’گریڈ 20 کا افسر کس ادارے سے ہوگا؟‘: پنجاب اسمبلی میں متنازع انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کی منظوری اور اعتراضات

متنازع انسداد دہشت گردی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی قانون ساز اسمبلی نے اپوزیشن کے احتجاج اور واک آؤٹ کے بعد انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا ہے۔

یہ بل مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی خالد رانجھا نے 8 جون کو پیش کیا گیا تھا جسے پیر کی شب منظور کیا گیا۔

اس متنازع بل کے مطابق انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے کسی بھی مقدمے کو ’سپیشل سکیورٹی کیس‘ قرار دیا جا سکتا ہے جس کا فیصلہ نامزد اتھارٹی یعنی گریڈ 20 کا افسر کرے گا اور تمام کارروائی کو خفیہ رکھا جائے گا۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کئی اعتراضات اٹھائے گئے تاہم انھیں مسترد کرتے ہوئے ایوان کی اکثریت نے بِل کو منظور کیا۔ اس کا نفاذ پنجاب بھر میں فوری طور پر ہو جائے گا۔

سپیشل سکیورٹی کیس، گریڈ 20 کا افسر اور خفیہ کارروائی

انسداد دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 پنجاب اسمبلی میں دہشت گردی کے ہائی سکیورٹی مقدمات کے لیے خصوصی طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔

اس کے تحت انسداد دہشت گردی کے تحت درج ہونے والے کسی بھی کیس کو ’سپیشل سکیورٹی کیس‘ قرار دیا جاسکے گا۔ جبکہ اس بات کا تعین اور فیصلہ نامزد اتھارٹی یعنی ایک گریڈ 20 کا افسر کرے گا کہ کس کیس کو سپیشل سکیورٹی کیس قرار دینا ہے۔

نامزد اتھارٹی کی جانب سے ان کیسز پر کام کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشورہ کیا جائے گا۔ اس پر وہ دونوں فیصلہ کریں گے کہ کیا کسی مخصوص کیس یا کیسز کی کلاس کو غیر معمولی تحفظ کے اقدامات کی ضرورت ہے یا نہیں۔ بِل کے مطابق اس کے ذریعے سے حکومت سے بھی مشورہ اور رابطہ قائم ہوگا۔

سپیشل سکیورٹی کیسز میں ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کی شناخت کا طریقہ خفیہ رکھا جائے گا۔ کیس کا مکمل عدالتی ریکارڈ سیل کیا جائے گا۔

ان مقدمات میں ویڈیو کانفرنسنگ اور الیکٹرانک لنکس کے استعمال کی اجازت ہوگی، یعنی کارروائی آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ریکارڈ کی جائے گی۔

یہی نہیں بلکہ ججز، گواہوں اور دیگر متعلقہ افراد کی شناخت کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آواز کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔

اس ترمیمی بل کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث سپیشل سکیورٹی کیسز کی کارروائی محفوظ مقامات پر کی جائے گی جبکہ کیسز کی ورچوئل سماعت جیل سے کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

سپیشل سکیورٹی کیسز کی اپیلٹ عدالتوں میں کارروائی پر بھی مجوزہ قانون لاگو ہو گا۔

پنجاب اسمبلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بل کے مطابق نامزد اتھارٹی یعنی گریڈ 20 کے افسر کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایسے کیس کو پنجاب میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے ججوں میں سے کسی ایک کو ٹرائل، انکوائری اور دیگر عدالتی کارروائی کے لیے تفویض کریں گے۔

نامزد اتھارٹی کی درخواست پر پراسیکیوٹر جنرل، پنجاب کریمنل پراسیکیوشن سروس کے پانچ اہل پبلک پراسیکیوٹرز کا ایک پینل فراہم کرے گا۔ جبکہ نامزد اتھارٹی مقدمے کی سماعت، انکوائری اور دیگر عدالتی کارروائیوں کے لیے پینل میں سے ایک پبلک پراسیکیوٹر کو کیس تفویض کرے گی۔

