’انتقام کے لیے‘ سکول کی اساتذہ کے کھانے میں گوبر پاؤڈر ملانے والا شخص گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’سکول میں طلبہ کو ناشتہ دینے سے پہلے اساتذہ معمول کے مطابق کھانا چکھ کر اس کے بارے میں رپورٹ کرتے ہیں۔ لیکن اس روز جو ٹیچر یہ کھانا چکھنے کے بعد آئے، ان کے ہاتھ پر پیلا رنگ لگا تھا؟‘
جس واقعے کو سکول میں اساتذہ مسالوں کی زیادتی سمجھ رہے تھے اس کی حقیقت جاننے کے بعد نہ صرف ایک طالبہ سے سخت پوچھ گچھ ہوئی بلکہ ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
انڈیا کی ریاست تمل ناڈو ایک سرکاری سکول میں کی ہیڈ ٹیچر کمودھا نے اس واقعے کے بارے میں بی بی سی تمل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب ناشتہ تیار کرنے والے ملازمین سے اساتذہ نے پوچھا کہ کیا سالن میں ہلدی کی مقدار معمول سے زیادہ ہے؟
تاہم کھانا بنانے والوں نے کہا کہ ’کھانا معمول کے مطابق ہی تیار کیا گیا تھا۔ اور یہ رنگ ہمارے ہاتھ پر تو نہیں لگا۔‘
سکول کی ہیڈ ٹیچر کا کہنا ہے کہ ’اساتذہ اس وقت یہی سمجھ رہے تھے کہ سالن کا ذائقہ اور رنگ بدلنے کی وجہ شاید ہلدی کا زیادہ ڈال دیا جانا ہے، تاہم بعد میں معاملہ کچھ اور نکلا۔‘
انھوں نے بتایا کہ کھانا معمول کے مطابق پہلے چکھا جاتا ہے پھر اساتذہ اور طلبہ کو کھانے کے لیے دیا جاتا ہے۔
’29 تاریخ کو صبح تقریباً 9 بجے اساتذہ کے لیے الگ رکھے گئے ناشتے اور دال سبزی کے سالن کو بھی چکھ کر دیکھا گیا تھا۔‘
ایک خاتون ٹیچر نے سالن تھوڑا سا چکھا اور اس کے بعد عبادت دعا کے لیے چلی گئیں۔ بعد میں سالن کا برتن بھی دھو کر رکھ دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیڈ ٹیچر کے مطابق اسی دن دوپہر کے کھانے کے وقت اس ٹیچر نے بتایا کہ ’صبح کے ناشتے میں معمول سے زیادہ ہلدی پاؤڈر محسوس ہو رہا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’طالبہ کے ہاتھ پر پیلے نشان سے شک‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
معاملہ شک کا شکار اس وقت ہوا جب اس دوران سکول کی ہی ایک طالبہ کے ہاتھ پر بھی پیلے رنگ کا نشان دیکھا گیا۔ پرنسپل نے بتایا کہ جب اس طالبہ سے پوچھا گیا تو اس نے ابتدا میں کہا کہ گھر پر کام کے دوران ان کے ہاتھ پر یہ رنگ گائے کے گوبر سے لگا ہے۔
تاہم جب طالبہ کے والدین سے پوچھ گچھ کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ گھر میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا تھا۔
پرنسپل کے مطابق اسی دوران بعض دیگر طلبہ نے بتایا کہ انھوں نے اس طالبہ کو دکان سے گوبر کا پاؤڈر خریدتے ہوئے دیکھا تھا۔
ان کے بقول ’اس صورتحال کے باعث تشویش پیدا ہوئی تو طالبہ کی والدہ کو سکول بلایا گیا‘۔
چونکہ طالبہ نے کہا تھا کہ اس نے یہ چیز دکان سے خریدی تھی، اس لیے معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ہیڈ ماسٹر نے فوری طور پر سکول انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے حکام کو اطلاع کر دی۔
ان کے مطابق، واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ حکام سکول پہنچے اور تحقیقات شروع کیں۔
انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں طالبہ نے کہا تھا کہ اس نے خود ہی اس برتن میں گوبر کا پاؤڈر ڈالا تھا جس میں سامبر رکھا گیا تھا، لیکن بعد میں پولیس کی تفتیش کے دوران اس نے کہا کہ اس نے یہ کام کسی دوسرے شخص کے کہنے پر کیا تھا۔
ہیڈ ماسٹر کے مطابق، اس معاملے میں پولیس مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
