعد حوثیوں نے بھی جوابی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔

    ایران کے اتحادی حوثیوں نے گزشتہ ہفتے ایک بڑی کارروائی کے دوران بحیرۂ احمر کے مغربی ساحل اور باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے نتیجے میں حکومتی فورسز کو وہاں سے پسپا ہونا پڑا۔

    اقوام متحدہ نے اتوار کو بتایا تھا کہ یمن میں حکومتی فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت کے باعث تقریباً 86 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو ایک روز پہلے کے مقابلے میں 10 ہزار زیادہ ہیں۔

  7. ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی اور ایندھن کی قیمت ’تیزی سے‘ کم ہو گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران ’شدت سے‘ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔‘

    آئرش اوپن گالف ٹورنامنٹ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران بار بار رابطہ کر رہا ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو اس کے لیے اچھا نہ ہو۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد، بلکہ اس سے پہلے بھی‘ ختم ہو سکتی ہے اور اس کے بعد ایندھن کی قیمت ’تیزی سے‘ کم ہو جائے گی۔‘

    ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔

    دوسری جانب خلیجِ فارس اور خلیجِ عمان سے متصل ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایران کی شرکت سے ہونے والے اجلاس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ معاملہ ان کے لیے اہم نہیں اور متعلقہ ممالک خود اس سے نمٹیں گے۔‘

    ایران کے مطابق عمان میں ہونے والے اس اجلاس میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے لیے ایک نئے راستے پر بات ہوگی۔

    امریکی صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
  8. ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف دفاع کیا ہے: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ایران نے حالیہ جنگ شروع نہیں کی بلکہ تہران تو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع پر مجبور ہوا ہے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں کے باوجود ایرانی قوم مزید متحد ہوئی۔

    ایرانی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی اور اسرائیلی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا اور اس کی جوہری تنصیبات کی بڑے پیمانے پر نگرانی ہوتی رہی ہے۔‘

    جنگ بندی کے بارے میں پزشکیان نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا، جبکہ تہران معاہدے کے قریب تھا۔‘ ان کے مطابق بعد میں ایران نے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مسترد کر دیا۔

    انھوں نے امریکہ پر ایران پر پابندیاں عائد کرنے، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور خوراک و ادویات کی درآمد میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدامات امریکی انسانی حقوق کے دعووں کے منافی ہیں۔‘

    ایران اور انڈیا کے تعلقات پر پزشکیان نے دونوں ممالک کے تاریخی و ثقافتی روابط کا حوالہ دیا اور کہا کہ بندرگاہِ چابہار سمیت تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر انڈین حکام سے بات ہوئی ہے۔

    انھوں نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، پاکستان، قطر، روس اور چین سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو دوستانہ قرار دیا اور کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے بنیادی مسئلہ ہیں۔

    برکس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس اتحاد کا مقصد امریکی بالادستی کا مقابلہ کرنا اور رکن ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

  9. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں کوئلہ کان میں حادثے کے نتیجے میں کم از کم چار کان کن ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزداہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے اور ’امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھنے‘ کی یقین دہائی کروائی ہے۔
    • حکومت پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے لیے خصوصی سکیم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔
    • بلوچستان حکومت نے ریاست مخالف بیانیے کے الزام پر کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر 16 ہزار 367 سائٹس بند کرنے جبکہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 100 سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • ایوانِ صدر کے ترجمان نے صدر آصف علی زرداری کے حالیہ غیرملکی دورے سے متعلق میڈیا کے بعض حلقوں میں شائع ہونے والی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کا یہ دورہ مکمل طور پر نجی نوعیت کا تھا اور اس کے تمام اخراجات انھوں نے اپنی ذاتی حیثیت میں ادا کیے۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