’جے شاہ فاطمہ ثنا سے ہاتھ ملا سکتے ہیں تو انڈین کھلاڑی کیوں نہیں؟‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

12 جون سے انگلینڈ میں شروع ہونے والے ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی ایک تقریب کے دوران انڈین کپتان ہرمنپریت کور نے پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا سے ہاتھ نہیں ملایا۔ مگر دوسری طرف آئی سی سی چیئرمین جے شاہ نے دیگر کپتانوں کے ساتھ ساتھ فاطمہ ثنا سے بھی مصافحہ کیا۔

یہ منظر 7 جون کو لندن میں ’کیپٹنز کارنیول‘ نامی تقریب میں دیکھا گیا جہاں تمام ٹیموں کے کپتان سٹیج پر موجود تھے۔ فاطمہ ثنا اور ہرمنپریت کور ایک دوسرے کے قریب ہی کھڑی تھیں مگر اطلاعات ہیں کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مصافحہ نہیں ہوا۔

اس کے بعد جے شاہ سٹیج پر آئے اور انھوں نے باری باری تمام کپتانوں سے ہاتھ ملائے۔ بنگلہ دیشی کپتان سے ہاتھ ملانے کے بعد جے شاہ نے اپنا رُخ پاکستانی کپتان کی طرف کیا اور مسکراہتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا۔ اس دوران فاطمہ ثنا بھی مسکرا رہی تھیں۔ بظاہر اس مختصر لمحے کے دوران دونوں کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

اس کے بعد جے شاہ آگے بڑھے اور انھوں نے کیوی کپتان اور دیگر کپتانوں سے ہاتھ ملائے۔

پھر کپتانوں کے فوٹو شوٹ کے دوران ہرمنپریت، بنگلہ دیشی کپتان نگار سلطانہ، آئی سی سی چیف ایگزیکٹیو سنجوگ گپتا اور جے شاہ قریب قریب ہی موجود تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان سفارتی تناؤ کے باعث کرکٹ کے عالمی مقابلے بھی متاثر ہو چکے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کی میزبانی میں کھیلے جانے والے بین الاقوامی مقابلوں میں نیوٹرل وینیو کا مطالبہ کرتے ہیں، جیسا کہ 2025 کی چیمپیئنز ٹرافی اور 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ہوا تھا۔

گذشتہ سال اپریل کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں حملے کے بعد ستمبر کے دوران متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں انڈین ٹیم کو پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران انڈین ٹیم کی طرف سے ہاتھ نہ ملانے پر پاکستان نے تنقید کی تھی اور میچ ریفری کے خلاف شکایت کی تھی۔ جبکہ انڈیا نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹورنامنٹ جیتنے کے بعد ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔

خیال رہے کہ محسن نقوی پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہیں جبکہ جے شاہ انڈین وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے ہیں۔

اکتوبر 2025 کے دوران کولمبو میں ویمنز ورلڈ کپ کے دوران بھی ہاتھ نہ ملانے کی نئی روایت برقرار رہی تھی جب فاطمہ ثنا اور ہرمنپریت کور نے مصافحہ نہیں کیا تھا۔ اس میچ میں ویسے تو انڈین ٹیم جیت گئی تھی مگر ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ ٹاس کے دوران فاطمہ ثنا نے ’ٹیلز‘ کہا تھا مگر براڈکاسٹر نے اسے 'ہیڈز' سمجھا اور یوں فاطمہ نے ٹاس جیت لیا تھا۔

جبکہ منیبا علی کے متنازع رن آؤٹ اور گراؤنڈ میں کیڑوں کی بہتات کی وجہ سے تاخیر نے بھی میچ پر نمایاں اثر ڈالا تھا۔

اب دونوں ٹیموں کا مقابلہ ایجبیسٹن میں 14 جون کو ہو گا۔ اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان 16 ٹی 20 مقابلے ہوئے ہیں جن میں سے انڈیا نے 13 جیتے ہیں۔

’دہرا معیار یا عہدے کے تقاضہ؟‘

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ کے مقابلے ہمیشہ سے ہی شائقین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں، خواہ بڑے میچز میں ان کا ریکارڈ یکطرفہ ہی کیوں نہ ہو۔

صارف محمد اریب کا سوال ہے کہ اگر جے شاہ ’پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملا سکتے ہیں تو پھر انڈین کھلاڑی ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟‘

انھوں نے کہا کہ 'جب بات آفیشل پروٹوکول کی ہو تو مصافحہ ٹھیک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب میدان میں کھلاڑیوں کی بات آتی ہے تو اچانک یہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ اگر جے شاہ پاکستانی کھلاڑیوں سے خوشگوار انداز میں مل سکتے ہیں اور تصاویر بنوا سکتے ہیں تو پھر انڈین کرکٹرز کو ایسا کرنے سے کیوں روکا جاتا ہے؟'

ان کا خیال ہے کہ یہ ’دوہرا معیار‘ ہے۔ ’یا تو پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانا قابلِ قبول ہے یا نہیں۔ آپ عہدیداروں کے لیے ایک اصول اور کھلاڑیوں کے لیے دوسرا اصول نہیں بنا سکتے۔‘

یہی رائے بلال جٹ کی بھی ہے جو کہتے ہیں کہ انڈیا میں بی جے پی کی حکومت نے ’یہ بیانیہ بنایا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔ جے شاہ آسانی سے اس سے گریز کر سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ حب الوطنی کا مطالبہ ہمیشہ دوسروں سے کیا جاتا ہے، امیروں سے نہیں۔‘

مگر بعض صارفین تصویر کا دوسرا رُخ بھی پیش کرتے ہیں۔ جیسے ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’جے شاہ یہاں آئی سی سی کے چیئرمین کی حیثیت سے موجود ہیں، اس لیے فاطمہ ثنا سے ہاتھ ملانا ان کی ذمہ داری ہے۔‘

’لیکن ہرمنپریت کور انڈیا کی کپتان کے طور پر کھڑی ہیں اور یہ ان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جے شاہ نے اس لیے ہاتھ ملایا کیونکہ ’سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا‘ ان کے عہدے کا تقاضہ ہے۔

بعض پاکستانی صارفین نے بھی جے شاہ اور فاطمہ ثنا کے درمیان مصافحے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جیسے صحافی شاہد ہاشمی نے لکھا کہ ’فاطمہ ثنا سے ہاتھ ملا کر مسٹر جے شاہ نے واقعی قابلِ تعریف مثال قائم کی۔ انھوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ آئی سی سی کے چیئرمین کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ انھوں نے کھیل کی روح اور پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔‘

اس کے جواب میں فیضان لاکھانی نے جے شاہ اور سنجوگ گپتا سے ہاتھ ملانے پر فاطمہ ثنا کی تعریف کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ فاطمہ نے ثابت کیا کہ وہ ایک ’کھلاڑی ہیں اور ان کا قد چھوٹی ذہنیت کے لوگوں سے اونچا ہے جو کھیل کے میدان میں سیاست لائے تھے۔‘