’پائلٹ کی تربیت اور مہارت میں کمی‘: بنگلہ دیش طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

دوپہر ایک بج کر 14 منٹ اور 38 سیکنڈ پر کمانڈنگ آفیسر نے اطلاع دی کہ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے
،تصویر کا کیپشندوپہر ایک بج کر 14 منٹ اور 38 سیکنڈ پر کمانڈنگ آفیسر نے اطلاع دی کہ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے
    • مصنف, مکیم الاحسن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز بنگلہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 18 منٹ

گذشتہ سال 21 جولائی کو ڈھاکہ کے علاقے اترہ میں واقع مائل سٹون سکول اینڈ کالج میں بنگلہ دیش کی فضائیہ کے تربیتی جنگی طیارے کو ایک حادثہ پیش آیا تھا۔ اس حادثے سے متعلق اب ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’پائلٹ کی تربیت میں واضح خامیاں موجود تھیں۔‘

رپورٹ کے مطابق پائلٹ کو زمینی سپروائزر یا کمانڈنگ آفیسر کی جانب سے بھی مطلوبہ رہنمائی فراہم نہیں کی گئی تھی۔

اس افسوسناک حادثے میں سکول کے 28 طلبہ ہلاک ہوئے تھے، جبکہ حادثے کے بعد پائلٹ، اساتذہ اور عملے سمیت مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 36 تک پہنچ گئی تھی۔

حادثے کے فوری بعد اُس وقت کی عبوری حکومت نے سابق سیکریٹری اے کے ایم ظفراللہ خان کی سربراہی میں ایک نو رکنی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

تین ماہ سے زائد عرصے پر محیط تحقیقات کے بعد کمیشن نے اپنی رپورٹ عبوری حکومت کے حوالے کر دی ہے۔

بی بی سی بنگلہ کو موصول ہونے والی تحقیقاتی کمیشن کی مکمل رپورٹ میں طیارے کے ٹیک آف سے قبل کی صورتحال اور سات منٹ تک جاری رہنے والی پرواز کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کی تفصیل بھی شامل ہے۔

حادثے کے بعد فضائیہ، فائر سروس، ڈھاکہ شہر کی تعمیر و ترقی کے نگران ادارے (راجوک) سمیت مختلف اداروں نے بھی الگ الگ تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔ سرکاری تحقیقاتی کمیشن نے ان تمام اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد انھیں اپنی حتمی رپورٹ کا حصہ بنایا۔

اتنے بڑے سانحے اور بچوں سمیت متعدد افراد کی ہلاکت کے باوجود عبوری حکومت نے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ اب تک عوامی سطح پر جاری نہیں کی ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عبوری حکومت کے سابق مشیر آصف محمود نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ کمیشن کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اُس وقت کی مشاورتی کونسل میں اس پر غور کیا گیا تھا، جبکہ رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے مختلف وزارتوں کو ذمہ داریاں بھی سونپی گئی تھیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکول کی عمارت میں باہر نکلنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ یا ایک ہی جانب سیڑھیاں موجود تھیں، جبکہ طیارہ اسی واحد راستے کے سامنے آ کر گرا، جس کے باعث جانی نقصان زیادہ ہوا۔

رپورٹ میں ہوائی اڈے کے اطراف قائم متعدد ایسی عمارتوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو مقررہ بلندی کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہیں۔

حادثے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزامات بھی سامنے آئے تھے کہ کچھ لاشوں کا تو رات بھر پتا نہیں لگایا جا سکا تھا، تاہم تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تمام متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کے بعد ایسے کسی دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب ہلاک اور زخمی افراد کے اہل خانہ نے اس بات پر شدید غم و غصے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن نے متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک مخصوص معاوضے کا اعلان کیا تھا، لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود بھی اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔

تحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ’پائلٹ کی تربیت میں واضح خامیاں موجود تھیں۔‘
،تصویر کا کیپشنتحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ 'پائلٹ کی تربیت میں واضح خامیاں موجود تھیں۔'

