’پنجاب کو پڑوسی صوبوں سے نہیں، آپ کی سوچ سے خطرہ ہے‘: مریم نواز کو متنازع بیان پر تنقید کا سامنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو اپنے اُس متنازع بیان پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ پنجاب کو پڑوسی ممالک کی نسبت پڑوسی صوبوں سے خطرے کا زیادہ سامنا ہے۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے (پنجاب کو) جو تھریٹ (خطرہ) ہے وہ میرے پڑوسی ممالک سے کم ہیں اور میرے پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہیں۔‘
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’وہاں (صوبوں) سے دہشتگردی پنجاب میں آتی ہے۔‘
پاکستان کے سوشل میڈیا پر جہاں کئی سیاستدان اور تجزیہ کار اُن کے اس بیان کو ’حساسیت سے عاری‘ اور ’تعصبانہ‘ قرار دے رہے ہیں وہیں بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے ان لوگوں کو تقویت ملے گی جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ مریم نواز کے بیان پر بے جا تنقید کرنے والے حقائق سے بے خبر ہیں اور انھیں سمجھنا چاہیے کہ جدید گورننس صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں، امن، قانون، ٹیکنالوجی اور عوام کے تحفظ کے لیے جدید نظام کھڑا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
لیکن یہ معاملہ کیا ہے، وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے اپنے بیان میں کیا کہا اور اس پر تنقید کیوں جا رہی ہے؟
’پنجاب کو ہمسایہ ممالک کی نسبت ہمسایہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
مریم نواز نے یہ بیان سنیچر کے روز لاہور میں ’پرووینشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر پنجاب‘ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران دیا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) ہب قائم کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ مرکز (پرووینشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر پنجاب) صوبے کی خطرات کا پیشگی اندازہ لگانے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گا، سکیورٹی اداروں کے درمیان باہمی رابطے کو بہتر بنائے گا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت ردِعمل کو یقینی بنائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اپنے اسی خطاب کے دوران انھوں نے وہ بات کی جو بعدازاں تنازعے کا باعث بنی۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب کو ہمسایہ ممالک کی نسبت ہمسایہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے۔ ’آپ خود دیکھیے کہ ٹرائی بارڈر ایریاز ہیں۔۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے تھریٹ جو ہے وہ میرے پڑوسی ممالک سے کم ہیں اور میرے پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہیں۔ وہاں سے دہشتگردی پنجاب میں آتی ہے۔‘
یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ملتی ہیں جبکہ مشرق کی جانب اس کی سرحد پڑوسی ملک انڈیا سے ملتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب کے اوپر سب کی نظر ہے تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پنجاب ایک محفوظ صوبہ ہے جہاں جس قسم کے تھریٹ کا ہمیں سامنا ہے، تمام صوبوں کے بارڈرز سے، اس کے لیے ہم نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ٹیکنالوجی پر کام کیا گیا ہے۔‘
مریم نواز نے کہا کہ اُن کی حکومت نے پنجاب کی سکیورٹی اور سیفٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اربوں روپے ٹیکنالوجی میں لگائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وہ وزیرِ اعلیٰ بنیں تو انھوں نے دیکھا کہ سکیورٹی اہلکاروں سے زیادہ ٹیکنالوجی، شدت پسندوں کے پاس ہوتی تھی۔ ’اُن کے پاس نائٹ وژن گلاسز ہیں، اور وہ بہت منصوبہ بندی کے ساتھ آتے تھے، لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس بھی وہ سارا سسٹم موجود ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی بلٹ پروفنگ کی گئی ہے کیونکہ شدت پسند اس کو نشانہ بناتے تھے، اسی طرح اب حکومت نے تھرمل کیمرے لگائے ہیں جبکہ ڈرونز پر بھی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
سکیورٹی اداروں کی چیک پوسٹوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’دو، ڈھائی سال پہلے کی چیک پوسٹ دیکھیں، ایسا لگتا تھا کہ چند بوریاں رکھ کر مٹی کی دیواروں کے پیچھے سکیورٹی اہلکار بنا کسی حفاظت کے بیٹھے ہیں۔ آج آپ جا کر دیکھیں، اونچی اونچی دیواریں ہیں، محفوظ کمرے ہیں، کسی حملے کی صورت میں وہ پناہ لے سکتے ہیں، یا اپنی جان بچا سکتے ہیں۔‘
’تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دینا ملک کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے اس بیان کے بعد انھیں سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے مریم نواز کے بیان کو تعصب پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ’بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ پاکستان مسلم لیگ ن کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- ’لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے۔‘
بعدازاں سنیچر کی شام سندھ کے ضلع میرپورخاص میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ’پنجاب کی وزیراعلیٰ انڈیا کو دوست کہتی ہیں، انڈیا سے کوئی مسئلہ نہیں مگر پاکستان کے سرحدی صوبوں سے مسئلہ ہے۔‘
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مریم نواز کے اس بیان کو ’توہین آمیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا گذشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کر رہا ہے اور اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت اسی صوبے کے عوام نے ادا کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’افسوسناک امر یہ ہے کہ ان بے شمار قربانیوں کو تسلیم کرنے اور خیبر پختونخوا کے عوام، شہدا کے خاندانوں اور پولیس اہلکاروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انھیں طعنے دینا اور ان کی مشکلات کا مذاق اڑانا نہ صرف سیاسی بے حسی بلکہ قومی سطح پر انتہائی افسوسناک رویہ ہے۔۔۔ خیبر پختونخوا کے عوام اور پولیس نے پاکستان کے امن کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، انھیں کسی سیاسی بیان یا تضحیک سے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔‘
سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے ایکس پر مریم نواز کا بیان شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بیان نہ صرف انتہائی تضحیک آمیر اور تقسیم کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سے لاعلمی اور غرور کی جھلک بھی ملتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کا پڑوسی صوبہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ شدت پسندی سے متاثرہ رہا ہے جبکہ پڑوسی ملک انڈیا کو باآسانی بری الذمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکنِ اسمبلی محسن داوڑ نے مریم نوز کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ’جس دہشت گردی کو آپ آج پنجاب کے لیے خطرہ کہہ رہی ہیں، اس کے معمار آپ کی اپنی پنجابی اشرافیہ ہے۔ آپ تپش محسوس کر رہی ہیں، ہم دہائیوں سے جل رہے ہیں۔‘
خیبر پختونخوا سے ہی تعلق رکھنے والی سابق رکنِ اسمبلی بشریٰ گوہر نے تبصرہ کیا کہ ’قتل بھی ہم ہوں، اور الزام بھی ہم پر۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے بلوچستان سے رکنِ قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے مریم نواز کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’پنجاب کو پڑوسی صوبوں اور وہاں بسنے والے لوگوں سے نہیں، آپ کی سوچ سے خطرہ ہے۔ دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کی غیر ضروری پروفائلنگ کرنے کے بجائے صوبے کے بارڈر منیجمنٹ کو بہتر کریں۔‘
پی پی پی کے سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی صوبہ، ذات یا مذہب نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں کوئی اپنے ایجنڈے کے لیے پاکستان میں لایا ہے۔ ’کوی جماعت یا طبقہ اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور کوئی اس کا متاثرہ ہے۔‘
صحافی بینظیر شاہ نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی آبادی والے اور طاقتور صوبے کی وزیراعلیٰ کے اس بیان کی نوعیت خاصی معنی خیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پنجاب‘ بمقابلہ ’دیگر صوبوں‘ کی زبان دراصل اُسی احساسِ برتری کو تقویت دیتی ہے جو طویل عرصے سے صوبائی سطح پر پائے جانے والے تحفظات اور ناراضی کا باعث بنتا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بیان 2010 میں شہباز شریف کی اُس اپیل کی بھی یاد دلاتا ہے جس میں انھوں نے دہشت گردوں سے پنجاب کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی تھی۔ ’دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کی ضرورت کے اس دور میں اس نوعیت کا بیان دینا انتہائی نامناسب ہے۔‘
سماجی کارکن عمار علی جان نے لکھا کہ اس طرح کے نسل پرستانہ تبصرے ان عناصر کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
’تلخ مگر سچ ہے‘
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سوشل میڈیا پر ہونے والی اس تنقید کا جواب دیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تنقیدی ٹویٹ کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز کے بیان پر واویلا کرنے والوں کو پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ جدید گورننس صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں، امن، قانون، ٹیکنالوجی اور عوام کے تحفظ کے لیے جدید نظام کھڑا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز کا واضح مؤقف ہے کہ جرم ہونے کے بعد کارروائی کافی نہیں، ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرے اور جرم کو پہلے سے شناخت کرکے روکنا اصل کامیابی ہے۔ اور یہی فرق ہے حکومت کرنے اور صرف سیاست کرنے میں۔‘
پنجاب کی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ خارجہ امور اور بیرونی خطرات وفاقی دائرۂ اختیار میں ہیں، جبکہ پنجاب حکومت کی ذمہ داری گورننس اور داخلی سلامتی ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اسی سمت میں کام کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا جیسے دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں ترجیح پولیس، سی ٹی ڈی اور انسدادِ دہشت گردی ہونی چاہیے، نہ کہ وفاقی خارجہ امور میں مداخلت، دوسرے صوبوں میں سیاسی سرگرمیاں اور احتجاجی سیاست۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے دور میں وفاقی وزیرِ برائے اطلاعات فواد چوہدری بھی کچھ اس ہی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے نظر آئے۔
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’تلخ مگر سچ! پنجاب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری قبائلی اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تنازعات سے پیدا ہونے والے خطرات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہاں مریم نواز شریف بالکل صحیح ہیں۔‘
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاالدین یوسفزئی کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے ایک اہم مسئلے کی جانب اشارہ کیا ہے۔
’پنجاب کے پاس اپنے شہریوں کو شدت پسند حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے درکار ٹیکنالوجی اور وسائل موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام بھی اسی سطح کے تحفظ کے حق دار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو بھی یکساں وسائل، جدید سہولتیں اور اختیارات فراہم کیے جانے چاہییں تاکہ وہ شدت پسندی کا مؤثر مقابلہ کر سکیں اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔




















