’یہ حادثہ نہیں، منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے‘: فلسطینیوں کے قتل پر بننے والی فلم اور اسرائیلی وزیر کی ہدایتکار کو شہریت ختم کرنے کی دھمکی

اسرائیلی ہدایت کار یووال ابراہام اور ریچل زار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

اسرائیل کی وزیرِ ثقافت میکی زوہر نے غزہ میں شہری ہلاکتوں سے متعلق دستاویزی فلم ’نازا‘ کے اسرائیلی ہدایت کاروں یووال ابراہام اور ریچل زار کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر ’ریاست سے غداری‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس فلم کے ڈائریکٹرز ریچل زار اور یووال ابراہام اس سے قبل 2024 کی آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’نو ادر لینڈ‘ بنا چکے ہیں، جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جدوجہد کو اجاگر کیا گیا تھا۔ ابراہام نے وینس فلم فیسٹیول میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ’نو ادر لینڈ‘ میں دکھائے گئے واقعات سخت اور تکلیف دہ تھے، تاہم اس میں امید کی ایک جھلک موجود تھی، جبکہ ’نازا‘ ایک ایسے دور کی عکاسی کرتی ہے جسے وہ انتہائی تاریک قرار دیتے ہیں۔

گارڈیئن کے اشتراک سے تیار کی گئی اس فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ 24 مخبروں کے بیانات شامل ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ پر حملوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ہدفی نظام استعمال کیے گئے جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے۔

80 منٹ دورانیے کی اس فلم کو وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ اس کے پریمیئر پر 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی۔

فلم میں ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک حماس رکن کو نشانہ بنانے کے لیے 500 شہریوں کی ہلاکت کی منظوری دی گئی تھی۔

اسرائیلی وزیرِ ثقافت نے دستاویزی فلم کے ہدایت کاروں پر دنیا بھر میں ’یہود مخالف عناصر‘ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے ملک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر، سابق وزیرِ دفاع ایویگڈور لیبرمین اور سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی فلم اور اس کے ہدایت کاروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب بائیں بازو کے بعض اسرائیلی رہنماؤں اور اخبار ہاریٹز نے فلم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غزہ میں جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور الزامات پر عوامی بحث کو فروغ دیتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ابتدا میں فلم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گمنام گواہیوں پر اعتراض کیا تھا، تاہم بعد میں کہا کہ ان دعوؤں کا تفصیلی اور شواہد پر مبنی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 73 ہزار سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔

اسرائیلی ہدایت کار یووال ابراہام اور ریچل زار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ابراہم نے کہا کہ فیسٹیول کے آغاز کے بعد کے 10 دنوں میں اسرائیل نے غزہ میں کم از کم چھ فلسطینی بچوں کو قتل کیا ہے۔‘

انھوں نے حاضرین سے کہا کہ ’جن اسرائیلی انٹیلی جنس افسران سے ہم نے بات کی، انھوں نے ہمیں بتایا کہ یہ بڑے پیمانے پر قتل کے ایک منظم نظام کا حصہ ہے۔ یہ حادثاتی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے اور اس کی بنیاد فلسطینیوں کو مکمل طور پر غیر انسانی سمجھنے والی پالیسیوں اور قتل کی کارروائیوں پر ہے۔‘

خصوصی جیوری ایوارڈ ہر سال کسی نمایاں تخلیق کو سراہنے کے لیے دیا جاتا ہے، تاہم اس کی درجہ بندی گولڈن لائن اور سلور لائن ایوارڈز سے نیچے ہوتی ہے۔

ابراہم اور زور نے 2025 میں اپنی فلم ’نو ادر لینڈ‘ پر آسکر جیتا تھا، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے بارے میں تھی۔

حمیدان بلال آسکر ایوارڈز میں "نو ادر لینڈ" کے لیے بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ جیتنے کے بعد ریچل زار کے ساتھ تصویر بنوا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحمیدان بلال آسکر ایوارڈز میں ’نو ادر لینڈ‘ کے لیے بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ جیتنے کے بعد ریچل زار کے ساتھ