یہ حادثہ کیسے پیش آیا؟

طویل تحقیقات کے بعد کمیشن نے گذشتہ سال اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کی۔ حقائق جاننے کے لیے کمیشن نے بنگلہ دیش کی فضائیہ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے فضائی ٹریفک کنٹرول کی آڈیو ریکارڈنگز اور تکنیکی معلومات سمیت مختلف شواہد حاصل کیے۔

اس کے علاوہ حادثے میں ہلاک ہونے والے پائلٹ کے کمانڈنگ آفیسر اور مینٹیننس انجینئر کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے۔

تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت، معلومات کی تصدیق، فضائیہ کی داخلی تحقیقاتی رپورٹ اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن نے اپنی جامع تحقیقاتی رپورٹ تیار کی۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 21 جولائی کو بنگلہ دیش فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ توقیر اسلام نے دوپہر تقریباً 12 بج کر 30 منٹ پر ایف ٹی-7 بی جی آئی تربیتی جنگی طیارہ اڑایا۔ یہ ان کی پہلی ایسی پرواز تھی جس میں وہ اکیلے تھے، یعنی یہ اُن کی پہلی سولو پرواز تھی۔

ایف ٹی-7 بی جی آئی چین میں تیار کردہ ایک سیٹ والا لڑاکہ طیارہ ہے، جسے فضا میں دشمن کے جنگی طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کے وقت پائلٹ اور فضائی ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طیارے نے بنگلہ دیشی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 43 منٹ اور 24 سیکنڈ پر پہلی بار اے ٹی سی سے رابطہ کیا۔

بعد ازاں فلائٹ لیفٹیننٹ توقیر اسلام نے دوپہر ایک بج کر چار منٹ اور 16 سیکنڈ پر رن وے 14 سے پرواز شروع کی اور سرکٹ فلائنگ کی مشق کے لیے طیارے کو ایک ہزار 500 فٹ کی بلندی تک لے گئے۔

پہلا سرکٹ مکمل ہونے کے بعد کمانڈنگ آفیسر نے انھیں دوسرا سرکٹ شروع کرنے کی ہدایت دی، جس کی پائلٹ نے تصدیق کی۔ بعد ازاں دوپہر ایک بج کر 11 منٹ اور 57 سیکنڈ پر کمانڈنگ آفیسر نے انھیں بیس ٹرن لینے کی ہدایت دی۔

فضائیہ میں اس نوعیت کی تربیت کے دوران چھوٹے یونٹ کی قیادت کرنے والے افسر کو عموماً کمانڈنگ آفیسر کہا جاتا ہے۔

فلائٹ لیفٹیننٹ توقیر اسلام نے دوپہر ایک بج کر 11 منٹ اور 59 سیکنڈ پر جواب دیا، ’راجر، ٹرننگ لیفٹ‘ (ہدایت موصول، بائیں جانب مڑ رہا ہوں)۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اے ٹی سی کے ساتھ پائلٹ کی یہ آخری گفتگو تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوپہر ایک بج کر 13 منٹ اور 11 سیکنڈ پر طیارے کا فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اس کے بعد اے ٹی سی نے پانچ مرتبہ طیارے کی پوزیشن معلوم کرنے کی کوشش کی، لیکن پائلٹ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بعد ازاں دوپہر ایک بج کر 14 منٹ اور 38 سیکنڈ پر کمانڈنگ آفیسر نے اطلاع دی کہ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے، جبکہ صرف چھ سیکنڈ بعد یعنی ایک بج کر 14 منٹ اور 44 سیکنڈ پر طیارے کو حادثہ پیش آنے کی باضابطہ طور پر دوبارہ تصدیق کردی گئی۔

بنگلہ دیش فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر کموڈور اشفاق الٰہی چوہدری نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں بتایا کہ ’جب کوئی پائلٹ پہلی مرتبہ سولو پرواز کرتا ہے تو اس کے لیے پہلے سے ایک مخصوص راستہ اور پرواز کا منصوبہ طے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر انھیں بتایا جاتا ہے کہ کتنی بلندی تک جانا ہے، کن علاقوں کے اوپر سے گزرنا ہے، ساور کے اوپر سے بائیں جانب مڑ کر میرپور کی طرف آنا ہے اور پھر آفتاب نگر کی سمت لینڈ کرنا ہے۔‘

