انڈیا کا سفارتی امتحان: ’نئی دہلی اعلامیہ‘ برکس ممالک کے درمیان کن اختلافات کو ظاہر کرتا ہے؟

Russia's President Vladimir Putin, India's Prime Minister Narendra Modi and China's President Xi Jinping pose for a family photo during the BRICS summit in New Delhi, India, September 12, 2026

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن(بائیں سے) روسی صدر ولادیمیر پوتن، انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ دہلی میں برکس سربراہی اجلاس میں
    • مصنف, آزادے مشیری
    • عہدہ, نامہ نگار برائے جنوبی ایشیا، نئی دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

دنیا کی چند سب سے بااثر شخصیات سنیچر کے روز نئی دہلی میں ایک بڑی گول میز کے گرد جمع ہوئیں۔

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ ان کے ساتھ موجود رہنماؤں کو ’قواعد کے پیروکار‘ نہیں بلکہ ’قواعد تشکیل دینے والے‘ بننا چاہیے۔

ان کی بات سننے والوں میں برکس اتحاد کے رہنما شامل تھے جن میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا شامل تھے۔

فطری طور پر یہ رہنما آپس میں اتحادی نہیں سمجھے جاتے۔ ان کے درمیان سرحدی تنازعات اور حتی کہ فوجی تصادم کی تاریخ بھی موجود ہے۔

انڈیا اور چین کے درمیان 2020 میں متنازع سرحد پر ایک مہلک جھڑپ ہوئی تھی۔ ایران اور متحدہ عرب امارات بھی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں مخالف فریقوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تہران کی جانب سے اپنے ہی برکس رکن ملک کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں نے عالمی معیشتوں پر بھی اثرات مرتب کیے۔

یہ حقیقت کہ انڈیا ان تمام رہنماؤں کو ایک جگہ جمع کرنے میں کامیاب ہوا، اپنے آپ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی اور اس کے عالمی اثر و رسوخ کا ثبوت ہے۔ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے اجلاس نے ممالک کو ایران کی جنگ کے تناظر میں اپنے تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کیا۔

تاہم نئے عالمی نظام کی شکل کیا ہونی چاہیے، اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا اور واضح و ٹھوس نتائج حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ یہی کشیدگی اس سربراہی اجلاس میں نمایاں رہی۔

مغربی اثر و رسوخ کے مقابل ایک توازن

چین، روس اور ایران جیسے رکن ممالک کے لیے برکس ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے امریکہ اور مغربی یورپ کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم انڈیا برکس کو مغرب مخالف اتحاد کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرتا آیا ہے۔ خود نریندر مودی نے اجلاس کے دوران کہا کہ یہ گروپ ’کسی کے خلاف نہیں ہے۔‘

یہ فرق نئی دہلی کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات رکھتے ہیں۔

انڈیا کے سینیئر سفارت کار اور سابق سفیر انیل ترگنایت کہتے ہیں کہ ’اس گروپ میں کچھ ممالک ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ یہ مغرب مخالف اتحاد بن جائے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔‘

ان کے نزدیک انڈیا نے جو کامیابی حاصل کی ہے، وہ ’جنگ کے دور میں سٹریٹیجک خودمختاری‘ کو فروغ دینا اور رکن ممالک کے درمیان ’زیادہ تعاون بڑھانے‘ کی کوشش ہے۔

U.S. President Donald Trump turns to wave toward gathered media while walking with Irish President Catherine Connolly during the official farewell as he leaves Aras an Uachtarain on September 12, 2026, in Dublin, Ireland. (

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرکس اتحاد نے امریکی ٹیرف کی بھی مخالفت کی

مشترکہ اعلامیے میں کیا تھا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سربراہی اجلاس ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم رکن ممالک کے درمیان اختلافات شاید پہلے کبھی اتنے نمایاں نہیں تھے۔

اس سے قبل رواں سال دو مرتبہ برکس مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس بار اتفاقِ رائے حاصل کر لیا گیا لیکن ان معاملات سے گریز کرتے ہوئے جن پر ارکان کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں اور بہت کم عملی حل پیش کیے گئے۔

’نئی دہلی اعلامیہ‘ اجلاس کے پہلے دن منظور کیا گیا۔ تاہم سب سے زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس میں کیا شامل نہیں ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے حوالے سے اعلامیے میں ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ اختیار کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس میں ’شہری تنصیبات اور پُرامن جوہری مراکز پر حملوں‘ کی مذمت بھی کی گئی ہے۔ لیکن کسی فریق کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔

اعلامیے میں دو ریاستی حل کی حمایت دہرائی گئی ہے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی یا ایسے اقدامات کی مخالفت کی گئی ہے جو ’قبضے کو قانونی حیثیت دینے یا اسے طول دینے‘ کا باعث بن سکتے ہوں۔ اس مؤقف کو اقوام متحدہ کی موجودہ قراردادوں کے تناظر میں محتاط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اس میں روس اور یوکرین کی جنگ کا سرے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جو برکس کے سابقہ اعلامیوں کے مقابلے میں ایک مختلف طرزِ عمل ہے۔