فلم ’نازا‘ میں اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں کے چونکا دینے والے انکشافات

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی نئی دستاویزی فلم ’نازا‘ میں اسرائیلی انٹیلی جنس اور فوج سے وابستہ 24 گمنام افراد نے غزہ میں فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار پر اہم انکشافات کیے ہیں۔

فلم کے مطابق ان میں سے کئی اہلکاروں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے نظاموں کی تیاری میں حصہ لیا، جو فون سگنلز کا تجزیہ کر کے غزہ میں بمباری کے لیے اہداف کی نشاندہی کرتے تھے۔ ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے کام کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی جانیں گئیں، لیکن انہوں نے خود کو صرف ایک تکنیکی کردار تک محدود سمجھا۔

گارڈیئن کے مطابق اسرائیلی فلم ساز ریچل زار اور یووال ابراہام کی ہدایت کاری میں بننے والی اس دستاویزی فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے ’نازا‘ نامی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جس سے مراد کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد ہوتی ہے۔

فلم میں شامل ایک ذریعے کے مطابق ایک موقع پر ایک حماس رکن کو نشانہ بنانے کے لیے 500 شہریوں کی ہلاکت تک کی منظوری دی گئی تھی۔ فلم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماس کے مشتبہ ارکان کو اکثر رات کے وقت ان کے گھروں میں نشانہ بنایا جاتا تھا، چاہے اس کے نتیجے میں خاندانوں اور پڑوسیوں کی جانیں ہی کیوں نہ چلی جائیں۔

دستاویزی فلم میں فوج اور انٹیلی جنس کے 24 گمنام اہلکاروں کو سائے میں اور تبدیل شدہ آوازوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ ہدایت کاروں کے مطابق فلم کا مقصد صرف واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ اس پورے نظام اور اس میں شامل مختلف کرداروں کی ذمہ داریوں کو سامنے لانا ہے۔

آسکر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنباسل العدرا کی دُہائیاں کوئی بھی نہیں سنتا جب ایک دن ان کی ایک یہودی اسرائیلی صحافی یووال ابراہیم سے دوستی ہوتی ہے جو ان کی کہانی کو دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ برس 2025 میں آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’نو ادر لینڈ‘ کے اسرائیلی صحافی یووال ابراہام نے بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ 97 ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں ان کی تقریر رات کے نمایاں سیاسی لمحات میں سے ایک سمجھی گئی۔

ابراہام نے اپنے فلسطینی ساتھی صحافی باسل عدرا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ انہیں اپنا بھائی سمجھتے ہیں، لیکن دونوں کی زندگیوں میں واضح عدم مساوات موجود ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ دونوں عوام کے لیے قومی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے نسلی برتری کے بغیر ایک سیاسی حل ممکن ہے، تاہم ان کے بقول امریکی خارجہ پالیسی اس راستے کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

فلسطینی صحافی باسل عدرا نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے اکیڈمی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا تھا کہ وہ دو ماہ قبل ایک بیٹی کے والد بنے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی بیٹی کو وہ زندگی نہ گزارنی پڑے جس میں انھیں آبادکاروں کے تشدد، گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی کے خوف کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ عدرا نے کہا کہ فلم ان تلخ حقائق کی عکاسی کرتی ہے جن کا فلسطینی کئی دہائیوں سے سامنا کر رہے ہیں۔

فلم ’نو ادر لینڈ‘ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا کے تقریباً 20 دیہاتوں اور وہاں کے رہائشیوں کی جدوجہد پر مبنی ہے، جبکہ یہ باسل عدرا اور یووال ابراہام کی دوستی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے اور وہاں قائم اسرائیلی آبادیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں، اگرچہ اسرائیل اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے۔