پاکستان سے ملحقہ افغان علاقے میں مسلح گروہ کی طالبان حکومت کی فورسز سے جھڑپیں: اے ایف ایف نامی گروپ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین روز سے افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت کی فورسز کے ساتھ اس کی جھڑپیں جاری ہیں۔
یہ علاقہ پاکستان کے ضلع لوئر چترال سے متصل ہے۔
اے ایف ایف افغانستان میں طالبان مخالف نمایاں مسلح گروہوں میں سے ایک ہے۔ اتوار 26 جولائی کو گروہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں جانے والے طالبان کے ایک فوجی قافلے پر راکٹ حملہ کیا، جس سے سات طالبان جنگجو ہلاک اور مزید چھ زخمی ہوئے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق طالبان کے لیے کمک اور فوجی ساز و سامان لے جانے والے اس قافلے کو سنیچر کے روز نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جب یہ قافلہ کابل سے روانہ ہوا تھا اس وقت سے ہی فریڈم فرنٹ کے گوریلا جنگجو اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
گروہ نے مزید کہا کہ کارروائی کے دوران اس کے کسی بھی جنگجو کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم طالبان نے اے ایف ایف کے اس دعوے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
مبینہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبہ بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ اے ایف ایف کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ضلع زیباک میں طالبان فورسز کے ساتھ اس کی جھڑپیں جاری رہی ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکام کا اصرار ہے کہ سکیورٹی فورسز کا علاقے پر مکمل کنٹرول برقرار ہے۔
اتوار 26 جولائی کو ہی سوشل میڈیا پر جاری ایک اور بیان میں اے ایف ایف نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں جاری جھڑپوں کے دوران طالبان فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں طالبان کو ضلع زیباک میں اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے ہٹنا پڑا۔
ایکس پر شیئر کیے گئے اس بیان میں گروہ نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے بدخشاں کے ضلع زیباک میں طالبان کی پیش قدمی کو پسپا کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باغی گروہ نے کہا: ’اگرچہ بعض علاقوں میں افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں اور طالبان کے شدت پسند گروہ کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں، تاہم انھوں نے اپنی پوزیشنیں چھوڑتے ہوئے ضلع زیباک کے مرکز کے مضافات میں واقع اپنی چوکیوں کے اردگرد بارودی سرنگیں بچھا دیں۔‘

،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس پوسٹ کے ساتھ شائع کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر اے ایف ایف کے ایک جنگجو کو ایک نامعلوم ہدف پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ پس منظر میں ایک آواز یہ کہتے سنی جا سکتی ہے: ’فریڈم فرنٹ کے مجاہدین! اللہ کی مدد سے دشمن فرار ہو گیا ہے۔‘
طالبان نے اے ایف ایف کے اس دعوے پر بھی عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اس گروہ نے 24 جولائی کو دوپہر کے وقت ضلع زیباک میں کارروائی کرنے والے طالبان کے دو ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔
طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع نے اب تک ان ڈرونز کے گرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا، تاہم طالبان حکومت کی فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف فصیح الدین فطرت، جو زیباک اور جھڑپوں کے مقام کا دورہ کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کے مخالفین کو ’سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور بہت کم وقت میں ان کی بڑی تعداد ہلاک ہو گئی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ کچھ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
طالبان حکومت کی فوج کے کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخالفین شاہ سلیم (علاقے کا نام) کی جانب فرار ہو گئے ہیں اور ان کے مطابق چونکہ مذکورہ افراد پاکستان کی سر زمین پر موجود ہیں، اس لیے وہ ان کا تعاقب اور ان کے خلاف کارروائیاں نہیں کر رہے۔
فطرت نے زور دے کر کہا کہ جو لوگ ’افغانستان میں امن و امان کو خراب کرنا چاہیں گے، انھیں نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بدخشاں کے گورنر محمد اسماعیل غزنوی نے طالبان حکومت کے مخالف گروہوں سے کہا ہے کہ وہ مسلح مزاحمت ترک کر دیں اور اس کے بجائے طالبان انتظامیہ کے ساتھ روابط قائم کریں۔
ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے غزنوی نے کہا کہ کسی فرد یا مسلح گروہ کو افغانستان میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے خطاب کی ایک ویڈیو نجی ٹی وی چینل آریانا نیوز اور کئی دیگر ذرائع ابلاغ نے ایکس پر شائع کی۔
گورنر نے مسلح مخالفین سے کہا کہ وہ اپنی ان سرگرمیوں کا خاتمہ کریں جنھیں انھوں نے ’تباہ کن‘ قرار دیا اور ملک کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بند کریں۔
انھوں نے کہا: ’جو لوگ ہمارے ملک کے امن و امان کو خراب کرنا چاہتے ہیں، گذشتہ 20 سال تک آپ کو امریکہ اور نیٹو کی حمایت حاصل رہی۔ آپ نے کیا حاصل کیا؟‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہم آپ کے خلاف لڑنے اور آپ کو شکست دینے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس لیے اقتدار میں واپسی کی جو بھی امید آپ رکھتے ہیں، اسے اپنے ساتھ قبر تک لے جائیں۔‘
تاہم انھوں نے بدخشاں میں حالیہ جھڑپوں کا براہِ راست ذکر نہیں کیا۔
گورنر نے مقامی باشندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ مخالف جنگجوؤں کو مسلح سرگرمیاں ترک کرنے پر آمادہ کریں۔
انھوں نے کہا: ’ہمارے ملک کو تعمیرِ نو کی ضرورت ہے۔ جنگ کب تک جاری رہے گی؟ امن و امان اور انصاف موجود ہے۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ سامنے آئے۔ اسلامی امارت (افغان طالبان انتظامیہ) کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں۔‘
غزنوی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ملک کے اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کسی کو ضرورت نہیں۔

،تصویر کا ذریعہHurriyat
’افغانستان فریڈم فرنٹ‘ نے اب تک طالبان حکومت کی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف کے تازہ بیانات پر ردعمل نہیں دیا ہے۔ تاہم، آج جاری کیے گئے ایک بیان میں اس محاذ نے دعویٰ کیا کہ طالبان فورسز کے حملے اور پیش قدمی کی کوششیں 'ناکام رہی ہیں۔'
اس محاذ نے اس سے قبل بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس کے افراد نے 22 جولائی کی صبح بدخشاں کے ضلع زیباک میں طالبان حکومت کی فورسز کی پوزیشنوں پر ’اچانک حملے‘ کیے ہیں۔
’فریڈم فرنٹ‘ کا دعویٰ ہے کہ اس نے طالبان فورسز کو ’زیباک کے بلند مقامات پر قائم ان کے اڈوں اور پوزیشنوں سے پسپا کر دیا ہے‘ اور آزاد کرائے گئے سٹریٹیجک مقامات کو دوبارہ حاصل کرنے‘ کی طالبان فورسز کی متعدد کوششیں بے نتیجہ رہی ہیں۔
اس محاذ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ گذشتہ روز شام کے وقت اس نے زیباک میں ’طالبان کے لیے کمک لے جانے والے ہیلی کاپٹروں کو اترنے سے روک دیا تھا۔‘
تاہم، طالبان حکومت کی فوج کے بدخشاں میں موجود حکام نے گذشتہ روز حملہ کرنے والوں کو ’باغی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پانچ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے، جس کے بعد وہ ’دوبارہ پاکستان کے علاقے چترال فرار ہو گئے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہHurriyat
اے ایف ایف کیا ہے؟
دونوں فریقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران انھوں نے ایک دوسرے کو جانی نقصان بھی پہنچایا ہے، لیکن اب تک کسی غیر جانب دار ذریعے نے دونوں جانب کے جانی نقصانات سے متعلق دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
’افغانستان فریڈم فرنٹ‘، زیادہ تر افغانستان کی سابق حکومت کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اس کی قیادت سابق حکومت کی فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل یاسین ضیا کر رہے ہیں۔ یہ اس سے پہلے بھی مختلف صوبوں میں طالبان فورسز کی پوزیشنوں پر متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔
تقریباً 10 روز قبل ایک نو تشکیل شدہ گروہ ’سپاہیانِ میہن‘ نے چند گھنٹوں کے لیے بدخشاں کے یفتل ضلع کی مرکزی عمارت پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
بدخشاں میں طالبان کے مقامی حکام نے بھی تصدیق کی تھی کہ یہ ضلع مختصر مدت کے لیے ان کے کنٹرول سے نکل گیا تھا۔
اس طرح کا واقعہ گذشتہ تقریباً پانچ برسوں میں پہلی بار پیش آیا تھا، یعنی پہلی بار کسی ضلع کا کنٹرول، اگرچہ عارضی طور پر، طالبان حکومت کے اختیار سے باہر ہوا تھا۔
افغانستان کے شمال مشرق میں واقع بدخشاں ایک اہم صوبہ ہے جس کی سرحدیں تاجکستان، چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔



