ان کے مطابق پائلٹ کو اسی طے شدہ روٹ پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طیارہ صرف سات منٹ تک فضا میں رہا تھا۔
،تصویر کا کیپشنرپورٹ کے مطابق طیارہ صرف سات منٹ تک فضا میں رہا تھا۔

جب چند ہی لمحوں میں طیارہ تباہ ہو گیا

بنگلہ دیش کی فضائیہ نے یہ جاننے کے لیے بھی الگ سے تحقیقات کیں کہ کسی تکنیکی خرابی کے آثار نہ ہونے کے باوجود جنگی طیارہ اچانک کیوں گر کر تباہ ہوا؟

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طیارے کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ پرواز کے دوران انجن، ہائیڈرولک اور کنٹرول سسٹم کی جانب سے کسی قسم کا وارننگ سگنل موصول نہیں ہوا۔

تاہم جب طیارہ بیس ٹرن سے فائنل اپروچ کی جانب مڑا تو صرف چار سیکنڈ میں اس کا بینک اینگل 59 ڈگری سے بڑھ کر 65.3 ڈگری ہو گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ کی جانب سے کنٹرول سٹک کو زور سے کھینچنے کے باعث صرف ایک سیکنڈ میں طیارے کا اینگل آف اٹیک 23.2 ڈگری سے بڑھ کر 27.3 ڈگری تک پہنچ گیا، جو طیارے کی 24 ڈگری کی کریٹیکل اینگل آف اٹیک کی حد سے زیادہ تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کریٹیکل اینگل آف اٹیک سے تجاوز کرنے کے بعد طیارہ سٹال کی حالت میں چلا گیا (سٹال کی حالت یعنی جب کوئی مشین، انجن یا نظام چلتے چلتے رک جائے)۔

بعد ازاں پائلٹ نے بینک اینگل کم کرکے طیارے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ نتیجتاً طیارے کی بلندی مسلسل کم ہوتی چلی گئی اور آخرکار یہ زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔

بنگلہ دیش فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر کموڈور اشفاق الٰہی چوہدری نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ’جتنا زیادہ طیارہ بلندی پر ہوتا ہے، اتنا ہی محفوظ ہوتا ہے۔ اس واقعے میں طیارہ بہت کم بلندی پر تھا، اس لیے حادثہ چند ہی لمحوں میں پیش آ گیا۔ اگر پائلٹ کو اسی دوران ایجیکٹ (ہنگامی طور پر طیارے سے باہر نکلنے) کا فیصلہ بھی کرنا ہوتا تو اس کے لیے صرف ایک لمحے، بلکہ لمحے کے ایک حصے جتنا وقت دستیاب تھا۔‘

حادثے کے بعد بنگلہ دیشی فوج، فائر سروس اینڈ سول ڈیفنس اور دیگر رضاکاروں نے عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے مشترکہ امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔
،تصویر کا کیپشنحادثے کے بعد بنگلہ دیشی فوج، فائر سروس اینڈ سول ڈیفنس اور دیگر رضاکاروں نے عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے مشترکہ امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔

بنگلہ دیش کی فضائیہ کی داخلی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مائل سٹون سکول اینڈ کالج کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں طیارہ گرنے سے قبل اس کے ونڈ سکرین پر ایک سیاہ نشان دکھائی دیا تھا۔‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ سیاہ نشان ممکنہ طور پر کسی پرندے یا ہوا میں موجود کسی اڑتی ہوئی شے کے ٹکرانے کے باعث بنا ہو سکتا ہے۔‘

بنگلہ دیش فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر کموڈور اشفاق الٰہی چوہدری نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ’پائلٹ لینڈنگ کے لیے بائیں جانب مڑ رہا تھا۔ غالب امکان ہے کہ اسی دوران طیارہ کسی پرندے یا کسی اور شے سے ٹکرا گیا، جس کے بعد پائلٹ کا طیارے پر کنٹرول ختم ہو گیا۔ ممکن ہے وہ بے ہوش بھی ہو گیا ہو، کیونکہ وہ ایک نوجوان پائلٹ تھا۔ تاہم میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ طیارہ واقعی کسی پرندے سے ٹکرایا تھا یا نہیں۔‘

فضائیہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کسی پرندے یا اڑتی ہوئی شے سے بچنے کی کوشش میں پائلٹ نے فوری طور پر کنٹرول سٹک کو زور سے کھینچا اور طیارے کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں طیارے کا بینک اینگل اچانک غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔‘

رپورٹ کے مطابق ’جب آفیسر کمانڈنگ نے دیکھا کہ طیارہ مسلسل بائیں جانب جھک رہا ہے اور نیچے کی طرف جا رہا ہے تو اس نے پائلٹ کو تین مرتبہ ’ایجیکٹ‘ (ہنگامی طور پر طیارہ چھوڑنے) کا حکم دیا۔‘

تاہم تحقیقاتی کمیشن نے فضائی ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کا ریکارڈ سُننے کے بعد بتایا کہ ریکارڈ میں دوپہر ایک بج کر 12 منٹ اور 48 سیکنڈ پر صرف ایک مرتبہ ’ایجیکٹ‘ کی ہدایت ریکارڈ ہوئی ہے۔ اس اے ٹی سی ریکارڈ کی نقل بھی تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق ’دوپہر ایک بج کر 14 منٹ اور 38 سیکنڈ پر آفیسر کمانڈنگ نے کنٹرول ٹاور کو اطلاع دی کہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے، جبکہ صرف چھ سیکنڈ بعد، یعنی ایک بج کر 14 منٹ اور 44 سیکنڈ پر طیارے کے حادثے کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی۔‘

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکول کی عمارت میں باہر نکلنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ یا ایک ہی جانب سیڑھیاں موجود تھیں، جبکہ طیارہ اسی واحد راستے کے سامنے آ کر گرا، جس کے باعث جانی نقصان زیادہ ہوا۔

،تصویر کا ذریعہMOMINUL ISLAM MOMIN

،تصویر کا کیپشنتحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکول کی عمارت میں باہر نکلنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ یا ایک ہی جانب سیڑھیاں موجود تھیں، جبکہ طیارہ اسی واحد راستے کے سامنے آ کر گرا، جس کے باعث جانی نقصان زیادہ ہوا۔

طیارہ حادثے کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا گیا؟

حادثے کے روز مائل سٹون سکول اینڈ کالج کے دیاباڑی کیمپس میں گرنے والے طیارے کو اسی روز وہاں سے ہٹا کر کرمی ٹولہ میں واقع اے کے خندکر ایئر بیس منتقل کر دیا گیا۔ طیارے کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر بھی حاصل کر لیا گیا، جس کا ڈیٹا تجزیے کے لیے طیارہ ساز کمپنی کو چین بھیجا گیا۔

اس واقعے پر بنگلہ دیش فضائیہ کے داخلی تحقیقاتی بورڈ نے بھی اپنی رپورٹ تیار کی، جو گذشتہ سال 11 اکتوبر کو تحقیقاتی کمیشن کے حوالے کی گئی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کا شکار ہونے والے ’ایف ٹی-7 بی جی آئی‘ طیارے کے مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اس کی تمام تکنیکی دیکھ بھال اور معائنے مقررہ شیڈول کے مطابق کیے گئے تھے۔‘

رپورٹ کے مطابق ’حادثے کے روز بھی طیارے نے صبح ایک آزمائشی پرواز کی تھی تاکہ اس کی پرواز کے لیے تیاری کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ پرواز بحفاظت مکمل ہوئی، جس کے بعد دوپہر ساڑھے بارہ بجے طیارے کو دوبارہ پرواز کے لیے مکمل طور پر موزوں اور تیار قرار دیا گیا۔‘

فضائیہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’فلائٹ لیفٹیننٹ توقیر اسلام جسمانی طور پر پرواز کے لیے مکمل طور پر فٹ تھے، جبکہ موسم بھی پرواز کے لیے سازگار تھا۔‘

