’آئی لَو محمد لکھنا جُرم بن گیا ہے‘: انڈیا میں مسجد سے پوسٹرز اور پرچم برآمد ہونے پر مقدمہ اور سوشل میڈیا پر بحث

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا میں ’آئی لَو محمد‘ کے پوسٹرز پر ایک بار پھر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

تقریباً نو ماہ قبل انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے معروف شہر کانپور میں عید میلاد النبی (پیغمبر اسلام کی ولادت کے جشن) کے موقع پر ایک بینر لگانے پر ایف آئی آر کے معاملے نے طول پکڑ لیا تھا، جس کے بعد ملک گیر سطح پر اور سوشل میڈیا پر ’آئی لَو محمد‘ کے سٹیکرز اور بینرز نظر آئے تھے۔

مسلمانوں کے علاوہ دیگر حلقوں کی جانب سے بھی اس کارروائی کی مخالفت کی گئی تھی۔

متعدد شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس سے الجھنے اور جھگڑا کرنے کے الزام میں متعدد افراد کے خلاف الگ، الگ مقدمات بھی درج کیے گئے اور کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

اب نو ماہ بعد ایک بار پھر ’آئی لَو محمد‘ کے بینر پر اترپردیش میں پولیس کی جانب سے متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں آٹھ افراد کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ ان کے پاس ’آئی لو محمد‘ کے پوسٹرز اور چاند ستارے والا اسلامی پرچم ملا ہے۔

اس مقدمے نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ’آئی لَو محمد‘ لکھنا یا اس کا نعرہ لگانا قانوناً جرم ہے؟

اگر نہیں، تو پھر ان مقدمات کی بنیاد کیا ہے؟

ضلع سنبھل میں کیا ہوا؟

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک ذیلی عدالت کے حکم پر ایک مسجد کو مسمار کیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مسجد قبرستان کی زمین پر تعمیر کی گئی تھی، یعنی وقف بورڈ کی جگہ پر ناجائز قبضہ کیا گيا تھا۔

لیکن مسجد کمیٹی اور وکلا کا کہنا ہے کہ سنہ 1985 میں یہ وقف رجسٹرڈ تھا اور 1995 میں گورنمنٹ آف انڈیا نے اسے گزٹ میں بھی شامل کیا تھا۔

مسجد گرائے جانے کے بعد کمیٹی کے چند افراد اور مقامی لوگوں کے خلاف پولیس کی جانب سے کارروائی کی گئی۔

اسی سلسلے میں ’آئی لو محمد‘ کے پوسٹرز اور چاند ستارے والے پرچم بھی پولیس کیس کا حصہ بنے۔

ہم نے اس بابت صحافی اور مصنف ضیا السلام سے بات کی، تو انھوں نے کہا کہ ’کلمہ پڑھنے یا اسلام میں داخل ہونے کی شرط میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت شامل ہے اور قرآن کی سورۃ آل عمران میں بھی اس کا ذکر ہے۔‘

انھوں نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اول، اپنے عقیدے سے محبت رکھنا کوئی جرم نہیں اور انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے پوری آزادی ہے۔‘

انھوں نے کہا جو لوگ مسجد میں ’آئی لو محمد‘ کے پوسٹر اور اسلامی پرچم کی موجودگی کی دوسری تشریح و تعبیر کر رہے ہیں وہ نہ تو اسلام کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی انڈیا کے آئین کو جانتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہاں سے ملنے والا پرچم کوئی پاکستان یا سعودی عرب کا پرچم نہیں، وہ تو ایک سبز پرچم ہے جس پر چاند تارے بنے ہیں اور یہ پرچم تو انڈیا میں انڈین یونین مسلم لیگ کا بھی پرچم ہے۔

پہلے کیا ہوا تھا؟

سنبھل اس سے پہلے بھی خبروں میں رہ چکا ہے، جہاں کی شاہی جامع مسجد کے حوالے سے اٹھنے والے تنازع پر دو سال قبل نومبر سنہ 2024 میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

اس واقعے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ بعد کی رپورٹس میں پولیس فائرنگ کو بھی ان ہلاکتوں کی ایک وجہ قرار دیا گیا۔

اس سے قبل کانپور کے معاملے میں جب سوشل میڈیا پر یہ خبر وائرل ہوئی کہ پولیس نے صرف ’آئی لو محمد‘ لکھنے کی وجہ سے ایف آئی آر درج کی ہے، تو کانپور پولیس نے بعد میں وضاحت دی کہ مقدمہ اس نعرے کی وجہ سے نہیں بلکہ ایف آئی آر اس لیے تھی کیونکہ بینر غیر روایتی جگہ پر لگایا گیا تھا اور ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کا بینر جلوس کے دوران پھاڑ دیا تھا۔