دوران کیس کی سماعت اور فیصلہ آنے کے بعد بھی ججوں، وکلا، پبلک پراسیکیوٹرز، پولیس افسران، گواہوں، دفاعی وکیلوں اور مقدمے، انکوائری اور دیگر عدالتی کارروائیوں سے وابستہ افراد کی شناخت کسی بھی صورت میں ظاہر نہیں کی جائے گی۔

جبکہ انکوائری اور عدالتی کارروائیوں کے دوران تمام احکامات پر ذاتی شناخت ظاہر کیے بغیر دستخط کیے جائیں گے۔

پینل میں شامل ججوں اور پبلک پراسیکیوٹرز کا نام سرکاری گزٹ میں شائع نہیں کیا جائے گا۔ ٹرائل، انکوائری اور دیگر عدالتی کارروائیوں کا مکمل ریکارڈ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور نامزد اتھارٹی کے ذریعے سیل رکھا جائے گا۔

حکومت کو اس بِل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

بل کے آخر میں حکومت کی جانب دی جانے والی وجوہات میں یہ درج کیا گیا ہے کہ اس بل سے ’دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، اس کے نتیجے میں خطرات، ججوں، سرکاری وکیلوں، تفتیش کاروں اور گواہوں کو درپیش دھمکیوں کے پیش نظر، دہشت گردی سے متعلق جرائم کے مقدمے، انکوائری اور دیگر عدالتی کارروائیوں کے لیے قانونی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی موجودہ دفعات اعلیٰ حفاظتی خطرات والے مقدمات میں محفوظ کارروائی کرنے کے لیے مناسب طریقہ کار فراہم نہیں کرتی ہیں۔

مجوزہ ترمیم کا مقصد ’انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو محفوظ تکنیکی ذرائع سے ناقابل شناخت یا محفوظ مقدمے کی سماعت، انکوائری اور دیگر کارروائیوں کو چلانے کے قابل بنانا ہے۔‘

اس قانون کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بل پیش کرنے والے مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ ’میری دعا ہے کہ وقت کا پہیہ گھومے اور ہمارے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو تاکہ اس قانون کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔‘

انھوں نے مثال دی کہ ’یہاں لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہوا تھا۔ کوئی بھی اس کیس کو لینے کو تیار نہیں تھا اور آپ کہتے ہیں کہ اس بل کی کیا ضرورت ہے؟‘

انھوں نے وعدہ کیا کہ ’اس بل کے ذریعے کسی کے حقوق سلب نہیں ہوں گے۔‘

اپوزیشن کا احتجاج: ’یہ کالا قانون ہے‘

رکن پنجاب اسمبلی احمر رشید بھٹی نے اس بل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ’کالا قانون ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ قانون میں ’یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ سپیشل کیسز کون سے ہوں گے؟ اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ گریڈ 20 کا افسر کس محکمے سے ہوگا؟

انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ افسر نظام عدل سے ہوں گے، سول انتظامیہ سے ہوں گے یا کسی اور ادارے سے ہوں گے؟ ’اس لیے ضروری ہے کہ اس بات کی وضاحت اس قانون میں کی جائے، ورنہ تو اس طرح کسی کو بھی کسی کیس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی اعتراض اٹھایا کہ ’گریڈ 20 کا افسر حکومت کو مشورے دینے کا پابند ہوگا۔‘

’ہم تو یہی سمجھتے آئے ہیں کہ یہ لوگ حکومت کے ملازمین ہوتے ہیں۔ وہ حکومت سے ہدایات لیتے ہیں، نہ کہ وہ حکومت کو ہدایت دیں۔ مجھے اس قانون میں استعمال کی جانے والی زبان پر شدید اعتراض ہے۔‘

انھوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کو سیاستدانوں اور سیاسی لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ’جب ایک مسخرہ محل میں آ جائے تو وہ بادشاہ نہیں بنتا، محل تماشہ گاہ بن جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔‘

دوسری جانب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی رانا آفتاب نے کہا کہ اس قانون سے ’بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوں گے۔ بل سے قانون شہادت اور کریمنل پروسیجر کوڈ متاثر ہوں گے۔ بل کے تحت فیئر ٹرائل کا حق ختم ہو جانے کا امکان ہے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’کل اس قانون کے ذریعے آپ پر ہی مقدمات بنیں گے‘