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’جب طیارہ، پائلٹ اور موسم تینوں ہی پرواز کے لیے موزوں تھے تو پھر حادثہ آخر کیوں پیش آیا؟‘

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ’حادثے میں ہلاک ہونے والے پائلٹ کو ان کے آفیسر کمانڈنگ نے پرواز سے قبل بریفنگ دی تھی۔ بنگلہ دیش فضائیہ کے تربیتی نصاب کے مطابق پہلی سولو پرواز کا مشن پروفائل ’فلائی تھرو، لو گو‘ اور ’فلائی تھرو، لو گو۔۔۔ فل سٹاپ‘ تھا، جس کے تحت پائلٹ کو دوسرے سرکٹ میں لو گو طریقۂ کار پر عمل کرنا تھا۔‘

تاہم تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’اسے اس حوالے سے کچھ تضادات اور بے ضابطگیاں بھی نظر آئیں۔‘

رپورٹ میں فضائی ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کی گفتگو اور فضائیہ کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کہا گیا ہے کہ ’آفیسر کمانڈنگ نے موبائل وین سے پائلٹ کو ’ریٹرن ٹو اِنیشل‘ کی ہدایت دی، جو پہلی سولو پرواز کے طے شدہ مشن پروفائل سے مطابقت نہیں رکھتی۔‘

یہ تصویر آٹھویں جماعت کی طالبہ تسنیا حق نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے سے پہلے بنائی تھی۔
،تصویر کا کیپشنیہ تصویر آٹھویں جماعت کی طالبہ تسنیا حق نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے سے پہلے بنائی تھی

بی بی سی بنگلہ نے ان نکات پر بنگلہ دیشی فضائیہ کا مؤقف جاننے کے لیے آئی ایس پی آر کو تحریری سوالات بھی بھیجے تاہم فضائیہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ’آفیسر کمانڈنگ نے کمیشن کو بتایا کہ لینڈنگ کے ابتدائی مرحلے میں طیارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھنے لگا تھا۔‘ اس پر انھوں نے پائلٹ کو ’گیٹنگ لو‘ کی وارننگ دی، لیکن جب طیارہ مسلسل نیچے آتا رہا تو انھوں نے پائلٹ کو دو مرتبہ ’ریکور‘ کی ہدایت بھی دی۔

تحقیقاتی کمیشن نے بنگلہ دیش فضائیہ کی داخلی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’حادثے کی ایک بڑی وجہ فلائٹ لیفٹیننٹ توقیر اسلام کی تربیت میں تسلسل کی کمی تھی، جس کے باعث وہ طیارے پر قابو پانے کے دوران بروقت اور مؤثر ردِعمل ظاہر نہ کر سکے۔‘

حکومتی تحقیقاتی کمیشن نے فضائیہ کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ’فلائٹ لیفٹیننٹ توقیر اسلام کی تربیت میں کمی تھی اور ان کی عملی مہارت مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھی۔ اسی وجہ سے نازک صورتحال میں وہ طیارے کو دوبارہ معمول کی پرواز یا اپنے کنٹرول میں لانے میں ناکام رہے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’زمین پر موجود سپروائزر یا آفیسر کمانڈنگ کی جانب سے مناسب اور مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث پائلٹ ٹیک آف کے بعد پرواز کے ضروری معیار (فلائٹ پیرامیٹرز) برقرار نہیں رکھ سکے۔ نتیجتاً مُشکل صورتحال میں ان کا ردِعمل مؤثر نہ رہا، جس کے باعث طیارہ اچانک سٹال کی حالت میں چلا گیا۔ بعد ازاں متعدد کوششوں کے باوجود پائلٹ طیارے کو دوبارہ معمول کی حالت میں لانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔‘

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ماحولیاتی عوامل میں کسی پرندے یا فضا میں موجود کسی دوسری اڑتی ہوئی شے کا طیارے کی ونڈ سکرین سے ٹکرانا بھی اس حادثے میں بالواسطہ کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

