ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا
ہے کہ ’اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا، گزشتہ 24
گھنٹوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔‘
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ
خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی
براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، اسرائیل کے اقدامات کو امریکی
پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کوئی مان نہیں سکتا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ کے
بغیر خطے میں حرکت کرسکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ
امریکہ کی طرف سے ترتیب دیا گیا تھا، اور یہی کشیدگی میں دوبارہ اضافےکا باعث ہے،
امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی واضح ہے، ہم جنگ بندی کے پابند تھے اور
وہی اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ہم ملکی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے تیار
ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ڈائریکٹر
جنرل آئی اے ای اے نے ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جانبدارانہ اور غیر تکنیکی
مؤقف اپنایا، امریکہ اور ’صہیونی ادارے‘ دوبارہ کشیدگی کا بنیادی عنصر تھے، لیکن
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ان کی مذمت تک نہیں کی۔‘
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسمائیل بقائی نے کہا کہ
’لبنان میں جنگ کا خاتمہ معاہدے کا حصہ تھا، جب جنگ بندی کی شق کی خلاف ورزی ہوتی
ہے تو سفارتی ٹریک بھی متاثر ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’امریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف
نے اب تک سفارتی راستے کو متاثر کیا ہے، ہم انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں امریکہ
کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے، 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا اس سے
سفارتی عمل میں مزید مشکل پیدا ہو جائے گی۔‘
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا
ہے کہ اسرائیلی اہداف پر کیے گئے حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ’حقِ
دفاع‘ کے دائرے میں آتے ہیں۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا
گیا کہ تہران کی یہ کارروائی لبنان میں جنگ بندی کی بار بار مبینہ اسرائیلی خلاف
ورزیوں اور لبنان کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے بعد کی گئی۔
بیان میں مزید خبردار کیا گیا
کہ اگر لبنان یا ایرانی مفادات پر مزید اسرائیلی حملے کیے گئے تو ایران اس کا جواب
زیادہ وسیع اور سخت انداز میں دے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کا مؤقف
ہے کہ اس کی حالیہ فوجی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور انھیں بین الاقوامی
قانون کے تحت اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