تجارت کے معاملے میں بھی اسی طرح کا محتاط رویہ اپنایا گیا ہے۔ اعلامیے میں ’بلاامتیاز بڑھتے ہوئے محصولات‘ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور یکطرفہ پابندیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ لیکن امریکہ کا نام لینے سے گریز کیا گیا۔ اس سے غالباً واشنگٹن کی ناراضی سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

برکس کے کئی رکن ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی مول لینے سے گریز کرنا چاہتے تھے۔ برکس کی بعض سابقہ تجاویز میں سرحد پار تجارت کے لیے مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کو آپس میں مربوط کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ اسے ماضی میں ’امریکہ مخالف‘ قرار دیا جا چکا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینیئر تجزیہ کار پروین دونتھی کہتے ہیں کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کی مذمت کے باوجود کسی ملک کا نام نہ لینا، واضح طور پر انڈیا کے اندازِ سفارت کاری کی عکاسی کرتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ محصولات کے معاملے کا نسبتاً مضبوط حوالہ دیا گیا، کیونکہ انڈیا شاید اس موضوع پر براہ راست کوئی موقف اختیار نہیں کرنا چاہے گا۔ لیکن ممکن ہے یہ اپنی ناراضی ظاہر کرنے کا ایک موقع بھی رہا ہو۔‘

Iranian President Masoud Pezeshkian meets with Abu Dhabi Crown Prince Sheikh Khaled bin Mohamed bin Zayed Al Nahyan of the United Arab Emirates (UAE) on the sidelines of the 18th BRICS Summit held in New Delhi, India on September 12, 2026

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایران کے مسعود پزشکیان (دائیں) اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان نے برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بات چیت کی

سربراہی اجلاس سے آگے

صدر ٹرمپ کی تجارتی دھمکیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے بعد نیا عالمی نظام برکس کے بہت سے رکن ممالک کے لیے ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔

تاہم اس سربراہی اجلاس نے ایک ایسا پلیٹ فارم ضرور فراہم کیا جہاں ایسی ملاقاتیں ممکن ہوئیں جن کا چند ماہ پہلے تصور کرنا بھی مشکل تھا۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے ایک ساتھ ملاقات کی۔ جنگ کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ سب سے اعلیٰ سطح کی براہِ راست ملاقات تھی۔

یہ اجلاس تہران کے لیے یہ دکھانے کا بھی موقع تھا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں اور معاشی دباؤ کے باوجود تنہا نہیں ہے۔

امریکی پابندیوں، واشنگٹن کی ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ مہم اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کے درمیان، پزشکیان نے ملائیشیا، انڈیا اور ایتھوپیا سمیت برکس کے رکن ممالک کے ساتھ مزید گہرے اقتصادی تعلقات پر زور دیا۔

جہاں تک چین کا تعلق ہے، یہ صدر شی جن پنگ کا سات برس بعد دہلی کا پہلا دورہ تھا۔ 2020 کے سرحدی تنازعے کے بعد سے چین اور انڈیا کے درمیان گہرا عدم اعتماد موجود رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بھی بڑا عدم توازن موجود ہے جس میں واضح برتری چین کو حاصل ہے۔

شی جن پنگ اور نریندر مودی کے درمیان دوستانہ مصافحہ ہوا۔ تاہم مودی اپنے گرمجوشانہ اندازِ میں گلے نہیں ملے۔

شی جن پنگ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے لیے وہاں رہے اور سنیچر کی شب مودی کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں بھی شریک نہیں ہوئے۔

اس کے باوجود یہ ان دو ممالک کے لیے ایک اہم موقع تھا جن کے تعلقات طویل عرصے سے پیچیدہ رہے ہیں۔ سرکاری اعلامیوں کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارتی روابط اور نقل و حمل کے رابطوں کو مضبوط بنانے اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے پر اتفاق کیا۔

انیل ترگنایت کا ماننا ہے کہ یہ حالیہ برسوں میں تعلقات میں بتدریج بہتری کا حصہ ہے اور دونوں فریق مل کر کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا اس سے کوئی ٹھوس پیش رفت بھی ہو گی یا نہیں۔

ان کے بقول ’میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اعتماد ضرور کریں، لیکن پہلے تصدیق کر لیں۔‘

آگے کیا ہوگا؟

اس سربراہی اجلاس نے ظاہر کیا کہ برکس مغربی ممالک کے زیرِ اثر اداروں سے ہٹ کر اپنے رکن ممالک اور حریف ریاستوں کے لیے بات چیت اور سفارتی روابط کا ایک متبادل پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟

یہ بات واضح ہے کہ برکس کے رکن ممالک پہلے سے زیادہ اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

لیکن اس موجودہ نظام کی جگہ کیا اپنایا جائے اور وہاں تک کیسے پہنچا جائے، اس کا جواب دینا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

اضافی رپورٹنگ: شارلٹ سکار