فائر سروس کی رپورٹ کے مطابق مائل سٹون طیارہ حادثے میں 116 افراد کو زندہ بچا لیا گیا (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائر سروس کی رپورٹ کے مطابق مائل سٹون طیارہ حادثے میں 116 افراد کو زندہ بچا لیا گیا (فائل فوٹو)

ہلاکتیں زیادہ کیوں ہوئیں؟

عینی شاہدین کے مطابق جنگی طیارہ سکول کی عمارت سے ٹکرانے کے فوراً بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 15 سے 20 میٹر بلند شعلے بھڑک اٹھے۔ اگرچہ ابتدائی دھماکے کے بعد آگ کے شعلوں کی بلندی کم ہو گئی، تاہم آگ کی شدت بدستور بہت زیادہ رہی۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ’حادثے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، جبکہ اسے مکمل طور پر بجھانے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’آگ جیٹ فیول (جہاز میں موجود ایندھن) کے باعث لگی تھی، جسے بجھانے کے لیے ایک خاص قسم کے فوم یا محلول کا استعمال کیا گیا۔‘

رپورٹ کے مطابق طیارہ صرف سات منٹ تک فضا میں رہا تھا۔ آفیسر کمانڈنگ کے تحریری بیان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’حادثے کے وقت طیارے کے فیول ٹینک میں تقریباً 2,150 لیٹر ایندھن موجود تھا، جبکہ اس کی رفتار 600 سے 650 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔‘

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں طیارے کا فیول ٹینک مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کے باعث جیٹ فیول تیزی سے فضا میں پھیل کر بھاپ میں تبدیل ہوا اور شدید آگ بھڑک اٹھی۔‘

بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ ’پہلے دھماکے کے فوراً بعد ایک اور دھماکا بھی سنائی دیا۔‘

رپورٹ کے مطابق طیارہ سکول کی حیدر علی عمارت کی سیڑھیوں کے بائیں جانب آ کر گرا، جس کی وجہ سے آگ اور شعلوں کی شدت عمارت کے اسی حصے میں زیادہ رہی۔

حادثے کے بعد بنگلہ دیشی فوج، فائر سروس اینڈ سول ڈیفنس، دیاباڑی میٹرو ریل کے فائر فائٹنگ یونٹ اور دیگر رضاکاروں نے عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے مشترکہ امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔

فائر سروس اینڈ سول ڈیفنس کی رپورٹ کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن نے بتایا کہ ’متاثرہ حیدر علی عمارت میں باہر نکلنے کے لیے صرف ایک ہی مقام پر سیڑھیاں موجود تھیں حالانکہ عمارت کے حجم اور وہاں موجود افراد کی تعداد کے لحاظ سے کم از کم تین مختلف مقامات پر سیڑھیاں ہونی چاہیے تھیں۔‘

رپورٹ کے مطابق اگر عمارت میں مقررہ معیار کے مطابق ہنگامی اخراج کے لیے مناسب سیڑھیاں موجود ہوتیں تو جانی نقصان میں نمایاں کمی ہو سکتی تھی۔

حادثے کے ایک سال بعد حیدر علی عمارت کی موجودہ صورتحال
،تصویر کا کیپشنحادثے کے ایک سال بعد حیدر علی عمارت کی موجودہ صورتحال

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مائل سٹون سکول اینڈ کالج کے کیمپس میں قائم نصف سے زیادہ عمارتیں غیر منظور شدہ تھیں۔

تاہم سکول انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمارتوں کی منظوری سے متعلق تمام دستاویزات حادثے کے بعد لگنے والی آگ میں جل کر ضائع ہو گئی تھیں۔

تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں سکول کی مختلف عمارتوں کی منظوری نہ ہونے کے حوالے سے کمیشن کے رکن اور ماہر شہری منصوبہ بندی پروفیسر عادل محمد خان نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ’ہوائی اڈے کے اطراف فلائنگ زون میں اس نوعیت کی تعمیرات کی نگرانی اور روک تھام ہونی چاہیے تھی، تاہم ایسا کیوں نہیں کیا گیا، یہ بھی تحقیقاتی کمیشن کے سامنے ایک اہم سوال تھا۔‘