اس بل پر پنجاب اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے طنز کیا کہ بل کا نام ’پنجاب کے شہریوں کو کچلنے کا بل ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا بل لانے کے ذمہ دار سپیکر صاحب بھی ہوں گے۔ کئی سو سال سے اصول ہے کہ اکثریتی جماعت بل لاتی ہے، تو اپوزیشن ترامیم پیش کرتی ہے۔‘

اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’مختصر رولنگ دی تھی، انسدادِ دہشت گردی بل ایجنڈے میں آ سکتا ہے۔ میں نے 90 کی دہائی میں دہشت گردی کی جنگ اور اس کے اثرات دیکھے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے جانوں کی قربانی دی۔ کئی ہزار افراد کے جنازے دیکھے۔ سکولوں اور امام بارگاہوں میں شہادتیں دیکھی۔‘

تاہم اپوزیشن لیڈر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے ذریعے ’حکومت نے صرف اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔‘

انھوں نے حوالہ دیا کہ پیکا ایکٹ بھی اپوزیشن کے خلاف استعمال ہوا ہے۔ ’اب اس بل میں گریڈ 20 کا افسر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ڈکٹیٹ کرے گا۔ کل کو اس قانون کے تحت آپ پر ہی مقدمات بنیں گے۔‘

قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

آئینی امور کے ماہر احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ انسداد دہشتگردی کے قانون میں ترمیم کی گنجائش ضرور تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے مثال دی کہ ایسے کئی کیسز ہیں جن میں ’پراسیکیوٹر یا کیس سے جڑے کسی بھی شخص کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ججز اور پراسیکیوٹرز ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔‘

لیکن وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں وہ حالات نہیں جیسے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہیں۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ایسے واقعات زیادہ ہوتے ہیں جیسا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکو کئی لوگوں کو اغوا کرتے ہیں۔‘

اگرچہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قانون کے غلط استعمال کا خدشہ موجود ہے تاہم ’میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوگا۔‘

ان کا خیال ہے کہ ’لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو معلوم ہوگا کہ کون لوگ ہیں جو اس کیس سے منسلک ہیں تو اتنا مسئلہ نہیں ہوگا۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم ماہر قانون ایڈوکیٹ قاضی مبین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جو اعتراضات اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے وہ درست ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ قانون میں گریڈ 20 کے افسر کا ذکر ہے تاہم ’اب یہ افسر سول سے ہو سکتا ہے، فوج سے یا کسی اور ادارے سے بھی ہوسکتا ہے۔ اگر یہ افسر کسی بھی کیس کو کہہ دیتا ہے کہ ’یہ سکیورٹی کیس ہے‘ تو پھر تو چیف جسٹس کا دفتر تو صرف ایک پوسٹ آفس کا کام ہی کرے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر اس افسر کا دل کرے گا جس مرضی کیس کو یہ سپیشل کیس قرار دے دے گا۔ اب انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ججز بھی حکومت ہی لگاتی ہے۔ تو آپ نے اس افسر کو تمام اختیارات دے دیے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس قانون کے منظور ہونے سے ان خدشات نے بھی جنم لیا ہے کہ آیا ’کسی بڑے کریک ڈاؤن کی تیاری ہو رہی ہے۔ یا یہ پہلے سے موجود کسی کیس کے فیصلے کی تیاری ہے۔‘

قاضی مبین نے کارروائی کو خفیہ رکھنے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ’آپ اس تمام تر عمل کو شفاف کیسے بنائیں گے؟ نہ شکل، نہ نام، نہ آواز۔ کیا واقعی کیس سننے اور فیصلہ کرنے والا شخص وہی ہوگا جسے کیس دیا گیا ہے۔‘

ان کی رائے میں ’اس سے بہتر فوجی عدالتیں ہیں جہاں کم از کم عدالت تو لگتی ہے۔

’یہ بل آئین کے آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت فیئر ٹرائل ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور یہ بل اس حق کی خلاف ورزی ہے۔‘