نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر تعینات ہونے والے میجر جنرل فیصل نصیر کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر دیا ہے۔
اس ضمن میں جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اُن کی یہ تقرری تین سال کے لیے کی گئی ہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ، جسے ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ان کی تقرری وفاقی حکومت کی منظوری سے کی گئی ہے اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گی۔
نیکٹا کا ادارہ سنہ 2008 میں وزارتِ داخلہ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کا کام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی حکمت عملی مرتب کرنا، ایکشن پلان تیار کرنا، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا اور وفاقی حکومت کو پیش رفت سے آگاہ کرنا ہے۔
نیکٹا کو ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تشکیل دیے گئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
پاکستان کے عوامی حلقوں میں میجر جنرل فیصل نصیر کا نام نیا نہیں ہے۔
اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کامیاب عدم تحریک کے بعد اُن کی جانب سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا گیا تھا اور احتجاجی جلسوں اور تقاریر کے دوران وہ میجر جنرل فیصل نصیر کا نام لے کر اُن پر شدید تنقید کرتے تھے۔
تین نومبر 2022 کو لانگ مارچ کے دوران جب ایک قاتلانہ حملے میں عمران خان زخمی ہوئے تو انھوں نے اس حملے کا الزام جن تین شخصیات پر عائد کیا تھا اس میں سے ایک فیصل نصیر تھے۔ تاہم پاکستانی فوج نے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPTI
ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ’میجر جنرل فیصل نصیر کو عہدے سے ہٹایا جائے یا ان کا تبادلہ کیا جائے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جا رہا۔
بعدازاں اپنے ایک بیان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ ’عمران خان کے ادارے اور مخصوص افسر کے خلاف بے بنیاد الزامات ناقابل قبول ہیں۔‘
آئی ایس پی آر نے اپنی پریس ریلیز میں یہ بھی کہا تھا کہ ’فوج نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ادارے اور اس کے سینیئر افسر کے خلاف ہتک عزت پر قانونی کارروائی کی جائے۔‘
میجر جنرل فیصل نصیر کون ہیں؟
بی بی سی اُردو کی ایک رپورٹ کے مطابق فوجی افسر فیصل نصیر کو سنہ 2022 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی جس کے بعد وہ اگست 2022 میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں تعینات ہوئے تھے۔
وہ آئی ایس آئی کے انٹرنل ونگ جسے عام طور پر ’پولیٹیکل ونگ‘ یا صرف ’سی‘ بھی کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہے ہیں۔ اس عہدے کو عام طور پر ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے مراد کاؤنٹر انٹیلیجنس نہیں، بلکہ یہ محض ایک حرف کے طور استعمال ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی میں ان کے علاوہ ڈی جی اے، بی وغیرہ جیسے مخفف بھی استعمال ہوتے ہیں۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی بطور میجر جنرل اسی عہدے پر تعینات رہے تھے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں یفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو ’سیاسی سرگرمیوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی‘ سمیت چار الزامات پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔
میجر جنرل فیصل نصیر نے فوج کی پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا اور اپنے کیریئر کے ابتدائی حصے میں ہی وہ کور آف ملٹری انٹیلیجنس میں چلے گئے جس کے بعد ان کا کیریئر انٹیلجنس اسائنمنٹس تک رہا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ ان سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ انھیں اپنے اب تک کے کیریئر کے دوران تمغہ بسالت اور امتیازی سند جیسے گیلنٹری ایوارڈز کے علاوہ آرمی چیف کمینڈیشن کارڈ بھی مل چکا ہے۔
اپنے کیریئر کے دوران جنرل فیصل دو مرتبہ بلوچستان میں تعینات رہے۔ 2022 میں بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی (جو اب وزیر اعلیٰ بلوچستان ہیں) نے بتایا تھا کہ میجر جنرل فیصل بلوچستان میں انتہائی کشیدہ حالات کے دوران تعینات رہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’ہم نے انھیں انسداد دہشت گردی، اور کاؤنٹر انٹیلجنس کے معاملات جن میں چاہے لشکر جھنگوی ہو یا داعش یا دیگر ممالک کی ایجنسیاں، انھیں نہایت ذہانت اور پروفیشنلی کام کرتے دیکھا ہے۔‘