اس معاملے پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ ایتھارٹی یعنی ’راجوک‘ کے چیئرمین محمد ریاض الاسلام نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’مائل سٹون سکول اینڈ کالج کی منظور شدہ اور غیر منظور شدہ عمارتوں سمیت تمام متعلقہ معاملات پر ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جن پر عمل درآمد کے لیے کالج انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے۔‘

دوسری جانب نیشنل برن اینڈ پلاسٹک سرجری انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصرالدین نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’حادثے کے بعد مجموعی طور پر 57 زخمیوں کو برن انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیا، جن میں سے 11 افراد کے جسم کا 85 فیصد حصہ جھلس چکا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’زخمیوں میں زیادہ تر افراد فلیم برن (آگ سے جھلسنے) اور انہیلیشن برن (دھواں اور گرم گیسیں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے سے ہونے متاثر ہوئے) کا شکار تھے۔ چونکہ وہ سکول کی عمارت کے اندر محصور تھے، اس لیے انھیں انہیلیشن انجری بھی ہوئی، جو اس حادثے میں اتنی بڑی تعداد میں اموات کی ایک اہم وجہ بنی۔‘

سکول کی عمارت کا تباد ہونے والا وہ حصہ کہ جہاں جہاز ٹکرایا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسکول کی عمارت کا تباد ہونے والا وہ حصہ کہ جہاں جہاز ٹکرایا تھا

متاثرین کو معاوضہ نہ مل سکا

مائل سٹون طیارہ حادثے میں زخمی ہونے والوں میں ساتویں جماعت کے طالب علم نوید نواز دیپتا بھی شامل تھے۔

حادثے میں دیپتا کے جسم کا 52 فیصد حصہ جھلس گیا تھا، جس کے بعد انھیں ڈھاکا کے نیشنل برن انسٹی ٹیوٹ میں 97 روز تک زیر علاج رکھا گیا۔

تین ماہ سے زائد عرصے بعد ہسپتال سے گھر واپس آنے کے باوجود دیپتا کو اب بھی علاج کے لیے ہر ماہ کئی مرتبہ برن انسٹی ٹیوٹ جانا پڑتا ہے۔

دیپتا کے والد میزان الرحمان نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ’اس حادثے نے ہماری زندگی کا رخ ہی بدل دیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’حادثے کے بعد دیپتا اور ان کی چھوٹی بہن دیا کو سکول تبدیل کرنا پڑا۔ آگ سے لگنے والی چوٹوں کے باعث دونوں کے لیے سکول آنا جانا اب پہلے جیسا نہیں تھا، اس لیے سکول جانے اور واپس آنے کے لیے گاڑی اور ڈرائیور کا انتظام کرنا پڑا۔ علاج سمیت دیگر اخراجات کی وجہ سے خاندان کے ماہانہ اخراجات دوگنے سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔‘

مائل سٹون سکول اینڈ کالج طیارہ حادثے کے بعد حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے تحقیقاتی کمیشن نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو کئی سفارشات بھی پیش کیں۔

کمیشن کی رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ ’وزارت صحت و خاندانی بہبود کے ہیلتھ اکنامکس یونٹ سے کہا جائے کہ وہ متاثرین کے لیے ایسا معاوضہ یا پیکیج تیار کرے جو انسانی ہمدردی کے تقاضوں اور بنگلہ دیش کی معاشی صورتحال کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔‘

اس سفارش کی بنیاد پر ہیلتھ اکنامکس یونٹ نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک معاوضہ کی ادائگی یا ماڈل تیار کیا، جس میں ہلاک ہو جانے والے افراد اور زخمیوں کے لیے امداد، مستقبل کے علاج اور بحالی کے اخراجات کو شامل کیا گیا۔‘

اس کے مطابق تحقیقاتی کمیشن نے حادثے میں ہلاک ہونے والے 18 سال سے کم عمر بچوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ ٹکا، جبکہ بالغ افراد کے لیے 80 لاکھ ٹکا معاوضے کی سفارش کی۔