لیکن معاملہ یہ نہیں تھا۔ ایف آئی آرز کے خلاف آواز پہلے پہل سوشل میڈیا پر اٹھی۔ پھر لوگوں نے اپنی پروفائل پکچرز پر ’آئی لو محمد‘ لگانا شروع کر دیا جو کہ ایک خاموش لیکن واضح پیغام تھا۔

اس کے بعد بریلی اور اتر پردیش کے دوسرے علاقوں میں بھی اسی مہم سے متعلق تنازعات سامنے آئے۔

پولیس نے ہزاروں معلوم اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات درج کیے۔

سول رائٹس تنظیم کا کیا کہنا ہے؟

سول رائٹس تنظیم اے پی سی آر کی رپورٹ کے مطابق 30 دنوں کے دوران 23 شہروں میں 45 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق 4,505 مسلمانوں کو مقدموں میں نامزد یا شامل کیا گیا، جن میں 544 نامزد اور 3,961 نامعلوم افراد شامل تھے۔

اس رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2025 تک 265 گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

پولیس کا مؤقف تھا کہ کارروائی تشدد، پتھراؤ اور امن و امان کو خراب کرنے کے حوالے سے کی گئی۔ حالانکہ ایف آئی آرز میں ایک جیسی زبان استعمال کی گئی اور افراد کے خلاف الزامات کی واضح تفصیلات موجود نہیں تھیں۔

اس کے متعلق قانون یہ کہتا ہے کہ محبت کا اظہار اور مذہبی جذبات کا اظہار بنیادی حقوق ہیں۔ لیکن جو ایف آئی آرز درج ہو رہی ہیں، انھیں دوسری شکل دی جا رہی ہے اور انھیں متنازع زمین، بینر کی جگہ یا تشدد کے واقعات سے جوڑا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر کیس میں اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ ایف آئی آر کس بنیاد پر درج ہوئی ہے۔

کیا مسئلہ صرف ایک نعرہ ہے یا پھر انتظامیہ کسی دوسری قانونی خلاف ورزی کا دعویٰ کر رہی ہے؟

سنبھل کا تازہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر رہا ہے کہ مذہبی پہچان اور اس کے اظہار کی حدیں قانوناً کہاں تک جاتی ہیں؟

اور جب ’آئی لو محمد‘ جیسا جملہ پولیس مقدمات کا حصہ بن جائے، تو سوال صرف ایک شہر کا نہیں رہتا بلکہ یہ اظہار رائے کی آزادی، مذہبی عقیدے اور قانونی کارروائی کے درمیان تعلق کا سوال بن جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

سوشل میڈیا پر پولیس کے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مصنف اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ پروفیسر اپوروا نند جھا نے لکھا: ’آئی لو محمد اترپردیش اور انڈیا میں لکھنا جرم بن گیا ہے۔ اور حکومت یہ دعوی کرتی ہے کہ انڈیا میں اقلیت امن و امان سے ہے۔‘

ایکس پر 90 ہزار سے زیادہ فالوورز رکھنے والے صحافی 'ڈرنک جرنلسٹ' نے سبھل کے اے ایس پی کلدیپ سنگھ کے ویڈیو کے جواب میں لکھا: ’مسلمانوں کو روازنہ اس طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ مسجد کو سیل کرنا۔ مسجد کے اندر ’آئی لو محمد‘ کے پوسٹر کی موجودگی پر ایف آئی آر ہونا۔‘

معروف صحافی عارفہ خانم شیروانی نے اس کے متعلق آج تک کی خبر کے جواب میں لکھا: ’یاد رہے کہ اس سے قبل بھی مساجد اور مدارس پر چھاپے مارے گئے تھے، بڑے بڑے دعوے کیے گئے کہ وہاں سے ’ہتھیار‘ اور ’دھماکہ خیز مواد‘ برآمد ہوا، لیکن ہر بار تحقیقات میں حقائق سامنے آنے کے بعد یہ دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔‘

’آج، سنبھل میں ایک مسجد کے انہدام کے دوران، انتظامیہ نے ایک سادہ سا پوسٹر ضبط کیا جس میں لکھا تھا ’آئی لو محمد‘ اور کچھ اسلامی جھنڈے تھے، پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات کی جائیں گی۔‘

’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسجد میں 'آئی لو محمد' کا پوسٹر، اسلامی پرچم اور قرآن پاک نہیں ہوگآ تو پھر مسجد میں اور کیا ہوگا؟‘