’گوبر پاؤڈر بدلہ لینے کے لیے ڈالا گیا‘
تفصیلات سامنے آنے کے بعد اساتذہ کے لیے رکھے گئے کھانے میں مبینہ طور پر ’خشک گوبر کا پاؤڈر‘ ملانے کے معاملے میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار شخص سکول میں کام کرنے والی ایک سابق ملازمہ کا شوہر ہے۔
پولیس کی تفتیش کے دوران اس شخص نے بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو سکول سے نکالے جانے کا بدلہ لینے کے لیے ایک سکول کی طالبہ کو دھمکی دی اور اسے کھانے میں گوبر پاؤڈر ملانے کے لیے کہا۔
تاہم پولیس کے مطابق گوبر پاؤڈر طلبہ کے لیے تیار کیے گئے کھانے میں نہیں ملایا گیا۔ اس کے بجائے اسے صرف اساتذہ کے لیے الگ رکھے گئے کھانے میں اس کی تھوڑی مقدار ملائی گئی۔
پولیس کے مطابق اس وجہ سے ایک بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا، کیونکہ آلودہ کھانا طلبہ کو نہیں کھلایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سکول کی پرنسپل نے کہا کہ سکول میں اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ کسی قسم کی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔
تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سے پہلے سکول میں صبح کا کھانا تیار کرنے والی خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو کام درست طریقے سے انجام نہ دینے کی شکایت پر ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔
ان کے مطابق، پولیس کی تفتیش میں بتایا گیا کہ صفائی کے اصولوں پر مناسب عمل نہ کرنے، کھانا تیار کرنے میں خامیوں اور دیگر مختلف وجوہات کی بنا پر اس کارکن کو ملازمت سے ہٹایا گیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد موجودہ ملازمہ اور سابقہ خاتون اہلکر کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا تھا، اور یہ تنازع سکول سے باہر پیش آیا تھا۔‘
پرنسپل نے بتایا کہ اس مقدمے میں اسی سابقہ خاتون اہلکار کے شوہر کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پرنسپل ایجوکیشن آفیسر، بلاک ایجوکیشن آفیسر اور پرنسپل نے مشورہ کیا اور شکایت درج کرنے کا فیصلہ کیا۔ ستھیامنگلم پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر ویرام نے بتایا کہ اس کے بعد یکم کو شکایت موصول ہوئی اور ملزم کو 2 تاریخ کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
ایروڈ ضلع کی چیف ایجوکیشن آفیسر مان وِژی نے بی بی سی تمل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ایک طالبہ کو مجبور اور دھمکا کر صرف اس کھانے میں یہ چیز ملانے پر آمادہ کیا گیا جسے استاد نے چکھا تھا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہم نے فوری طور پر ہیڈ ٹیچر کو شکایت درج کرانے کی ہدایت دی، جس کی بنیاد پر شکایت درج کی گئی۔‘
ایروڈ کے ضلع کلکٹر کنداسامی نے بی بی سی تمل کو اس واقعے کے بارے میں بتایا کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی کے باعث پیش آیا۔
ان کے بقول ’اس واقعے کے بعد تمام سکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ صبح کے کھانے کی سکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے کھانے کا نمونہ طلبہ کو کھلانے سے پہلے محفوظ رکھا جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کھانے کا نمونہ محفوظ رکھنے کا طریقہ کار پہلے سے موجود تھا، تاہم اب اس پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔



