حادثے میں ہلاک ہونے والی تسنیا حق کے والد نجم الحق نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’اپنے بچے کی موت کے بعد اس معاوضے کا مطالبہ کرنا بھی ہمارے لیے ایک تکلیف دہ بات ہے۔ ہمیں امید تھی کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ معاوضہ مل جائے گا۔ ایک سال گزر چکا ہے۔ ہم نے پریس کانفرنسیں کیں، مطالبات کیے، حتیٰ کہ حکومتی وزرا سے بھی ملاقات کی، لیکن کوئی ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سکول انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو بتایا گیا تھا کہ حکومت کی طرف سے زخمیوں کے لیے پانچ لاکھ ٹکا اور ہلاک ہو جانے والوں کے لیے دو لاکھ ٹکا دیے جائیں گے، تاہم خاندانوں نے یہ رقم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔‘

مائل سٹون سکول میں فضائیہ کے جنگی طیارے کے حادثے میں کئی خاندان اپنے بچوں سے محروم ہو گئے۔ (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمائل سٹون سکول میں فضائیہ کے جنگی طیارے کے حادثے میں کئی خاندان اپنے بچوں سے محروم ہو گئے۔ (فائل فوٹو)

مائل سٹون سکول اینڈ کالج کے مشیر نورالنبی نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ’جب ہم اُس وقت کی حکومت کے پاس گئے تو ہمیں بتایا گیا کہ جولائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لیے 30 لاکھ ٹکا دیے گئے تھے۔ میں نے کہا کہ سر، کچھ ایسی امداد ہونی چاہیے جس سے متاثرہ خاندان اپنی باقی زندگی گزار سکیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے زخمی ایسے ہیں جو کبھی اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس نہیں آ سکیں گے۔ ان میں ہمارے کچھ اساتذہ بھی شامل ہیں۔‘

دوسری جانب تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ جس میں زخمیوں اور جھلسنے والے متاثرین کے لیے معاوضے کی سفارش کی گئی ہے، کے مطابق بچوں میں شدید زخمی افراد کے لیے 60 لاکھ ٹکا، درمیانے درجے کے زخمیوں کے لیے 30 لاکھ ٹکا، جبکہ معمولی زخمیوں کے لیے 15 لاکھ ٹکا معاوضہ تجویز کیا گیا ہے۔

اسی طرح بالغ متاثرین کے لیے کمیشن نے طویل مدتی اور شدید زخمی افراد کو 40 لاکھ ٹکا، درمیانے درجے کے زخمیوں کو 20 لاکھ ٹکا، جبکہ معمولی زخمیوں کو 10 لاکھ ٹکا معاوضہ دینے کی سفارش کی ہے۔

اس کے علاوہ متاثرین کے علاج کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف برن اینڈ پلاسٹک سرجری کو بالترتیب 15 لاکھ، 9 لاکھ اور 10 لاکھ ٹکا فراہم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے، جبکہ اس معاملے کو ادارے کے سالانہ بجٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم ڈھاکا کے نیشنل برن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اگرچہ سابق عبوری حکومت کے دور میں برن یونٹ کو اس مقصد کے لیے بجٹ فراہم کیا گیا تھا، لیکن موجودہ بجٹ میں مائل سٹون حادثے کے زخمیوں کے علاج کے لیے کوئی نیا فنڈ مختص نہیں کیا گیا۔

تحقیقاتی کمیشن کے رکن اور شہری منصوبہ بندی کے ماہر پروفیسر عادل محمد خان نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ’کمیشن نے زخمیوں کے معاوضے کے لیے واضح سفارشات دی تھیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ریاست اس رپورٹ کو دوبارہ دیکھے اور اس پر غور کرے۔‘

تحقیقاتی کمیشن نے سفارش کی تھی کہ ’حکومت کی وزارت صحت متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔‘

بی بی سی بنگلہ نے موجودہ بی این پی حکومت کے کم از کم تین وزرا سے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ اور اس کی سفارشات پر عملدرآمد کی پیش رفت کے بارے میں جاننے کی کوشش کی، تاہم کسی نے بھی اس معاملے پر بات کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

بی بی سی بنگلہ نے اس حوالے سے وزارت صحت سے بھی تحریری طور پر مؤقف طلب کیا، لیکن وزارت صحت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